Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / آنکھیں ۔ سعادت حسن منٹو

آنکھیں ۔ سعادت حسن منٹو

آنکھیں
اس کے سارے جسم میں مجھے آنکھیں بہت پسند تھیں ۔
یہ آنکھیں ایسی ہی تھیں جیسے اندھیری رات میں موٹرکا ر کی ہیڈ لائٹس ، جن کو آدمی سب سے پہلے دیکھتا ہے ۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ بہت خوبصورت آنکھیں تھیں۔ ہرگز نہیں ، میں خوبصورتی اور بدصورتی میں تمیز کر سکتا ہوں لیکن معاف کیجیے گا ان آنکھوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کہ سکتا ہوں کہ وہ خوبصورت نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود اس میں بے پناہ کشش تھی۔
میری اور ان کی آنکھوں کی ملاقات ایک ہسپتال میں ہوئی۔میں اس ہسپتال کا نام آپ کو بتانا نہیں چاہتا، اس لیے کہ اس سے میرے اس افسانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
بس آپ یہی سمجھ لیجیے کہ ایک ہسپتال تھا جس میں میرا ایک عزیز آپریشن کرانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔
یوں تو میں رواروی کا قائل نہیں ، مریضوں کے پاس جاکر ان کو دم دلاسہ دینا بھی مجھے نہیں آتا۔ لیکن اپنی بیوی کے پیہم اصرار پر مجھے جانا پڑا تاکہ میں اپنے مرنے والے عزیز کو اپنے خلوص اور اپنی محبت کا ثبوت دے سکوں۔
یقین مانیے کہ مجھے سخت کوفت ہورہی تھی۔ ہسپتال کے نام ہی سے مجھے نفرت ہے ، معلوم نہیں کیوں۔ ۔۔۔۔ شاید اس لیے کہ بمبئی میں اپنی بوڑھی ہمسائی کو جس کی کلائی میں موچ آگئی تھی ، مجھے جے جے ہسپتال میں لے جانا پڑا تھا۔
وہاں کیوژوالٹی ڈی پارٹمنٹ میں مجھے ڈھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا وہاں میں جس آدمی سے بھی ملا لوہے کی مانند سرد اور بے حس تھا۔
میں ان کی آنکھوں کا ذکر کر رہا تھا جومجھےبے حد پسند تھیں ۔
پسند کا معاملہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے ۔ بہت ممکن ہے ، اگر آپ یہ آنکھیں دیکھتے تو آپ کے دل ودماغ میں کوئی ردِعمل پیدا نہ ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ سے ان کے بارے میں رائے طلب کی جاتی تو آپ کہ دیتے کہ نہائت واہیات آنکھیں ہیں۔ لیکن جب میں نےاس لڑکی کو دیکھا تو مجھے سب سے پہلے اس کی آنکھوں نے اپنی طرف متوجہ کیا۔
وہ برقع پہنے ہوئے تھے مگر نقاب اٹھا ہوا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں دوا کی ایک بوتل تھی اور جنرل وارڈ کے برآمدے میں ایک چھوٹے سے لڑکے کے ساتھ چلی آرہی تھی۔
میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں جو بڑی تھیں نہ چھوٹی، سیاہ تھیں نہ بھوری، نیلی تھیں نہ سبز ایک عجیب قسم کی چمک پیدا ہوئی ۔ میرے قدم رک گئے ۔ وہ بھی ٹھہر گئے اس نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور بوکھلائی ہوئی آواز میں کہا تم سے چلا نہیں جاتا۔
لڑکے نے اپنی کلائی چھڑائی اور تیزی سے کہا ، چل تو رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تو اندھی ہے !۔
میں نے یہ سنا تو اس لڑکی آنکھوں کی طرف دوبارہ دیکھا ۔ اس کے سارے وجود میں صرف آنکھیں ہی تھیں جو مجھے پسند آئی تھیں۔
میں آگے بڑھا اور اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے مجھے پلکیں نہ جھپکنے والی آنکھوں سے دیکھا اور پوچھا ، ایکسرے کہاں لیا جاتا ہے؟
اتفاق کی بات ہے ان دنوں ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست کام کر رہاتھا، اور میں اسی سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں نے اس لڑکی سے کہا آو میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں میں بھی ادھر ہی جارہا ہوں۔
لڑکی نے اپنے ساتھی لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور میرے ساتھ چل پڑی ۔ میں نے ڈاکٹر صادق کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایکسرے لینے میں مصروف ہیں۔
دروازہ بند تھا اور باہر مریضوں کی ایک بھیڑ لگی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے تیزوتند آواز آئی "کون ہے؟۔۔۔۔۔۔دروازہ مت ٹھوکو”
لیکن میں نے پھر دستک دی ۔ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صادق مجھے گالی دیتے دیتے رہ گیا۔ "اوہ۔۔۔۔۔تم ہو!”
"ہاں بھئی۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے ملنے آیا تھا ۔ دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ تم یہاں ہو۔”
"آجاؤ اندر”
میں نے لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے کہا۔”آؤ لیکن لڑکے کو باہر ہی رہنے دو”
ڈاکٹر صادق نے ہولے سے مجھ سے پوچھا "کون ہے یہ؟”
میں نے جواب دیا” معلوم نہیں کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھ رہی تھی میں نے کہا چلو میں لیے چلتا ہوں”
ڈاکٹر صادق نے دروازہ اور زیادہ کھول دیا۔ میں اور وہ لڑکی اندر داخل ہوگئے۔
چار پانچ مریض تھے ڈاکٹر صادق نے جلدی جلدی ان کی سکریننگ کی، اور انہیں رخصت کیا۔
میں نے اس لڑکی سے پوچھا "کیا بیماری ہے تمہیں ؟۔۔۔۔۔۔۔ایکسرے کے لیے تم سے کس ڈاکٹر نے کہا تھا؟”
اندھیرے کمرے میں لڑکی نے میری طرف دیکھا اور جواب دیا "مجھے معلوم نہیں ، کیا بیماری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے محلے میں ایک ڈاکٹر ہے ۔ ہمارے محلے میں ایک ڈاکٹر ہے اس نے کہا ایکسرے کرالو۔ "
ڈاکٹر صادق نے اس سے کہا کہ مشین کی طرف آئے ۔ وہ آگے بڑھی تو بڑے زور کے ساتھ اس سے ٹکرا گئی۔ ڈاکٹر نے تیز لہجے میں اسے کہا۔۔۔۔۔۔۔ "کیا تمہیں سجھائی نہیں دیتا”
لڑکی خاموش رہی ۔ ڈاکٹر نے اس کا برقع اتارا اور سکرین کے پیچھے کھڑا کر دیا۔ پھر اس نے سوئچ اون کیا ۔ میں نے شیشے میں دیکھا تو مجھے اس کی پسلیاں نظر آئیں ۔ اس کا دل بھی ایک کونے میں کالے سے ایک دھبے کی صورت میں دھڑک رہا تھا۔
ڈاکٹر صادق پانچ چھ منٹ تک اس کی پسلیوں اور ہڈیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے سوئچ آف کردیا اور روشنی کرکے مجھے مخاطب کیا "چھاتی بالکل صاف ہے۔ "
لڑکی نے معلوم نہیں کیا سمجھا کہ اپنی چھاتیوں پر جو کافی بڑکی بڑی تھیں دوپٹے کو درست کیا اور برقع ڈھونڈنے لگی۔
برقع ایک کونے میں میز پر پڑا تھا میں نے بڑھ کر اسے اٹھا یا اور اس کے حوالے کردیا ڈاکٹر صادق نے رپورٹ لکھی اور اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تمہارا نام کیا ہے؟ "
لڑکی نے برقع اوڑھتے ہوئے جواب دیا۔”جی میرا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا نام حنیفہ ہے ۔”
"حنیفہ” ڈاکٹر صادق نے اس کا نام پرچی پر لکھا اور اس کو دے دی۔ جاؤ یہ اپنے ڈاکٹر کو دکھا دینا۔
لڑکی نے پرچی لی اور قمیض کے اندر اپنی انگیا میں اڑس لی۔
جب وہ باہر نکلی تو میں غیر ارادی طور پر اس کے پیچھے پیچھے تھا لیکن مجھے اس کا پوری طرح احساس تھا کہ ڈاکٹر صادق نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا تھا اسے جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس بات کا یقین تھا کہ اس لڑکی سے میرا تعلق ہے۔
حالانکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس کی آنکھیں پسند آگئی تھیں۔
میں اس کے پیچھے پیچھے تھا اس نے اپنے ساتھی لڑکے کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ تانگوں کے اڈے پر پہنچے تو میں نے حنیفہ سے پوچھا ۔”تمہیں کہاں جانا ہے؟”
اس نے ایک گلی کا نام لیا تو میں نے اس سے جھوٹ موٹ کہا "مجھے بھی ادھر ہی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گا۔”
میں نے جب اس کا ہاتھ پکڑ کر تانگے پر بٹھایا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ایکسریز کا شیشہ بن گئی ہیں۔ مجھے اس کا گوشت پوست دکھائی نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف ڈھانچہ نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ بالکل ثٖابت و سالم تھیں ،جن میں بے پناہ کشش تھی۔
میرا جی چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹھوں لیکن یہ سوچ کر کہ کوئی دیکھ لے گا ، میں نے اس کے ساتھی لڑکے کو اس کے ساتھ بٹھا دیا اورآپ اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔
تانگہ چلا تو حنیفہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔”تم کون ہو؟”
"میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سعادت حسن منٹو ہوں "
"حسن من گو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ من ٹو کیا ہوا؟”
"کشمیریوں کی ایک ذات ہے”
"ہم بھی کشمیری ہیں”
"اچھا”
"ہم کنگ وائس ہیں”
میں نے مڑکر اس سے کہا”یہ تو بہت اونچی ذات ہے”
وہ مسکرائی اور اس کی آنکھیں اور زیادہ پر کشش ہو گئیں۔
میں نے اپنی زندگی میں بے شمار خوبصورت آنکھیں دیکھی تھیں ۔ لیکن وہ آنکھیں جو حنیفہ کے چہرے پر تھیں ، بے حد پر کشش تھیں ۔معلوم نہیں ان میں کیا چیز تھی جو کشش کا باعث تھی۔ میں اس سے بیشتر عر ض کر چکا ہوں کہ وہ قطاً خوبصورت نہیں تھیں۔ لیکن اس کے باوجود میرے دل میں کھب رہی تھیں۔
میں نے جسارت سے کام لیا اور اس کے بالوں کی ایک لٹ کو جو اس کے ماتھے پر لٹک کر اس کی ایک آنکھ کو ڈھانپ رہی تھی انگلی سے اٹھایا اور اس کے سر پر چسپاں کر دی۔
میں نے اور جسارت کی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس پر بھی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اور اپنے ساتھی لڑکے سے مخاطب ہوئی۔”تم میرا ہاتھ کیوں دبا رہےہو؟”
میں نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور لڑکے سے پوچھا "تمہارا مکان کہاں ہے۔”
لڑکے نے ہاتھ کا اشارہ کیا "اس بازار میں”
تانگے نے ادھر کا رخ کیا بازار میں بہت بھیڑ تھی ٹریفک بھی معمول سے زیادہ ، تانگہ رک رک کے چل رہا تھا ، سڑک میں چونکہ گڑھے تھے۔ اس لیے بڑے زور کے دھچکے لگ رہے تھے۔ بار بار اس کا سر میرے کندھوں سے ٹکراتا تھا ، اور میرا جی چاہتا تھا کہ اسے اپنے زانو پر رکھ لوں اور اس کی آنکھیں دیکھتا رہوں۔
تھوڑی دیر بعد ان کا گھر آگیا۔ لڑکے نے تانگے والے سے رکنے کے لیے کہا۔ جب تانگہ رکا تو وہ نیچے اترا۔ حنیفہ بیٹھی رہی۔ میں نے اس سے کہا” تمہارا گھرآگیا ہے”
حنیفہ نے مڑ کرمیری طرف عجیب و غریب نظروں سے دیکھا ” بدرو کہاں ہے؟’
میں نے اس سے پوچھا ” کون بدروَ”
"وہ لڑکا جو میرے ساتھ تھا”
میں نے لڑکے کی طرف دیکھا جو تانگے کے پاس ہی تھا” یہ کھڑا تو ہے۔”
"اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” یہ کہ کر اس نےبدرو سے کہا "بدرو مجھے اتار دو”
بدرو نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بڑی مشکل سے نیچے اتارا۔ میں سخت متحیر تھا پچھلی نشست پر جاتے ہوئے میں نے اس لڑکے سے پوچھا ” کیا بات ہے؟ یہ خود نہیں اتر سکتیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
بدرو نے جواب دیا”جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی آنکھیں خراب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکھائی نہیں دیتا”

 

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے