Home / شخصیات / محمد حنیف رامے کی شخصیت

محمد حنیف رامے کی شخصیت

ان کا پورا خاندان ’’چودھری‘‘ کہلاتا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ’’چودھری ‘‘ نام کے ساتھ نہیں لگایا کہ میں ایک غریب ماں کا بیٹا ہوں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ وہ پنجاب کے سب سے بڑے چودھری ۔ ۔ ۔ وزیر اعلیٰ بنے۔

یہ تھے دانشور، خطاط ، مصور، صحافی محمد حنیف رامے۔
محمد حنیف رامے15 مارچ 1930ء کو فیصل آباد اور ننکانہ کے قریب گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آرائیں کاشتکار برادری سے تعلق رکھنے والے ان کے والد کا نام چودھری غلام حسین تھا۔ دس سال کی عمر میں وہ لاہور آئے اور اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ سے تعلیم حاصل کی۔

حنیف رامے نے1952میں گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ایم اے کیا جہاں وہ کا لج کے مجلے ’’راوی‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ کچھہ عرصہ لارنس کالج گھوڑا گلی میں استاد رہے۔ بعد میں اپنے بڑے بھائی چودھری نذیر کے معروف اشاعتی ادارہ مکتبہ جدید سے بطور مدیر وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے معروف ادبی رسالہ سویرا کی ادارت بھی کی۔ حنیف رامے نے ’’سویرا‘‘ سے الگ ہوکر اپنا رسالہ ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ جاری کیا ، اپنا اشاعتی ادارہ بھی ’’البیان‘‘کے نام سے بنایا۔

وہ 1965میں مرکزی اردو بورڈ سے وابستہ ہوئے اور اس کے ڈائریکٹر رہے۔ کچھہ عرصہ ایوب خان کی کنوینشن مسلم لیگ سے وابستہ رہنے کے بعد وہ دسمبر1967 میں پیپلز پارٹی کی اصولی کمیٹی کے رکن بنے۔ انہوں نے 1970 میں روزنامہ ’’مساوات ‘‘ جاری کیا جو پیپلز پارٹی کا ترجمان اخبار تھا۔ اسلامی سوشلزم کی اصطلاح کو فروغ دینے والوں میں حنیف رامے پیش پیش تھے جو پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول تھا۔

1972 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہد میں وہ پہلے پنجاب حکومت میں مشیر خزانہ بنے اور بعد میں مارچ 1974 میں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ چار جولائی 1974 کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ حنیف رامے چار جولائی 1975 کو سنیٹر منتخب ہوئے لیکن چند ماہ بعد پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر پارٹی سے الگ ہوگئے اور پیر پگاڑا کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے جہاں انہیں چیف آرگنائزر بنایا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اخباروں میں زوردار مضامین لکھے جن میں ایک پمفلٹ ’’بھٹو جی پھٹو جی‘‘ بہت مشہور ہوا۔ ان پرڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا جس پر انہیں دلائی کیمپ میں رکھا گیا اور ایک خصوصی عدالت نے انہیں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنادی۔ جنرل ضیا الحق کا مارشل لگتے ہی جولائی 1977 میں لاہور ہائی کورٹ نے حنیف رامے کو فورا رہا کرنے کا حکم دیا اور وہ امریکہ چلے گئے۔ وہاں پٹرول پمپ چلاتے رہے۔ برکلے یونیورسٹی میں استاد کے طور پر کام کیا۔

حنیف رامے چھ سال امریکہ میں گزارنے کے بعد وطن واپس آئے تو انہوں نے مساوات پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نعرہ تھا’’ رب ، روٹی، لوک راج‘‘ اس کا پنجابی نعرہ تھا ۔ ’’کُلی، گُلی، جُلی ‘‘ تاہم یہ پارٹی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرسکی۔ انہوں نے 1986میں اِسے غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں بننے والی نئی پارٹی نیشنل پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔
حنیف رامے بارہ سال بعد ایک بار پھر 1988 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور 1993 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے ۔ رامے صاحب نے ایک مشہور کتاب ’’ پنجاب کا مقدمہ ‘‘ بھی لکھی۔ان کی دوسری کتابوں میں اسلام کی روحانی قدریں، موت نہیں زندگی ، باز آؤ اور زندہ رہو (اداریوں کا مجموعہ) ، دُبِ اکبر اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں ۔ عمر کے آخر حصے میں انہوں نے قومی اخبارات میں چند مضامین لکھے جن میں عالم اسلام کو جدید دنیا میں اسلام کی ترقی پسندانہ تعبیر اور جدید تعلیم پر زور دینے کا راستہ تجویز کیا۔ رامے صاحب آخر عمر میں جناب واصف علی واصف سے متاتر تھے۔ جی او آر میں پروفیسر عائشہ اختر کے گھر واصف صاحب کا لیکچر ہوتا تھا، منو بھائی مجھے اور مسرت کو ساتھہ لے گئے تھے، وہیں رامے صاحب سے ملوایا ۔ اصل میں ان سے ایک سفارش کرانے کی ضرورت تھی۔

حنیف رامے کی پہلی بیوی شاہین رامے انتقال کرگئیں تھیں۔ انہوں نے جائس سکینہ نامی ایک امریکی خاتون سے دوسری شادی کی ۔۔یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور ڈیفنس قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
ان کی بیٹی مریم رامے مشہور گلوکارہ رہیں۔ ان کےبیٹے ابراہیم رامے نے دس گیارہ سال کی عمر میں بچوں کا ناول لکھا تھا۔ اب دواؤں کا کاروبار کرتے ہیں ۔حال ہی میں والد کی طرح مصورانہ خطاطی بھی شروع کی ہے۔ ابراہیم کے کاروبار سے یاد آیا حنیف رامے صاحب نے بھی ایک وقت جوتوں کی فیکٹری لگائی تھی۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے