Home / ادب نامہ / شاعری / علی اکبر ناطق کی شاعری / جالا کاتنے والے۔علی اکبر ناطق

جالا کاتنے والے۔علی اکبر ناطق

جالا کاتنے والے

سوگ منایا سوگ منایا سوگ منانے والوں میں
اس آنگن کا جس آنگن کی غم نے دھول اڑائی ہے
انگلیوں کا جن گلیوں میں بھرے دوپہروں میں
اجڑے پیڑوں کی ٹنڈ شاخیں سایہ سایہ چلتی ہیں
میلی آنکھوں والے الو جس پر بیٹھ کے روتے ہیں
رات گئے آوازوں میں تلخ دھویں کا ایک غبار
لیکن مر گئے نوحہ والے کون بٹائے ان کا ہاتھ

شور مچایا شور مچایا کالے ٹخنوں والی نے
جنم جنم کے بھوکے بالک جس کی گود کا حصہ ہیں
کانپ کانپ کے ڈر جاتی ہے بھورے دن کی دیوی سے
پستانوں کو داب رہی ہے چھپ کر درد کے ڈھیروں میں

آگ لگائی آگ لگائی سرد ہواؤں نے دل میں
راکھ کا بستہ کر دیتی ہے سانس کے زندہ ریشوں کو
لیکن کون بجھائے اس کو یہ جنموں کی بھوکی آگ
کاتنے والے کات رہے ہیں جالا میری آنکھوں پر
دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں اور بہت خاموش

admin

Author: admin

Check Also

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق عصا بیچنے والو آؤ مرےشہر آؤ کہ لگتی ہے یاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے