Home / خبریں / انٹر نیشنل / سری لنکا بم دھماکوں میں ملوث نیشنل توحید جماعت کیا ہے؟

سری لنکا بم دھماکوں میں ملوث نیشنل توحید جماعت کیا ہے؟

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبومیں گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر کیے گئے بم دھماکوں کے ایک دن بعد حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک مقامی بنیاد پرست تنظیم ’نیشنل توحید جماعت‘ ان دھماکوں میں ملوث ہوسکتی ہے۔

اس تنظیم کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اس کو سری لنکا میں موجود ایک اور تنظیم کا دھڑا سمجھا جارہا ہے۔

نیشنل توحید جماعت

اس تنظیم کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ایک اور بنیاد پرست تنظیم ’ سری لنکا توحید جماعت ‘ کا دھڑا ہے ۔

اس تنظیم نے بدھ بھکشووں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف فسادات ہونے پر ضلع کیگالہ میں بدھا کے مجسموں کو نشانہ بنایا تھا، ان کے اس اقدام کی وجہ سے بدھ مت کے پیروکاروں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

اس تنظیم کے سربراہ عبد الرازق کو بدھ مت کے خلاف نفرت ابھارنے پر سنہ 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بعد میں اپنے کیے پر معافی نامہ بھی پیش کیا تھا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نیشنل توحید تنظیم کو گذشتہ برس کے اس واقعہ سے بھی جوڑ ا جا رہا ہے جس میں مرکزی سری لنکا کے ماوانیلہ میں بدھ مت کے ایک ٹیمپل کو ہدف بنایا گیاتھا۔
رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں بنیاد پرستی کے علامتیں اس وقت سے ظاہر ہونا شروع ہوئیں جب مبینہ طور پر اس گروپ نے بدھا کے ایک مجسمے کو نشانہ بنایا۔
نیشنل توحید جماعت کو ملک کی مسلم اقلیتی برادری کا ایک چھوٹا سا بنیاد پرست دھڑاقرار دیا جاتا ہے ۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں دو کروڑ دس لاکھ مسلمان بستے ہیں۔
تنظیم کی بین الاقوامی معاونت کی حکومتی تحقیقات

سری لنکن حکومت کی جانب سے اتوار کے بم دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے سرکاری بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

پیر کو حکومتی ترجمان راجھیتا سنارتنے نے کہا ہے کہ تفتیش کار یہ دیکھ رہے ہیں، کہ ’ کیا اتوار کو گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر حملوں میں نیشنل توحید جماعت کو بین الاقوامی معاونت حاصل تھی۔‘
بم دھماکوں کے بعد سری لنکن پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس سربراہ نے اعلیٰ حکام کو دس دن پہلے گرجاگھروں اور انڈین ہائی کمیشن پرمقامی بنیاد پرست تنظیم نیشنل توحید جماعت کی جانب سے ممکنہ خود کش حملوں کے بارے میں خبردار کیا تھا اور ان حملوں کے بارے میں غیر ملکی انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ بھی دیا تھا۔

اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں ایسے حملے نہیں ہوئے جس کے تانے بانے غیر ملکی اسلامی گروہوں سے ملتے ہوں، تاہم جنوری میں پولیس نے ایک نئے بنیاد پرست گروپ کے چار لوگوں سے دھماکہ خیز مواد پکڑا تھا۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں شدت پسند تنظیموں کے قدم
نیو یارک میں قائم دہشت گردی کے واقعات پر نظر رکھنے والا ایک ادارے دی سوفان سنٹر نے کہا ہے کہ’ سری لنکا کے بم دھماکے سلفی جہادی گروہوں جیسے معلوم ہورہے ہیں ، خاص طور پر ان جیسے گروہ جن کو بین الاقوامی معاونت ملتی ہیں۔ ‘

اس سنٹر کے مطابق سنہ 2000 میں انڈونیشیا میں کرسمس کے موقع پر بم دھماکے ہوئے تھے جہاں کالعدم تنظیم القاعدہ نے ایک مقامی تنظیم کے ساتھ مل کر یہ کام کیا تھا ۔ اسی طرح عمان کے ایک ہوٹل میں بم دھماکہ بھی القاعدہ سے منسلک ایک تنظیم نے کیا تھا۔
سوفان سنٹر نے کہا ہے کہ اس طرح کے حملے فرقہ ورانہ کشیدگی کو بڑھانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

جنوری میں سوفان سنٹر کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کا لعدم تنظیم القاعدہ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ جنوبی ایشیا کے ممالک ( بنگلہ دیش، میانمار،انڈیا اور سری لنکا) میں شدت پسند بھرتی کرنا چاہ رہے ہیں جہاں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہیں۔

 

 

 

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے