Home / ادب نامہ / نثر / کافکا کے افسانے / شکاری گریکس۔ فرانز کافکا

شکاری گریکس۔ فرانز کافکا

بندرگارہ کی دیوار پر بیٹھے ہوئے دو لڑکے پانسے کھیل رہے تھے۔ تاریخی یادگار کی سیڑھیوں پر بیٹھا ایک شخص اخبار پڑھ رہا تھا اور اس سورما کے نیچے سستا رہا تھا جو تلوار علم کیے ہوئے تھا۔ ایک لڑکی چشمے سے بالٹی بھر رہی تھی۔ ایک پھل والا اپنی ترازو کے پاس لیٹا سمندر کو گھور رہا تھا۔ ایک کیفے کی کھلی ہوئی کھڑکی اور دروازے میں سے دو آدمی کیفے کے اس سرے پر شراب پیتے دیکھے جا سکتے تھے۔ کیفے کا مالک سامنے ہی میز کے پیچھے بیٹھا تھا اور اونگھ رہا تھا۔ ایک باد بانی جہاز چھوٹی سی بندرگاہ کی طرف ایسی خاموشی سے بڑھتا چلا آرہا تھا جیسے کوئی غیر مرئی شے اسے پانی کے اوپر چلا رہی ہو۔ نیلی وردی پہنے ہوئے ایک شخص جہاز سے اتر کر کنارے پر آیا اور ایک حلقے میں سے جہاز کی رسی گزار کر کھینچنے لگا۔ اس جہاز والے کے پیچھے پیچھے دواور آدمی ، سنہرےبٹنوں والے سیاہ کوٹ پہنے ہوئے ایک ارتھی لیے ہوئے چل رہے تھے۔ جس پر پڑے ہوئے ریشمی چھینٹ کے جھالر دار کپڑے کے نیچے کوئی آدمی لیٹا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
گھاٹ پر کسی نے بھی ان نوواردوں کی طرف دھیان نہیں دیا، حتیٰ کہ جب انہوں نے جہاز والے کے انتظار میں جو ابھی تک رسی سے الجھا ہوا تھا ، ارتھی زمین پر رکھ دی تب بھی کوئی ان کی طرف نہیں بڑھا، کسی نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا، کسی نے ایک بار بھی ان کی طرف استفہامی نظروں سے نہیں دیکھا۔
جہاز والے کو ایک عورت کی وجہ سے مزید رکنا پڑا جوایک بچے کو چھاتی سے لگائے، بال کھولے ہوئے، اب عرشے پر نظر آرہی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک زردی مائل رنگ کے دومنزلہ مکان کی طرف اشارہ کیا جو سمندر کے کنارے ڈھلوان پر بنا ہوا تھا۔ ارتھی والوں نے اپنا بار اٹھایا اور اس کو نیچے نیچے مگر شاندار کھمبوں والے دروازے پر لے گئے۔ ایک چھوٹے سے لڑکے نے عین اس موقعے پر ایک کھڑکی کھول کر اس جماعت کو مکان کے اندر غائب ہوتے دیکھا۔ پھر جلدی سے کھڑکی بند کردی۔ اب دروازہ بھی بند تھا۔ یہ سیاہ شاہ بلوط کا بہت مضطوط بنا ہوا دروازہ تھا۔ فاختا ؤ ں کی ایک ٹکڑی جو گرجا گھر کے گھنٹے کے گرد چکر لگا رہی تھی مکان کے سامنے سڑک پر اتر آئی ۔ فاختائیں دروازے کے آگے اس طرح اکٹھا ہو گئیں جیسے ان کا راتب مکان کے اندر ہو۔ ان میں سے ایک اڑ کر مکان کی پہلی منزل پر پہنچی اور کھڑکی کے ایک شیشے پر ٹھونگیں مارنے لگی۔ یہ شوخ رنگ کے اچھی طرح سے پالے پوسے ہوئے خوبصورت پرندے تھے۔ جہاز والی عورت نے ہاتھ پھر ا کر ان کو دانہ ڈالا۔ انہوں نے دانہ چگ لیا اور اڑ کر عورت کے پاس چلی گئیں۔
اب ایک آدمی اونچا ہیٹ لگائے ہوئے، جس میں کریب کا فیتہ ٹکا ہوا تھا ، بندرگاہ کو آنے والی بہت تنگ اور ڈھلوان گلیوں میں سے ایک گلی اتر کر نیچے آیا ۔ اس نے بڑی چوکسی کے ساتھ نظر دوڑائی۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کو ہر چیز ناگوار گزری ہے ۔ ایک گوشے میں کچھ آخور دیکھ کر اس کا منہ بگڑ گیا۔ یاد گار کی سیڑھیوں پر پھلوں کے چھلکے پڑے تھے۔ اس نے روا روی میں ان کو اپنی چھڑی سے سرکا دیا ۔ اس نے مکان کا دروازہ دھیرے سے کھٹکھٹایا اور ساتھ ہی ساتھ سیاہ دستانہ چڑھے ہاتھ سے اپنا ہیٹ اتار دیا۔ دروازہ فوراً ہی کھل گیا اور ڈیوڑھی میں سے کوئی پچاس چھوٹے چھوٹے لڑکے دو قطاریں بنائے ہوئے نمودار ہوئے اور اس کو جھک کر آداب بجا لائے۔
جہاز والا زینے سے اتر کر آیا ، اس نے سیاہ شخص کو سلام کیا ۔ اسے پہلی منزل پر لے گیا ۔ بچوں کی بھیڑ ان سے تھوڑا سا فاصلہ رکھے پیچھے پیچھے لگی ہوئی تھی ۔صحن کے چاروں طرف بنے ہوئے روشن اور پر شکوہ بر آمدے میں سے ہوتے ہوئے وہ دونوں عقبی رخ ایک سرد کشا دہ کمرے میں داخل ہوئے جس کی کھڑکی میں سے پتھر کی ایک سیاہی مائل ننگی دیوار کے سوا کوئی عمارت نظر نہیں آرہی تھی۔ ارتھی والوں میں سے ارتھی کے سرہانے بہت سی لمبی لمبی شمعیں لگواکر روشن کرائی جا رہی تھیں ۔ لیکن ان شمعوں نے روشنی نہیں پھیلائی بلکہ ان پر پرچھائیوں کو جو ابھی تک غیر متحرک تھیں ، اس طرح ڈرا دیا کہ وہ دیواروں پر بھاگ کر لرزنے لگیں ۔ ارتھی کو جو کپڑا ڈھانکے ہوئے تھا وہ ہٹا دیا گیا۔
ارتھی پر ایک آدمی بیٹھا تھا جس کے بال بے طرح الجھے ہوئے تھے اور وہ کچھ شکاری سا معلوم ہو تا تھا۔ وہ بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا اور اس کی سانسیں نہیں چل رہی تھیں ۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، تاہم یہ اندازہ اس کی ارتھی اور پوشش وغیرہ ہی سے ہوتاتھا کہ غالباً یہ آدمی مر چکا ہے۔
سیاہ پوش شخص بڑھ کر ارتھی کے پاس آگیا۔ اس نے اس پر پڑے ہوئے آدمی کی پیشانی پر ہاتھ رکھا، پھر دوزانو بیٹھ کر دعا کرنے لگا ۔ جہاز والے نے ارتھی والوں کو کمرے سے نکل جانے کا اشارہ کیا۔ وہ باہر نکل گئے ۔ انھوں نے لڑکوں کو جو باہر بھیڑ لگائے ہوئے تھے، بھگایا اور دروازہ بند کر دیا۔ مگر اس سے بھی سیاہ پوش شخص مطمعن نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اس نے کنکھیوں سے جہاز والے کی طرف دیکھا ، جہاز والا سمجھ گیا اور پہلو کے ایک دروازے سے ہو کر دوسرے کمرے میں غائب ہو گیا۔ اچانک ارتھی پر پڑے ہوئے شخص نے آنکھیں کھول دیں۔اس نے بڑی مشکل سے اپنا چہر ہ سیاہ پوش شخص کی طرف گھمایا اور پوچھا :
تم کون ہو؟
ذرا بھی تعجب کا اظہار کیے بغیر سیاہ پوش شخص بیٹھے سے اٹھ کھڑا ہوگیا اور بولا :
"ریوا کابر گو ماسٹر”
ارتھی پر کے آدمی نے سر کو جنبش دی ، بازو کی ہلکی سی حرکت سے ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا اور برگو ماسٹر کے بیٹھ جانے کے بعد بولا:
"یہ تو مجھے معلوم ہی تھا ، برگو ماسٹر،لیکن ہوش میں آنے کے فوراً بعد چند لمحوں تک مجھے کبھی کچھ یاد نہیں آپاتا ۔ ہر چیز میری آنکھوں کے آگے چکرانے لگتی ہے اور بہر یہی ہوتا ہے کہ جو کچھ مجھ کو معلوم ہو اس کے بارے میں بھی دریافت کر لوں ۔ تم بھی شائد جانتے ہو کہ میں شکاری کریگس ہوں۔”
"یقیناً” برگو ماسٹر نے کہا۔ ” تمہارے آنے کی اطلاع مجھے رات کو دے دی گئی تھی۔ ہم دیر کے سوئے ہوئے تھے کہ آدھی رات کے قریب میری بیوی چلائی : سالواتورا!یہ میرا نام ہے ۔وہ دیکھو کھڑکی پر فاختہ !سچ مچ وہ فاختہ ہی تھی لیکن اتنی بڑی جیسے مرغ ۔ وہ اڑ کر میرے پاس آگئی اور میرے کان میں بولی : مرا ہوا شکاری گریکس کل آرہا ہے ، شہر کے نام پر استقبال کرو۔
شکاری نے سر ہلا دیا اور زبان کی نوک اپنے ہونٹوں پر پھیری ۔
"ہاں! فاختائیں مجھ سے پہلے ہی اڑ کر یہاں چلی آئیں ۔ لیکن برگو ماسٹر، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں ریوا ہی میں رہوں گا ؟”
"یہ تو میں ابھی نہیں کہ سکتا :”برگو ماسٹر نے جواب دیا۔ "کیا تم مرے ہوئے ہو؟”
"ہاں”شکاری بولا،”جیسا کہ تم دیکھ ہی رہے ہو ، برسوں ہوئے ، ہاں یہ صد ہا برس پہلے کی بات ہوگی ، میں کالے جنگل میں ۔۔۔۔یعنی جرمنی میں ۔۔۔۔ سانبھر کا شکار کھیلتے ہوئے ایک کگار پر سے نیچے گر پڑا تھا ۔تب سے میں مرا ہوا ہوں۔”
"لیکن تم زندہ بھی تو ہو۔،”برگو ماسٹر نے کہا ۔
"ایک لحاظ سے” ،”شکاری بولا” ایک لحاظ سے میں زندہ بھی ہوں ۔میرا موت کا جہاز راستہ بھٹک گیا ۔ معلوم نہیں یہ چرخے کی غلط حرکت تھی ، یا ناخدا کی ایک لمحے کی غفلت ، یا خود میری اپنے پیارے دیس کی طرف گھوم پڑنے کی خواہش ، میں کہ نہیں سکتا کیا بات تھی۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ میں دنیا ہی میں پڑا رہ گیا ۔ اور اس وقت سے اب تک میرا جہاز ارضی سمندروں کو کھنگھال چکا ہے۔ تو میں جس کو اپنے کوہساروں کے درمیان رہنے سے بڑھ کر کچھ پسند نہیں تھا ، مرنے کے بعد سے دنیا کی تما م سرزمینوں کا سفر کرتا پھرتا ہوں۔
"اور دوسری دنیا سے تمہیں کوئی واسطہ نہیں ؟” برگو ماسٹر نے بھنوے سکیڑ کر پوچھا ۔
"میں ہمیشہ کے لیے اس دنیا کو جانے والی زبردست سیڑھیوں پر ہوں ،” شکاری نے جواب دیا۔ ” ان بے تحاشا اور کھلی ہوئی سیڑھیوں پر میں گرتا پڑتا چلتا رہتا ہوں۔ کبھی اوپر کی جانب ، کبھی نیچے کی طرف ،کبھی داہنے رخ ، کبھی بائیں سمت ۔ مسلسل گردش میں ہوں۔ شکاری تتلی بن کر رہ گیا ہے۔ مت ہنسو۔”
"میں ہنس نہیں رہا ہوں ،” برگو ماسٹر نے صفائی پیش کی۔
"تمہاری بڑی مہربانی ہے ،”شکاری نے کہا۔”میں مسلسل گردش میں ہوں لیکن جیسے ہی میں زینوں کا پورا سلسلہ چڑھ جاتا ہوں اور دروازہ مجھے اپنے سامنے چمچماتا ہو ا نظر آنے لگتا ہے ، ویسے ہی میں اپنے پرانے جہاز پر جاگ اٹھتا ہوں جو اسی طرح بے بسی کے ساتھ کسی نہ کسی فانی سمندر میں پھنسا ہوتا ہے۔ میں اپنی کوٹھڑی میں پڑا ہوتا ہوں اور میری مدتوں پرانی موت کی بنیادی غلطی مجھ پر ہنستی ہے ۔ ناخدا کی بیوی جولیا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور جس ملک کے سواحل سے ہم اس وقت گزر رہے ہوتے ہیں اس کا صبح کا مشروب مجھے ارتھی میں لا دیتی ہے۔ میں لکڑی کے تختے پر پڑا رہتا ہوں۔میں میلا کچیلا کفن لپیٹے رہتا ہوں۔ کوئی میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ میرے سر اور داڑھی کے کھچڑی بال ایسے الجھ کر رہ گئے ہیں کہ سلجھائے نہیں جا سکتے ۔ میرے بدن کو لمبی جھالر والی چھینٹ کی بڑی سی زنانی چادرڈھانپے رہتی ہے ۔ ایک مقدس شمع میرے سرہانے لگی ہوئی ہے اور مجھ پر روشنی ڈالے رہتی ہے۔میرے سامنے والی دیوار پر چھوٹی سی تصویر ہے، بظاہر کسی قدیم وحشی نسل کے انسان کے، جو مجھ پر اپنا نیزہ تانے اور خود کو ایک خوبصورت رنگی ہوئی ڈھال کے پیچھے جہاں تک چھپ سکتا ہے چھپائے ہوئےہے۔ جہاز کی سواری میں آدمی اکثر پوچ قسم کے تصورات کا شکار ہوجاتا ہے لیکن یہ ان سب میں پوچ ترین ہے ۔ باقی میر ا چوبی قفس بالکل خالی ہے ۔ پہلو کی دیوار کے ایک موکھے سے جنوب کی رات گرم ہوا آیا کرتی ہے اور میں جہاز پر پانی کے تھپیڑ ے پڑنے کی آواز سنتا رہتا ہوں۔
میں یہاں اس وقت سے پڑا ہوا ہوںجب کالے جنگل میں رہنے والے شکاری گریکس کی حیثیت سے میں ایک سانبھر کے پیچھے لگا اور ایک کگار پر سے گرا تھا ۔ سب کچھ بہت بے قاعدے سے ہوا ۔ میں نے تعاقب کیا ، میں گرا ، ایک کھڈ میں میرا خون نکل گیا ، میں مر گیا ، اور چاہیے تھا کہ یہ جہاز مجھے دوسری دنیا میں لے جاتا ۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ پہلی مرتبہ میں کیسی خوشی سے اس تختے پر دراز ہو گیا تھا۔ کوہساروں نے بھی مجھے کبھی مجھ سے ایسے گیت نہیں سنے تھے جیسے اس وقت ان تاریک ان تاریک دیواروں نے سنے ۔
"میں جینے میں بھی خوش رہا تھا اور مرنے میں بھی خوش تھا۔ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے اپنا تمام فضول بوجھ، سارے کارتوس،تھیلا اور اپنی شکاری رائفل جسے میں بڑے فخر سے لے کر چلتا تھا، سب اتار پھینکا تھا ۔ اور میں اپنے کفن میں یوں ملبوس ہوا تھا جیسے کوئی دو شیزہ اپنے عروسی لباس میں ، میں لیٹ گیا اور انتظارکرنے لگا۔ تب وہ سانحہ ہوگیا۔”
"ہولناک مقدر! "برگو ماسٹر نے مدافعانہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر کہا ۔” اور اس میں تمہارے سر کوئی الزام نہیں ؟”
"کوئی نہیں۔” شکاری نے کہا ۔ ” میں ایک شکاری تھا ۔ اس میں کوئی گناہ تھا؟ شکاری کی حیثیت سے کالے جنگل میں، جہاں ابھی تک کالے بھیڑیے موجود تھے، میں اپنے پیشے کے تقاضوں کو پورا کرتا تھا ۔میں گھات میں بیٹھتا تھا ، نشانہ لگاتا تھا ، اپنے شکار کو مار دیتا تھا ، شکار کی کھال اتارتا تھا ، اور اس میں کوئی گناہ تھا؟ میری محنت کی داد ملتی تھی ،کالے جنگل کا عظیم شکاری ،میرا نام پڑ گیا۔اس میں کوئی گناہ تھا۔؟”
"یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے ۔”برگو ماسٹر بولا۔”تاہم میرے نزدیک بھی ایسی باتوں میں کوئی گناہ نہیں ۔ لیکن پھر، آخر خطا کس کی ہے؟”
"جہاز والے کی۔” شکاری نے کہا جوکچھ میں یہاں کہ رہا ہوں کوئی اسے پڑھے گا نہیں ، کوئی میری مدد کو آئے گا نہیں ، حتیٰ کہ اگر تمام خلقت کو میری مدد پر مقرر کردیا جائے تب بھی ہر دروازہ اور ہر کھڑکی بند پڑی رہے ۔ ہر ایک اپنے بستر میں گھس جائے اور سر سے چادر تان لے، ساری دن ایک شب سرائے بن جائے اور بات سمجھ میں آنے والی ہے ۔ اس لیے کہ کسی کو میرا پتہ نہیں ، اور اگر کسی کو میرا پتا ہو بھی تو اسے یہ نہ معلوم ہو گا کہ میں کہاں ملوں گا ، اور اگر اس کو یہ بھی معلوم ہو جائے تو کہ میں کہاں ملوں گا تو اس کی سمجھ میں نہ آئے گا کہ میرا کیا کیا جائے ، اس کی سمجھ میں نہ آئے گا کہ میرا کیا کیا جائے ، اس کی سمجھ میں نہ آئے گا کہ میری مدد کس طرح کرے ۔میری مدد کرنے کا خیال ایک ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے بستر میں گھس رہنا پڑتا ہے ۔
"مجھے یہ معلوم ہے اور اسی لیے میں مدد حاصل کرنے کے لیے پکارتا نہیں ،حالانکہ کبھی کبھی جب مجھے اپنے اوپر قابو نہیں رہتا ، جیسے مثال کے طور پر اسی وقت ۔ میں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگتا ہوں۔لیکن ایسے خیالات کو دور بھگانے کے لیے مجھے بس اپنے چاروں طرف دیکھ لینا اور یہ تحقیق کر لینا ہوتا ہے کہ میں کہاں ہوں، سینکڑوں برس سے کہاں ہوں۔ "
"عجیب و غریب ،” برگو ماسٹر نے کہا ۔” عجیب و غریب ۔ اور اب تم یہاں ریوا میں ہمارے ساتھ رہنے کو سوچ رہے ہو؟ "
"میں نہیں سوچتا،”شکاری مسکرا کر بولا اور اپنی برائت کے لیے اس نے برگو ماسٹر کےگھٹنے پر ہاتھ رکھ دیا ۔”میں یہاں ہوں، اس سے زیادہ میں نہیں جانتا ، اس سےآگے میں بڑھ نہیں سکتا ۔ میرے جہاز میں سکان نہیں ، اور اس کو وہ ہوا ہنکائے پھرتی ہے جو موت کے پاتالوں میں چلتی ہے۔”

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے