Home / متفرق مضامین / ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کیا ہے؟

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کیا ہے؟

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کے تقریباً ایک سال بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خصوصی فوجی دستے سپاہ پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملک کے فوجی دستے کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہو۔اس پہلے امریکہ دہشت گردی میں ملوث افراد اور غیر ملکی تنظیموں کو دہشت گرد نامزد کرتا رہا ہے۔
ایران نے امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس کے جواب میں امریکی حکومت اور فوجیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی سے تناؤ کا شکار ہیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے پہلے سنہ 2007 میں امریکہ کے محکمہ خزانہ نے اس کے ایک ذیلی یونٹ القدس فورس کوبھی دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں بلیک لسٹ کیا تھا۔

سپاہ پاسداران انقلاب کب قائم کی گئی؟
آج سے تقریباً چالیس پہلے 1979 میں ایران کے بادشاہ شاہ رضا پہلوی کے اقتدار کے خاتمے اور انقلاب آنے کے بعد اس وقت کے سپریم لیڈر خمینی نے اپنے اقتدار اور انقلابی نظریات کو مضبوط کرنے لے لیے ایک طاقت ور فوج بنائی، جس کو سپاہ پاسداران انقلاب کا نام دیا گیا۔
اس کے لیے ایک نیا آئین بنایا گیا اور اس کے ذریعے سپاہ پاسداران انقلاب کا قیام عمل میں آیا۔ایران کی اپنی باقاعدہ یا ریگولر فورس بھی ہے جو سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں تاہم پاسداران انقلاب ایران کے ایک اہم فوجی، سیاسی اوراقتصادی قوت کے طور پر سامنے آئے۔

پاسداران انقلاب ایران کی طاقتور ترین فوج؟
اس خصوصی فوجی دستے میں ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب جدید اسلحہ سے لیس اہلکار شامل ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب براہ راست سپریم لیڈر خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی باقاعدہ یا ریگولر فوج کی بہ نسبت طاقتور ترین فوج مانی جاتی ہے۔یہ فوجی دستہ نیم فوجی ملیشیا بسیج کو بھی کنٹرول کرتی ہے جس کے اہلکاروں کی تعداد 90000 کے قریب ہے۔ بسیج فوج کے اہل کارانقلاب کے وفادار ہیں اورحکومتی نظام کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب مشرق وسطیٰ میں بھی اثر رسوخ رکھتی ہے اور اپنی اتحادی حکومتوں کو پیسہ، اسلحہ،ٹیکنالوجی، تربیت اور مشورے دیتی ہیں۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے ذیلی یونٹ القدس فورس کی مدد سے باہر کے ممالک میں مسلح گروپس بھی بھجواتی ہیں۔

اس کی بحری فوج تذویراتی طور پر اہم آبنائے ہر مز پر گشت کرتی ہے جس کے ذریعے دنیا کا20 فیصد تیل گزرتا ہے۔
ایران نے شام کے تنازع میں القدس فورس کے کردار کو بھی تسلیم کیا ہے، القدس فورس نے شام کی حکومت کی حمایت یافتہ افواج کی مدد کی ہے۔
سنہ 2011 میں القدس فورس سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کے منصوبے میں مبینہ طور پر ملوث تھی۔
حکومت میں اثر ورسوخ
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی مضبوط حمایت کی وجہ سے سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتی ہے۔
ملٹری کارخانوں کے علاوہ سپاہ پاسداران انقلاب ہاؤسنگ اسکیموں، ڈیم اور سڑکوں کی تعمیرات، تیل اور گیس کے پروجیکٹس، خوراک، نقل و حمل، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی فعال ہے۔
صد ر حسن روحانی نے کئی مواقع پر سپاہ پاسداران انقلاب کی اقتصادی سرگرمیوں پر تنقید بھی کی ہے ۔
سپاہ پاسداران انقلاب اب کیوں دہشت گرد قرار؟
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ ’ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے انتخابات کے موقع پریہ ایک اوربلا جواز تحفہ ہے ۔ امریکہ کی جانب سے خطے میں یہ ایک اور غلطی ہے۔‘
امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے سراہا اور اپنے بیان میں کہا کہ ’ میرے دوست ٹرمپ آپ کاپاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا شکریہ۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ان کی درخواست پر یہ اقدام اٹھایا ہے۔
امریکہ کسی کو دہشت گرد تنظیم کیسے قرار دیتا ہے؟
امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق انسداد دہشت گردی کا ادارہ بیورو آف کاؤنٹر ٹیررازم دنیا بھر میں ان تنظیموں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے جو دہشت گرد ی میں ملوث ہو، یہ بیورو ان کی مکمل معلومات اکھٹی کرتا ہے اور سیکریٹری خارجہ، اٹارنی جنرل اور سیکریٹری خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر کانگریس کو مطلع کیا جاتا ہے ۔
کانگریس کو نظر ثانی کے لیے 7 دن دیئے جاتے ہیں۔
امریکہ محکمہ خارجہ کے مطابق دہشت گرد قرار دینے والی تنظیمیں غیرملکی ہو، دہشت گردی میں ملوث ہو اور امریکی مفادات اور امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔
امریکہ کی جانب سے کسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد ان پر مالی پابندیاں بھی لگتی ہیں اور کوئی ان کے ساتھ کاروبار یا لین دین نہیں کر سکتا۔
سعودی عرب کا امریکی فیصلے کی حمایت
سعودی عرب نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے امریکی فیصلے کی حمایت کی۔
سعودی دفتر خارجہ کے عہدیدار نے منگل کو اعلامیہ جاری کرکے کہا کہ امریکہ نے پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ٹھوس اور عملی اقدام کیا ہے۔
خبررساں ادارے واس کے مطابق سعودی دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب عالمی برادری سے مسلسل مطالبہ کررہا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ دہشتگردوں سے نمٹنا اشد ضروری ہے۔
امریکہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دے کر ایک طرح سے سعودی عرب کا مطالبہ پورا کیا ہے۔
سعودی عرب نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری، عالمی امن و سلامتی کو سبوتاژ کرنے کے سلسلے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے تخریبی کردار سے نمٹنے کیلئے ٹھوس موقف اختیار کرے۔
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی الگ الگ اعلامیے جاری کرکے ایرانی پاسداران انقلا ب تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر حمایت کا اظہار کیا ہے۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے