Home / ادب نامہ / شاعری / علی اکبر ناطق کی شاعری / مضافِ دریا.علی اکبر ناطق

مضافِ دریا.علی اکبر ناطق

مضافِ  دریا

مضافِ دریا  کے رہنے والو  تمہیں ہمارا سلام پہنچے

مضافِ دریا کے رہنے والو تمہارے قریوں میں زندگی ہے

تمہاری مٹی کی سبز لہریں ، تمہارے پھولوں کے رنگ گہرے

لطیف کھیتوں کے آئینوں سے نگاہیں ٹھنڈی

گھنے درختوں  کی چوٹیوں پر نزولِ آیت ، وحی کے سامان

تھرکتی شاخوں پہ نور رقصاں

کھڑکتے پتوں میں گیت لرزاں

شبوں کے پہلو میں جگنوؤں کے ہیں زرد ہیرے

سحر کے دامن میں شبنموں کے سفید موتی

مضافِ دریا کے رہنے والو تمہاری گائے کے دودھ میٹھے

تمہاری ہرنوں کی نرم کھالیں، تمہاری بھیڑوں کی گرم اونیں

مضافِ دریا کے رہنے والو مضاف ِ دریا بہشتِ روشن

یہیں پرندوں کی اونچی ڈاریں خدا کی جھیلوں میں تیرتی ہیں

کنول کے چوڑے سفید گاگر ہیں ، تھال چاندی کے پانیوں میں

یہیں پہ کھیتوں میں ہل چلاتی  لحیم بیلوں کی جوڑیاں ہیں

گھروں کولوٹے تھکے کسانوں کی گرد پانی  اتارتا ہے

مضافِ دریا کے رہنے والو ، تمہارے دن کا شباب محنت

تمہاری شامیں  سکون پرور، تمہاری راتیں ہیں خواب آور

مضافِ دریا کے رہنے والو ، تمہیں ہمارا سلام پہنچے

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے