Home / خبریں / سرفراز بگٹی، گہرام بگٹی کی وزارت میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ؟

سرفراز بگٹی، گہرام بگٹی کی وزارت میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ؟

یوں تو بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اتحاد کاہر رکن کوئی وزیر یا مشیر بنایا گیا ہے اور یہ اسکی شمولیت یا ووٹ دینے کی ڈیمانڈ کےوقت طے پایا بھی جاتا ہے عموماً، کہ آیا آپکو یہ وزارعت دی جائے گی یا پھر کوئی مشیر بنا دیا جائے گا وغیرہ۔مگر اس دفعہ اگر آپ دیکھیں گے تو بلوچستان میں وہ واحد رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام بگٹی ہیں جن کو نہ کوئی مشیر بنایا گیا اور نہ ہی کسی وزارعت کا منصب دیا گیا۔اس کے ساتھ اگر آپ دوسرے اتحادی جماعتوں اور آزاد حیثیت سے جیت کر آنے والوں سے موازنہ کریں گے تو معلوم ہو گا کہ انکوکوئی نہ کوئی زمہ داری دی گئی جیسا کہ اسد بلوچ ،زمرک اچکزٸی ،مٹھا خان کاکڑ،اور سردار مسعود لونی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
اب آتے ہیں اپنے پوائنٹ کی جانب کہ آخر اسکو ہی کیوں نہیں دی گئی،آیا یہ اتنے اہل نہیں ہیں، یا کوئی اور رکاوٹ بنا ہوا ہے اور سکو کچھ بھی بنانے کے حق میں نہیں؟
تو ان سوالوں کا جناب ہم اپنے کچھ دلائل سے دیں گے کہ آپ خود نتیجہ اخذ کرسکیں گے ۔
ہوتا کچھ یوں ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بگٹی خاندان والوں کےلیے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں یہاں تک کہ انکو ڈیرہ بگٹی تک کو چھوڑنا پڑتا ہے،براہمداغ افغانستان چلا جاتا ہے اور وہاں اسائلم لے لیتا ہے باقی بگٹی خاندان پاکستان میں رہ جاتا ہے اور اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے بعد میں غالباً براہمداغ بگٹی کی بہن کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے،نواب اکبر بگٹی جب زندہ بھی تھا تب بھی شاہ زین بگٹی اور گہرام بگٹی کے والد سے معاملات اتنے اچھے نہیں رہے تھے ،کیونکہ وہ باغی بن چکے تھے اور انکے والد جمہوری عمل پر یقین رکھے ہوۓ تھے خیر۔
مشرف کی غنڈہ گردی نے پاک فوج کو ناجائز استعمال کر کے وہ آگ لگائی جوآج تک تھم ہی نہیں رہی، مگر پھر بھی آج تک وہ پاکستان کا وفادار اور ہیرو کہلایا جا رہا ہے۔
براہمداغ نے اپنی الگ منزل چن لی ریاست کے باغی بن گئے،عسکری ونگ کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا،مگر گہرام بگٹی ان کے والد پاکستان میں ہی کیس لڑتے رہے انکے چچا جمیل بگٹی نواب اکبربگٹی قتل کیس میں پیش پیش رہے۔
گہرام بگٹی اور اسکےخاندان پر ڈیرہ بگٹی جانے کے دروازے تک بند کیے گئے،نہ الیکشن کی اجازت ،بس طاقتور لوگوں نے ان کے مقابلے میں سرفرازبگٹی کو میدان میں اتارا،سرفرازسے پہلے اسکے والد بھی اسی طرح لانچ کیے گئے تھے،اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے،کاش انکو بھی سوچنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی اقتدارکل وقتی نہیں ہوتا،مگرانہوں نے ہرجگہ بلوچستان اور بگٹی لوگوں کے ارمانوں پر مرہم لگانے کے زخم دیے،کوئی بھی حملہ ہوتا یہ مفت میں نواب اکبر بگٹی خاندان یعنی گہرام بگٹی اور شاہزین بگٹی لوگوں پر اسکا الزام لگا دیتا اور انکے چاہنے والوں پر ہر طرح کے ظلم ڈھاۓ گۓ ،سیاسی انتقام لیا گیا،مگر یہ لوگ ثابت قدم رہے۔
گہرام بگٹی خاندان کی قسمت اس وقت بدلی جب کور کمانڈر ناصر جنجوعہ بلوچستان کے کورکمانڈر بنے،وہ بہت تیز تھے اورحالات کی نزاکت جانتے تھے انہوں نے ان کے لیے دوبارہ ڈیرہ بگٹی کے دروازے کھلواۓ،لوگوں میں ایک اطمینان اور سکون آگیا،گو کہ انکی بھی کوشش ہوتی ہے کہ طاقتورلوگوں کے زیادہ قریب رہیں اور انکے ہی نعرے لگاتے رہے، اب جب یہ دونوں بھائی جیتے تو پہلی حاضری بھی سابق کورکمانڈر ناصر جنجوعہ کے گھر لگوائی اور اسکا شکریہ بھی ادا کیا،مگراس سب کے باوجود طاقتور لوگوں کےلیے سرفراز پہلی چوائس رہا ہے اور سرفراز بگٹی خود کو انکا خاص بنانے کا خوب ہنر رکھتا ہے،کوئی بھی مسلہ ہو مفت میں پاک فوج کو درمیان لاتا ہے اور اپنی نوکری حلال کرنے کے چکروں میں رہتا ہے،پاک فوج کو ایسے خوشامدیوں کو دور رکھنا ہو گا یہ مفاد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
جب پچھلے 2013 کے الیکشن آئے تو بگٹی خاندان کو ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت تک نہ تھی وہ خاک الیکشن لڑتے۔مگر بلدیاتی الیکشن تک وہ ناصر جنجوعہ کی دوراندیشی کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی کے دروازے ان کے لیے کھولے گئے، اور بلدیاتی الیکشن میں گہرام بگٹی نے بھاری مارجن سے وہاں سے چئیرمین منتخب ہوئےاور کم فنڈ کے باوجود انہوں نے وہ کام کرواۓ جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اپنی جیب سے بھی اچھا خاصا سرمایہ لگایا جس کا نتیجہ انکو اس الیکشن میں ملا۔
ایک طرف یہ دن رات لوگوں کی خدمت کر رہا تھا دوسری جانب سرفراز وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ اور کئی وزارتوں کےمزے لے رہا تھا اور خوب فنڈ کھاۓ گۓ،کاش کہ بلوچستان نیب ایکٹو ہوتا تو سرفراز سینٹ میں نہیں بلکہ جیل میں ہوتا،مگراس ملک میں کہاں چور اور لٹیرا وہ بھی طاقتور ہو اور پکڑا جائے۔
خیر 2018 کے الیکشن میں طاقتور حلقے کی حمایت کے باوجود سرفراز بگٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑااور کہا جا رہا ہے کہ سرفراز نے پیسوں کا بے دریغ استعمال بھی کیا مگر الیکشن کمیشن کہاں اتنی فعال ہے خاص طور پربلوچستان میں،ہار تو وہ گیا مگر محمود خان اچکزئی کے ایک فقرے نے اسکو سینیٹر بنوا دیا وہ فقرا تھا۔
”میرا بھتیجا خوب زور زور سے چلاتاتھا،اسکو بھی ہروا دیا”
اس فقرے نے ایسا جادو کیا کہ
طاقتور حلقے نے بھی ٹھان لی اور دکھا دیا کہ ہم اپنے من پسند لوگوں کو بے رزگار نہیں چھوڑتے اور اسکو پہلی ہی فرصت میں سینیٹر بنوا دیا۔
جہاں سے سرفرازبگٹی ہارے تھے وہاں سے جمہوری وطن پارٹی کے گہرام بگٹی جیت گئے،اور ایم این اے کی سیٹ پران کے بھائی شاہزین بگٹی جیت گئے،جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت بن رہی تھی تب شاہ زین بگٹی نے کہا کہ مجھے یہاں کچھ نہیں چاہیے بلوچستان میں میرے بھائی کووزیر تعلیم بنوا دینا کیونکہ پی ٹی آئی وہاں کی اتحادی جماعت ہے،مگر پی ٹی آئی بھی طاقتور حلقوں کی وجہ سے وعدہ وفا نہ کر سکی۔گہرام بگٹی وہ واحد اتحادی ہے جس کو کوٸی منصب یا زمہ داری نہیں دی گئی،اس کی وجہ یہ ہے کہ سرفراز بگٹی کو اپنی شکست تسلیم کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی,اسکا غصہ وہ گہرام بگٹی کو کوئی وزارت نہ دینے کی ضد پر نکال رہے ہیں،یاد رہے موجودہ اتحادیوں میں گہرام بگٹی سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں،ناصرف پاکستان بلکہ باہر سے بھی پڑھ چکے ہیں اور اچھا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں،اور بلوچستان کے تمام مسائل کا سامنا بھی کر چکے ہیں اور ادراک بھی رکھتے ہیں۔مگر سرفراز بگٹی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بلوچستان کا ایک باشعوراور منتخب رکن صوبائی اسمبلی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے مگ سب چپ ہیں،نہ جانے طاقتور حلقے کیوں نہیں چاہ رہے کہ گہرام بگٹی کو زمہداری سونپی جائے حالانکہ اس نے طاقتور حلقوں کے حق میں واجب سے زیادہ نعرے اور حمایت کی،مگر کیوں وہ سرفراز کے ایسے ہمنوا بنے ہوئے ہیں،اگر اسی طرح نا انصافی ہو گئے تو بگٹی لوگوں کو دوبارہ پہاڑوں کا رخ کرتے دکھائی دیتا ہے،مہربانی کرکے طاقتور حلقوں سے اپیل ہے کہ سرفراز تو خود تو ڈوبا ہے تمہیں بھی لے ڈوبے گا،ابھی یہ اچھا موقع ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں محبت بڑھاؤ اور ترقی یافتہ سوچ کو پروان چڑھاؤ اور ترقی کی حمایت کرو،اسی میں آپکا بھی بھلا ہے اور پاکستان کا بھی،ورنہ اگر اگلی دفعہ یہ نعرے آپ لوگوں کے خلاف لگے تو یہ افسوناک امر ہو گا،کیونکہ آپ لوگوں نے بہت قربانیوں کے بعد وہاں ماحول سازگار بنایا ہے،کئی لوگوں کو پہاڑوں سے نیچے اتروایا ہے اور انکے بچوں کو تعلیم اور سہولیات بھی دے رہے ہو،سرفراز جیسے مفاد پرستوں کے چکر میں خود کو اور اپنی ساری محنت پر پانی نہ پھروادینا۔

admin

Author: admin

Check Also

چین میں روزہ رکھنے پر سخت پابندی

بیجنگ ،9مئی ( ایجنسی) ایغور مسلمان اکثریت والے چینی صوبے سنکیانگ میں حکام نے روزہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے