Home / ادب نامہ / نثر / ممتاز مفتی کے افسانے / دودھیا سویرا-افسانہ- ممتاز مفتی

دودھیا سویرا-افسانہ- ممتاز مفتی

شہر سے دور گرینڈ ٹرنک روڈ کے کنارے پر درختوں کے جھنڈ کے نیچے وہ ایک مختصر سا قبرستان تھا۔اس میں صرف بیس پچیس قبریں تھیں۔جن میں سے بیشتر کچی تھیں۔پختہ قبروں میں سے صرف دو یا تین نئی معلوم ہوتی تھیں اور ان میں سے ایک سفید ٹائیلون کی بنی ہوئی تھی۔ اس مختصر سے قبرستان کے غربی کنارے میں ایک مسجد تھی۔ جس کے باہر چبوترا سا بنا ہوا تھا۔ مشرقی کنارے کی طرف سڑک کے پاس بس سٹینڈ کا بورڈ آویزاں تھا۔ جس کے پاس ایک کچے کمرے میں چائے کا سٹال تھا۔
قبروں میں درختوں کے سوکھے پتے بکھرے پڑے تھے۔ آسمان پر بادل جمع ہو رہے تھے اور قریب ہی پہاڑی نالہ جوجانی کے نام سے مشہور ہے شور مچاتا ہوا بہہ رہا تھا۔ان ٹنڈ منڈ درختوں کے جھنڈ تلے قبرستان میں وہ چاروں اپنے اپنے خیال میں کھوئے ہوئے تھے۔
پتلا دبلا نوجوان منہ میں پائپ دبائے پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ٹھونسے اضطراب بھرے انداز سے سوکھے پتوں پر ٹہل رہا تھا۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ر ک جاتا اور ایک نظر غور سے قبروں کی طرف دیکھتا۔اس کا ہونٹ ڈھلک جاتا۔ پائپ اوور کوٹ کی اوپر والی کوٹ پر جا ٹکتا۔پھر وہ آنکھیں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتا اور ایک لمبی آہ بھر کر پھر سے اضطراب بھرے انداز سے ٹہلنے لگتا۔
مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا شخص درخت سے ٹیک لگائے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی جاذب آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں۔اس کے ہونٹ یوں بند تھے جیسے ڈرتا ہو کہ انہیں کھولا تو اس کا راز فاش ہو جائے گا۔ اس کے ماتھے پر کرب بھری تیوری چڑھی ہوئی تھی جیسے بند ہونٹوں کی وجہ سے دل کا تمام تر دکھ سمٹ کر پیشانی آ گیا ہو۔ ہر چار پانچ منٹ کے بعد وہ شدت جذبات سے جھرجھری سی لیتا اور پھر چونک کر مڑتا اور غور سے قبروں کی طرف حسرت سے دیکھتا اور اس کے گالوں پر ایک آنسو ڈھلک آتا جسے چھپانے کیلئے وہ پھر سے آسمان کی طرف دیکھنے لگتا۔
گٹھے ہوئے جسم کا نوجوان کھدر کے کرتے اور پاجامے میں ملبوس تھا اور ایک بڑے سے پتھر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا سر منڈا ہوا تھا۔ آنکھیں گویا انگاروں کی طرح روشن تھیں۔چھاتی تنی ہوئی تھی جیسے اسے سانس لینے سے بھی لذت محسوس ہو رہی ہو۔ اس کے انداز میں ایک عجیب بے نیازی تھی۔ ایک بے نام سی انبساط اور وہ چپ چاپ گویا بے تعلقی سے قبروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سی آجاتی اور اس کے چہرے پر دودھیا سا سویرا پھیل جاتا۔
مسجد کے چبوترے پر اچکن میں ملبوس ایک پاکیزہ صورت معمر آدمی دوزانو بیٹھا زیر لب بڑے خشوع سے کچھ پڑھ رہا تھا۔
قبرستان کے پیچھے شمال میں دورٹیلے پر ایک گائوں کے چندمکانات شام کے دھندلکے میں لپٹے ہوئے تھے اور اس سے پرے شہر کے مینار اور فلک بوس عمارتوں کا ایک ڈھیر سا لگا ہوا تھا۔
دفعتاً سارے آسمان پر بدلیاں چھا گئیں اور بوندیں پڑنے لگیں۔ اور وہ چاروں قبرستان کے بس سٹینڈ کے مختصر سے چائے خانے کی طرف بھاگے۔ چائے خانے کا کمرہ بہت چھوٹا تھا جس میں صرف ایک لمبا بینچ ٗ ایک کرسی اور ایک لمبی میز پڑی تھی۔ وہاں پہنچ کر وہ سب دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ پھر مونچھ والے نے کوئی بات کرنے کی غرض سے پتلے دبلے نوجوان سے کہا۔
’’معلوم ہوتا ہے آپ کو بہت صدمہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ کتنے مضطرب ہیں آپ بھائی صاحب !‘‘
مضطرب!پتلے دبلے نوجوان نے دہرایا۔ نہیں نہیں۔ وہ اضطراب بھرے انداز میں چلایا میں مضطرب تو نہیں۔میری روداد سن کر کیا کریں گے آپ۔ وہ بولا اور پھر جواب کا انتظار کئے بغیر ہی اپنا کتھا سنانے لگا ’’ مجھے اس بات کا دکھ ضرور ہے کہ وہ جواں مرگ کا شکار ہو گئی اور آج اس قبرستان میں مٹی کے ڈھیر تلے بے بس پڑی ہے مگر جہاں تک میرا تعلق ہے ٗ میں خوش ہوں ٗ مجھے تو یہ خوشی ہے کہ میں اس سحر سے نکل آیا ہوں ’’اف ‘‘کس قیامت کا سحر تھا جیسے کسی نے جادو کر رکھا ہو۔ ہاں وہ جادوگرنی تھی۔ جادوگرنی ‘‘۔ وہ خاموش ہو گیا۔ اور ان جانے میں بجھے ہوئے پائپ کے لمبے لمبے کش لینے لگا۔
کھدر پوش نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور زیر لب بولا ’’آپ کو اس سے محبت ہو گی‘‘۔
’’محبت‘‘۔ پتلا دبلا نوجوان چلایا۔
’’مجھے معلوم نہیں‘‘۔ لیکن محبت ایسی تو نہیں ہوتی نہیں نہیں وہ تو ایک مثبت جذبہ ہے۔ جو اطمینان اور تسکین کا باعث ہوتا ہے‘‘۔وہ بولنے لگا جیسے دیر سے منتظر تھا کہ کوئی اسے چھیڑے ’’اور یہ … یہ تو ایک بیماری تھی۔ہاں بیماری …ایک ایسی بیماری جس کے تحت مریض خود چاہتا ہے کہ شفایاب نہ ہو۔ اور ایسے۔ خیالات پیدا کر لیتا ہے کہ مرض بڑھتا جائے ٗ دوا کرنے کے باوجود بڑھتا جائے‘‘۔
’’عجیب بات ہے‘‘ اچکن پوش بزرگ نے سر اٹھا کر پہلی مرتبہ دبلے پتلے مضطرب نوجوان کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔بس سٹینڈ سے اس مختصر سے چائے خانے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر ہوا درختوں کے اس جھنڈ میں کراہ رہی تھی چیخ رہی تھی۔
’’ہاں‘‘۔ دبلا پتلا نوجوان لمبی آہ بھر کر آپ ہی آپ یوں بڑبڑانے لگا جیسے اپنے آپ سے کہہ رہا ہوں جیسے اسے دوسرے اصحاب کی موجودگی کا احساس ہی نہ رہا ہو ’’ہاں عجیب۔ کتنی عجیب عورت تھی وہ …کس قدر جاذبیت تھی اس میں۔ توبہ ہے؟‘‘ اس نے جھرجھری لی۔اس میں نمائش نہیں تھی۔ نخرا نہیں تھا ’’آج کل کی لڑکیوں کی طرح اس کے ہونٹ بٹوے کی طرح کھلتے ملتے نہیں تھے۔ اس کی آنکھیں ڈولتی نہیں تھی۔ اس کی بھویں تنتی سمٹتی نہیں تھیں ٗ اس کی آنکھوں میں متبسم اشارے نہیں جھلکتے تھے۔ اسے دیکھ کر پیار کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ جی چاہتا تھا کہ اس کے قدموں میں گر کر رو پڑیں۔ وہ لڑکی نہیں تھی ٗ مٹیار عورت تھی ٗ مٹیار عورت۔ اس پر لڑکی پن کبھی نہیں آیا تھا ۔ کبھی نہیں۔ وہ پیدائشی مٹیار تھی۔ اس میں عجیب سی آن تھی۔عجیب سی تمکنت۔ ایک ایسااحساس جیسے کہ وہ تمام کائنات کا محور ہو ٗ مرکز ہو ٗ اف ‘‘۔ پتلے دبلے نوجوان نے یوں لمبی پھونک ماری جیسے اس کے اندر شعلے بھڑک رہے ہو‘‘۔ اس کے روبرو اپنی شخصیت شل ہو جاتی تھی۔ اپنی آرزوئیں گویا مفقود ہو جاتی تھیں۔جی چاہتا تھا وہی کریں جو وہ چاہتی ہے۔ جی چاہتا تھا وہ احکام جاری کرے اور ہم تعمیل کریں۔ عجیب عورت تھی۔ وہ عجیب‘‘۔ وہ پھر اپنے خیالات میں کھو کر چپ ہو گیا۔
باہر درختوں کی ٹہنیوں میں گرتی ہوئی بوندیاں یوں سنائی دے رہی تھیں جیسے کوئی ہچکیاں لے رہا ہو۔ دورجاتی ندی بین کر رہی تھی۔ کمرے میں اچکن پوش سر جھکائے بیٹھا تھا۔ کھدر پوش غور سے میز کی طرف گھور رہا تھا اور مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا شخص ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے کمرے کی دیوار کے پار نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا۔
’’ہاں جادو‘‘۔ دبلا پتلا نوجوان بولا‘‘اس نے مجھ پر بچپن سے ہی جادو کر رکھا تھا اور اور جب میں نے ہوش سنبھالا میں اس کے پیچھے پیچھے گود کے کتے کی طرح پھرتا رہتا تھا۔ جہاں بھی وہ جاتی میں اس کے پیچھے جاتا وہ کسی سے ملنے کیلئے گھر کے اندر چلی جاتی اور میں دہلیز پر بیٹھ جاتا اور انتظار کیا کرتا تاکہ کب وہ باہر نکلے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل سکوں۔وہ چوبارے میں بیٹھ کر سوئٹر بنتی تو میں اس کے سامنے چوکی یا پتھر پر بیٹھ رہتا۔ وہ ہنڈیا پکانے میں مصروف ہوتی تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو رہتا۔ وہ سکول جاتی تو میں سکول کے دروازے تک اس کے پیچھے پیچھے جاتا۔ پھر سکول میں داخل ہوتے وقت وہ مڑ کر میری طرف دیکھتی اور اس کی آنکھوں میں ایک شریر مسکراہٹ چمکتی۔ اور مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی شرارت میں اس کے ساتھ شریک ہوں۔ سوئیٹر بنتے ہوئے تاگا توڑتے وقت یا سلائی پر دھاگے سمیٹتے وقت مجھے وہاں بیٹھے دیکھ کر وہ مسکراتی۔ وہی مسکراہٹ جیسے ہم دونوں کسی پوشیدہ شرارت میں اکٹھے شریک ہوں۔ بس وہی مسکراہٹ مجھے اس بات پر اکساتی تھی کہ میں گود کے کتے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پھروں۔
گھر کے سب لوگ اسے اس بات پر چھیڑا کرتے تھے۔میری ماں بھی ہنس کر اس سے پوچھا کرتی۔ اے ہے تم نے تو لڑکے پر جادو کر رکھا ہے ۔ کوئی کہتا توبہ ہے اس لڑکے کو کیا ہے پلے کی طرح تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا رہتا ہے۔ کوئی کہتا یہ لڑکا تو اپنی ماں کے ہاتھوں سے بھی نکل گیا۔ لیکن ان دنوں میں ابھی بچہ ہی تھا اسی لئے لوگ بات کر کے ہنس پڑتے تھے اور بس ٗ وہ خود بھی ہنسا کرتی تھی اور کبھی کبھی میرے قریب آکر میرے منہ پر ہلکا سا تھپڑ مار کر کہتی۔’’کیوں رے تجھے میرے پیچھے پھرنے میں مزہ آتا ہے کیا‘‘۔ اور پھر ایک عجیب سی نگاہ میری طرف ڈال کر دہراتی۔’’مزہ آتا ہے‘‘اس کے کہنے کا انداز ایسا ہوتا کہ میں ایک مزے بھری جھرجھری محسوس کرتا اور اس کی نگاہ کی شرارت کی چمک کی وجہ سے میں محسوس کرتا جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ اونہوں کسی کو بتانا نہیں کہ اس مزے بھری شرارت میں ہم دونوں برابر کے شریک ہیں۔ برابر کے ۔چپ۔
دبلے پتلے نوجوان نے ایک شدید جھرجھری لی اور پھر جیبوں کو ٹٹول کر دیا سلائی نکالی اور ماچس جلا کر پائپ کے لمبے لمبے کش لینے شروع کر دئیے۔اچکن پوش بزرگ اپنا ورد بھول چکا تھا اور منہ کھولے دبلے پتلے نوجوان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا مرد ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔کھدر پوش ہاتھوں کے پیالے میں ٹھوڑی رکھے گہری سوچ میں پڑا تھا۔ باہر ٹین کی چھت پر بوندیاں گویا یوں جلترنگ بجا رہی تھیں جیسے کوئی مغنی مزے میں آیا ہوا ہو۔
اس مزے کی وجہ سے میں اپنی عمر سے پہلے ہی جوان ہو گیا۔ پتلا دبلا نوجوان بولا۔ میرا مطلب ہے بچپن ہی میں جوانی کی شرارت گویا مجھ پر مسلط ہو گئی۔ اسے بھی اس حقیقت کا احساس تھا اور وہ اس بات پر ہنسا کرتی تھی۔ اس کی ہنسی میں طنز نہیں ہوتی تھی۔ اونہوں جیسے مصور اپنے نقش کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ وہ عمر میں مجھ سے تقریباً پانچ سال بڑی تھی۔لیکن اس کی اس راز دارانہ مسکراہٹ نے گویا مجھ پر بلوغت کا خمیر پیدا کر دیا تھا اور میں اپنے آپ کو اس کا ہم عمر سمجھنے لگا تھا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولا ’’پھر اس کی مسکراہٹ کا وہ رازدارانہ رنگ گویا اس کی آنکھوں سے رس رس کر بہنے لگا حتیٰ کہ اس کی ہر حرکت اسی رنگ میں شرابور ہو گئی اور میری نظر میں اس کے جسم کے پیچ و خم یوں عریاں دکھائی دینے لگے جیسے وہ ہولی کھیل کر آئی ہو اور ہر نگاہ کے ساتھ کو اس کے اوپر ڈالتا میری آنکھوں میں اسی رنگ کی پھوار پڑتی اور میرے جسم میں ایک ہوائی سی چل جاتی توبہ ہے …‘‘۔اس نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے یوں بھیگے بھیگے انداز سے کہا جیسے وہ رنگ میں شرابور ہو گیا ہو۔ پھر دفعتاً سر اٹھا کر بولا ’’ پھراس نے وہ شرارت سازش میں بدل دی اور … اور ایک معصوم لڑکے کو جس نے عنفوانِ شباب کے عالم میں ابھی قدم رکھا ہی تھا گناہ کے احساس سے شناسا کر دیا ٗ توبہ ہے‘‘۔ وہ پھر چلایا۔جو گناہ سے آشنا نہ تھا جس نے گناہ کی آرزو تک نہ کی تھی اسے گناہ کے احساس سے شناسا کر دیا اور شناسا ہی نہیں بلکہ شرابور کر کے بھیگے کبوتر کی طرح اس کی قوت پرواز ختم کر دی اور یہ سب ایک جملے ایک کنایہ سے ’’چپ کوئی آرہا ہے ٗ کس قدر معصوم جملہ ہے ٗ لیکن ایک خوبصورت مٹیار کے منہ سے رازدارانہ انداز سے نکلے تو ٗ توبہ ہے۔ توبہ ہے‘‘۔ایک ساعت کیلئے وہ خاموش ہو گیا پھر آپ ہی آپ کہنے لگا ‘‘ہم دونوں ایک دوسرے سے دور بیٹھے ہوتے وہ اپنے کام میں منہمک ہوتی ٗ اور میں چپ چاپ نگاہوں سے اس کے پائوں کی انگلیوں سے کھیل رہا ہوتا تو پائوں کی چاپ سن کر وہ میری طرف دیکھتی اور خاموشی سے اشارہ کرتی ۔’’چپ کوئی آرہا ہے‘‘ اور میرا دل اچھلتا اور میں اپنے آپ کو یوں سنبھالتا جیسے کوئی پکڑا گیا ہو اور پھر میں محسوس کرتا جیسے آنے والا ہمارے راز سے واقف ہو‘‘۔ وہ ہنسنے لگا ’’عجیب بات تھی ‘‘۔ راز کی نوعیت جانے بغیر اس کے کھل جانے سے ڈرتا تھا ٗ مجھے معلوم نہیں تھا کہ راز کے کھلنے کا ڈر پیدا کر کے دراصل وہ مجھے راز کی نوعیت کی عملی تحقیق کرنے پر اکسا رہی تھی۔
پھر ایک روز شام کے وقت جب ہم دونوں کمرے میں اکیلے اگرچہ دور دور بیٹھے تھے تو اس کے والد صاحب کی کھنکھار سنائی دی ٗ وہ دیوانہ وار اٹھی اور میرا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر کمرے کے کونے میں لے گئی اور مجھے الماری کے پیچھے ٹھونس دیا۔وہ پہلا دن تھا جب اس معصوم شرارت پر سازش کی مہر لگ گئی‘‘۔ وہ خاموش ہو گیا اور دروازے کے باہر گرتی ہوئی بوندیوں کو غور سے دیکھنے میں کھو گیا۔
کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی طاری رہی۔ اچکن پوش بزرگ پھر سے سر جھکا کر ورد کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا مرد اضطراب بھرے انداز میں ہونٹوں پر زبان پھیرتا تھا اور پھر متوقع نظروں سے دبلے پتلے نوجوان کی طرف دیکھتا اور پھر ہونٹوں پر زبان پھیرنے میں مصروف ہو جاتا ٗ آخر وہ بے اختیار ہو کر بولا ‘‘۔ پھر … پھر کیا ہوا۔
’’پھر … ؟‘‘ پتلا دبلا نوجوان چونکا ۔ ’’پھر … ؟‘‘ اس وقت اسے احساس ہوا کہ وہ اپنا قصہ بیان کر رہا تھا۔’’اوہ ہاں‘‘ وہ چلایا ’’ پھر کیا ہونا تھا ‘‘ پھر وہی ہوتا تھا جو وہ چاہتی تھی اور کیا ہو سکتا تھا اور میں۔میرا عزم تو یوں مثل ہو چکا تھا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ پھر اسی روز اس نے مجھ سے کہہ دیا۔ کہنے لگی ٗ اب تم نہ آیا کرو میاں جب تک میں خود نہ بلائوں۔ پھر دفعتاً نہ جانے کیا سمجھ کر اس نے میری جانب دیکھا۔ وہی سازشی نگاہ وہی چپ کا سا انداز ۔میں بلایا کروں گی ٗ وہ بولی ٗ ہاں۔ اس ہاں نے وہ منفی احساس جو اس کے منع کرنے کی وجہ سے مجھ پر مسلط ہو گیا تھا قطعی طور پر رفع کر دیا اور میں نے پہلی مرتبہ اس کی ہاں کا مثبت اثر محسوس کیا۔ اس وقت گویا ساری کائنات سمٹ کر میری جھولی میں آگری۔آتش دان پر شانت آسن میں بیٹھا ہوا دیوتا میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر اس نے میرے سامنے سرجھکا دیا اور آتش دان پر بچھے ہوئے کپڑے پر کاڑھے ہوئے پھولوں میں سے خوشبو کا ایک ریلا آیا اور سارا کمرہ خوشبو سے بھر گیا۔’’وہ ہنسنے لگا‘‘۔ عجیب عمر تھی وہ بھی۔کاش کہ میں اس جادوگرنی کے سحر میں نہ آتا ‘‘۔ اس کی ہنسی زہر خند میں تبدیل ہو گئی وہ اٹھ بیٹھا اور دروازے میں کھڑے ہو کر درختوں کے جھنڈ تلے بکھری ہوئی قبروں کی طرف دیکھنے لگا۔
’’عجیب واقعہ ہے‘‘۔ اچکن پوش بزرگ نے زیر لب کہہ کر آہ بھری ’’تو کیا اس نے تمہیں بلایا ٗ مونچھوں والے ادھیڑ عمر کے مرد نے پوچھا۔
’’ہاں‘‘ وہ بولا ٗ کئی بار ٗ لیکن بے کار۔ ہر بار جب بھی وہ مجھے بلاتی تو کوئی نہ کوئی آجاتا اور مجھے پردے یا الماری کے پیچھے چھپا دیا جاتا ۔ جہاں میرا دل دھک دھک کرتا ٗ میرے جسم کا بند بند سمٹتا پھیلتا ٗ میرا حلق بند ہو جاتا اور چاروں طرف سے ایک ان جانا بوجھ مجھ پر پڑ جاتا۔ توبہ ہے‘‘۔ وہ چلایا ٗ جیسے جیسے ڈر اور خوف مجھے انڈے کی طرف پھینٹ کر رکھ دیتے لیکن اس کے باوجود میں انتظار کرتا رہتا کہ کب وہ بلائے اور میں جائوں … پھر ‘‘۔ وہ آہ بھر کر بولا۔ پھر اس کی شادی ہو گئی ۔ اور … تعجب کی بات ہے کہ مجھے اس بات پر دکھ نہ ہوا کہ وہ کسی اور کی ہو رہی ہے بلکہ صرف اس بات پر کہ اس سے چوری چھپے ملنے کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا حالانکہ ہمارے ملنے کی صورت کبھی پیدا نہ ہوئی تھی۔عجیب بات ہے نا ‘‘۔وہ پائپ کا کش لیتے ہوئے بولا ‘‘۔ جب وہ رخصت ہونے لگی تو اکیلے میں مجھ سے کہنے لگی ٗ تم فکر نہ کرنا ٗ میں تمہیں بلائوں گی۔ میں بلائوں تو آنا ضرور۔ ضرور آنا‘‘۔ اس کی اتنی سی بات پر مجھے اطمینان ساہو گیا اور میری تمام شکایات یوں ختم ہو گئیں جیسے کبھی پیدا ہی نہ ہوئی ہوں اور ایک بار پھر میں انتظار کی لذت میں کھو گیا‘‘۔
’’چھ مہینے گزر گئے‘‘۔اس نے مختصر سے وقفے کے بعد کہا ’’لیکن‘‘ مجھے اس کا بلاوا نہ آیا اس کے رنگین وعدے کا سحر ٹوٹنے لگا اور …‘‘۔ وہ زہر خند کے ساتھ بولا ۔ایک روز میں ریل گاڑی میں بیٹھ کر وہاں جا پہنچا جہاں وہ رہتی تھی اور پھر ایک رات جب اس کاخاوند گھر پر نہ تھا میں ناگہاں اس کے روبرو جا کھڑا ہوا۔
’’ مجھے دیکھ کر پہلے تو وہ گھبرا گئی ٗ لیکن جلد ہی سنبھل کر بولی ٗ شکر ہے تم آگئے ٗ آئو ٗ آئو۔ لیکن ادھر اس کونے میں کوئی نوکر نہ دیکھ لے۔ اس نے مجھے اسی نگاہ سے دیکھا۔ وہی سازش ٗ وہی شوخی ٗ وہی نیم مدہوشی۔ مجھے وہاں بٹھا کر وہ کام کاج میں مصروف ہو گئی۔ اور رنگین تتلی کی طرح ادھر ادھر گھومنے لگی۔ ہر چند منٹ کے بعد چپکے سے وہ اس کونے میں آجاتی جہاں میں بیٹھا تھا اور پھر وہی نگاہ ٗ وہی تبسم…کام کاج سے فارغ ہو کر جب ہم اکٹھے ہوئے تو وہی بات وقوع میں آئی جو ایسے موقعہ پر ہمیشہ ہوا کرتی ہے ٗ بیٹھے بٹھائے آہٹ کی آواز سن کر وہ زیر لب چلائی۔ وہ … وہ آ گئے۔ اور پھر اپنی بانہوں میں تھام کر گھسیٹتے ہوئے مجھے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں لے گئی اور مجھے وہاں بٹھا دیا۔ ’’چپ‘‘ وہ بولی اور دروازے کے پٹ بند کر کے خود باہر نکل گئی اور میں اس تنگ و تاریک کمرے میں اکیلا رہ گیا۔ توبہ ہے … اس روز میرا کیا حال ہوا۔
توبہ ہے ’’دبلے پتلے نوجوان نے لمبی آہ بھر کر کہا‘‘خوف کا ایک آرہ تھا جو مجھے کاٹ رہا تھا وہی بوجھ ٗ وہی گھٹن ٗ وہی تنائو ٗ توبہ ہے …‘‘۔
دو گھنٹے وہاں دبک کر بیٹھنے کے بعد میرے لئے وہ تکلیف ناقابل برداشت ہو گئی اور خطرے سے بے پرواہ ہو کر میں نے باہر نکل بھاگنے کا فیصلہ کر لیا جب میں دبے پائوں نکلا تو کیا دیکھتا ہوں ٗ توبہ ہے ۔ وہ چلایا ’’توبہ ہے‘‘۔
’’کیا‘‘۔ مونچھوں والا بولا۔
وہ اکیلی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ ایک بازو سر تلے دبایا ہوا تھا اس کے چہرے پر اتنی مسرت اور شگفتگی چھائی ہوئی تھی جیسے خوشی سے سرشار ہو اور سارے گھر میں اس کے اور اس کی نوکرانی کے سوا کوئی نہ تھا۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ اس کی تمام تر خوشی اسی بات پر موقوقف تھی کہ کسی کو الماری پر پردے کے پیچھے چھپا دے جہاں وہ تڑپ تڑپ کر اپنا آپ اس کیلئے ہلکان کرتا رہے اور وہ خود اطمینان سے سو جائے غصے سے میں نے اس کے منہ پر تھوک دیا اور پھر پیشتر اس کے کہ وہ مجھے پکڑ لیتی میں ہمیشہ کیلئے اس کے سحر سے نکل آیا۔ بھاگ آیا۔
’’گھر آتے ہی میں نے اماں سے کہا ٗ اماں میری شادی کر دو۔ چاہے کسی سے کر دو ٗ اماں کر دو … اور جب میری شادی ہو گئی اور میری حسین و جمیل بیوی میرے پاس آ گئی … تو ‘‘ تو وہ رک گیا ۔توبہ ہے ۔ وہ بولا ’’حد ہو گئی حد‘‘۔
’’کیا‘‘ مونچھوں والے نے بے تابی سے پوچھا۔
’’جب میں اپنی نئی دلہن کے پاس بیٹھا تو دفعتاً میرا جی چاہنے لگا کہ کوئی آجائے اور میری بیوی… میری اپنی بیوی مجھے گھسیٹ کر لے جائے۔ اور کہیں چھپاتے ہوئے وہ آگئے ٗ چپ کہے’’میری اپنی بیوی‘‘۔ وہ دیوانہ وار ہنسنے لگا۔ اور آج تک … آج تک میری یہی حالت ہے۔ وہ بولا ’’مگر کوئی نہیں آتا اور کوئی نہ بھی آئے تو وہ ایسا نہیں کرتی۔ یہ نہیں کہتی وہ آگئے۔ وہ۔ توبہ ہے ٗ توبہ ہے‘‘۔ وہ چلایا میں کتنا کمینہ ہوں ٗ کتنا کمینہ ہوں مگر یہ سب کچھ اس کے سحر کا نتیجہ ہے۔ ہاں اسی کا۔ اور آج بھی جب میں اس کی قبر کے پاس بیٹھا تھا تو خدا کی قسم میں منتظر تھا کہ وہ باہر نکل کر کہے ٗ وہ آگئے وہ ‘‘۔ وہ دیوانہ وار ہنسنے لگا۔
باہر ہوا درختوں کی ٹہنیوں میں رو رہی تھی۔ چاندی بین کر رہی تھی۔ بوندیاں چھم چھم گر رہی تھیں اور اس کی دیوانگی بھری ہنسی کس قدر خوفناک تھی۔پھر دفعتاً اس کی ہنسی ایک کراہ کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اور دونوں ہاتھوں میں سرتھام کر میز پر کہنیاں ٹیک کر بیٹھ گیا اور کمرے میں کربناک خاموشی چھا گئی۔
’’چائے بابو جی ‘‘۔چھوٹا لڑکا ٹرے پر چائے کے چار پیالے رکھے ہوئے داخل ہوا اور ایک ایک پیالہ ان کے سامنے رکھ کر باہر نکل گیا۔
چائے آجانے سے کمرے کے ماحول میں کچھ تبدیلی سی پیدا ہو گئی’’زندگی کس قدر عجیب ہے‘‘کھدر پوش نے کہا ’’ان دکھوں اور غموں کے باوجود جو ہمیں برداشت کرنے پڑتے ہیں‘‘اچکن پوش بزرگ نے لمبی آہ بھری ’’بجا ہے‘‘ وہ بولے۔
’’لیکن صاحب انجام کار سب نے یہیں آ جانا ہے‘‘کھدر پوش نے مونچھوں والے ادھیڑ عمر کے مرد کی طرف دیکھا۔
’’معلوم ہوتا ہے آپ بہت دکھی ہیں‘‘ وہ بولا ۔ کوئی عزیز داغ مفارقت دے گئے ہیں کیا‘‘۔
’’میرے عزیز ‘‘مونچھوں والے نے سر اٹھایا’’نہیں عزیز تو نہیں … اس کی مجھ سے رشتہ داری نہ تھی‘‘۔
’’تو ‘‘ کھدر پوش مسکرایا۔
’’محبت‘‘ وہ فقرہ مکمل کئے بغیر چپ ہو گیا۔
’’محبت ‘‘مونچھوں والے نے آہ بھر کر دہرایا’’کاش میں اس کی محبت کی قدر کرتا۔ میں نے قدر نہ کی‘‘اس کی آواز بھرا آئی ’’وہ میری محسن تھی صاحب محسن‘‘۔
’’محسن تھی ‘‘اچکن والے بزرگ نے ’تھی‘ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘‘ مونچھوں والا بولا۔ وہ بھی عورت تھی۔ اب تم سے کیا چھپانا ہے بھائی صاحب‘‘۔اس نے کہا۔اس بات کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ ہمارے گھر میں اللہ کا فضل رہا ہمیشہ۔ اپنا کاروبار ہے۔ کام کرنے کیلئے کارندے ہیں۔ مجھے صرف دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور باقی سارا وقت اپنے شغلوں میں صرف ہوتا ہے۔ بے فکری ہے ٗ پیسہ عام ہے۔ ساری عمر اپنی کھانے پینے اور عیش کرنے میں صرف ہوئی ہے جو چاہا مل گیا۔ جس کی آرزو کی وہ حاصل ہو گئی۔ محبت کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی البتہ کبھی کبھار کسی پر طبیعت آ گئی اور طبیعت اپنی ایسی کمبخت ہے کہ جب کسی پر آجائے تو ‘‘۔ وہ ہنسنے لگا ’’میں اندھا ہو جاتا ہے ٗ تمہاری قسم پھر کچھ نہیں سوجھتا جی چاہتا ہے چاہے ساری دولت ہی کیوں نہ لٹانی پڑے اسے حاصل کر لوں ٗ اور پھر جب حاصل ہو جائے تو چند ایک روز میں چائو اتر جاتا ہے اور پھر اپنی توجہ کسی اور طرف ہو جاتی ہے۔اللہ کا فضل ہے آج تک کبھی ناکامی نہیں ہوئی جو چاہا ملا۔ جسے چاہا حاصل کر کے چھوڑا۔ وہ ہنسنے لگا۔
کوئی پانچ سال ہوئے ہوں گے جب اتفاق سے اپنی نظر ایک کالج کی لڑکی پر پڑ گئی تھی ٗ اور کیا بتائوں تمہیں ایسی بری طرح مچل گئی طبیعت کہ میں پاگل ہو گیا۔ بس بھائی صاحب ہر جتن کر کے دیکھ لیا ٗ اس کی منتیں کیں ٗ لالچ دیا ٗ کہلا بھیجا میں دولت لنڈھا دوں گا۔ صرف ایک بار مجھ سے مل جا۔ بیسیوں کٹنیوں اور دلالوں کو بیچ میں ڈالا۔مگر اس اللہ کی بندی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر اٹھا لے جانے کی دھمکیاں دیں۔ سب بے کار۔ اور جوں جوں مجھے ناکامی کا احساس ہوتا میرا جنوں اور بڑھتا حتیٰ کہ یہ حالت ہو گئی کہ مجھے وہ عیش و عشرت کھٹکنے لگا جس کا میں عادی تھی۔
ان دنوں اس محلے میں جہاں وہ رہتی تھی عین اس کے گھر کے سامنے ایک مکان جو خالی ہوا تو میں نے جھٹ سرے سے خرید ہی لیا۔ اور اس مکان کو اپنی بیٹھک بنا لیا کہ دیکھو شائد دائو چل ہی جائے لیکن میری کوئی پیش نہ گئی۔ وہ لڑکی نہ جانے کیا نام تھا اس کا۔ عجیب سا نام تھا لیکن ہم چاریاری میں اسے شہزادی کہا کرتے تھے۔ وہ بالکل قابو میں نہ آئی۔
اسی محلے میں ہمارے ساتھ والے مکان میں یہ عورت رہا کرتی تھی جس کی قبر پر آج یہاں آیا ہوں۔ اس نے دوچار بار مجھے اپنی نوکرانی کے ہاتھ بلوا بھیجا۔عجیب عجیب بہانوں سے بلایا کرتی تھی پہلی مرتبہ نوکرانی نے کہا ’’ذرا ادھر آئو تو بی بی بلا رہی ہیں۔ ان سے بات کر لیجئے۔ دیوڑھی کے دروازے کے پیچھے کھڑی ہیں۔دوسری بار تھوڑی سی برانڈی منگوا بھیجی۔اسی طرح چار پانچ مرتبہ مجھے ملنے پر اکسایا گیا۔ لیکن اپنی طبیعت تو ان دنوں شہزادی پر مائل تھی اور سچ پوچھو تو بیاہی ہوئی عورت سے اپنے کو کبھی دلچسپی نہیں ہوئی۔ طبیعت ہی ایسی ہے۔
’’پھر ایک روز رات کے ساڑھے آٹھ بجے تھے تو اس کی نوکرانی پرچی لے کر آگئی ٗ لکھا تھا ‘‘شہزادی سے ملنا ہو تو رات کے ایک بجے آجائو‘‘۔ میں اسے دیکھ کر بھونچکا سا رہ گیا مجھے یقین نہیں آتا تھا۔ ڈر تھا کہ انتقام لینے کیلئے چال نہ چلی گئی ہو۔ جس عورت کو آپ دھتکاریں‘‘۔ وہ کھدر پوش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ وہ انتقام لینے پر آمادہ ہو جایا کرتی ہے۔ بہرصورت چاریاری میں آپس میں مشورہ کرنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو ہمیں آزمانا چاہیے تو بھائی صاحب ہم نے تمام حفاظتی تدابیر سوچ لیں اور میرے چاروں یار گھر کے چاروں طرف چوکنے بیٹھے رہے کہ کوئی چال ہو تو مکان پر دھاوا بول دیں اور میں مکان کے اندر چلا گیا۔اس رات پہلی مرتبہ میں نے اسے دیکھا وہ بے حد خوبصورت تھی۔ شہزادی سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔ لیکن خوبصورتی کیا چیز ہے بھائی صاحب سارا کھیل تو طبیعت کا ہے۔ وہ صرف ایک دو منٹ میرے پاس ٹھہری اور پھر شہزادی کو میرے حوالے کر کے آپ چلی گئی۔ اور بھائی صاحب اس عورت نے کیا جادو کر دیا تھا اس لڑکی پر وہ تو بالکل رام ہو چکی تھی رام۔ پھر ہم وہاں اکثر ملنے لگے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہمیں ملنے کے بعد وہ اپنا تقاضا شروع کردے گی۔ لیکن میرے شک بالکل ختم ہوگئے اس کی نگاہوں اور انداز میں بلا کی آن تھی آن اور بے تعلقی۔ وہ میرے پاس صرف دو ایک منٹ کیلئے ٹھہرتی تھی۔ لیکن جب میں وہاں جاتا اور جب وہاں سے لوٹتا تو وہ ضرور آتی اور ہنس کر مجھ سے کہتی تم آگئے ٗ تم جا رہے ہو ٗ پھر کب آئو گے ٗ وہ ہمیشہ مجھے تم کہا کرتی تھی۔ عجیب عورت تھی وہ … ہاں بھائی صاحب وہ آہ بھر کر بولا۔ چار ایک ماہ تک ہم ملتے رہے۔ لیکن پھر اپنی طبیعت اکتا گئی جیسے ہمیشہ اپنا طریقہ ہے ٗ وہ ہنسا۔ اور پھر وہ سلسلہ ختم ہو گیا‘‘۔
کوئی چھ ماہ کے بعد ایک روز جب میں اپنی اسی بیٹھک میں ایک نئی لڑکی کو لایا ہوا تھا تو نہ جانے کس نے میرا بھید فاش کر دیا اور لڑکی کے رشتہ دار پولیس لے کر وہاں آگئے اب وہ آدھی رات کے وقت نیچے میرا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں اور اوپر میں سخت گھبرایا ہوا ہوں بدنامی اور رسوائی کے ڈر سے ٗ لڑکی کو ادھر ادھر بھی نہیں کر سکتا۔ سارے محلے دار اپنے دشمن تھے کرتا کیا عجیب مصیبت میں گرفتار تھا کہ دھم سے وہ کوٹھا پھاند کر میرے گھر میں اتر آئی اور آتے ہی بولی تم چلے جائو جی وہاں اس کمرے میں۔ میں سنبھال لوں گی۔ اس وقت اس نے عجیب سی پوشاک پہن رکھی تھی ساری اور بنڈی اور نہ جانے کیا کیا۔ حالانکہ وہ ساری نہیں باندھتی تھی۔بال بھی عجیب سے بنا رکھے تھے۔ پہچانی ہی نہیں جاتی تھی۔ غالباً وہ جان بوجھ کر بھیس بدل کر آئی تھی۔ اف اس نے آہ بھری بڑی دلیر عورت تھی وہ۔ دلیری سے اس نے باہر کا صدر دروازہ کھولا اور سب کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ کیا ہے ٗ وہ بولی۔ میرے میاں خود گھر پر نہیں ہیں۔ میں ان کی بیگم ہوں۔ اسے یوں کھڑا دیکھ کر پولیس والے اور ان کے ساتھی چوہوں کی طرح دبک کر چلے گئے اور میں صاف بچ گیا۔ صاف۔
’’اسی روز جب وہ مجھ سے اکیلے میں ملی تو اس کیلئے میرے دل میں شدید جذبہ تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے خاوند کو معلوم ہو گیا تو۔ بڑی دلیری کی ہے تم نے۔ تم میری فکر نہ کرو ۔ وہ بڑی آن سے بولی۔ اپنی بات کرو تم۔ اس وقت مجھے نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ میرے دل میں اس کیلئے محبت کا ایک طوفان سا چل رہا تھا۔میں نے پہلی مرتبہ لپک کر اسے بازوئوں سے تھام لیا۔ لیکن وہ تڑپ کر باہر نکل گئی۔ میرا احسان اتار رہے ہو۔ وہ بولی ٗ اونہوں میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔ وہ ہماری آخری ملاقات تھی۔
’’پھر میں نے اس بیٹھک میں اپنا قیام چھوڑ دیا اور۔ پھر جب میں نے کل ناگاہ سنا کہ وہ انتقال کر گئی ہے تو میں غم سے پاگل ہو گیا۔ اور آج اس کی قبر پر بیٹھے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ میری واحد محبوب تھی اور جیسے وہ قبر سے نکل کر کہے گی ’’تم تم میرا فکر نہ کروٗ جائو گھر جائو‘‘۔اس نے ایک لمبی آہ لی اور اپنی آنکھیں پونچھنے لگا۔
دیر تک کمرے میں طویل خاموشی چھاتی رہی۔ پتلا دبلا نوجوان ویسے ہی ٹھوڑی ہاتھ میں رکھ کر پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ کھدر پوش میز کو انگلی سے بجا رہا تھا اور اچکن پوش معمر آدمی زیر لب کچھ پڑھ رہا تھا اور اب آخر پتلا دبلا نوجوان چونک کر بولا ’’آپ کیسے آئے ہیں یہاں آپ کا کون عزیز فوت ہو گیا ہے‘‘۔ وہ اچکن پوش اور کھدر پوش دونوں اصحاب میں سے نہ جانے کس سے مخاطب تھا۔
کھدر پوش مسکرایا۔ میرا گرو ٗ وہ بولا ٗ میرا پیر سمجھ لو میرا سبھی کچھ… وہ اس قبرستان میں دفن ہے۔ اس نے مجھے وہ دولت بخشی ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اگر میں اس سے نہ ملتا تو آج میں بھی عام نوجوانوں کی طرح سرخ ہونٹوں ٗ سیاہ بالوں ٗ متبسم آنکھوں اور سنہرے بدن کی ان بوتلوں میں کھویا ہوتا جو آج کل سڑکوں اور بازاروں میں آزادی سے گھومتی پھرتی ہیں۔شاید آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ عورت کا وجود کتنا دبیز پردہ ہے۔ جو ہماری عقل پر پڑا ہے اور آج کی تہذیب اسے اور رنگین اور دبیز بنانے میں شدت سے مصروف کار ہے۔ اس جیتے جاگتے رنگین بھنور کا صرف ایک مقصد ہے کہ وہ مرد کو لے ڈوبے اور اس کی کائناتی نگاہ کو ناکارہ کر دے ٗ اسے زندگی سے بے گانہ بنا دے۔ اف کتنا عظیم پردہ ہے‘‘۔ وہ شانے ہلاتے ہوئے بولا ’’ایسا پردہ جسے ہم بخوشی اپنی عقل پر ڈالنے کے مشتاق ہیں ٗ کتنی بری رکاوٹ ہے۔ اگر میری اس سے ملاقات نہ ہوتی تو آج میری حسیات پر بھی وہی پردہ پڑا ہوتا ٗ میرے بھی پر کٹے ہوتے تمہاری طرح۔
اچکن پوش معمر نے سر اٹھا کر غور سے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا مرد حیرانی سے منہ کھولے بیٹھاتھا۔ اور وہ دبلے پتلے نوجوان پر مایوسی سی چھائے جا رہی تھی۔
ہاں کھدر پوش بولا ’’یقین کیجئے ٗ یہ سب اسی کی دین ہے اسی کی۔ حالاں کہ مجھے صرف ایک مرتبہ ملی تھی ٗ صرف ایک مرتبہ‘‘۔
’’ملی تھی ‘‘ اچکن پوش کی دونوں آنکھیں گویا باہر نکل آئیں۔ مونچھوں والوں کے کھلے ہونٹوں پر تبسم دوڑ گیا۔ دبلے پتلے نوجوان نے دفعتاً اضطراب سے پائپ کے کش لینے شروع کر دئیے۔
کھدر پوش مسکرایا ’’ہاں‘‘ وہ بولا’’میری گرو بھی ایک عورت بھی تھی بلکہ حسین عورت۔ ایک رنگین ترین بھنور۔ ایک ایسی ناگن جس کے کاٹے کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا ‘‘۔وہ خاموش ہو گیا کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔باہر درختوں میں گویا بھوتنیاں ناچ رہی تھیں۔ دور چاندنی سر پٹک پٹک کر رو رہی تھی۔ درختوں کی ٹہنیاں سائیں سائیں کر رہی تھیں اور چولھے پر رکھی ہوئی چائے کی کیتلی ایک غم ناک دھن بجا رہی تھی۔
میں ایک زمیندار کا بیٹا ہوں۔ کھدر پوش بولا’’ہمارا گائوںپہاڑ پر واقع ہے ٗ سمجھ لو کوئی چھ ہزار کی بلندی پر ۔ بچپنے سے ہم پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین تھے اور اکثر بہت دور دور بہت اونچے نکل جایا کرتے تھے۔ہمارے گائوں سے اوپر کوئی چار ہزار فٹ اوپر یا شاید زیادہ ایک غار ہے۔ عجیب غار ہے وہ۔جیسے قدرت نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہو۔اس کا منہ تنگ ہے مگر اندر سے وہ کافی وسیع و عریض ہے۔ اس کی چھت بہت اونچی ہے اور فرش بہت صاف۔جس کے ایک طرف سے چشمہ نکلتا ہے وہیں تالاب سا بن جاتا ہے اور پھر نہ جانے اس کا پانی کدھر بہہ نکلتا ہے گویا نیچے ہی نیچے غائب ہو جاتا ہے۔اس غار سے منظر اس قدر خوبصورت دکھائی دیتا ہے کہ ہم دیکھ کر دم بخود رہ جایا کرتے تھے۔پھر موسم سرما میں جب چاروں طرف برف پڑ جاتی تو اس غار سے ایک عجیب نظارہ دکھائی دیتا۔ عجیب ‘‘۔ اس نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا لیکن موسم سرما میں راستے بند ہو جایا کرتے تھے اور وہاں پہنچنا محال ہو جاتا۔ پھر بھی پہلی بار برف پڑتی ٗ تو ہم وہاں ضرور پہنچتے اور وہاں سے عجیب نظارہ نظر آتا جیسے وہ کوئی اور ہی دنیا ہو۔ اور ہی جہاں ہو۔
’’ جب میں جوان ہوا تو نہ جانے کیوں میرے دل میں صرف ایک ہی خواہش تھی کہ کوئی نئے فیشن کی حسین عورت ہو اور ہم دونوں موسم سرما میں اکیلے اس غار میں رہیں۔ اکیلے نہ جانے یہ خواہش میرے دل میں کیسے پیدا ہوئی مجھے معلوم نہیں۔ لیکن وہ بڑھتے بڑھتے جنون کی صورت اختیار کر گئی ویسے پہاڑ کی عورتیں تھیں۔ مگر مجھے ان سے نفرت تھی۔میری نگاہ میں وہ عورتیں ہی نہیں تھیں۔
پھر والد کے انتقال کے بعد میں نے اسے عملی جامہ پہنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔بات بڑی مشکل تھی۔ایسی عورت ڈھونڈنابے حد مشکل تھا۔تو قصہ مختصر میں اکثر شہر جانے لگا کیونکہ شہر میں بہت سے لوگ میدانوں سے آتے تھے اور ان کے ساتھ وہ بیر بہوٹیاں ہوتی تھیں جن کے ساتھ غار میں رہنے کا مجھے خبط تھا۔آہستہ آہستہ میں نے شہر کے دلالوں سے راہ و رسم بڑھائی لیکن میری بات سن کر وہ ہنس دیتے۔ جی ایک دو دن کی بات کرو۔ اکٹھا ایک ہفتہ اور وہ بھی برف کے دنوں اور پھر جناب اتنی دور غار میں جانے کو کون تیار ہو گی۔
’’پھر ایک دن جب میں شہر ہی میں تھا اور ابھی پہلی ہی برف پڑی تھی تو ایک دلالہ بھاگی بھاگی میرے پاس آئی ٗ کام بن گیا ٗ وہ بولی۔ لیکن پیسہ بہت خرچ ہو گا ٗ نہ جانے کون ہے وہ یہاں اکیلی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہے۔ برف دیکھنے آئی ہے۔ ساتھ نوکرانی ہے کوئی ایسی ویسی نہیں بڑے گھرانے کی معلوم ہوتی ہے مگر اس کی نوکرانی کی جھولی بھر دو تو وہ کہتی ہے کہ میں منالوں گی اسے۔
’’اس کی بات سن کر میں اچھل پڑا۔روپے کی تو مجھے پرواہ ہی نہیں تھی۔ میں نے کہا غار میں جائے گی ٗ ہاں وہ بولی اس کی نوکرانی کہتی ہے میں لئے چلوں گی۔ پر یہی دو تین دن کیلئے زیادہ نہیں تو خیر صاحب بات پکی ہو گئی اور ہم وہاں پہنچ گئے۔ غار میں پہنچ کر جب اس نے برقعہ اتارا تو میں اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس کی بھویں چڑھی ہوئی تھیں۔ اس کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں اور اس کے ہونٹ بے نیازی سے بھیگے ہوئے تھے ٗ جیسے اسے جسم سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ جیسے وہ زمین سے نہیں آکاش سے اتری ہوئی ہو‘‘۔ وہ خاموش ہو گیا۔پتلا دبلا نوجوان منہ کھولے بیٹھا تھا۔اچکن پوش کی آنکھیں ابلی ہوئی معلوم ہوتی تھیں اور مونچھوں والے کا چہر ہ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے اس پر ایک سفید لمبی داڑھی اگ آئی ہو۔ ہوٹل کا لڑکا جو برتن اٹھانے آیا تھا چپ چاپ دروازے کے پٹ کے ساتھ چپکا کھڑا تھا جیسے کھو گیا ہو۔
’’تین دن ہم وہاں اکٹھے رہے۔ تین دن ‘‘کھدر پوش نے بات شروع کی’’وہ غار غار نہیں رہا تھا۔ اس کی آمد کے بعد گویا وہ ایک مندر میں بدل چکا تھا۔ وہ عورت نہیں تھی وہ ایک دیوی تھی اور میں ہوس کار نہیں تھا۔ میں اس کا پچاری تھا۔ وہ مجھ سے بہت قریب تھی۔بہت قریب … لیکن نہیں وہ مجھ سے قریب نہیں تھی دور … بہت دور۔ میں اس کے پائوں پر سر رکھے پڑا تھا۔ میرے ہاتھ اس کی پنڈلیوں سے چھو رہے تھے۔ لیکن وہ پوشت پوست کی پنڈلیاں نہیں تھیں وہ نور کی بنی ہوئی تھیں ٗ اسی نور کی جو غار سے باہر چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف اور پھر نیچے سے اوپر تک چوٹیوں سے اوپر … بادلوں سے اوپر … نیلے آسمان سے اوپر‘‘۔ایک ساعت کیلئے وہ خاموش ہو گیا۔ پھر بولا’’ان تین دنوں میں میں نے اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر سجدے کئے۔اس کے بند بند پر آنکھیں ملیں۔ اس کے روبرو بیٹھ کر بھجن گائے۔سب کچھ کیا۔ لیکن نہ جانے کیوں میری خواہشات میں ہوس کا عنصر نہیں تھا۔ہمارے جسم گویا فنا ہو چکے تھے۔ہماری آرزوئیں اس پھیلی ہوئی سفیدی میں گویا دھل چکی تھیں۔ اس لطیف فضا میں محبت اور تحیر کے سوا کچھ نہ تھا۔بے غرض محبت۔ بے نام تحیر۔ لیکن آپ نہیں جا نتے۔ آپ نہیں سمجھ سکتے‘‘۔ وہ بولا۔ آپ کبھی دس ہزار فٹ سے اوپر نہیں گئے ہوں ۔آپ نہیں جانتے کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ کیسے جان سکتے ہیں آپ !ایک ساعت کیلئے وہ خاموش ہو گیا۔
’’تیسرے دن جدائی کے خیال سے میری گھگھی بندھ گئی۔میں اس کی محبت میں دیوانہ ہو چکا تھا۔میں ہمیشہ کیلئے اسے دیوی بنا کر اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔میں نے منتیں کیں۔ہاتھ جوڑے ٗ سبھی جتن کئے لیکن جواب میں وہ خاموش رہی ٗ بالکل خاموش جیسے گونگی ہو۔
’’عمر بھر کیلئے ہونا منظور نہیں ٗ میں نے کہا تو صرف ایک بار پھر … صرف ایک بار ایک مہینہ ٗ ایک ہفتہ ٗ ایک دن ‘‘۔
آخر میری مسلسل منتوں کا یہ اثر ہوا کہ اس نے ایک بار پھر ملنے کا وعدہ کر لیا۔ ہم نے ایک تاریخ مقرر کر لی اور پھر وہ چلی گئی۔
اب میں آپ کو کیا بتائوں کہ وہ ایک سال میں نے کیسے گزارا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ مقررہ دن میرے نزدیک اتنا اہم تھا جتنا کہ قتل کے ملزم کیلئے فیصلہ کا دن ہوتا ہے۔ میرے لئے زندگی اور موت کا سوال تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ آئے گی ٗ ضرور آئیگی اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا چاہے وہ ایک دن کیلئے آئے یا ایک ہفتہ کیلئے میں اسے واپس نہیں جانے دوں گا۔اور ہم موسم سرما وہیں گزاریں گے۔اسی خیال کے تحت میں نے چار مہینے کی جملہ ضروریات کی چیزیں اس غار میں پہلے ہی سے پہنچا رکھی تھیں ٗ بالآخر وہاں اپنی دیوی کے انتظار میں بیٹھ گیا تھا۔
پھر مونچھوں والے نے ڈھیلے ہونٹوں سے کہا پھر۔
’’لیکن وہ نہ آئی ‘‘ وہ بولا۔ نہ آئی حتیٰ کہ راستے مسدود ہوگئے اور میں نے محسوس کیا کہ میں تین مہینوں کیلئے اس برف خانے میں دفن کر دیا گیا ہوں۔ پہلے دو تین دن تو میں غار کے اندر اس خیالی مجسمے کے سامنے کتے کی طرح پڑا روتا رہا۔ پھر جب وہ دیوانگی دور ہوئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہ وہیں کھڑی تھی جہاں وہ پچھلے سال کھڑی تھی جہاں وہ پچھلے سال کھڑی ہوا کرتی تھی ٗ اس کی بھویں اٹھی ہوئی تھیں ٗ اس کی آنکھیں باہر اوپر کی طرح دیکھ رہی تھیں اور وہ یوں مسکرا رہی تھی جیسے مجھے بھی باہر اوپر کی طرف دیکھنے کی ترغیب دے رہی ہو۔ میں نے پہلی مرتبہ اطمینان اور سکون سے باہر دیکھا لیکن آپ‘‘ وہ بولا ’’آپ اس منظر کو ذہن میں نہیں لا سکتے ٗ آپ دس ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر نہیں گئے کبھی‘‘۔
’’دس ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر‘‘ اس نے پھر سلسلہ کلام جاری کرتے ہوئے کہا۔
’’فضا اس قدر لطیف ہوتی ہے اور عالم اس قدر نورانی ہوتا ہے جیسے صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے یہاں دودھیا سویرا پھیلا ہوتا ہے اس بلندی پر یہاں کے صبح صادق کے دودھیا سویرے کو قیام اور دوام مل جاتا ہے۔ اس دودھیا سویرے میں نگاہیں ہمیشہ اوپر کو اٹھتی ہیں اور انسان محسوس کرتاہے جیسے وہ اڑ رہا ہو۔انسانی کثافت کا بوجھ گویا اس کی پیٹھ سے اتر گیا ہو۔اس کی آرزوئوں میں شدت کی وہ دھار نہیں رہتی ٗ اس کے دکھوں اور حسرتوں میں سے تکلیف کا عنصر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بغض ٗ دشمنیاں ٗ نفرتیں سب یوں اپنی کثافت کھو بیٹھتیں ہیں جیسے مشین سے دبی ہوئی روئی کی گٹھڑی کو دھنک کر صاف کر دیا گیا ہو۔ وہاں روح سے بوجھ اتر جاتا ہے ٗ وہاں کوئی ہوس کاری کا شکار نہیں ہو سکتا ٗ وہاں کوئی جرم سرزد نہیں ہو سکتا۔ وہاں کوئی گناہ سے آلودہ نہیں ہو سکتا۔جیسے یہاں صبح صادق کے وقت کوئی جرم نہیں کر سکتا۔ عیش و نشاط کی محفلیں چار بجے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔حتیٰ کہ اس وقت محبوبہ کیلئے برہا کا راگ بھی گایا نہیں جا سکتا۔ صرف حمد و ثناء صرف کائنات جذبہ ہی اس وقت قیام حاصل کر سکتا ہے۔اس دودھیا سویرے میں وہاں عشق جسم سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اپنی انا اپنی ذات سے نکل کر کائنات کے ذرے ذرے پر بکھر جاتی ہے۔ وہ بلندی اور پھر وہ پاکیزہ نورانی برف ٗ وہ چاروں طرف پھیلا ہوا نور … اور وہ سکوت … گہرا بے اتھاہ سکوت … وہ خاموش ہو گیا۔ کمرے میں گویا دودھیا سویرا چھا گیا۔
’’تین مہینے کی اس نور سے بھیگی ہوئی تنہائی نے مجھے اپنی انا سے نکال کر ساری کائنات پر مسلط کر دیا۔اس نے سلسلہ کلام ازسر نو جاری کیا۔ اور وہ وجدان جو مجھ پر طاری رہا اس کی وجہ سے تین مہینے میں میری کایا پلٹ گئی۔ پھر جب میں نیچے اترا تو ایک مرتبہ پھر مجھ پر وہی وجد جنون طاری ہوا۔اس کا جنون۔ میں نے جگہ جگہ کی خاک چھانی کہ اسے ڈھونڈ نکالوں لیکن بے سود۔ وہ نہ ملی اس کا پتہ بھی نہ مل سکا۔
’’پھر جب موسم سرما آیا تو مجھ پر ایک نئی وحشت سوار ہو گئی۔ وہ نورانی غار مجھے اپنی طرف بلانے لگا۔ مجھے ہر وقت اسی منظر کا خیال رہنے لگا۔ وہی نور کی چادر ٗ وہی اطمینان ٗ وہی گہری خاموشی یہ وحشت اس حد تک میرے سر پر سوار ہو گئی کہ میں پھر موسم سرما کاٹنے وہیں جا پہنچا اور میں ہر سال موسم سرما وہیں گزارتا ہوں۔
’’اور وہ ‘‘پتلا دبلا نوجوان چلایا ’’وہ پھر نہ ملی …؟‘‘
’’وہ ‘‘کھدر پوش ہنسنے لگا۔ اس نورانی سویرے نے مجھے نکھار نکھار کر بذات خود دیوتا بنا دیا اور دیوی کے نقوش میرے دل سے دھو ڈالے اور چھ سال میں میں نے اس راز کو پا لیا کہ عورت مرد کی راہ کی محض ایک رکاوٹ ہے۔ ایک پردہ ہے ایک ایسا پردہ جسے ہٹائے بغیر ہم کہیں پہنچ نہیں سکتے۔میں نے شدت سے محسوس کیا کہ زندگی رکاوٹوں کو عبور کرنے کا نام ہے ٗ آرزوئوں کا غلام بننے کا نہیں ’’میری طرف دیکھئے‘‘ وہ چلایا سردی ہو یا گرمی میں صرف اس کھدر کے کرتے میں رہتا ہوں اور یقین جانو میرے بدن میں اس قدر قوت مدافعت پیدا ہو چکی ہے کہ میں سانس لیتا ہوں تو مجھے لذت محسوس ہوتی ہے ٗ ایسی لذت جو عورت کے رنگین قرب سے بھی میسر نہیں ہو سکتی۔
لیکن وہ …‘‘ پتلے دبلے نوجوان نے پھر اس کی توجہ اپنی طرف منعطف کرنے کی کوشش کی۔
’’وہ‘‘۔ مسکرایا۔’’جب میں اس کے سحر سے آزاد ہو چکا تھا تو ایک روز شہر میں اتفاقاً وہ مجھے مل گئی۔اس کے ساتھ وہی نوکرانی تھی‘‘۔
’’مل گئی!‘‘مونچھوں والے نے بیٹھے ہوئے گلے سے دہرایا ’’واقعی‘‘۔
’’ہاں‘‘ وہ بولا ۔اس نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے ہنس کر کہا دیوی تم پھر نہ آئیں۔ اس نے جھرجھری لی اور بولی اس مندر میں دیوی کی جگہ نہیں ہے۔ میں نے ازراہ شرارت کہا پھر پجاری کو بلا لیا ہوتا۔ وہ پھر ہنسی لیکن جلد ہی کسی اثر سے بھیگ کر کہنے لگی۔ اس مندر کا پجاری کسی کے بلائے سے نہیں آتا۔میں خود ابھی تک اسی مندر کی پجارن ہوں۔اس کی آنکھیں اوپر کی طرف اٹھ گئیں اور ان میں اس وقت وہی دودھیا اجالا چمک رہا تھا ‘‘وہ خاموش ہو گیا پھر کچھ دیر بعد آپ ہی آپ کہنے لگا ‘‘۔
’’ہاں وہ میری گرو تھی ٗ میرا پیر تھی ٗ میرا سبھی کچھ تھی اور جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ وفات پا گئی ہے تو میں یہاں آئے بغیر نہ رہ سکا ‘‘۔ لیکن اس نے مسکرا کر کہا ’’اب کی سردیوں میں وہ وہاں ضرور آئے گا۔اب وہ پردہ نہیں رہا پردے سے نکل چکی ہے ٗ وہ یقینا ابھی تک اسی مندر کی پجارن ہے۔ ابھی تک ‘‘۔ وہ خاموش ہو گیا۔
دفعتاً ہوٹل کا لڑکا چلایا ’’بابو جی بادل چھٹ گئے ہیں اور بس آنے میں صرف پندرہ منٹ باقی ہیں‘‘۔
اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے مونچھوں والے نے اچکن پوش بزرگ کی طرف دیکھ کر کہا ’’اور صاحب آپ کا کون عزیز فوت ہوا ہے …‘‘اور سب کی نگاہیں اچکن پوش کی طرف اٹھ گئیں۔
وہ گھبرا گیا اور پھر اچکن جھاڑتے ہوئے کہنے لگا ’’میں تو کسی عورت کیلئے یہاں نہیں آیا ٗ میں تو تقریباً روز ہی آتا ہوں یہاں ٗ جب سے میری بیوی فوت ہوئی ہے روز فاتحہ کیلئے آتا ہے۔
’’بیوی ‘‘پتلے دبلے نوجوان نے دہرایا۔
’’اتنی وفادار اور خدمت گزار بیوی شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو‘‘ وہ بولا۔ حالانکہ میں بوڑھا تھا اور وہ نوجوان تھی۔ لیکن سبحان اللہ ٗ وہ گویا صرف میری خدمت کرنے کیلئے جیتی تھی‘‘۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ جنتی روح تھی جنتی۔بھرائی ہوئی آواز میں اس نے کہا اور خاموش ہو گیا اور وہ چاروں ملحقہ قبرستان کی طرف چل پڑے۔
بادل واقعی چھٹ گئے تھے۔سورج مغرب میں تانبے کے تھال کی طرح ٹنگا ہوا تھا اس کی سنہری شعاموں میں بدلیاں انگاروں کی طرح دھک رہی تھیں۔
’’وقت بہت کم ہے‘‘کھدر پوش بولا ’’شہر کیلئے یہ آخری بس ہے‘‘۔
’’پتلے دبلے نوجوان نے کہا ’’لیکن قبر پر دیا تو جلانا چاہیے کم از کم‘‘۔
’’ہاں …ہاں‘‘مونچھ والا بولا۔ اور وہ تینوں سفید قبر کی طرف لپکے اور جب تینوں نے بیک وقت ایک ہی تربت کے طاق کی طرف ہاتھ بڑھائے تو تینوں کے سر آپس میں ٹکرا گئے۔
’’ہائیں‘‘۔ وہ تینوں بہ یک وقت چلائے اور انہوں نے ایک نئے مفہوم سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا لیکن پیشتر اس کے کہ وہ کچھ کہتے اچکن پوش بزرگ کی آواز سنائی دی۔ یہاں تم کدھر آ نکلے ہو وہ کہہ رہا تھا مجھے اپنی بیوی کے مرقد کا دیا تو جلا لینے دو …
وہ سب تعجب سے بوڑھے کی طرف دیکھنے لگے۔ پتلے دبلے اضطرابی نوجوان نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔لیکن کھدر پوش نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر زیر لب کہا ’’اونہوں ٗ دوسروں کو ننگا نہ کرو ٗ ہمیں اپنی عقل سے پردہ اٹھانا ہے ٗ اپنی عقل سے۔
’’کتنا رنگین پردہ ہے‘‘۔مونچھوں والے نے آہ بھری۔
’’کتنی بڑی رکاوٹ ہے‘‘۔کھدر پوش نے کہا۔
اچکن پوش انہماک سے دیا جلانے میں مصروف تھا۔اس کے گال آنسوئوں سے تر تھے سورج کی آخری شعاعوں نے بادلوں سے چھین کر فضا میں نور کی دھاریاں سی بنا دی تھیں۔جیسے نور کا ایک مینار کھڑا ہو اور چاروں طرف ایک دھندلا سا سویرا پھیلا تھا۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے