Home / ادب نامہ / نثر / کافکا کے افسانے / بالٹی سوار-فرانز کافکا

بالٹی سوار-فرانز کافکا

بالٹی سوار

سارا کوئلہ ختم ، بالٹی  خالی ، بیلچہ بے مصرف، ، آتش دان ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہوا، کمرہ منجمد ہوتا ہوا، کھڑکی کے باہر پتیاں ٹھٹھری ہوئی ، پالے میں لپٹی ہوئی ، آسمان ہر اس شخص کے مقابلے پر رو پہلی سپر بنا ہوا جو اس سے مدد کا طلبگار ہو۔

مجھے کوئلہ مہیا کرنا ہوگا ۔ میں اکڑ کر نہیں مر سکتا ۔ میرے پیچھے بے رحم آتش دان ہے ۔ میرے آگے بے رحم آسمان ہے ۔ تو مجھے ان دونوں کے درمیان سے گزرنا چاہیے ۔اور اس سفر میں کوئلے والے سے کمک لینا چاہیے، مگر اس نے تو اب معمولی درخواستوں پر کان دھرنا چھوڑ دیا ہے۔ مجھے اس کے آگے  سامنے ناقابلِ تردید  طور پر ثابت کر دینا چاہیے کہ میرےپاس  کوئلے کا ایک ریزہ بھی نہیں رہ گیا  ہے،  کہ میرے لیے اس کی ہستی ایسی ہی ہے جیسے آسمان  پر سورج۔ مجھے ایسا بھکاری بن کے پہنچنا چاہیے  جو کسی دروازے کے سامنے ہی جان دینے پر  تلا ہوتا ہے ، اور اس کے گلے میں موت کی خرخراہٹ  شروع ہوجاتی ہے اور اسی لیے شرفا کا باورچی  کافی کی کیتلی  میں سے تلچھٹ  دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ بالکل  اسی طرح یہ بھی ہونا چاہیے  کہ کوئلے والا غصے میں بھر جانے کے باوجود ” تو کسی کی جان نہیں لے گا”  کے مقدس حکم کا پاس  کرتے ہوئے  ایک بیلچہ بھر  کوئلہ  میری بالٹی میں پھینک دے۔

وہاں میرے پہنچنے کا ڈھنگ ایسا معلوم ہونا چاہیے  جو معاملہ طے ہی کر دے ۔ اسی لیے میں بالٹی  پر سوار ہو کر نکلتا ہوں۔ بالٹی  پر بیٹھا ہوا ، ہاتھ بالٹی کے کنڈے پر  جو لگام کی سادہ ترین قسم ہے ، میں بمشکل خو د کو ٹھیلتا ہوا  سیڑھیوں سے اترتا ہوں۔ لیکن ایک با ر نیچے پہنچ کر  میری بالٹی بڑے ٹھاٹھ سے  اوپر اٹھنے لگتی ہے، بڑے ٹھاٹھ سے۔  زمیں پر بیٹھے ہوئے اونٹ بھی  ساربان کی چھڑیاں کھا کر جھر جھری  لیتے ہوئے اس سے زیادہ  پر وقار انداز میں نہیں اٹھتے۔  سخت  یخ بستہ  سڑکوں پر سے  ہم سبک رفتاری  کے ساتھ گزارتے ہیں۔  اکثر تو میں مکانوں کی پہلی منزل کی بلندی  تک اٹھتا چلا جاتا ہوں ۔ میں دروازوں  کی پستی تک کبھی نہیں اترتا ۔ اور آخر کار میں کوئلے  والے کے محرابی  چھت سے ڈکھے ہوئے  تہہ خانے  کی غیر معمولی بلندی  تک  تیر آتا ہوں۔  دکاندار کو میں دیکھتا ہوں  کہ میز کے سامنے  سکڑا ہوا بیٹھا  کچھ لکھ رہا ہے۔  اس نے  فاضل  گرمی نکالنے  کے لیے  دروازہ کھول رکھا ہے۔  کوئلے والے!  میں پکارتا ہوں ۔ کہر نے میری آواز کھوکھلی کر دی ہے  اور میری سانس کے بنائے ہوئے بادل نے  اسے ڈھانپ رکھا ہے۔ "کوئلے والے ! مہربانی  کر کے  مجھے تھوڑا سا کو ئلہ دے دو۔ میری بالٹی  اتنی ہلکی ہو چکی ہے کہ میں اس پر سواری کر سکتا ہوں ۔ مہربانی کرو۔ جب بھی مجھ سے ہو سکا  میں تمہیں قیمت ادا کردوں گا۔ "

دکاندار اپنے ایک کان پر ہاتھ رکھتا ہے:

"کیا مجھے ٹھیک سنائی دے رہاہے؟ ” وہ پیچھے بیٹھی ہوئی اپنی بیوی سے پوچھتا ہے ” کیا مجھے ٹھیک سنائی دے رہا ہے؟ کوئی گاہک؟

” مجھے تو کچھ بھی سنائی نہیں دیتا ” اس کی بیوی کہی ہے ۔ بنائی کرتے ہوئے  وہ سکون کے ساتھ سانسیں  بھر رہی ہے ۔ آگ اس کی پیٹھ کو  بڑے مزے  سینک رہی ہے؟

"ہاں ، ہاں ، سنو تو سہی !”  میں چلاتا ہوں۔” یہ میں ہی ہوں ۔ پرانا گاہک ، سچا اور کھرا گاہک ، البتہ اس وقت محتاج ہوں ۔”

"بیوی” کوئلے والا کہتا ہے ۔ کوئی ہے ، بالکل ہے۔  میرے کان اتنا دھوکہ تھوڑی دے سکتے ہیں  ۔ ضروری کوئی پرانا گاہک ہے جو مجھ سےاس طرح منت کررہا ہے۔

"کیوں پریشان ہورہے ہو بھلے آدمی ؟ اس کی بیوی ذرا دیر کے لیے کام چھوڑ کر کہتی ہے  ۔ اور بنائی کا سامان اپنے سینے سے بھینچ لیتی ہے ۔ ” کوئی بھی نہیں ہے ، سڑک سونی پڑی ہے ۔ ہمارے سب گاہکوں کو مال پہنچ چکا ہے ۔ اب تو ہم کئی دن تک  بند کرکے آرام کر سکتے ہیں۔

"لیکن میں یہاں اوپر بیٹھا ہوں بالٹی پر ۔ میں چیخ کر کہتا ہوں اور بے حس  جمے ہوئے آنسو میری نظروں  کو دھندلا دیتے ہیں ۔ "خدا کے لیے اوپر دیکھو ۔ صرف ایک بار ۔ میں تمہیں  فوراً دکھائی دے جاؤں گا ۔ میں منت کرتا ہوں ۔صرف ایک بیلچہ بھر ۔اور اگر کچھ زیادہ دےد و تو خوشی  سے پاگل  ہو جاؤں ۔  تمام  دوسرے گاہکوں  کو مال پہنچ چکا ہے۔ مجھے  بالٹی  میں کوئلے  کی  کھڑ کھڑاہٹ  سننے ہی بھر کو مل جائے۔ "

"میں آرہا ہوں”  کوئلے والا کہتا ہے اور  اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگوں سے تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہے۔ لیکن  اتنے میں  اس کی بیوی  اس کے برابر پہنچ جاتی ہے، اس کا شانہ  پکڑ کر کھینچتی ہے  اور کہتی ہے:

” یہیں ٹھہرو تم !تمہارا  وہم نہیں جاتا  تو میں خود جا کر دیکھ لیتی ہوں۔ رات کس بری طرح سے کھانس رہے تھے ،  اس کا تو خیال کرو۔ گاہک کا وہم بھی  ہو جائے تو بیوی بچوں  کو بھول بھال کر  اپنے پھیپھڑے  بھینٹ چڑھانے پر تل جاتے ہو ۔ میں جا کر دیکھتی ہوں”

” تو اسے ضرور بتا دینا  کہ ہمارے  پاس کونسا کوئلہ موجود ہے۔  میں یہیں سے پکار پکار کر دام بولتا جاؤں گا "

"اچھا اچھا ” اس کی بیوی سیڑھیاں چڑھ  کر سڑک  پر آتے  ہوئے کہتی ہے ۔ ظاہر ہے وہ مجھے فوراً دیکھ لیتی ہے ۔

کوئلے والی”میں چلاتا ہوں۔میرا سلام قبول ہو ۔ بس ایک بیلچہ بھر کوئلہ  اس بالٹی میں ، میں اسے خود گھر لے جاؤں گا۔سب سےگھٹیا  میں کا بس  ایک بیلچہ بھر ۔ میں پورے دام  دے دوں گا ، ظاہر ہے ، مگر ابھی نہیں ، ابھی نہیں۔”

یہ "ابھی نہیں” کے الفاظ  کیسے گھنٹی کی طرح بجتے ہیں ! کیسے چکرا دینے والے انداز میں  یہ الفاظ  قریبی  گرجا گھر  کے مینار سےآتی ہوئی  شام کے گجر  کی جھنکار میں مل جاتے ہیں۔

ارے بھئی  ” اسے کیا کہنا چاہیے؟”  دکاندار پکار کے پوچھتا ہے ۔

"کچھ بھی نہیں”  اس کی بیوی  پکار کا جواب دیتی ہے ۔ ” یہاں کچھ بھی نہیں ہے ۔ مجھے  تو نہ کچھ دکھائی دے رہا ہے  نہ سنائی دے رہا ہے ۔ چھ  کا گھنٹہ، بس  اب دکان بند کرنا چاہیے ۔ بلا کی سردی ہے ۔ کل بھی  کاروبار سے فرصت ملنا مشکل ہی ہے۔ "

 اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا ، کچھ سنائی نہیں دیتا۔  لیکن پھر بھی  وہ اپنے سینہ بند  کی ڈوریا ں کھولتی  ہے  اور مجھے  ہنکا  دینے کے لیے  سینہ بند کو  ہوا میں گھماتی ہے ۔  بد قسمتی سے  وہ کامیاب  ہو جاتی ہے۔  میری بالٹی  میں عمدہ گھوڑے  کی ساری خوبیاں موجود ہیں ، سوا مزاحمت کی قوت سے ،وہ اس میں نہیں ہے۔ میری بالٹی بہت ہلکی ہے اتنی کہ  عورت کا سینہ  بند اسے ہوا میں اڑا سکتا ہے ۔

"خبیث عورت” میں جاتے جاتے چلاتا ہوں اور مڑکر دکان میں داخل ہوتے ہوتے  تحقیر اور اطمینان کے ملے جلے انداز میں مٹھی بھر کر  ہوا میں  لہراتی ہے ۔

"خبیث  عورت!  میں نے  تجھ سے فقط  ایک بیلچہ  بھر  سب  سے بدتر کوئلہ مانگا ،  اور تو نے وہ بھی نہ دیا”

اور یہ کہ کر میں برف پوش  پہاڑوں  کے علاقے کی سمت  پرواز کرتا ہوں  اور ہمیشہ کے لیے کھوجا تا ہوں۔

 

 

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے