Home / ادب نامہ / نثر / راجندر سنگھ بیدی کے افسانے / جوگیا ۔افسانہ۔راجندر سنگھ بیدی

جوگیا ۔افسانہ۔راجندر سنگھ بیدی

نہا دھو کر نیچے کے تین ساڑھے تین کپڑے پہنے۔ جوگیا روز کی طرح اس دن بھی الماری کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ اور میں اپنے ہاں سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر دیکھنے لگا۔ ایسے میں دروازے کے ساتھ جو لگا تو چُوں کی ایک بے سُری آواز پیدا ہوئی۔ بڑے بھیا جو پاس ہی بیٹھے شیو بنا رہے تھے مڑ کر بولے۔ کیا ہے جگل؟ کچھ نہیں موٹے بھیا۔ میں نے انہیں ٹالتے ہوئے کہا۔ ’’گرمی بہت ہے‘‘ اور میں پھر سامنے دیکھنے لگا۔ ساڑھی کے سلسلے میں جوگیا آج کون سا رنگ چنتی ہے۔

میں جے جے سکول آف آرٹس میں پڑھتا تھا۔ رنگ میرے حواس پہ چھائے رہتے تھے۔ رنگ مجھے مرد عورتوں سے زیادہ ناطق معلوم ہوتے تھے۔ اور آج بھی ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ لوگ بے معنی باتیں بھی کرتے ہیں لیکن رنگ کبھی معنی سے خالی بات نہیں کرتے۔

ہمارا مکان کا لبادیوی کی وادی شیٹ آ گیاری لین میں تھا۔ پارسیوں کی آ گیاری تو کہیں دور۔ گلی کے موڑ پر تھی۔ یہاں پر صرف مکان تھے۔ آمنے سامنے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ ان مکانوں کی ہم آغوشیاں کہیں تو ماں بچے کے پیار کی طرح دھیمی دھیمی ملائم ملائم اور صاف ستھری تھیں اور کہیں مردو عورت کی محبت کی طرح مجنونانہ سینہ بہ سینہ لب بہ لب….

سامنے بانپو گھر کی قسم کے کمروں میں جو کچھ ہوتا تھا۔ وہ ہمارے ہاں گیان بھون سے صاف دکھائی دیتا۔ ابھی بجور کی ماں ترکاری چھیل رہی ہے اور چاقو سے اپنا ہی ہاتھ کاٹ لیا ہے۔ ڈنکر بھائی نے احمد آباد سے تل اور تیل کے دو پیپے منگوائے ہیں اور پنجابن سب کی نظریں بچا کر انڈوں کے چھلکے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک رہی ہے جیسے ہمارے گیان بھون سے ان لوگوں کا کھایا پیا سب پتہ چلتا تھا۔ ایسے ہی انہیں بھی ہمارا سب اگیان نظر آتا ہو گا۔

جوگیا کے مکان کا نام تور نچھوڑ نواس تھا۔ لیکن میں اسے بانپو گھر کی قسم کا مکان اس لیے کہتا ہوں کہ اس میں عام طور پر بدھوائیں اور چھوڑی ہوئی عورتیں رہتی تھیں۔ جن میں سے ایک جوگیا کی ماں تھی جو دن بھر کسی درزی کے گھر میں سلائی کی مشین چلاتی اور اس سے اتنا پیسہ پیدا کر لیتی، جس سے اپنا پیٹ پال سکے اور ساتھ ہی اس کی تعلیم بھی مکمل کرے۔

جوگیا سترہ اٹھارہ برس کی ایک خوب صورت لڑکی تھی قد کوئی ایسا چھوٹا نہ تھا لیکن بدن کے بھرے پرے اور گھٹے ہونے کی وجہ سے اس پر چھوٹا ہونے کا گمان گزرتا تھا۔ کسی کو یقین بھی نہ آسکتا تھا۔ کہ جوگیا دال۔ رنگنا اور ہفتے میں ایک آدھ بار کی شری کھنڈ سے اتنی تندرست ہوسکتی تھی۔ بہر حال ان لڑکیوں کا کچھ مت کہیے جو بھی کھاتی ہیں الم غلم، ان کے بدن کو لگتا ہے۔ جوگیا کا چہرہ سومنات مندر کے پیش رخ کی طرح چوڑا تھا۔ جس میں قندیلوں جیسی آنکھیں رات کے اندھیرے میں بھٹکے ہوئے مسافروں کو روشنی دکھاتی تھیں۔ مورتی جیسا ناک اور ہونٹ زمرد اور یاقوت کی طرح ٹنکے ہوئے تھے۔ سر کے بال کمرے سے نیچے تک کی پیمائش کرتے تھے جنہیں وہ کبھی ڈھیلا ڈھیلا اور بھیگا بھیگا رکھتی اور کبھی اس قدر خشک بنا دیتی کہ ان کی کچھ لٹیں باقی بالوں سے خواہ مخواہ الگ ہو کر چہرے اور گردن پر مچلتی رہتیں۔ اس کا چہرہ کیا تھا۔ پورا تارا منڈل تھا۔ جس میں چاند خیالوں اور جذبوں کے ساتھ گھٹتا اور بڑھتا رہتا تھا۔ جوگیا یوں بڑی بھولی تھی۔ لیکن اپنے آپ کو سجانے بنانے کے سلسلے میں بہت چالاک تھی۔ کب اور کس وقت کیا کرنا ہے۔ یہ وہی جانتی تھی اور اس کے اس جاننے میں اس کی تعلیم کا بڑا ہاتھ تھا، جس نے اس کے حُسن کو دو بالا کر دیا تھا۔ گڑبڑ تھی تو بس رنگ کی۔ کیونکہ جوگیا کا رنگ ضرورت سے زیادہ گورا تھا۔ جسے دیکھتے ہی زکام کا سا احساس ہونے لگتا۔ اگر باقی کی چیزیں اتنی مناسب نہ ہوتیں تو بس چھٹی ہو گئی تھی۔

میں نہیں جانتا محبت کس چڑیا کا نام ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جوگیا کو دیکھتے ہی میرے اندر کوئی دیواریں سی گرنے لگتی تھیں اور جہاں تک مجھے یاد ہے۔ جوگیا بھی مجھے دیکھ کر غیر متعلق باتیں کرنے لگتی،جوگیا میری بھتیجی ہیما کی سہیلی تھی عجیب سہیل پنا تھا۔ کیونکہ ہیما صرف سات سا ل کی تھی اور جوگیا اٹھارہ برس کی۔ ان کی دوستی کی کوئی وجہ تھی، جسے صرف جوگیا جانتی تھی اور یا پھر میں جانتا تھا۔ موٹے بھیا اور بھابی صرف یہی سمجھتے تھے۔ وہ ہیما سے پیار کرتی ہے۔ اس لیے اسے پڑھانے آتی ہے۔ یوں ہمارے گھر میں آ کر جوگیا سب کو سبق دے جاتی تھی۔ میں جو ایک آرٹسٹ بننے جا رہا تھا ایسی رکھ رکھاؤ کی باتوں کا قائل نہ تھا۔ لیکن میری مجبوریاں تھیں،میں نے کمانا شروع نہیں کیا تھا اور میرے ہر قسم کے خرچ کا مدار موٹے بھیا پر تھا۔ البتہ بیچ بیچ میں مجھے اس بات کا خیال آتا تھا۔ اس داؤ گھات میں بھی ایک مزہ ہے۔

ہم گھر سے تھوڑے تھوڑے وقفے اور فاصلے کے ساتھ نکلتے تھے۔ اور پھر پارسیوں کی آ گیاری کے پاس مل جاتے۔ ہمارے اس راز کو صرف وہ پارسی پجاری ہی جانتا تھا جو فرشتوں کے لباس میں اگیاری کے باہر ہی بیٹھا ہوتا اور منہ میں ژنداوستا پڑھتا رہتا۔ وہ صرف ہمارے سروش کو سمجھتاتھا۔ اس لیے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے ہم اسے ضرور صاحب جی کہتے اور پھر اس راستے پہ چل دیتے جو دنیا کے لہو و لعب میٹرو سینما کی طرف جاتا تھا۔ جہاں پہنچ کر جوگیا اپنے کالج کی طرف چل دیتی اور میں اپنے سکول کی طرف۔ راستے بھر ہم غیر متعلق باتیں کرتے اور ان سے پورا حظ اٹھاتے۔ اگر پیار کی باتیں ہوتیں بھی تو کسی دوسرے کے پیار کی جن میں وہ مرد کو ہمیشہ بدمعاش کہتی اور پھر اس بات پہ کڑھتی بھی کہ اس کے بغیر بھی گزارہ نہیں۔ ایک دن جہانگیر آرٹ گیلری میں کسی آرٹسٹ کی منفرد نمائش تھی اور پورے شہر بمبئی میں سے کوئی بھی اس بدنصیب کی تصویروں کو دیکھنے اور خریدنے نہ آیا تھا۔ صرف میں اور جوگیا پہنچے تھے اور وہ بھی تصویریں دیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کو دیکھنے محسوس کرنے کے لیے۔ پورے ہال میں ہمارے سوا کوئی بھی نہ تھا اور تین طرف سے رنگ ہمیں گھور رہے تھے۔ ’’ جو ہو میں ایک صبح، کے نام ایک بڑی سی تصویر تھی۔ جس میں اوپر کے حصے پر برش سے گہرے سرخ رنگ کو موٹے موٹے اور بھدے طریقے سے تھوپا اور پچارا گیا تھا۔ جس نے ہماری روحوں تک میں التہاب پیدا کر دیا۔ اس تصویر کے نیچے ایک اسٹول سا پڑا تھا۔ جس پر جوگیا کسی اندرونی تکان کے احساس سے بیٹھ گئی۔ اس کی سانس قدرے تیز تھی اور میں جانتا تھا۔ محبت میں ایک قدم بھی بعض وقت سینکڑوں فرسنگ ہوتا ہے…. اور آدمی چلنے سے پہلے تھک جاتا ہے۔
آرٹسٹ روہانسا ہو کر باہر چلا گیا تھا۔ دیکھنے کوئی آتا مرتا ہے یا نہیں۔ اپنی نفرت میں وہ ہماری محبت کو نہ دیکھ سکا تھا۔ جبھی ہم دونوں کے اکیلے ہونے نے پورے ہال کو بھر دیا۔

اس دن میں نے جوگیا سے سب کہہ دینا چاہا۔ ہم دونوں ہی پیار کی ہیرا پھیریوں سے تنگ آ چکے تھے۔ چنانچہ میں نے ایک قدم آگے بڑھایا ٹھٹکا اور پھرا سٹول کے پاس جوگیا کے عین پیچھے کھڑا ہو گیا۔ میں کہہ بھی سکا تو اتنا ’’جوگیا! میں تمہیں ایک لطیفہ سناؤں ‘‘۔
’’سامنے آ کے سناؤ‘‘ بولی۔
میں نے کہا ’’لطیفہ ہی ایسا ہے۔‘‘
میری طرف دیکھے بغیر ہی اسے میرے حیص بیص کا اندازہ ہو رہا تھا اور مجھے پیچھے اس کے کانوں کی لوؤں سے اس کی مسکراہٹ دکھائی دے رہی تھی۔ آخر میں نے لطیفہ شروع کیا ’’ایک بہت ہی ڈرپوک قسم کا پریمی تھا۔‘‘
’’ہوں ‘‘ جوگیا کے سنبھلنے ہی سے اس کی دلچسپی کا اندازہ ہو رہا تھا‘‘۔
’’وہ کسی طرح بھی اپنی پریمیکا کو اپنا پیار نہ جتا سکتا تھا‘‘۔
اس پر جوگیا نے تین چوتھائی میں میرے طرف دیکھا۔
’’تم لطیفہ سنارہے ہو‘‘۔
’’ہاں ‘‘ میں نے کچھ خفیف ہوتے ہوئے کہا۔
اور جوگیا پھر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی منتظر…. ایک ایسا انتظار جو بہت ہی لمبا ہو گیا تھا جس میں لمحات کے شرارے، کسی بارود سے چھوٹ چھوٹ کر نکل رہے تھے۔ خلا میں پھٹ رہے تھے اور آخر معدومیت کا حصہ ہوتے جا رہے تھے۔ جبھی ’’جوہو میں ایک صبح‘‘ میں لال رنگ کے بیچ سے سورج کی کرن نیچے سمندر کی سیاہیوں میں ڈولتی ہوئی کشتی پہ پڑی اور میں نے کہا ’’وہ لڑکی اپنے پریمی سے تنگ آ گئی۔ آخر اس نے سوچا۔ اس بیچارے میں تو ہمت ہی نہیں۔ کیوں نہ میں اسے کوئی ایسا موقع دوں۔ شاید…. چنانچہ اس نے اپنے جنم دن پر لڑکے کو بلا لیا۔ لڑکا آپ ہی گلدستہ بھی لایا۔ جسے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس کی پریمیکا نے کہا ’’ہئے۔ کتنا پیارا ہے یہ اودے میں گلابی۔ گلابی میں سفید رنگ کے پھول۔ ان کے بدلے تو کوئی میرا….
’’پھر؟‘‘ جوگیا کی بے صبری پیچھے سے بھی دکھائی دے رہی تھی۔
’’مگر…. وہ لڑکا باہر جا رہا تھا دروازے کی طرف‘‘ …. ہے بھگوان‘‘ …. جوگیا نے کوئی ہاتھ اپنے ماتھے پر مار لیا تھا…. میں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا۔ لڑکی بولی۔ کہاں جا رہے ہو۔ لالی۔ جس پر لالی نے دروازے کے پاس مڑتے ہوئے کہا…. اور پھول لینے….
اس سے پہلے کہ جوگیا ہنستی اور اس کا انتظار ابدیت پہ چھا جاتا میں نے اس کو چُوم لیا…. وہ ہنس نہ سکتی تھی کیونکہ وہ خفا تھی اور خوش بھی محبت کے اس بے برگ وگیاہ سفر میں ایکا ایکی زمین کا کوئی ایسا ٹکڑا چلا آیا تھا جسے بارش کے چھینٹوں نے ہرا کر دیا تھا۔

اس کے بعد آرٹ کا دلدادہ کوئی آدمی آیا اور اس نے بازو والی تصویر خرید لی۔ جس کا نام تھا ’’کوئی کسی کا نہیں ‘‘ اور جس میں ایک عورت سرہاتھوں میں دیئے رو رہی تھی سب رنگوں میں اداسی تھی اور ایسے وقت میں اداسی کے رنگ خرید رہا تھا، جب کہ سب کھلتے ہوئے رنگ ہمارے تھے جیب میں ایک پائی نہ ہونے کے باوجود سب تصویریں ہماری تھیں، نمائش ہماری تھی جوگیا ایک عظیم تشفی کے احساس سے معمور باہر دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی جہاں سے اس نے ایک بار مڑ کر میری طرف دیکھا مکا دکھایا، مسکرائی اور دوڑ گئی۔

کچھ دیر یونہی ادھر ادھر رنگ اچھالنے کے بعد میں بھی باہر چلا آیا۔ دنیا کی سب چیزیں اس روز اجلی جلی دکھائی دے رہی تھی۔ لوگوں نے ایسے ہی رنگوں کے نام اودا پیلا، کالا اور نیلا وغیرہ رکھے ہوئے ہیں۔ کسی کو خیال بھی نہیں آیا، ایک رنگ ایسا بھی ہے جو ان کی جمع تفریق میں نہیں آتا اور جسے اجلا کہتے ہیں اور جس میں دھنک کے ساتوں رنگ چھپے ہوئے ہیں۔ میرا گلا تشکر کے احساس سے رندا ہوا تھا، میں کسی کا شکریہ ادا کر رہا تھا؟ اسی ایک لمس سے جوگیا ہمیشہ کے لیے میری ہو گئی تھی، میں جیسے اس کی طرف سے بے فکر ہو گیا تھا۔ اب وہ کسی کے ساتھ بیاہ بھی کر لیتی جب بھی وہ میری تھی جس میں سچائی ہو ولولہ ہو بدنصیب شوہر کو کہاں ملتا ہے۔

تو گویا اس دن میں دیکھ رہا تھا کون سے رنگ کی ساڑھی جوگیا اپنی الماری سے نکالتی ہے اگر وہ مجھے میرے ہاں کے دروازے کے پیچھے دیکھ لیتی تو ضرور اشارے سے پوچھتی آج کون سی ساڑھی پہنوں اور اسی میں سارا مزہ کرکرا ہو جاتا،میں تو جاننا چاہتا تھا صبح سویرے نہا دھو کر جب کوئی سندری اپنی ساڑھیوں کے ڈھیر کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو اس میں کون سی چیز ہے جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آج فلاں رنگ کی ساڑھی پہننی چاہیے۔ ان عورتوں کے سوچنے کا طریقہ بڑا پراسرار ہے۔ پر پیچ۔ پھیر اتنا ہے اس میں کہ مرد اس کی تہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا،سنا ہے چاند نہ صرف عورت کے خون بلکہ اس کے سوچ بچار پہ بھی اثر انداز ہوتا ہے لیکن چاند کا اپنا تو کوئی رنگ ہی نہیں، روشنی ہی نہیں۔ وہ تو سب سورج سے مستعار لیتا ہے جبھی…. جبھی ساڑھی پہننے سے پہلے عورت ہمیشہ اپنے کسی سورج سے پوچھ لیتی ہے آج کون سی ساڑھی پہنوں۔

نہیں نہیں …. اس کا اپنا رنگ ہے، اپنا فیصلہ پھر کسی کو کوئی مرد تھوڑا بتانے جاتا ہے پھر رات کا بھی تو ایک رنگ ہوتا ہے۔ اس کا اپنا رنگ…. اس دن واقعی بہت گرمی تھی نیچے وادی شیٹ آ گیاری لین میں آتے جاتے لوگ ریت کے رنگ کی سڑک پر سے گزرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا موسم کی بھٹیارن دانے بھون رہی ہے جب کوئی پنجابی یا مارواڑی بڑا ساپگڑ باندھے گزرا تو اوپر سے بالکل مکئی کا دانہ معلوم ہوا جو بھٹی کی آنچ میں پھول کر سفید ہو جاتا ہے۔

یہاں گیان بھون سے مجھے صرف رنگ کے چھینٹے دکھائی دیئے وہ سب ساڑھیاں تھیں، جن میں سے ایک جوگیا اپنے لیے میرے لیے ساری دنیا کے لیے چن رہی تھی۔ یونہی اس نے ایک بار میرے گھر کی طرف دیکھا شاید اس کی نگاہیں مجھے ڈھونڈ رہی تھیں لیکن میں نے تو کسی اوٹ کی سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی جس سے میں تو ساری دنیا کو دیکھ سکتا تھا لیکن دنیا مجھے نہ دیکھ سکتی تھی، اس دن واقعی میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہے، جب میں نے دیکھا جوگیا نے ہلکے نیلے رنگ کو چنا ہے، ایسے گرمی میں یہی ٹھنڈا رنگ اچھا معلوم ہوتا ہے اگر میں ہوتا تو جوگیا کو یہی رنگ پہننے کا مشورہ دیتا،جبھی میں نے سوچا میں نے بہت چھپنے کی کوشش کی ہے لیکن جوگیا نے اپنے من میں بلا کر مجھے پوچھ ہی لیا تھا، پھر وہی شروع کی جدائی اور آخر کا میل معلوم ہوتا تھا آ گیاری تک یہ دنیا اور اس کے قانون ہیں اس کے بعد کوئی قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتا۔
میں نے بڑھ کر جوگیا کے پاس پہنچتے ہوئے کہا ’’آج‘‘ تم نے بڑا پیارا رنگ چُنا ہے جوگی….‘‘
’’میں جانتی تھی تم اسے پسند کروں گے۔ ’’ تم کیسے جانتی تھیں؟‘‘
’’ہوں ‘‘ میں نے سوچتے ہوئے کہا ’’آج تمہیں چھونے ہاتھ لگانے کو بھی جی نہیں چاہتا‘‘۔
’’ کیا جی چاہتا ہے‘‘۔

اس وقت ایک وکٹوریہ ہم دونوں کے بیچ میں آ گئی جسے نکلنے میں صدیاں لگیں۔ میری نگاہیں پھر جھیلوں میں تیرنے، چھینٹے اڑانے لگیں جب تک ہم پرنسس سٹریٹ کا چوراہا پار کر کے میٹرو کے پاس آ چکے تھے، جہاں سے ہمارے راستے جدا ہوتے تھے۔ میں نے کہا ’’آج جی چاہتا ہے سر تمہارے پیروں پر رکھ دوں اور روؤں‘‘۔
’’روؤں؟ کیوں ….؟‘‘
’’شاستر کہتے ہیں آتما کے پاپ رونے ہی سے دھل سکتے ہیں ‘‘۔
’’کون سا پاپ کیا ہے تمہاری آتما نے؟‘‘
’’ایسا پاپ جو میرا شریر نہ کرسکا‘‘۔
ایسی باتوں کو عورتیں بالکل نہیں سمجھ سکتیں۔ اور پھر ضرورت سے زیادہ سمجھ جاتی ہیں، جوگیا نہ سمجھ سکی اپنا ہی کوئی بچار اس کے من میں چلا آیا تھا ’’جانتے ہو میرا جی کیا چاہتا ہے‘‘۔
’’کیا،کیا….کیا‘‘ میں نے بے صبری سے پوچھا۔
’’چاہتا ہے‘‘ اور اس نے اپنے ہلکے نیلے رنگ کی ساڑھی کی طرف شارہ کیا۔
’’تمہیں اس میں چھپا کر امبروں پر اڑ جاؤں، جہاں سے نہ آپ ہی واپس آؤں نہ تمہیں آنے دوں ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے جوگیا نے ایک بار اوپر ہلکے نیلے رنگ کے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں سے وہ کبھی آئی تھی۔
میں کچھ دیر کے لیے وہیں تھم گیا اور ان خوش نصیبوں کے بارے میں سوچنے لگا جنہیں جوگیا ایسی سندریاں اپنے دامن میں چھپا کر امبروں پر لے گئی ہیں، جہاں سے وہ خود آئی ہیں اور نہ انہیں آنے دیا ہے۔ دیوتا بھی ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو پھر ایک سرد آہ بھر کے چلے جاتے ہیں۔
مڑ کر دیکھا تو جوگیا جاچکی تھی۔

امبر تو کہاں جوگیا مجھے تپتی ہوئی زمین اور ٹوٹی پھوٹی سڑک کے ایک طرف یتیم اور لا وارث چھوڑ گئی تھی۔ جس کا احساس مجھے خاص دیر کے بعد ہوا۔ حدت سے پھٹی ہوئی سڑک کی دراڑوں میں گھوڑا گاڑیوں کے بڑے بڑے پہیے پھنس رہے تھے اور ان کے ڈرائیور پیشانیوں پر سے پسینہ پونچھتے ادھر ادھر تبرے سناتے آ جا رہے تھے۔ جبھی میں نے دیکھا خشک آب کی سی کوئی موج چلی آ رہی ہے، وہ کوئی اور جوان لڑکی تھی۔ لانبی اونچی کٹے ہوئے بال جو ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھی۔

چند قدم اور آگے گیا تو ایک نہیں دو تین چار عورتوں ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے شاپنگ کرتی پھر رہی تھیں۔ یہ تجربہ مجھے پہلی بار نہیں ہوا تھا، اس سے پہلے بھی ایک بار کرافورڈ مارکیٹ کے علاقے میں آنے جانے والی سب عورتوں نے دھانی لباس پہن رکھ تھا فرق تھا تو صرف اتنا کہ کسی کی اوڑھنی دھانی تھی اور کسی کی ساری اسکرٹ بھی دھانی تھی اور میں سوچتارہ گیا تھا سویرے جب یہ عورتیں نہا دھو کر بالوں کو چھانٹتی ہوئی، بناتی ہوئی کپڑوں کی الماری کے پاس پہنچتی ہیں تو ان میں کون سی بات کون سا ایسا جذبہ ہے جو انہیں بتا دیتا ہے کہ آج مولسری پہننا چاہیے۔ یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایک دن کوئی نارنجی رنگ استعمال کرتی ہے تو پھر اس سے اس کی طبعیت اوب جاتی ہے۔ اور پھر اس کا ہاتھ اپنے آپ کیسے دوسرے رنگ کی طرف اٹھ جاتا ہے مثلاً سرسوں کا سا پیلا رنگ، چمپئی رنگ، گل اناری، کاسنی، فروزی…. لیکن وہ کون سا بے تار برقی کا عمل ہے جس سے وہ سب ایک دوسری کو بتا دیتی ہیں اور پھر ایکا ایکی پورا بازار، سنسار ایک ہی رنگ سے بھر جاتا ہے، شاید یہ موسم کی بات ہے یا شکل پکش کی رات کی یا ویسے بھی چاند کی بادل کی شاید کوئی مروجہ فیشن کسی ایکٹرس کا لباس ہے جو ان کے انتخاب میں دخل رکھتا ہے؟…. نہیں ایسی کوئی بات نہیں، بعض وقت وہ رنگا رنگ کپڑے بھی پہنتی ہے۔ اس دن سب کی ساڑھیاں ہلکے نیلے رنگ کی دیکھ کر میری آنکھوں کو یقین نہ آ رہا تھا۔ سمجھ کا شمہ بھر بھی دماغ میں نہ گھس سکتا تھا،جب میں سکول پہنچا ایک کلاس ختم ہو چکی تھی اور لڑکے لڑکیاں باہر آ رہے تھے۔ کچھ آ کر کمپاؤنڈ میں گل مہر کے نیچے کھڑے ہو گئے ان میں سیکشی بھی تھی۔ اس کے اسکرٹ کا بھی رنگ ہلکا نیلا تھا۔

اگر ہیمنت میرادوست وہاں نہ مل جاتا تو میں پاگل ہو جاتا۔ ہیمنت یوں تو خزاں کو کہتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں واسنت تھا۔بہار، جو اس پر ہمیشہ چھائی رہتی، دنیا بھر میں کہیں کسی جگہ بھی ایک ہی موسم نہیں رہتا اور نہ ایک رنگ رہتا ہے لیکن اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک ہی سی ہنسی اور تضحیک رہتی تھی۔

جس کے کارن ہم اسے کہا کرتے تھے سالے چا ہے کتنا زور لگا لے تو کبھی آرٹسٹ نہیں بن سکتا۔ کیا تجھ پہ گریبان پھاڑ کر باہر بھاگ جانے کی نوبت آئی ہے۔ بے بسی میں تشنجی ہاتھ تو نے ہوا میں پھیلائے ہیں اور اپنے بال نوچے ہیں۔ اچھا کیا تیرے بدن پہ ایکا ایکی لاکھوں ٹڈے رینگے ہیں۔ رات کے وقت اندھیرے میں چمگادڑ تجھ پر جھپٹتے ہیں اور اپنا منہ تیری شہ رگ سے لگا کر تیرا خون چوسا ہے۔ کیا تو اس وقت بچوں کی طرح رویا ہے جب تیری تصویر انعامی مقابلے میں اول آئی ہو۔ کیا تجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ ماں باپ ہوتے ہوئے بھی تو یتیم ہے اور دوست ایک ایک کر کے تجھے اندھے کنویں میں دھکیل کر چل دیئے ہیں۔ کیا تو نے جانا ہے جس منصور کو سولی پہ چڑھایا گیا تھا وہ تو تھا تیرے چہرے پہ سیاہیاں چھٹی ہیں اور اس پر کے خط اتنے سخت اور گھناؤنے اور طاقت ور ہوئے ہیں جتنے میکسیکو کے میورلز؟ جس سے متوحش ہو کر….

آج پھر میں نے اسے بتایا شہر کی سب عورتیں ہلکا نیلا رنگ پہنے نکل آئی ہیں ہیمنت نے اپنے دانت دکھا دیئے اور حسب معمول میرا مذاق اڑانے لگا وہ مجھے ساون کا اندھا سمجھتا تھا، جسے ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے میں نے سیکشی کی طرف اشارہ کیا، جسے ہم موڈل کیا کرتے تھے، وہ آج تک کسی کی موڈل نہ بنی تھی میں نے کہا ’’دیکھو! آج یہ بھی نیلے رنگ کا اسکرٹ پہنے ہوئے ہے‘‘۔
ہیمنت نے کچھ نہ کہا، میرا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا لان پہ لے آیا جو پام کے پیروں سے پٹا پڑا تھا، وہاں ایک کنارے پہ پہنچ کر وہ باڑھ کے پیچھے کھڑا ہو گیا جہاں سے سامنے سڑک دکھائی دیتی تھی۔ ایک راستہ کرافورڈ مارکیٹ کی طرف جاتا تھا اور دوسرا وکٹوریہ ٹرمنس اور ہارن بائی روڈ کی طرف۔ وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ یہ سب میرا وہم ہے۔ وہاں پہنچے تو کوئی عورت ہی نہ تھی۔ اگر عورتیں اپنے مردوں کو ہلکے نیلے رنگ کی ساڑھیوں میں چھپا کر اوپر امبروں پہ اڑ گئی ہوتیں تو وہاں مرد نظر نہ آتے۔ لیکن چاروں طرف مرد ہی مرد تھے اور وہ گھوم پھر رہے تھے۔ جیسے کبھی کسی عورت سے انہیں سروکار ہی نہ تھا۔ کوئی لانبا تھا کوئی ناٹا۔ کوئی خوبصورت اور کوئی بد صورت اوت توندیلا۔ اور سب بھاگ رہے تھے جیسے انہیں کسی عورت کو جواب نہیں دینا ہے۔ جبھی ادھر سے لوہے کی بنی ہوئی گاٹن گزری جس نے ہرے رنگ کا کانٹا لگا رکھا تھا۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہیمنت بولا ’’پہچان اپنی ماں کو۔۔۔‘‘
‘جس نے بیکار کی غداری کی، میں ان بچاری غریب عورتوں کی بات نہیں کرتا‘‘
’’کن کی کرتے ہو‘‘
’’ان کی جن کے پاس کپڑے تو ہوں‘‘

جبھی میری بد قسمتی سے ایک سیڈان سامنے پارسی دارو والے کے ہاں رکی۔ اس میں ادھیڑ عمر کی ایک عورت بیٹھی تھی۔وہ اسی جماعت کی نمائندہ تھی جس کے پاس نہ صرف کپڑے ہوتے ہیں بلکہ بے شمار ہوتے ہیں، اور رنگ اتنی انواع کے کہ وہ بوکھلا جاتی ہیں۔ اس لئے جب وہ اپنی وارڈ روب کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو انہیں سندریوں کا وہ بے تار برقی پیغام نہیں آتا۔ ان کی حالت اس خریدار کی طرح ہوتی ہے جس کے سامنے کوئی دوکان دار انواع و اقسام کا ڈھیر لگا دے اور وہ ان میں سے کچھ بھی نہ چن سکیں۔
وہ عورت خوب لپی پتی ہوئی تھی۔ اور اس نے ایک شعلہ رنگ ساڑھی پہن رکھی تھی۔ پچاس فٹ چوڑٰی سڑک کے اِس پار مجھے اس کی وجہ سے گرمی لگ رہی تھی۔ لیکن اسے اس بات کا احساس نہ تھا کہ باہر آگ برس رہی ہے جس میں شعلے کا سا رنگ نہ جلے گا۔ کتنا شوقیانہ تھا مذاق اس کا۔

ایسے ہی میں ہیمنت کے سامنے کئی بار شرمندہ ہوا۔ ایک آدھ بار مجھے اسے شرمسار کرنے کا موقع مل گیا جب کہ سب عورتیں سرمئی ساڑھیاں پہنے سڑک پر چلی آئی تھیں۔ مجھے ہمیشہ ان کے رنگ ایک سے لگتے تھے۔ لیکن جب ہیمنت میرا کان پکڑ کر مجھے باہر لاتا وہ سب الگ الگ دکھائی دینے لگتے۔ آخر میں نے اسے اپنے دماغ کا واہمہ سمجھ کر ان باتوں کا خیال ہی چھوڑ دیا۔
لیکن وہ چھوٹتا کیسے؟ ایک دن جوگیا نے کالے بلاؤز اور خاکستری رنگ کی ساڑھی کا بے حد خوب صورت امتزاج پیدا کر رکھا تھا۔ اس دن سب عورتوں نے یہی کمبی نیشن کر رکھا تھا۔ فرق تھا تو اتنا تھا کہ کسی کا بلاؤز خاکستری تھا تو ساڑھی کالے رنگ کی تھی جس میں سنہرے کا ایک ادھ تار جھلملا رہا تھا۔

کئی موسم بدلے، خزاں گئی تو بہار آئی۔ یعنی جس قسم کی خزاں اور بہار بمبئی میں آ سکتی ہیں، اور پھر اس بہار میں ایک کاہش سی پیدا ہونی شروع ہوئی، ایک چبھن، تلخی کی ایک رمق چلی آئی جو محبت اور کامرانی کو غایت درجے گداز کر دیتی ہے اور جذبوں کی آنکھوں میں آنسو چلے آتے ہیں۔ پھر کہیں ہرا زیادہ ہرا ہو گیا، اس پر تازگی اور شگفتنی کی ایک لہر دوڑ گئی، جیسے بارش کے دو چھینٹوں کے بیچ سبک سی ہوا پانی پہ دو شالہ بُن دیتی ہے۔ پھر سمندر میں اس قدر زمرد گھلا کہ نیلم ہو گیا اور اس میں مچھلیوں کی چاندیاں چمکنے لگیں۔ آخر وہ چاندیاں تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو ماہی گیروں کے حوالے کرنے لگیں۔ پھر آسمان پہ صوت و تجلی کا ٹکراؤ ہوا ۔ بادل گرجے، بجلی تڑپی اور یکایک چھاجوں پانی پڑنے لگااس سلسلے میں جوگیا نے کئی نیلے، پیلے، کالے، اودے، سردئی اور سرمئی، دھانی اور چمپئی رنگ بدلے۔ اسےکتی جدی تھی لڑکی سے عورت بن جانے کی۔ پھر عورت سے ماں بن جانے کی۔ مجھے یقین تھا کہ اتنی صحت مند لڑکی کے جب بچے ہوں گے تو جڑواں ہوں گے، بل کہ تین چار بھی ہو سکتے ہیں۔ میں انہیں کیسے سنبھالوں گا!! اور اس خیال کے آتے ہی میں ہنسنے لگا۔

ان دنوں جوگیا اپنی بیمار ماں کے پیر پڑ کر اس سے لپ سٹک لگانے کی اجازت لے چکی تھی۔ایک طرف زندگی دھیرے دھیرے بجھی جا رہی تھی تو دوسری طرف لپک لپک کر کھِل رہی تھی۔ جوگیا نے لپ سٹک لگانے کی اجازت تو لے لی تھی، لیکن اتنی ساڑھیوں، اتنے رنگوں کے لئے اتنی لپ سٹک کہاں سے لاتی۔ میں نے ایک دن میکس فکٹر کی لپ سٹک خرید کر تحفے میں جوگیا کو دی تو وہ کتنی خوش ہوئی جیسے میں نے کسی بہت بڑے راز کی کلید اس کے ہاتھ میں دے دی ہو۔ وہ بھول ہی گئی کہ میرے ساتھ گرگام کے ٹرام کے پھٹے پر کھڑی ہے۔ وہ مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے فوراً ہی بعد اس کی آنکھیں میلوں ہی اندر دھنس گئیں اور نمی سی باہر جھلکنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ جوگیا بے حد جذباتی لڑکی ہے، بھلا میرے سامنے اتنی ممنون دکھائی دینے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن بات دوسری تھی۔ جس رنگ کی میں لپ سٹک لایا تھا، اس سے میچ کرتی ہوئی ساڑھی جوگیا کے پاس نہ تھی اور نہ خریدنے کے لئےپیسے تھے۔ میرے پاس بھی اتنے پیسے نہ تھے جن سے کوئی خوب صورت سی ساڑھی خرید کر سے دے سکتا۔ میں نے تو لپ ستک کے پیسے بھی موٹے بھیا کی جیب سے چرائے تھے۔ یا بھابھی کے ساتھ اس عشق میں بٹورے تھےجس کا حق صرف دیور ہی کو پہنچتا ہے۔

برسات ختم ہوئی تو ایک تماشا ہوا۔ جوگیا نے گھر میں بڑوں کے وقت کے کچھ عقیق بیچ ڈالے، اور میری لپ سٹک کے ساتھ میچ کرتی ہوئی ساڑھی خرید لی۔ اس بات کا مجھے کہاں پتہ چلتا؟ لیکن ہمارے گھر میں ایک مخبر تھی، جوگیا کی سہیلی۔۔۔ ہیما۔ جوگیا نے نارنجی سرخ رنگ کی ساڑھی پہنی اور جب ہم آگیاری پار لاقانونیت کے جنگل میں ملے تو میں نے جوگیا کو چھیڑا۔۔۔۔’’جانتی ہو جوگیا آج تم کیا لگتی ہو‘‘
’’کیا لگتی ہوںَ‘‘
’’بیر بہوٹی ۔ جو برسات ہوتے ہی نکل آتی ہے۔‘‘
جوگیا کے دل میں کوئی شرارت آئی۔ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’جانتے ہو، تم لون ہو؟‘‘
اور اس کے بعد جوگیا اس قدر لال ہو کر بھاگ گئی کہ اس کے چہرے اورساڑھی کے رنگ میں ذرا بھی فرق نہیں رہا۔ اس دن سب عورتوں نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اپنی آنکھوں کے جلوس کی تاب نہ لا کر میں نے پھر ممیت سے کہہ دیا۔ اب کے ممیت نے اکیلے نہیں، تین چار لڑکوں ک ساتھ لیا اور شاہراہِ عام پر میری بے عزتی کی۔ شاید مجھے اتنا بے عزتی کا احساس نہ ہوتا اگر سوکشی وہاں نہ آ جاتی۔ جو سفید نائلون کی ساڑھی پہنے ہوئے تھی اور اس میں تقریباً ننگی نظر آ رہی تھی۔ وہ روز بروز سچ مچ کا ماڈل ہوتی جا رہی تھی۔

جوگیا کو بیر بہوٹی بننے کی کتنی خواہش تھی، اس کا مجھے روح کی گہرائیوں تک سے اندازہ تھا، لیکن میں کچھ نہ کر سکتا تھا۔ سوائے اس کے کہ میں سکول سے پاس ہو کر نکل جاؤں اور کوئی اچھی سی نوکری کر لوں یا تصویریں بنا کر مالا بار ہل اور وارڈن روڈ کے جھوٹے دقیقہ شناسوں کو اونے پونے میں بیچ دوں۔ لیکن ان سب باتوں کے لئے وقت چائے تھا، جو میرے پاس تو بہت تھوڑا تھا، جوگیا کے پاس بھی تھا، لیکن ماں کے پاس نہ تھا۔ محنت ار مشقت کی وجہ سے اسے کوئی کرم روگ لگ گیا تھا۔
میں اس انتظار میں تھا کہ ایک دن بھابھی اور موٹے بھیا سے کہہ دوں ، لیکن مجھے اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہیما بانپو گھر میں جوگیا کے پیار دلار لیتی ہوئی ایکا ایکی اپنے گھر میں آ نکلتی اور دھڑ سے کہہ ڈالتی ’’کاکا کیوں نہیں تم جوگیا سے بیاہ کر لیتے؟‘‘
اور میں ہمیشہ کہتا ’’دھت‘‘۔ یہ ’دھت‘ اگر میں ہی کہتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ کچھ دن بعد ہیما کی اس ٹائیں ٹائیں پر بھیا بھابھی نے اسے ڈانٹنا شروع کر دیا اور ایک دن تو بھابھی نے اس معصوم کو ایسا طمانچہ مارا کہ وہ الٹ کر دہلیز پر جا گری۔ اس دن میرا ماتھا ٹھنکا۔ مجھے یوں لگا جیسے اس بارے میں دونوں گھروں میں کوئی بات ہوئی ہے۔

میرا اندازہ ٹھیک تھا۔ جوگیا اور بجور کی ماؤں اور پنجابن نے مل کر بھابھی کے ساتھ بات چلائی اور منہ کی کھائی۔ بانپو گھر کی عورتیں یوں ٹھیک تھیں۔ ان سے بات کر لینا، ان کے ساتھ چیزوں کا تبادلہ بھی درست تھا۔ ایک آدھ بار اشارے سے رام کرنا ٹھیک تھا۔ لیکن ان کے ساتھ رشتے ناطے کی بات چلانا کسی طرح بھی درست نہ تھا۔ پھر اور بھی بہت سی باتیں نکل آئیں جو ہمارے گجراتی گھروں کا وبال ان کا زہر، مٹی کا تیل اور کنواں ہوتی ہیں۔ جوگیا کی ماں لڑکی کو کچھ لمبا چوڑا دے دلا نہیں سکتی تھی۔ اسی لئے جب ہمارے گھروں میں کوئی لڑکی جوان ہوتی ہے تو کچھ لوگ اس کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں ’’تیار ہو گئی مرنے کو۔۔۔‘‘۔ خیر دینے دلانے کی بات پر میں تن کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد بھابھی اور گیان بھون کی عورتوں نے دوسری باتیں شروع کر دیں۔ جوگیا کا باپ کون تھا، کوئی کہتی وہ مسلمان تھا۔ اور کوئی بڑھیا گواہی دیتی وہ ایک پرتگالی ت جو بڑودے میں بڑے عرصے تک رہا تھا۔ ھر جو بھی ہو، وہ سب باتیں تھیں۔ ایک بات جو تحقیق کے ساتھ مجھے پتہ چلی تھی وہ یہ تھی کہ جوگیا کی ماں مناودر کے برہمن دیوان کی دوسری بیوی تھی جسے قانون نے نہ مانا۔ جوگیا اس دیوان کی لڑکی تھی۔ گر لوگ جوگیا کی ماں ایک برہمن عورت کو دیوان صاحب کی رکھیل کہتے تھے۔ یہ اس قسم کے لگ تھے جنہوں نے جوگیا کی ماں کے کچھ بھی پلے نہ پڑنے دیا ور وہ بمبئی چلی آئی۔ کچھ بھی تھا، اس میں جوگیا کا کیا قصور تھا۔ وہ تو اپنے باپ کی موت کے تین مہینے بعد پیدا ہوئی تھی اور شفقت کا منہ آج تک نہ دیکھا تھا۔ میں ان سب چیزوں کے خلاف جہاد کرنے، جوگیا کے ساتھ فٹ پاتھ پر رہنے کو تیار تھا۔ لیکن باقی سب نے مل کر جوگیا کی ماں کو اس قدر صدمہ پہنچایا کہ وہ مرنے کے قریب ہو گئی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ جلدی جلدی جوگیا کا ہاتھ کسی گزارے والے مرد کے ہاتھ میں دے دے۔ میرے گھر والوں کی باتوں کے کارن وہ میری صورت سے بھی بیزار ہو گئی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی سے ساف کہہ دیا تھا کہ اگر اس نے مجھ سے شادی کی بات بھی کی تو وہ کپڑوں پر تیل چھڑک کر جل مرے گی۔ جوگیا اب کالج نہ جاتی تھی۔ اور بانپو گھر کے جوگیا والے فلیٹ کے کواڑ اکثر بند رہتے اور ہم تازہ ہوا کے جھونکے کے لئے ترس گئے تھے

ایک شام مجھ پر بہت کڑی آئی۔ سرِ شام ہی اندھیرے کے چمگادڑ کے بڑے بڑے پر مجھ غریب پر سمٹنے لگے تھے، کچھ دیر بعد یوں لگا جیسے کوئی میری شہ رگ پر اپنا منہ رکھے تیزی سے میرا سانس چوس رہا ہے۔ جتنا میں اسے ہٹانے کی کوشش کرتا ہوں، اتنا ہی اس کے دانت میرے گلے میں گڑتے جا رہے ہیں۔۔۔ ان شاموں کا رنگ سیاہ بھی نہیں ہوتا اور سفید بھی نہیں ہوتا۔ ان کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔ حبس اور جانکاہی کا رنگ۔اور جن لوگوں پر ایسی شامیں آتی ہیں، وہی جانتے ہیں کہ ایسے میں صرف محبوبہ اور ماں ہی ان لو بچا سکتی ہیں۔ میری ماں مت چکی تھی، اور جوگیا میری نہ ہو سکتی تھی۔
افوہ اتنی گھٹن، اتنی اداسی۔۔ اداسی کا بھی ایک رنگ ہوتا ہے۔ میلا چھدرا چھدرا، جیسے منہ میں ریت کے بے شمار ذرے۔ اور پھر اس میں ایک عفونت ہوتی ہے جس سے متلی ہوتی بھی ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی۔۔۔ آخر آدمی وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں سے احساس کی حدیں ختم ہو جاتی ہیں اور رنگوں کی پہچان جاتی رہتی ہے۔

صبح اٹھا، تو میرا اس گھر، اس شہر، اس دنیا سے بھاگ جانے کو جی چاہتا تھا۔ اگر جوگیا کی ماں نہ ہوتی اور وہ میرے سات چلنے پر راضی ہو جاتی تو میں اسے لے کر کہیں بھی نکل جاتا۔ جبھی مجھے بیراگی یاد آنے لگے، بودھ بھکشو یاد آنے لگے جو اس دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں اور کہیں سے بھی بھکشا لے کر اپنے پیٹ میں ڈال دیتے ہیں اور ’اوم منے پدمے‘ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔
میں واقعی اس دنیا کو چھوڑ دینا چاہتا تھا، لیکن سامنے بانپو گھر میں جوگیا کے فلیٹ کا دروازہ کھُلا، اور جوگیا مجھے سامنے نظر آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ راتوں سے نہیں سوئی۔ اس کے بال بے حد روکھے تھے اور یوں ہی ادھر ادھر چہرے اور گلے میں پڑے تھے۔ اس نے کنگھی اٹھائی اور بالوں میں کھبو دی۔ کچھ دیر بعد وہ الماری کے پاس جا پہنچی۔

میں اسکول کی طرف جا رہا تھا، راستے میں سب عورتوں نے جوگیا کپڑے پہن رکھے تھے۔انہیں کس نے بتایا تھا؟…. وہ اداس تھیں جیسے زندگی کی ماہیت جان لینے پر انہیں بھی کوئی بیراگ ہو گیا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں کھڑ تال تھی اور ہونٹوں پر بھجن تھے۔ جو نہ کسی کو سنائی دے رہے تھے نہ دکھائی دے رہے تھے۔ وہ بھکشو بنی ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر جا رہی تھیں، اور انہیں کھٹکھٹکا رہی تھیں لیکن اس بھرے پرے شہر بمبئی میں کوئی بھی انہیں بھکشا دینے کے لئے باہر نہیں آ رہا تھا۔
اسکول پہنچا تو ممیت بدستور ہنس رہا تھا۔ آج اس نے پہل کی، بولا ’’ شہر کی عورتوں نے آج کیا رنگ پہن رکھا ہے؟‘‘ میں اس بے حس آدمی کو کوئی جواب نہ دینا چاہتا تھا لیکن اپنے آپ میرے منہ سے نکل گیا ’’آج وہ سب جوگنیں بن گئی ہیں، سب نے بیراگ لے لیا ہے اور جوگیا پہن لیا ہے‘‘۔

اس دن میں اسے اور سیکشی کو گل ہر کے نیچے سے، پام کے پیڑوں میں گھسیٹتا ہوا باڑ کے پاس لے گیا۔ سامنے سرک چل رہی تھی اور اس پر انسان کے پتلے ساکت تھے، ان سب نے بیراگ لے لیا تھا اور جوگیا کھتیاں پہنے بلا ارادہ، بے مقصد پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھور رہے تھے۔ جیسے اس دنیا میں کوئی مرد نہیں، کوئی عورت نہیں، جسے ان کو جواب دینا ہے۔
میں نے ایک عورت کی طرف اشارہ کیا۔ وہ جوگیا کپڑے پہنے ہوئے ہاتھ میں کمنڈل لئے جا رہی تھی۔ ممیت کھلکھلا کے ہنسا۔ ساتھ ہی سیکشی بھی ہنسی۔ اس نے جینس پہن رکھی تھی۔ وہ پورے طور پر ماڈل بن چکی تھی۔
جب ممیت کی ہنسی تھمی تو اس نے کہا ’’تو بالکل پاگل ہو گیا ہے جگل… کہاں ہیں جوگیا کپڑے؟ اس عورت نے تو اودے رنگ کی ساڑھی پہن رکھی ہے اور وہ تجھے کمنڈل دکھائی دیتا ہے… پرس ہے خوبصورت سا….‘‘ سیکشی نے بھی ممیت کی تائید کی۔میں حواس باختہ کھڑا سامنے سڑک پر دیکھتا رہا۔ جبھی ایک بس آ کر رکی اور اس میں سے ایک لڑکی اتری… یہ کیسے ہو سکتا ہے، میں نے اپنے آپ سے کہا۔۔۔ وہ جوگن ہے…. جوگیا کپڑے پہنے ہوئے… میں اندھا ہوں…
لیکن اپنی آنکھوں پر یقین کرنے کے لئے میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے یقین ہو گیا اور پیچھے دیکھتے ہوئے میں نے آواز دی ’’ممیت….‘‘
ان کے قہقہے سنائی دے رہے تھے۔وہ مجھے ویسے ہی بے یار و مددگار اس صحرا میں چھوڑ گئے تھے جیسے لوگ کسی پاگل آدمی کو چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ بھی ان کی عنایت تھی کہ انہوں نے مجھے پتھر نہیں مارے تھے اور نہ مجھے اولیاء کہا تھا….

اور وہ لڑکی اس طرف آ رہی تھی۔اب تو مجھے پورے سنسار پہ پھیلے ہوئے رنگ کے بارے میں کسی قسم کا شک نہ تھا۔ اس سے پہلے کہ میں یقین اور ایمان کی آواز کے ساتھ ممیت اور سکشی کو پکارتا، وہ میرے قریب آ چکی تھی۔ میں نے ایک آواز سنی ’’بیر‘‘۔ اور میں نے چونک کر دیکھا۔ کسی دوسرے رنگ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ وہ خود جوگیا تھی۔جسے میں نے صبح اپنے گیان بھون سے بانپو گھر کے کھلے دروازے سے سب ساڑھیوں میں سے جوگیا رنگ کی ساڑھی کا انتخاب کرتے دیکھا تھا۔
ور پھر آئی جوگیا۔
ایک عجیب بے اختیاری کے عالم میں میں نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اور عجیب بے بسی کے عالم میں رک گیا۔ جوگیا بولی ’’میں کل بڑودہ جا رہی ہوں‘‘
’’کیوں جوگیا، بڑودہ میں کیا ہے؟‘‘
’’میری ننھال، وہاں میرا بیاہ ہو رہا ہے پرسوں….‘‘
’’او…‘‘
’’میں تم سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔‘‘
’’تو ملو…. میں جانے کیا کہہ رہا تھا…‘‘
اس وقت آرٹس اسکول کے کچھ لڑکے لڑکیاں، پرنسپل اور کچھ دوسرے لوگ آ رہے تھے۔ جب کہ جوگیا نے اچک کر اتنے زور سے میرا منہ چوم لیا کہ میں بوکھلا اور لڑکھڑا کر رہ گیا۔ وہ اٹھارہ انیس کی بجائے پہنتیس چالیس سال کی بھرپور عورت بن گئی تھی۔ اگر کچھ لوگ دیکھ بھی رہے تھے تو وہ ہمیں دکھائی نہیں دیئے۔ وہ دیکھ بھی رہے تھے تو کیا کر سکتے تھے…؟ جاتے ہوئے جوگیا نے کہا ’’میرے جانے کے بعد تم روئے تو میں ماروں گی.. ہاں!!‘‘ اور ساتھ ہی اس نے مکا دکھا دیا۔ اور اس کے بعد جوگیا چلی گئی۔

سویرے گیان بھون اور بانپو گھر کے سامنے ایک وکٹوریہ کھڑی تھی۔ جس پر بازار کا بوجھ اٹھانے والے کچھ سوٹ کیس اور ٹرنک رکھ رہے تھے، کچھ یوں ہی ادھر ادھر کا سامان۔ ان لوگوں کو رخصت کرنے کے لئے بانپو گھر کے سب لوگ نیچے چلے آئے تھے، لیکن سامنے گیان بھون سے میرے سوا کوئی نہ آیا تھا۔ موٹے بھیا اور بھابھی تو کیا آتے….معصوم ہیما کو بھی انہوں نے غسل خانے میں بند کر دیا تھا۔ جہاں سے اس کے رونے کی آواز گلی میں آ رہی تھی۔
پہلے بجور کی ماں اور پنجابن کے سہارے جوگیا کی ماں اتری اور گرتی پڑتی وکٹوریہ میں بیٹھ گئی۔ تھوڑا سانس درست کیا اور سب کی طرف ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی..’’ اچھا بہنو… ہم چلتے بھلے… تم بستے بھلے…‘‘
اور پھر آئی جوگیا…جوگیا نے ہلکے گلابی رنگ کی ایک خوب صورت ساڑھی پہن رکھی تھی اور گلاب کا ہی ایک پھول محنت اور خوبصورتی سے بنائے ہوئے جوڑے میں ٹانک رکھا تھا۔ ابھی وہ وکٹوریہ میں بیٹھی بھی نہ تھی کہ اگیاری کا پارسی پروہت ادھر آ نکلا۔
میں نے عادتاً کہا۔
’’صاحب جی‘‘
’’صاحب جی‘‘ پارسی پروہت نے جواب دیا اور پھر مجھے اور جوگیا کو تقریباً ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر مسکرایا۔ آشیرواد میں ہاتھ اٹھائے اور منہ میں ژندا وستا کا جاپ کرتا ہوا چلا گیا۔ جوگیا گاڑی میں بیٹھی تو اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی۔
جب میں بھی مسکرا دیا۔

 

٭٭٭

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے