Home / سماج / تعلیم ایک روشنی یا جنس-عمار یاسر

تعلیم ایک روشنی یا جنس-عمار یاسر

تعلیم کی اہمیت سے کسی طور بھی انکار ممکن نہیں ۔ عمرانیات کے نقطہ نظر سے تعلیمی ادارہ    ا ن پانچ بنیادی اداروں میں سے ایک ہے جن پر کسی بھی سماج کی عمارت استوار ہے۔ تعلیم کے لغوی  مفہوم کا جائزہ لیا  جائے توتعلیم کا مادہ "علم” ہے جس کے معنی "کسی چیز کا ادراک حاصل کرنا "کے ہیں  ۔ 

  سے  ماخوذ ہے۔Educere اور  Educare لاطینی زبان کے دو الفاظ Education اسی طرح انگریزی زبان کا لفظ  

   کے معنی پروان چڑھانا  Educare   کے معنی باہر نکالنا اجاگر کرنا جبکہ Educere 

اس طرح     سے دیکھا جائے  تو  تعلیم کسی فرد کی صلاحیتوں کو  اجاگر کر کے انھیں پروان چڑھانے کا نام ہے۔

اگرباقاعدہ طور پر  تعلیم کی مختلف  تعریفوں کا جائزہ لیا جائے  تو تعلیم کی سادہ سی تعریف  ” نسلوں تک معاشرتی اقدار،ادب اورثقافت کی منتقلی ہے”۔  جدید فرانسیسی مفکر روسو  کے مطابق ” تعلیم، فطری ماحول میں فردکی انفرادیت کی نشوونما کامنبع ہے”          سقراط کے ہاں "تعلیم سچائی کی تلاش میں مدددینے کانام ہے”            مشہور ماہر تعلیم جان ڈیوی نے تعلیم کی تعریف یوں کی ہےکہ "تعلیم تجربہ کی اس تعمیرِنو کانام ہے،جس سے اس کے معنیٰ میں اضافہ ہوجاتاہے اورجس کی بدولت بعدمیں یقین آنے والے تجربہ کارخ متعین کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے”۔ ان تمام تعریفوں کو یہاں بیان کرنے مقصد تعلیم کے حقیقی معنی اجاگر کرنا اور انکا جدید تعلیمی نظام سے تقابل کرنا ہے کہ ان میں کیا بنیادی فرق ہے ۔

بہت سے مفکرین   نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ جدید تعلیم کے مقاصد کیا تھے  ۔ جدید تعلیمی ڈھانچے نے جہاں انسانی فکر  میں بہت سے انقلابات  برپا کئے اور انہی فکری  جولانیوں سے جس  طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ   بذات خود قابل بحث ہیں۔ اگر ہم بغور اٹھارہویں صدی میں یورپ  ہونے والے واقعات کا جائزہ لیں تو ہمارے مشاہدہ میں آئے گا کہ جدید تعلیمی   ڈھانچے کی بنیادیں  بہت حد تک   اس صنعتی انقلاب کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر استوار کی گئیں   جس کا مطمع نظر  ہنر مند افرادی قوت کا حصول تھا۔

  کا درجہ رکھتی ہے۔ Paradigm Shift یہ چیز تعلیم میں ایک 

یہ تعلیم کی ایک نئی تعریف تھی جسکا مقصد  فرد کی فطری صلاحیتوں کا گھلا گھونٹ کر نوکری کے حصول کی خاطر منڈی کی اقدار کی منتقلی تھا۔

یورپ جب اپنی کالونی گیری کی ہوس کے تحت   اسی تعلیمی ڈھانچے اور جدید تعلیمی تعریف کو لے   کر برصغیر پہنچا تو اس نے یہاں ایک ایسا نظام تعلیم مرتب کیا جسکا بنیادی مقصد "کلرک” پیدا کرنا تھا۔

آج  آزاد ی کا  ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد  بھی ہمارا تعلیمی نظام  انہی خطوط پر استوار ہے۔ میں سماجی علوم کا طالب علم ہوں اور سماجی علوم کے  طلباء کی ایک بڑی تعداد   کے ذہنوں میں یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ہی یہ سوال گردش کرتا ہے ا ور پورے تعلیمی دورانیے کے دوران تواتر    سے سننے کوملتا ہے ۔

 کیا ہے؟ Scope کہ آخر اس ڈگری کا 

 یا  منڈی میں اس جنس کا بھاؤ کیا ہے جو ہم پڑھنے جا رہے ہیں؟۔  مندرجہ بالا سطور میں باندھی گئی تمہید کو پڑھ کر اس سوال کو سن کو کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ ایسے میں سماجی علوم سے تعلق رکھنے والے طلباء کی ایک بڑی تعداد پر امید نظروں سے پبلک سروس کمیشن کی طرف سے آنے والی نوکریوں کی طرف دیکھتے ہیں اور اگر پبلک سروس کمیشن کی طرف سے کسی بھی شخص کی اہلیت کو جانچنے کے معیار کی طرف دیکھا جائے تو سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ یعنی کسی بھی سولہویں اور سترہویں  گریڈ کے آفیسرکا تعین  کچھ اس قسم کے سوالات سے ہوتا ہے۔

پاکستان کا اب تک کا سب سے کم سکور کتنا ہے ؟

دنیا سب سے بڑا سمندر کونسا ہے؟

جسم کا کونسا حصہ سب سے زیادہ پروٹین جذب کرتا ہے ؟

برطانیہ کے وزیر اعظم کا پورا نام کیا ہے ؟

یہ چند مثالیں ہیں جس طرح کے سوالات پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں پوچھے جاتے ہیں۔ ان سب کے لئے جب اپنے ساتھی طالب علموں کو شبانہ روز رٹا لگاتے دیکھتا ہوں تو انکی اور اپنی حالت پر ترس آتا ہے اور اس سولہ سالہ   یا اٹھارہ سالہ  تعلیم  پر لعنت بھیجنے کا جی چاہتا ہے۔ جنرل نالج کی اہمیت سے انکا ر نہیں مگر ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ ایک سمندر ہے۔ ایک طالب علم سولہ سال تک کچھ اور پڑھتا ہے  اور ایک خاص علمی شاخ میں ڈگری لیتا ہے  جب کہ اگر  اسے اس علم کی بنیاد پر کسی انتطامی ادارے میں نوکری چاہیے تو اسےاس طرح کے سوالا ت کی تیاری کرنا ہوگی۔ یہ کیسا بھونڈا طریقہ ہے؟     اگر ان سے سوال کیا جائے تو جواب آتا ہے کہ یہ معیار اس لئے ہے کہ نوکریاں کم ہیں اور درخواست گزار بہت زیادہ ہیں ۔ تو یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہیں ؟    کیوں طلباء کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے؟ اسکا جواب ہمارے تعلیمی اور ریاستی ڈھانچے  کی نا اہلی اور ناکامی میں پنہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سولہ سالہ  یا اٹھارہ سالہ ڈگری لینے کے بعد طالب علم سوچ رہا ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟    اگر ہماری تعلیم اور تعلیمی ادارے اسے یہ شعور نہیں دیتے تو یہ ہمارے تعلیمی نظام پر ایک بہت بڑا سوال ہے ۔ ہمیں بحیثیت طالب علم اپنے آئینی اور شہری حقوق کا ذمہ خود لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ اس نو آبادیاتی تعلیمی نظام سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے۔ ہم طالب علموں کے  فکری و سیاسی شعور کو جس مہارت کے ساتھ کچلا گیا اس کی بازیابی کیونکر ممکن ہے ۔ اور اگر اب بھی ہم ان سوالات پر غور کرنے اور عملی اقدام کرنے پر تیار نہیں تو جہاں  دنیا میں اور بہت سے غلط کام ہو رہے ہیں ایک یہ بھی سہی اور جو لوگ اس چیز کا شعور رکھنے کے زعم میں مبتلا ہیں  لیکن پھر بھی خاموش ہیں انکے لئے غالب کا ایک مصرعہ کافی ہے

 ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں 

 

 عمار یاسر پنجاب یونیورسٹی میں عمرانیات کے طالب علم ہیں۔

admin

Author: admin

Check Also

شادی کے بعد اچھا تعلق طویل زندگی کے لیے ضروری

اپنے شریک حیات کو خوش رکھیں اور لمبی زندگی کا مزہ لیں۔یہ وہ بات ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے