Home / کالم / شیرانی، مشرف اور عمران : عبدالغفار شیرانی

شیرانی، مشرف اور عمران : عبدالغفار شیرانی

سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف جب وردی سمیت صدارت کے مسند پر براجمان ہوئے تو اقتدار کا خمار اور طاقت کا نشہ دونوں اُن کے سر پر بری طرح سوار تھے۔ وہ خود کو ملک کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھ رہے تھے۔ ان کے نقطہء نظر سے جو ان کی نظر میں دھندلا تھا وہ اسے ببانگِ دہل سیاہ کہہ رہے تھے اور جو ان کی خاکی وردی کے پہلو میں سفید پوشاک زیبِ تن کئے ہوئے تھے موصوف ان سب کو پاک و پوتر سمجھ رہے تھے۔ جنرل مشرف اُن دنوں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو سے نواز شریف تک سابقہ اور موجودہ تمام سیاسی قائدین کو بری طرح رگید رہے تھے۔مقامی اور بین الاقوامی میڈیا جنرل مشرف کے ان بیانات کو خوب کوریج دے رہا تھا جس سے عالمی سطح پر پاکستانی قوم کا امیج بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔

مولانا محمد خان شیرانی کے بقول انہی ایام میں جنرل پرویز مشرف کی بلوچستان آمد ہوئی۔ بلوچستان میں اُن دنوں جنرل مشرف کی قائم کردہ مسلم لیگ قائد اعظم اور متحدہ مجلسِ عمل کی مخلوط حکومت کا راج تھا. پشتون و بلوچ سماج کے رواج میں میزبان اپنے مہمان کی خاطر مدارت کے لئے مقامی معززین کو بھی شریکِ محفل کرتے ہیں۔ مقامی رواج کے مطابق مولانا شیرانی کو بھی مخلوط صوبائی حکومت میں شامل ہونے کے باعث اتحادی جماعت کی جانب سے جنرل مشرف کی ضیافت والی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی۔ ضیافت کے موقع پر مولانا شیرانی اور جنرل مشرف کی نشست روبرو تھی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے مابین کافی دیر تک تبادلہ خیال ہوا۔

مولانا شیرانی کے بقول اس موقع پر میں نے جنرل مشرف کی توجہ اُن کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی طرف مبذول کرائی۔ باہمی مکالمے میں جنرل مشرف کو یاد دلایا گیا کہ آپ کی ایک پہچان بحیثیتِ ایک فرد پرویز مشرف کی ہے مگر ایک تعارف آپ کا دنیا میں صدرِ پاکستان کی حیثیت سے ہے۔ جس لب و لہجے میں آپ جناب اپنے مخالفین کو مخاطب کرتے ہیں وہ بحیثیت فرد یعنی پرویز مشرف بھی آپ کے لئے نامناسب ہے مگر صدرِ پاکستان کی حیثیت سے تو آپ جناب کا یہ اندازِ تکلم ہم سب کے لئے باعثِ شرم ہے۔ اقوامِ عالم میں آپ کو پوری قوم کے نمائندے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث آپ کا یہ انداز پوری قوم کی طرف منسوب ہوگا لہذا آپ جناب اس قسم کے القابات و خطابات سے گریز فرمائیں تاکہ اقوامِ عالم کو مزید ہماری قوم کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا نہ ہو۔ فوجی تربیت کے حامل جنرل مشرف اگرچہ مکمل طور پر اپنے اندازِ گفتگو کو تبدیل نہیں کرپائے تاہم اس ملاقات کے بعد ان کا اندازِ تکلم کافی حد تک محتاط ہوگیا۔

کل اور پرسوں عمران خان کے غیر محتاط بیانات سے آگاہی کے بعد مجھے برسوں قبل جنرل مشرف اور مولانا شیرانی کی ملاقات والی کہانی یاد آگئی۔ عمران خان کا لب و لہجہ ایک سنجیدہ پارٹی لیڈر کے لئے بالکل نامناسب ہے۔ سرِ راہ وہ ریاستی رہنما کے طور پر جس لہجے میں اپنے سیاسی مخالفین سے مخاطب ہوتے ہیں، یہ سربراہِ ریاست کی سیاسی عدمِ بلوغیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک باشعور سیاسی کارکن ہرگز اس اُسلوبِ گفتار کی حمایت نہیں کرسکتا. سیاسی لحاظ سے عمران خان ممکن ہے مولانا شیرانی سے زیادہ مقبول ہوں مگر سیاسی اقدار کے لئے عمران خان اور مولنا شیرانی کی ایک ملاقات لازمی ہے، ورنہ وفاق کے ”وقار“ کی خاطر وزیر اعظم کو زیر کرنے کے لئے ان کا لہجہ ہی کافی ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے