Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / منظور ۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

منظور ۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

جب اسے ہسپتال میں داخل کیا گیا تو اس کی حلات بہت خراب تھی۔ پہلی رات اسے آکسیجن پر رکھا گیا۔ جو نرس ڈیوٹی پر تھی، اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مریض صبح سے پہلے پہلے مر جائے گا۔ اس کی نبض کی رفتار غیریقینی تھی۔ کبھی زور زور سے پھڑپھڑاتی اور کبھی لمبے لمبے وقفوں کے بعد چلتی تھی۔ پسینے میں اس کا بدن شرابور تھا، ایک لحظے کے لیے بھی اسے چین نہیں ملتاتھا۔ کبھی اس کروٹ لیٹتا، کبھی اس کروٹ۔ جب گھبراہٹ بہت زیادہ بڑھ جاتی تو اٹھ کر بیٹھ جاتا اور لمبے لمبے سانس لینے لگتا۔ رنگ اس کا ہلدی کی گانٹھ کی طرح زرد تھا۔ آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں۔ ناک کا بانسا برف کی ڈلی۔ سارے بدن پررعشہ تھا۔ ساری رات اس نے بڑے شدید کرب میں کاٹی۔ آکسیجن برابر دی جارہی تھی، صبح ہوئی تو اسے کسی قدر افاقہ ہوا اور وہ نڈھال ہو کر سو گیا۔ اس کے دو تین عزیز آئے۔ کچھ دیر بیٹھے رہے اور چلے گئے۔ ڈاکٹروں نے انھیں بتا دیا تھا کہ مریض کو دل کا عارضہ ہے جسے
’’کورونری تھرمبوس‘‘
کہتے ہیں۔ یہ بہت مہلک ہوتا ہے۔ جب وہ اٹھا تو اسے ٹیکے لگا دیے گئے۔ اس کے بدل میں بدستور میٹھا میٹھا درد ہورہا تھا۔ شانوں کے پٹھے اکڑے ہوئے تھے جیسے رات بھر انھیں کوئی کوٹتارہا تھا۔ جسم کی بوٹی بوٹی دکھ رہی تھی مگر نقاہت کے باعث وہ بہت زیادہ تکلیف محسوس نہیں کررہا تھا۔ ویسے اس کو یقین تھا کہ اس کی موت دور نہیں، آج تو نہیں کل ضرور مر جائے گا۔ اس کی عمربتیس کے قریب تھی۔ ان برسوں میں اس نے کوئی راحت نہیں دیکھی تھی جو اس وقت اسے یاد آتی اور اس کی صعوبت میں اضافہ کرتی۔ اس کے ماں باپ اس کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے تھے۔ معلوم نہیں اس کی پرورش کس خاص شخص نے کی تھی۔ بس وہ ایسے ہی ادھر ادھر کی ٹھوکریں کھاتا اس عمر تک پہنچ گیا اور ایک کارخانے میں ملازم ہو کر پچیس روپے ماہوار پر انتہا درجے کی افلاس زدہ زندگی گزار رہا تھا۔ دل میں ٹیسیں نہ اٹھتیں تو وہ اپنی تندرتی اور بیماری میں کوئی نمایاں فرق محسوس نہ کرتا۔ کیونکہ صحت اس کی کبھی بھی اچھی نہیں تھی۔ کوئی نہ کوئی عارضہ اسے ضرور لاحق رہتا تھا۔ شام تک اسے چار ٹیکے لگ چکے تھے۔ آکسیجن ہٹا لی گئی تھی۔ دل کا درد کسی قدر کم تھا، اس لیے وہ ہوش میں تھا اور اپنے گردوپیش کا جائزہ لے سکتا تھا۔ وہ بہت بڑے وارڈ میں تھا جس میں اس کی طرح اور کئی مریض لوہے کی چارپائیوں پر لیٹے تھے۔ نرسیں اپنے کام میں مشغول تھیں۔ اس کے داہنے ہاتھ نو دس برس کا لڑکا کمبل میں لپٹا ہوا اس کی طرف دیکھ رہا تھا، اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔
’’السلام علیکم۔ ‘‘
لڑکے نے بڑے پیار سے کہا۔ نئے مریض نے اس کے پیار بھرے لہجے سے متاثر ہو کر جواب دیا۔
’’وعلیکم السلام۔ ‘‘
لڑکے نے کمبل میں کروٹ بدلی۔
’’بھائی جان! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
نئے مریض نے اختصار سے کہا۔
’’اللہ کا شکر ہے۔ ‘‘
لڑکے کا چہرہ اور زیادہ تمتما اٹھا۔
’’آپ بہت جلدی ٹھیک ہو جائیں گے۔ آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام!‘‘
نئے مریض نے مسکرا کر لڑکے کی طرف برادرانہ شفقت سے دیکھا۔
’’میرا نام اختر ہے۔ ‘‘
’’میرا نام منظور ہے۔ ‘‘
یہ کہہ کر اس نے ایک دم کروٹ بدلی اور اس نرس کو پکارا جو ادھر سے گزر رہی تھی۔
’’آپ۔ آپا جان۔ ‘‘
نرس رک گئی۔ منظور نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سلام کیا۔ نرس قریب آئی اور اسے پیار کرکے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد اسسٹنٹ ہاؤس سرجن آیا۔ منظور نے اس کو بھی سلام کیا۔
’’ڈاکٹر جی، السلام علیکم۔ ‘‘
ڈاکٹر سلام کا جواب دے کر اس کے پاس بیٹھ گیا اور دیر تک اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس سے باتیں کرتا رہا جو ہسپتال کے بارے میں تھیں۔ منظور کو اپنے وارڈ کے ہر مریض سے دلچسپی تھی۔ اس کو معلوم تھا کس کی حالت اچھی ہے اور کس کی حالت خراب ہے۔ کون آیا ہے، کون گیا ہے۔ سب نرسیں اس کی بہنیں تھی اور سب ڈاکٹر اس کے دوست۔ مریضوں میں کوئی چچا تھا، کوئی ماموں اور کوئی بھائی۔ سب اس سے پیار کرتے تھے۔ اس کی شکل و صورت معمولی تھی۔ مگر اس میں غیر معمولی کشش تھی۔ ہر وقت اس کے چہرے پر تمتماہٹ کھیلتی رہتی جو اس کی معصومیت پر ہالے کا کام دیتی تھی۔ وہ ہر وقت خوش رہتا تھا۔ بہت زیادہ باتونی تھا، مگر اختر کو حالانکہ وہ دل کا مریض تھا اور اس مرض کے باعث بہت چڑچڑا ہو گیا تھا، اس کی یہ عادت کھلتی نہیں تھی۔ چونکہ اس کا بستر اختر کے بستر کے پاس تھا اس لیے وہ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد اس سے گفتگو شروع کردیتا تھا جو چھوٹے چھوٹے معصوم جملوں پر مشتمل ہوتی تھی:
’’بھائی جان! آپ کے بھائی بہن ہیں؟‘‘
’’میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا لڑکا ہوں۔ ‘‘
’’آپ کے دل میں اب درد تو نہیں ہوتا ہے۔ ‘‘
’’مجھے معلوم نہیں دل کا درد کیسا ہوتا ہے۔ ‘‘
’’آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ دودھ زیادہ پیا کریں!‘‘
’’میں بڑے ڈاکٹر جی سے کہوں، وہ آپ کو مکھن بھی دیا کریں گے۔ ‘‘
بڑا ڈاکٹر بھی اس سے بہت پیار کرتا تھا۔ صبح جب راؤنڈ پر آتا تو کرسی منگا کر اس کے پاس تھوڑی دیر تک ضرور بیٹھتا اور اس کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہتا۔ اس کا باپ درزی تھا۔ دوپہر کو پندرہ بیس منٹ کے لیے آتا۔ سخت افراتفری کے عالم میں اس کے لیے پھل وغیرہ لاتا اور جلدی جلدی اسے کھلا کر اور اس کے سر پر محبت کا ہاتھ پھیر کر چلا جاتا۔ شام کو اس کی ماں آتی اور برقع اوڑھے دیر تک اس کے پاس بیٹھی رہتی۔ اختر نے اسی وقت اس سے دلی رشتہ قائم کرلیا تھا، جب اس نے اس کو سلام کیا تھا۔ اس سے باتیں کرنے کے بعد یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔ دوسرے دن رات کی خاموشی میں جب اسے سوچنے کا موقع ملا تو اس نے محسوس کیا۔ اس کو جو افاقہ ہوا ہے، منظور ہی کا معجزہ ہے۔ ڈاکٹر جواب دے چکے تھے۔ وہ صرف چند گھڑیوں کا مہمان تھا۔ منظور نے اس کو بتایا تھا کہ جب اسے بستر پرلٹایا گیا تھا تو اس کی نبض قریب قریب غائب تھی۔ اس نے دل ہی دل میں کئی مرتبہ دعا مانگی تھی کہ خدا اس پر رحم کرے۔ یہ اس کی دعا ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ مرتے مرتے بچ گیا۔ لیکن اسے یقین تھا کہ وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ اس کا مرض بہت مہلک تھا۔ بہر حال اب اس کے دل میں اتنی خواہش ضرور پیدا ہو گئی تھی کہ وہ کچھ دن زندہ رہے تاکہ منظورسے اس کا رشتہ فوراً نہ ٹوٹ جائے۔ دو تین روز گزر گئے۔ منظور حسب معمول سارا دن چہکتا رہتا تھا۔ کبھی نرسوں سے باتیں کرتا، کبھی ڈاکٹروں سے، کبھی جمعداروں سے۔ یہ بھی اس کے دوست تھے۔ اختر کو تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ وارڈ کی بدبو دار فضا کا ہر ذرہ اس کا دوست تھے۔ وہ جس شے کی طرف دیکھتا تھا، فوراً اس کی دوست بن جاتی تھی۔ دو تین روز گزرنے کے بعد جب اخترکو معلوم ہوا کہ منظور کا نچلا دھڑ مفلوج ہے تو اسے سخت صدمہ پہنچا۔ لیکن اس کو حیرت بھی ہوئی کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود وہ خوش کیونکر رہتا ہے۔ باتیں جب اس کے منہ سے بلبلوں کے مانند نکلتی تھیں تو انھیں سن کر کون کہہ سکتا تھا کہ اس کا نچلا دھڑ گوشت پوست کا بے جان لوتھڑا ہے۔ اختر نے اس سے اس کے فالج کے متعلق کوئی بات نہ کی۔ اس لیے کہ اس سے ایسی بات کے متعلق پوچھنا بہت بڑی حماقت ہوتی، جس سے وہ قطعاً بے خبر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اسے کسی ذریعے سے معلوم ہو گیا کہ منظور ایک دن جب کھیل کود کر واپس آیا تو اس نے ٹھنڈے پانی سے نہا لیا جس کے باعث ایک دم اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا۔ ماں باپ کا اکلوتا لڑکا تھا، انھیں بہت دکھ ہوا۔ شروع شروع میں حکیموں کا علاج کرایا مگرکوئی فائدہ نہ ہوا۔ پھر ٹونے ٹوٹکوں کا سہارا لیا مگر بے سود۔ آخر کسی کے کہنے پر انھوں نے اسے ہسپتال میں داخل کرا دیا تاکہ باقاعدگی سے اس کا علاج ہوتا رہے۔ ڈاکٹر مایوس تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ اس کے جسم کا مفلوج حصہ کبھی درست نہ ہو گا مگر پھر بھی اس کے والدین کا جی رکھنے کے لیے وہ اس کا علاج کررہے تھے۔ انھیں حیرت تھی کہ وہ اتنی دیر زندہ کیسے رہا ہے۔ اس لیے کہ اس پر فالج کا حملہ بہت شدید تھا، جس نے اس کے جسم کا نچلا حصہ بالکل ناکارہ کرنے کے سوا اس کے بدن کے بہت سے نازک اعضا جھنجھوڑ کر رکھ دیے تھے۔ وہ اس پر ترس کھاتے تھے اور اس سے پیار کرتے تھے، اس لیے کہ اس نے سدا خوش رہنے کا گر اپنی اس شدید علالت سے سیکھا تھا۔ اس کے معصوم دماغ نے یہ طریقہ خود ایجاد کیا تھا کہ اس کا دکھ دب جائے۔ اختر پرپھر ایک دورہ پڑا۔ یہ پہلے دورے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک تھا مگر اس نے صبر اور تحمل سے کام لیا اور منظور کی مثال سامنے رکھ کر اپنے دکھ درد سے غافل رہنے کی کوشش کی جس میں اسے کامیابی ہوئی، ڈاکٹروں کو اس مرتبہ تو سو فی صدی یقین تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں بچا سکتی، مگر معجزہ رونما ہوا اور رات کی ڈیوٹی پر متعین نرس نے صبح سویرے اسے دوسری نرسوں کے سپرد کیا تو اس کی گرتی ہوئی نبض سنبھل چکی تھی۔ وہ زندہ تھا۔ موت سے کشتی لڑتے لڑتے نڈھال ہو کر جب وہ سونے لگا تو اس نے نیم مندی ہوئی آنکھوں سے منظور کی دیکھا جو محو خواب تھا۔ اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ اختر نے اپنے کمزور اور نحیف دل میں اس کی پیشانی کو چوما اور سو گیا۔ جب اٹھا تومنظور چہک رہا تھا۔ اسی کے متعلق ایک نرس سے کہہ رہا تھا۔
’’آپا، اختر بھائی جان کو جگاؤ۔ دوا کا وقت ہو گیا ہے۔ ‘‘
’’سونے دو۔ اسے آرام کی ضرورت ہے۔ ‘‘
’’نہیں۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔ آپ انھیں دوا دیجیے۔ ‘‘
’’اچھا دے دوں گی۔ ‘‘
منظور نے جب اختر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ بہت خوش ہو کربآواز بلند کہا۔
’’السلام علیکم!‘‘
اختر نے نقاہت بھرے لہجے میں جواب دیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘
’’بھائی جان! آپ بہت سوئے۔ ‘‘
’’ہاں۔ شاید۔ ‘‘
’’نرس آپ کے لیے دوا لارہی ہے۔ ‘‘
اختر نے محسوس کیا کہ منظور کی باتیں اس کے نحیف دل کو تقویت پہنچا رہی ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ خود اسی کی طرح چہکنے چہکارنے لگا۔ اس نے منظور سے پوچھا۔
’’اس مرتبہ بھی تم نے میرے لیے دعا مانگی تھی؟‘‘
منظور نے جواب دیا۔
’’نہیں۔ ‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’میں روز روز دعائیں نہیں مانگا کرتا۔ ایک دفعہ مانگ لی، کافی تھی۔ مجھے معلوم تھا آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ ‘‘
اس کے لہجے میں یقین تھا۔ اختر نے اسے ذرا سا چھیڑنے کے لیے کہا۔
’’تم دوسروں سے کہتے رہتے ہو کہ ٹھیک ہو جاؤ گے، خودکیوں نہیں ٹھیک ہو کر گھر چلے جاتے۔ ‘‘
منظور نے تھوڑی دیر سوچا۔
’’میں بھی ٹھیک ہو جاؤں گا۔ بڑے ڈاکٹر جی کہتے تھے کہ تم ایک مہینے تک چلنے پھرنے لگو گے۔ دیکھیے نا اب میں نیچے اور اوپر کھسک سکتا ہوں۔ ‘‘
اس نے کمبل میں اوپر نیچے کھسکنے کی ناکام کوشش کی۔ اختر نے فوراً کہا۔
’’واہ منظور میاں واہ۔ ایک مہینہ کیا ہے۔ یوں گزر جائے گا۔ ‘‘
منظور نے چٹکی بجائی اور خوش ہو کر ہنسنے لگا۔ ایک مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ اس دوران میں ا خترپر دل کے دو تین دورے پڑے جو زیادہ شدید نہیں تھے۔ اب اس کی حالت بہتر تھی، نقاہت دور ہورہی تھی۔ اعصاب میں پہلا سا تناؤ بھی نہیں تھا۔ دل کی رفتار ٹھیک تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے۔ لیکن ان کا تعجب بدستور قائم تھا کہ وہ بچ کیسے گیا۔ اختر دل ہی دل میں ہنستا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے بچانے والا کون ہے۔ وہ کوئی انجکشن نہیں تھا۔ کوئی دوائی ایسی نہیں تھی۔ وہ منظور تھا۔ مفلوج منظور، جس کا نچلا دھڑ بالکل ناکارہ ہو چکا تھا، جسے یہ خوش فہمی تھی کہ اسے کے گوشت پوست کے بے جان لوتھڑے میں زندگی کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔ اختر اور منظور کی دوستی بہت بڑھ گئی تھی۔ منظور کی ذات اس کی نظروں میں مسیحا کا رتبہ رکھتی تھی کہ اس نے اس کو دوبارہ زندگی عطا کی تھی اور اس کے دل و دماغ سے وہ تمام کالے بادل ہٹا دیے تھے جن کے سائے میں وہ اتنی دیر تک گھٹی گھٹی زندگی بسرکرتا رہا تھا۔ اس کی قنوطیت رجائیت میں تبدیل ہو گئی تھی، اسے زندہ رہنے سے دلچسپی ہو گئی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ بالکل ٹھیک ہو کر ہسپتال سے نکلے اور ایک نئی صحت مند زندگی بسر کرنی شروع کردے۔ اسے بڑی الجھن ہوتی تھی جب وہ دیکھتا تھا کہ منظور ویسے کا ویسا ہے۔ اس کے جسم کے مفلوج حصے پر ہر روز مالش ہوتی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا تھا، اس کی خوش رہنے والی طبیعت شگفتہ شگفتہ تر ہورہی تھی۔ یہ بات حیرت اور الجھن کا باعث تھی۔ ایک دن بڑے ڈاکٹر نے منظور کے باپ سے کہا کہ اب وہ اسے گھر لے جائے کیوں کہ اس کا علاج نہیں ہوسکتا۔ منظور کو صرف اتنا پتہ چلا کہ اب اس کا علاج ہسپتال کے بجائے گھر پر ہو گا اور بہت ٹھیک ہو جائے گا، مگر اسے سخت صدمہ پہنچا۔ وہ گھر جانا نہیں چاہتا تھا۔ اختر نے جب اس سے پوچھا کہ وہ ہسپتال میں کیوں رہنا چاہتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’وہاں اکیلا رہوں گا۔ ابا دکان پر جاتا ہے، ماں ہمسائی کے ہاں جا کر کپڑے سیتی ہے، میں وہاں کس سے کھیلا کروں گا، کس سے باتیں کروں گا۔ ‘‘
اختر نے بڑے پیار سے کہا۔
’’تم اچھے جو ہو جاؤ گے منظور میاں۔ چند دن کی بات ہے پھر تم باہر اپنے دوستوں سے کھیلا کرنا۔ اسکول جایا کرنا۔ ‘‘
‘‘
نہیں نہیں۔ ‘‘
منظور نے کمبل سے اپنا سدا تمتمانے والا چہرہ ڈھانپ کر رونا شروع کردیا۔ اختر کو بہت دکھ ہوا۔ دیر تک وہ اسے چمکارتا پچکارتا رہا۔ آخر اس کی آواز گلے میں رندھ گئی اور اس نے کروٹ بدل لی۔ شام کو ہاؤس سرجن نے اختر کو بتایا کہ بڑے ڈاکٹر نے اس کی ریلیز کا آرڈر دے دیا ہے۔ وہ صبح جا سکتا ہے۔ منظور نے سنا تو بہت خوش ہوا۔ اس نے اتنی باتیں کیں، اتنی باتیں کیں کہ تھک گیا۔ ہر نرس کو، ہر اسٹوڈنٹ کو، ہر جمعدارکو اس نے بتایا کہ بھائی جان اختر جارہے ہیں۔ رات کو بھی وہ اختر سے دیر تک خوشی سے بھرپور ننھی ننھی معصوم باتیں کرتا رہا۔ آخر سو گیا۔ اختر جاگتا رہا اور سوچتا رہا کہ منظور کب تک ٹھیک ہو گا۔ کیا دنیا میں کوئی ایسی دوا موجود نہیں جو اس پیارے بچے کو تندرست کردے۔ اس نے اس کی صحت کے لیے صدق دل سے دعائیں مانگیں مگر اسے یقین تھا کہ یہ قبول نہیں ہوں گی، اس لیے کہ اس کا دل منظور کا سا پاک دل کیسے ہو سکتا تھا۔ منظور اور اسکی جدائی کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے بہت دکھ ہوتا تھا۔ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ صبح اس کو وہ چھوڑ کر چلا جائے گا اور اپنی نئی زندگی تعمیر کرنے میں مصروف ہو کر اسے اپنے دل و دماغ سے محو کردے گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ منظور کی
’’السلام علیکم‘‘
سننے سے پہلے ہی مر جاتا۔ یہ نئی زندگی جو اس کی عطا کردہ تھی، وہ کس منہ سے اٹھا کر ہسپتال سے باہر لے جائے گا۔ سوچتے سوچتے اختر سو گیا۔ صبح دیر سے اٹھا۔ نرسیں وارڈ میں ادھر ادھر تیزی سے چل پھر رہی تھیں۔ کروٹ بدل کر اس نے منظور کی چارپائی کی طرف دیکھا۔ اس پر اس کی بجائے ایک بوڑھا، ہڈیوں کا ڈھانچہ، لیٹا ہوا تھا۔ ایک لحظے کے لیے اختر پر سناٹا سا طاری ہو گیا۔ ایک نرس پاس سے گزر رہی تھی، اس سے اس نے قریب قریب چلا کر پوچھا۔
’’منظور کہاں ہے۔ ‘‘
نرس رکی۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے بڑے افسوسناک لہجے میں جواب دیا۔
’’بیچارہ! صبح ساڑھے پانچ بجے مر گیا۔ ‘‘
یہ سن کر اختر کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ اس کا دل بیٹھنے لگا۔ اس نے سمجھا کہ یہ آخری دورہ ہے۔ مگر اس کا خیال غلط ثابت ہوا۔ وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی اسے ہسپتال سے رخصت ہونا پڑا۔ کیونکہ اس کی جگہ لینے والا مریض داخل کرلیا گیا تھا۔

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے