Home / سماج / اسلام اور عورت

اسلام اور عورت

حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم زمانے جاہلیت میں عورتوں کو کسی شمار میں نہیں لاتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کے حق میں نازل کیا جو کچھ کہ نازل کیا اور مقرر فرمایا جو کچھ کے مقرر فرمایا (ابن ماجہ )
زمانہ جاہلیت میں بعض قبائل میں سنگدلی انتہائی کو پہنچی ہوئی تھی کہ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کیا جاتا تھا اور بیٹوں کو اس امید پر پال لیا جاتا تھا کہ بعد میں حصول معیشت میں ہاتھ بٹائیں مگر لڑکیوں کو ہلاک کیا جاتا تھا کہ انہیں جوان ہونے تک پالنا ہوگا ۔اور پھر ان کی شادی بھی کرنی پڑے گی اور بیٹوں کو اس لیے بھی پالا جاتا تھا کہ جتنے زیادہ بیٹے ہوں گے اتنی ہی اس کے مددگار ہوں گے،عرب قبیلے دشمن پر اچانک چھاپہ مارتے تھے جو لڑکیاں ان کے ہاتھ آلگتی انہیں وہ غلام بنایا کرتے تھے یا ان کو بیچ دیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے حضور صلی وسلم نے زمانہ جاہلیت کا ایک واقعہ بیان کیا میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت محبت کرتی تھی جب میں اس کا پکارتا تھا تو دوڑ کر میرے پاس چلی آتی تھی۔ ایک روز میں اسے اپنے ساتھ لے گیا راستے میں ایک کنواں نظر آیا میں اس لڑکی کو اس میں دھکا دے دیا یہ سن کر رسول صل وسلم رو دئیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرمایا کہ اپنا قصہ پھر بیان کر اس نے اسے دوبارہ بیان کیا اور آپ سن کر اس قدر روئے کہ آپ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔یہ حالات تو عورت کی بحیثیت بیٹی کی تھی بحیثیت بیوی کی بھی اس کی زندگی مصائب و آلام سے بھری ہوئی تھی مرد کئی عورتوں سے شادی کرے اس کی کوئی قید نہ تھی نہ طلاق کے معاملے میں پابندی تھی کے شوہر سو سو طلاق دے کر بھی رجوع کرلیتا تھا،بار بار طلاق دیتے بار بار رجوع کرلیتے، اس طرح اس عورت کو نہ سکون سے رہنے دیتے نہ ہی اسے آزاد کرتے زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص وفات پا جاتا تو اس کا بیٹا باپ کی جائداد کے علاوہ بھی وہ سوتیلی ماں کا بھی مالک بن بیٹھتا تھا۔
عورت کے ساتھ یہ رویہ عرب میں ہی نہیں بلکہ دیگر علاقوں میں بھی عورت کی حالت خراب تھی ، ہندوستان میں بدھ مت اور جین مت کے پیروکار عورت کو اپنی روحانی ترقی کے معاملے میں رکاوٹ سمجھتے تھے اور تارک الدنیا بن کر زندگی گزارنے کو روحانی بلندی کا ذریعہ مانتے تھے۔ خود ہندوؤں کے اندر ستی ہونے کا رواج تھا۔یعنی اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو بیوی کو میت کے ساتھ ہی چتا میں لٹا کر زندہ جلا دیا جاتا۔ بعض اوقات ہندو عورت اپنی خوشی سے ستی ہو جاتی تھی۔ اس لیے کہ بیوہ عورت کے ساتھ سماج کا اچھاسلوک نہیں تھا ۔وہ یہ سمجھتی کے شوہر کے بغیر اس کی زندگی بیکار ہے۔ اس طرح معاشرے کے رسم و رواج میں جلنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی دفعہ جل کر اپنی ذات کو ختم کر لے کہ اسے اچھا کھانے اور اچھا پہننے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ اس کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ شادی بیاہ کے موقع پر اس کا سایہ پڑھنا بھی نحوست سمجھا جاتا تھا۔
اور بعض علاقوں میں عورت کو میراث کے حصہ سے محروم رکھا جاتا تھا عورت کی اس مظلوم کی حالت میں محمد مصطفی صلی اللہ سلم خدا کا آخری پیغام لے کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماج میں پھیلے ہوئے رسم رواج کا خاتمہ کردیا عورت کے حقوق مقرر فرمائے اور معاشرے میں عورت کو عزت و وقار کے ساتھ رہنے کا حق عطا فرمایا۔ اور اسے والدین شوہر اور بیٹے کے ترکہ میں وارث قرارد یا ۔اسے مہر اور نان و نفقہ کا حقدار بنا کر اس کی مالی مدد کی بیوی کی حقوق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر وہ شوہر سے نالاں ہوا اور شوہر اسے طلاق بھی نہ دیتا ہوں تو وہ خلع کے ذریعہ نجات حاصل کر سکتی ہے۔
زمانہ جاہلیت میں بیٹی کو باعث ننگ وعار شرم سمجھا جاتا تھا ،وہیں اسلام نے اسے وہ مقام عطا فرمایا کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول نے فرمایا جس شخص نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ گئی تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ میں اور وہ ایسے ہوں گے اور آپ صلی اللہ وآلہ وسلم نے اپنی ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملایا کہ ایسے قریب قریب جیسے یہ انگلیاں ہیں )۔
(مسلم )
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ وسلم نے فرمایا جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی پھر انھیں اچھی تعلیم و تربیت دے کر ان کی شادی کردی اور ان سے اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے (ابو داود )
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالی نے بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تجھے سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ نہ بتاؤ ں۔سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ تیری وہ بیٹی ہے جو خاوند کی وفات یا طلاق کے باعث تیری طرف واپس آ گئی ہو اور تیرے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو یعنی ایسی بیٹی پر خرچ کرنا صدقہ ہے (ابن ماجہ ) اسلام نے عورت کا رتبہ بتایا اس کی بے شمار خوبیوں کو اجاگر کیا اور اس کو وہ مقام عطا کیا جس کے وہ مستحق تھی۔ عورت متعلق جاہلیت کے تمام تصورات کو کالعدم قرار دے کر اسے عدل و انصاف کے منافی قرار دیا اسلام نے عورت کو عصمت و عزت کا لباس عطا کیا مرد اورعورت دراصل ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں ان میں سے ایک دوسرے کو برابری کا درجہ حاصل ہے ۔
اسلام نے عورت کی عزت و عصمت کا بڑا خیال کیا ہے اس کی ذات سراپا محترمہ ہے اسے پردہ کا حکم دیا گیا ہے اجنبی عورت پر نظر اٹھا کر دیکھنا باعث گناہ ہے اور کسی پاکدامن پر تہمت لگانا موجب سزا ہے عورت کے حق کو ادا کرنے والے کو اجر عظیم کی خوشخبری دی عورت اگر ماں ہے تو اس کی خدمت موجب جنت ہے اگر بیٹی یا بہن ہے اس کی پرورش تعلیم تربیت جنّت کا سبب ہے رسول کریم صلی اللہ وسلم نے ماں کی عظمت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی رضا مندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے (بیہقی)
آپ صلی السلام نے بیٹی کے تعلق سے ارشاد فرمایا جس شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہو پھر نہ وہ اس کو ایذا پہنچائے اور نہ اس کی توہین اور ناقداری کرے تو اللہ اس لڑکی کے ساتھ حسن سلوک کے بدلے اس کو جنت عطا فرمائے گا (مسنداحمد) بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق ارشاد فرمایا تم میں بہترین خاوند وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔( ترندی)

admin

Author: admin

Check Also

شادی کے بعد اچھا تعلق طویل زندگی کے لیے ضروری

اپنے شریک حیات کو خوش رکھیں اور لمبی زندگی کا مزہ لیں۔یہ وہ بات ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے