Home / ادب نامہ / علی اکبر ناطق / نظمیں علی اکبر ناطق / شہر کا ماتم۔علی اکبر ناطق

شہر کا ماتم۔علی اکبر ناطق

شہر کا ماتم
اس بار چلے گی سرد ہوائیں نیل بھری
سانسوں کا ملبہ بار کرے گا سینوں پر
اور دل کے پیادے رک جائیں گے زینوں پر
یں سنسان گھروں میں رقص کریں گی دوپہر
ویران چھتوں پر رات اکھاڑا ڈالے گی
زہر درودیوار کے ڈھانچے کا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا

admin

Author: admin

Check Also

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق

عصا بیچنے والو۔علی اکبر ناطق عصا بیچنے والو آؤ مرےشہر آؤ کہ لگتی ہے یاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے