Home / خبریں / مشرف2 مئی کو پیش نہ ہوئے تو تمام حقوق کھودیں گے

مشرف2 مئی کو پیش نہ ہوئے تو تمام حقوق کھودیں گے

پاکستان کے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف دو مئی کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے ہے تو وہ بطور ملزم اپنے تمام حقوق کھو دینگے۔
پیر کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے مشرف سنگین غداری کے ٹرائل کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے بعد عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ اگر مشرف 2 مئی کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے ہے تو وہ بطور ملزم اپنے تمام حقوق کھو دینگے۔ ایسی صورت میں ٹرائل کورٹ کو ان کا دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
عدلت نے حکم دیا کہ خصوصی عدالت استعاثہ کے دلائل سننے کے بعد میرٹ پر اپنا حتمی فیصلہ دے دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر مشرف 2 مئی کو عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو انہیں بطور ملزم قانون میں موجود تمام حقوق حاصل ہونگے۔
پیر کے روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت عظمیٰ کے بینچ کو بتایا کہ مشرف کے ٹرائل کے لیے قائم خصوصی عدالت نے 2016 میں قرار دے چکی ہے کہ ملزم کی غیر موجودگی میں سنگین غداری کیس میں ٹرئل نہیں ہو سکتی۔
اس پر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آبزرویشن دی کہ ”کیا ملزم کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ٹرائل کوخود ہی کنٹرل کریں؟
چیف جسٹس نے کہا ”کہ ابھی ملزم عدالت میں حاضر نہ ہوں اور فیصلے کے بعد آکر کہیں کہ ٹرائل غیر موجودگی میں ہوا اس لیے قانونی نہیں۔”
عدالت نے آبزوریشن دی کہ ٹرائل کورٹ نے یہ آرڈر دیکر کہ ‘جب تک ملزم نہیں آتا ٹرائل آگے نہیں بڑھ سکتا’ خود کو یرغمال بنا لیا ہے۔
درخواست گزار توفیق آصف نے کہا کہ مشرف ٹی وی انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ سارے لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد اب باہر نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ ” ان خالات میں ہم سوچ میں پڑے ہوئے ہیں، جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہیں وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت کے آرڈر کو چیلنچ نہیں کیا، ملزم کو باہر جانے دیا اور مقدمے کو بند گلی میں لے گیا۔”
اس کے بعد تین رکنی بینچ جو کہ چیف جسٹس، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب پر مشتمل تھا، نصف گھنٹے کی مشاورت لیے چیمبر میں چلا گیا۔ مشاورت کے جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے مذکورہ حکمنامہ لکھوایا۔
خیال رہے پچھلی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ اس کیس میں اب مزید التوا نہیں ہوگا اور جو فیصلہ بھی ہوگا سنا دیا جائے گا۔
درخواست گزاروکیل توفیق آصف کے دلائل کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہم یہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ کوئی بھی احتساب سے نہیں بچ سکے

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے