Home / کالم / بیرونی سرمایہ کاری مگر کیسے ؟ ساجد خان

بیرونی سرمایہ کاری مگر کیسے ؟ ساجد خان

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے،اس لیے ہمارے پاس آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا جبکہ وزیراعظم پاکستان کے مشیر داؤد رزاق نے کاروباری افراد سے ملاقات کے دوران پاکستان کو کنگلا ملک قرار دے دیا گو کہ ملاقات میں شریک افراد کے احتجاج پر انہوں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے لیکن ان کے الفاظ نے،ان کی سوچ کی عکاسی ضرور کر دی۔
عمران خان نے جب سے وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے،وہ ایک ہی بات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو تباہ کر دیا،خزانہ خالی ہے اور ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ الفاظ سعودی عرب سے چین تک کے بیرونی دوروں پر دہرائے گئے۔
اس سب کے باوجود وزیراعظم صاحب یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں آ کر سرمایہ کاری کریں۔
ایک پرانی فلم کے سین میں ایک شخص نے دوست کو اپنے رشتے کے لئے اپنی پسند کی لڑکی کے گھر بھیجا۔
اس کا دوست رشتہ لے کر جاتا ہے تو لڑکی کی خالہ پوچھتی ہے کہ بیٹا وہ لڑکا کماتا کتنا ہے۔
دوست نے کہا ابھی تو کچھ نہیں کام کرتا لیکن جب شادی کے بعد سر پر ذمہ داری آئے گی تو کمانے بھی لگ جائے گا۔
پوچھا کیا کنگلا ہے ؟ جواب دیا نہیں خالہ کماتا ہے لیکن اب ہر دفعہ بندہ جوئے میں تھوڑی جیت سکتا ہے۔
یہ سن کر خالہ حیران ہو کر بولی ہائے جواری ہے تو دوست بولا بس خالہ جب کبھی شراب پی لے تو کیا پتہ چلتا ہے،کوئی ہاتھ پکڑ کر بٹھا دے تو اس میں میرے دوست کی کیا غلطی ؟
خالہ نے چیخ کر کہا شراب بھی پیتا ہے ؟ جواب دیا کہ عادی تو نہیں ہے بس جب ناچ گانا دیکھنے کے لئے جاتا ہے تو دو گھونٹ لگا لیتا ہے۔
اب لڑکی کی خالہ مزید پریشان ہوئی لیکن دوست نے کہا کہ بس آپ رشتہ مان جائیں،میرا دوست آپ کی بچی کو بہت خوش رکھے گا۔
خالہ نے رشتہ سے انکار کیا تو ٹھنڈی آہ لے کر بولا میں نے تو اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی مگر اس بچارے کی قسمت۔
بس یہی سین ہمارے ملک میں بھی جاری ہے۔
سرمایہ کاروں کے سامنے کہتے ہیں کہ کنگلا ملک ہے،دیوالیہ ہونے کے قریب ہے،گزشتہ حکمران سب کچھ لوٹ کر چلے گئے ہیں جبکہ ادارے بھی تباہ حال ہیں لیکن آپ یہاں سرمایہ کاری ضرور کریں،آپ کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
قارئین خود انصاف کریں کہ اس سب کے بعد کون بیوقوف سرمایہ کار ہو گا جو پاکستان میں اپنا پیسہ لگانے کا رسک لے گا ؟
سیاحت اور سرمایہ کاری دو ایسے حساس ترین شعبے ہیں کہ کسی بھی ملک کے حالات کا سب سے پہلے اور زیادہ اثر ان پر ہی پڑتا ہے لیکن اس سب کے باوجود بھی حکمران سرمایہ کاروں کو اچھا ماحول دینے کے بجائے الٹا ڈرا رہے ہیں اور جب سرمایہ کار نہیں آئیں گے تو پانچ سال بعد ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے فلمی سین کی طرح کہیں گے کہ ہم نے کوشش تو بہت کی مگر اس بچارے ملک کی قسمت ہی خراب ہے۔
وزیراعظم عمران خان صاحب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک اس طرح نہیں چلتے اور نا ہی یوں سرمایہ کاری آتی ہے۔
اس کے لئے سازگار ماحول بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں اعتماد دلانے کی بھی ضرورت پڑتی ہے کہ ہمارے ملک کے حالات نہایت اچھے ہیں اور آپ کا پیسہ محفوظ رہے گا۔
ایک غریب سفید پوش شخص بھی گھر میں روکھی روٹی کھا لیتا ہے لیکن جب گھر سے باہر جاتا ہے تو سفید کلف لگے کپڑے پہن کر نکلتا ہے تاکہ بھرم قائم رہے اور لوگوں کا اس پر اعتماد قائم رہے،ایک آپ ہیں کہ ہر جگہ ملک کی تباہی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔
عمران خان صاحب! آپ کو سمجھنا چاہئے کہ خود کو اچھا اور مخالفین کو برا ثابت کرنے کے لئے ہر وقت ملک کی تباہی کا ڈھنڈھورا پیٹنے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی اب آپ کو اقتدار میں آئے سات ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے،اب آپ ماضی کو کریدنے کے بجائے یہ بتائیں کہ آپ نے حالات بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں۔
حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں،آپ ہر وقت ملک کو کنگلا ثابت کر کے ملکی معیشت کو فائدہ نہیں بلکہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ایک افواہ سے اسٹاک ایکسچینج چڑھ بھی سکتی ہے اور گر بھی سکتی ہے جبکہ آپ تو ملک کے وزیراعظم ہیں اور آپ کے ایک ایک لفظ پر دنیا کی نظر ہوتی ہے۔
روپے کی قدر کم ہونے میں بھی آپ ہی کے بیانات کا بہت حد تک ہاتھ ہے۔
اب آپ اپوزیشن میں نہیں ہیں کہ آپ قوم کو خوفزدہ کرتے رہیں بلکہ اب آپ کے پاس اختیارات ہیں،آپ بیانات دینے کے بجائے اختیارات کا استعمال کریں۔
اپنے عہدے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ بیان دیں تاکہ معیشت پر بھی اچھا اثر پڑے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی تحفظ کا احساس ہو۔
پاکستان میں واقعی میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں بس ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں یہاں سرمایہ کاری کے لئے رضامند کیسے کیا جائے اور یہ کام صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے