Home / ادب نامہ / شاعری / علی اکبر ناطق کی شاعری / ابد کی سانسیں – علی اکبر ناطق

ابد کی سانسیں – علی اکبر ناطق

سبز چراغ جلائے شہلا آنکھوں نے
کیوڑا چھڑکا گرم حنائی ہاتھوں نے
رقص کیا بے باک کنواری پریوں نے
کس نے بتائے رازِ ازل کی شاموں کے

سرخ رتوں کی بات ہے جب میں سویا تھا
ڈھانپ لیا تھا زرد گلوں کی چادر نے
ایک گلابی آنکھ بھی مجھ پر روئی تھ

نور بچھانے والے نور بچھا آئے
سوز میں گانے والے نوحہ کرآئے
ساتھ رہا جو یاد کا ایک وہ تارا تھا
اس تارے کی ناف میں ابر کا پارہ تھا
میں پارے کی روح میں اڑتا پھرتا ہوںٻ
میری جبیں پر لفظ کے موتی گرتے ہیں
میں رنگوں میں ساز ملا کر گاتا ہوں
پاس مرے ہیں راز ابد کی سانسوں کے

 

 

 

admin

Author: admin

Check Also

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق عصا بیچنے والو آؤ مرےشہر آؤ کہ لگتی ہے یاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے