Home / خبریں / انٹر نیشنل / معاشی بحران سےنمٹنے کے لیے‌ حماس کا ڈیجیٹل کرنسی کا سہارا

معاشی بحران سےنمٹنے کے لیے‌ حماس کا ڈیجیٹل کرنسی کا سہارا

فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے معاشی اور مالی کمی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کیا ہے۔ یہ نیا راستہ ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم ‘حماس’ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے رواں سال جنوری میں “بٹ کوائن” ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کاروں کی مدد کی اپیل کی تھی۔ ایک رپورٹ‌ کے مطابق القسام اب تک مجموعی طور پر 7600 ڈالر کی رقم جمع کر سکی ہے جب کہ 26 مارچ سے 16 اپریل کے دوران 0.6 ڈیجیٹل کرنسی جمع کیے گئے۔ امریکی ڈالر میں اس کی مالیت 3300 ڈالر ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حماس کی جانب سے فنڈ ریزنگ کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کا سہارا کوئی زیادہ کار گر ثابت نہیں ہوا۔ مذکورہ آمدن کے اعداد و شمار ڈیجیٹیل کرنسیوں کے لین دین پر نظر رکھنے والی کمپنی ‘الیبیٹک’ کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔ حماس کے ترجمان نے الیبیٹک کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بٹ کوائن کے حوالے سے جھوٹی سچی خبریں اور معلومات انٹرنیٹ پر عام ہیں جن کی وجہ سے عام انٹرنیٹ صارفین یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اصل میں بٹ کوائنز ہیں کیا اور یہ کہاں سے آتے ہیں؟ چونکہ دھوکے بازی انٹرنیٹ پر عام ہے، اس لئے پہلی بار جب بٹ کوائن کے حوالے سے پڑھا جاتا ہے تو یہ بظاہر ایک دھوکہ ہی محسوس ہوتا ہے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے چند ماہ پیشترعالمی برادری سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں فلسطینی تحریک مزاحمت کی مدد کی اپیل کی تھی۔
کیا یہ ذریعہ کامیاب ہوگا؟

ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کاروں کی معاونت کی کامیابی کس حد تک یقینی ہے؟ یہی سوال فلسطینی اقتصادی ماہرین اور ڈیجیٹل کرنسیوں میں ٹریڈنگ کرنے والے ماہرین کے سامنے رکھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آیا ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے ہونے والے کاروبار یا مالی معاونت سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی مدد ممکن ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوین اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کاروں کی مدد کرنے والوں کے خلاف تعاقب کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے تاہم اس کی ٹریڈنگ کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کاروں کی مدد ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل کرنسیاں لامرکزیت کی حامل ہیں اور ان کا کوئی خاص ٹھکانہ نہیں۔ کوئی بنک یا کوئی کاروباری ادارہ ان کا مالک یا محافظ نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ابو جیاب نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسیوں کا کاروبار روز مرہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے۔ اس وقت اس کی سالانہ تجارت 61 ارب ڈالر جب کہ یومیہ چھ ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امداد دینے والے چاہیں تو وہ غزہ کے محصورین کے لیے بٹ کوائن اور دیگر کرنسیوں کی مدد سے تعاون کر سکتے ہیں‌۔ اس وقت ایک بٹ کوائن سکے کی مالیت 3460 ڈالر ہے۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے