Home / کالم / افغانستان جہاد اور اس کے ثمرات-ساجد خان

افغانستان جہاد اور اس کے ثمرات-ساجد خان

روس نے ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کر دیا ہے۔
اے غیرت مند پاکستانی مسلمانوں،تمھیں افغانستان کی مسلمان مائیں بہنیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔

یہ وہ جذباتی نعرے تھے،جنہوں نے پاکستانی قوم پختون قوم کے جذبات کو مرنے مارنے کے لئے ابھارا۔

نوجوان نسل افغانستان جا کر جہاد کرنے کے لئے بیتاب نظر آنے لگے۔
مدارس قائم ہونے لگے جہاں عالم دین کے بجائے مجاہدین پیدا ہونے لگے۔
علماء کرام نے جہاد کے فتوے دینا شروع کر دیئے۔
ریاست بھی اس عمل میں پیش پیش رہی۔
کئ سال جہاد کرنے کے بعد بالآخر روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
اس عظیم فتح پر ہم آج بھی فخر کرتے نظر آتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی میں اسلامی جہاد تھا ؟
اس جہاد سے اسلام اور مسلم امہ کو فائدہ ہوا یا نقصان ؟

اگر ہم حقائق کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات ڈھونڈیں تو ہمیں شرمندگی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
کیونکہ اس جہاد کا فائدہ سوائے امریکہ کے کسی کو نہیں ہوا۔
اور سب سے زیادہ نقصان مسلم امہ کے علاوہ کسی کو نہیں ہوا۔
روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور یوں امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا۔
روس کے ٹوٹنے کی دیر تھی کہ امریکہ نے اسلامی ممالک کا رخ کیا۔
جس کے بعد مسلم امہ کے لئے تباہی مقدر بن گئی۔
مشرق وسطیٰ کے جو ممالک آج تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ سب ممالک روس کے اتحادی تھے اور امریکہ ان پر حملہ کی جرآت نہیں کرتا تھا۔
جوں ہی روس ٹوٹا،امریکہ نے سب سے پہلے حملہ ان پر ہی کیا۔

آج اگر ہماری وہ نسل زندہ ہو جائے کہ جنہوں نے افغانستان میں امریکی جہاد کیا تھا تو اس جہاد کے نتائج دیکھ کر اس افسوس سے ہی مر جائیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی آنے والی نسلوں کی تباہی کر دی۔
پختون قوم تباہ ہو گئ جبکہ چند جرنیل اور مولوی ارب پتی بن گۓ۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کل جن کے بزرگ افغان مسلمانوں کو بچانے کے لئے جنگ کر رہے تھے۔
آج ان کی ہی اولادیں افغانستان میں مسلمانوں کی موت پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ کیسی محبت ہے کہ کل ان کے لئے جان دینے والے،آج ان کی موت پر خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں ؟

اس جہاد کا افغانستان کو جو نقصان ہوا،وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن جو ہمیں نقصان پہنچا،وہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔
گزشتہ اٹھارہ سال سے ہم اس جہاد کی باقیات سے ہی تو لڑ رہے ہیں۔
اسی ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جو شدت پسندی ہمارے ذہنوں میں سرایت کر گئ ہے۔
وہ ایک الگ اہم مسئلہ ہے۔

اس جہاد نے صرف اس خطہ کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ افریقہ تک جو مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
اس کا کہیں نا کہیں تعلق افغانستان جہاد سے ضرور ہے۔
امریکہ دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔
جو اس کی غلامی قبول کرے،اسے زندہ رہنے کا حق ہے۔
جو نا کرے وہ مجرم ٹھرا۔
صدام حسین،کرنل قذافی،بشار الاسد،محمد مرسی،عمر بشیر۔
ان سب کا کیا قصور ہے ؟
یہ سب مسلمان تھے اور انہوں نے امریکہ کی حکم عدولی کی۔
جس کی انہیں سزا دی گئی۔

جو حربہ ہم نے افغانستان میں کامیابی سے آزمایا۔
آج وہی حربہ سب مسلمان ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
جہاد کے نام پر داعش بنی۔
شام،عراق اور لیبیا میں تو تباہی مچائی جبکہ چند کلومیٹر پر اسرائیل موجود تھا۔
ایک گولی بھی اس پر نہیں چلائی گئی۔
شام سے افغانستان جہاد کے لئے پہنچ گئے مگر فلسطینی قوم کی آہ و بکا نہیں سنائی دی۔
کیونکہ نا ہی ان کا مقصد اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کرنا تھا اور نا ہی مسلمانوں کی مدد کرنا تھا بلکہ وہ امریکی جہاد سرانجام دے رہے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے چار دہائیاں پہلے افغانستان میں دیا۔ 

دو ہزار سولہ س وقت کے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے بالآخر اس معاملے پر بہت اہم بیان دیا تھا کہ ہمارے نصاب میں جہاد کی آیات امریکہ کے کہنے پر شامل کی گئی تھیں۔
افسوس کہ یہ بیان بہت دیر بعد دیا گیا اور اس بیان کے بعد بھی ریاست نے توجہ دینے کی کوشش نہیں کی کہ قوم میں انتہا پسندی کم کرنے کے لئے اس بات کو فروغ دیا جائے کہ اب جہاد السیف کے بجائے جہاد النفس کی ضرورت ہے کہ جس سے قوم کی بہتر تربیت کی جا سکے۔

اگر ہم باشعور قوم ہوتے تو ہمیں روس کے ٹکڑے کرنے پر فخر کرنے کے بجائے ندامت کرنی چاہئے تھی کہ ہمارے بزرگوں کی غلطی نے مسلم امہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
مگر لاشعوری طور پر ہم اس غلطی کو بار بار دہراتے جا رہے ہیں۔

اس دور جدید میں آپ تلوار اور بندوق سے اسلام نافذ نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں علم حاصل کرنے کو جہاد سمجھنا چاہئے ورنہ ہم یوں ہی مرتے رہیں گے اور الزام امریکہ پر لگاتے رہیں گے۔

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے