Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / موچنا ۔ افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

موچنا ۔ افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

نام اس کا مایا تھا۔ ناٹے قد کی عورت تھی۔ چہرہ بالوں سے بھرا ہوا، بالائی لب پر تو بال ایسے تھے، جیسے آپ کی اور میری مونچھوں کے۔ ماتھا بہت تنگ تھا، وہ بھی بالوں سے بھرا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو موچنے کی ضرورت اکثر پیش آتی تھی۔ وہ راولپنڈی کے ایک معمولی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ جس سے قطع تعلق کیے اسے ایک زمانہ گزر چکا تھا۔ صرف اتنا معلوم ہے، کہ وہیں اس کی شادی ہوئی۔ جب اس کی عمر سولہ برس کے قریب تھی۔ دو برس ہونے کو آئے تو اس کے خاوند کو شک گزرا کہ مایا کا چال چلن خراب ہے۔ محلے میں وہ ایک نہیں، تین آدمیوں سے بیک وقت عشق لڑا رہی ہے۔ اس تگڈے عشق کے دوران میں مایا کو احساس ہوا کہ اس کا ماتھا تنگ ہے۔ اس کے بالائی لب اور ٹھوڑی پر بال ہیں جو بڑے بد نما معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس نے ایک موچنا خرید لیا اور ان غیر ضروری بدنما بالوں کا صفایا کردیا۔ لیکن وہ ایک مصیبت میں گرفتار ہو گئی۔ اس کا خیال تھا کہ ایک دفعہ بال نوچنے کے بعد وہ ہمیشہ کیلیے ان سے نجات حاصل کرلے گی۔ اس کو موچنے سے ماتھے، ٹھوڑی اور بالائی لب کے بال اکھیڑنے میں بڑی محنت کرنا پڑی تھی۔ ایک ایک کرکے ہربال کو موچنے کی گرفت میں لینا اور پھر اسے ایک ہی جھٹکے میں باہر نکالنا بہت مشکل کام تھا۔ مگر مایا دھن کی پکی تھی۔ یہ کام گو خود اس کے اپنے ہاتھ کررہے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ درد کے مارے بلبلا اٹھتی تھی۔ جب سارا میدان صاف ہو گیا تو اس نے اطمینان کا بہت لمبا سانس لیا تھا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کم بخت دوسرے ہی روز پھر نمودار ہوجائیں گے۔ چنانچہ جب انہوں نے اس کے چہرے کی جلد سے اپنا سر نکالا تو مایا سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا، کہ وہ ہر چوتھے پانچویں روز اپنے غیر ضروری بالوں کی صفائی کیا کرئے۔ آہستہ آہستہ موچنا اس کی زندگی کا اہم ترین جزو بن گیا۔ وہ جہاں بھی جاتی موچنا اس کے ساتھ ہوتا۔ لیکن اس کے استعمال میں اسے ان دنوں سخت دِقت محسوس ہوتی جب کہ وہ کسی دوسرے کے گھر ہوتی۔ اپنے گھر میں بھی اسے سب کی نظر بچا کر کسی ایسی جگہ اپنے بال نوچنے پڑتے تھے، جہاں کسی کے گزرنے کا امکان نہ ہو۔ پھر بھی کوئی پتا کھڑکتا تووہ بھڑک اٹھتی تھی، جیسے کوئی بہت بڑا گناہ کررہی ہے۔
’’منٹو صاحب میں اب سوچتا ہوں کہ اس سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہوا تھا جو خدا نے اس کے مونچھیں اور داڑھی اگا دی تھیں۔ اس کا ماتھا اس قدر تنگ کردیا تھا کہ اس کی گھنی بھنوؤں کے ساتھ آ کے مل گیا تھا۔ اس کے سارے بدن پر بھی بال ہی بال تھے۔ معلوم نہیں کیوں۔ بال۔ روئیں نہیں۔ اچھے تکڑے بال۔ سیاہ۔ آپ یقیناً کہیے گا کہ پھر اس میں ایسی کونسی جاذبیت تھی کہ تم اس پر لٹو ہو گئے اور بہت دیر تک لٹو رہے۔ سو عرض ہے کہ میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ ‘‘
میں نے شکیل کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا۔
’’آپ اتنے بڑے شاعرہیں، جب وہ آپ کے پاس تھی تو آپ نے بڑی خوبصورت غزلیں اور نظمیں لکھیں۔ جن میں مایا کا پرتو لفظ لفظ میں ملتا ہے۔ جب وہ چلی گئی تو آپ نے پھر بڑی زہریلی زہریلی غزلیں اور نظمیں لکھیں۔ ان میں بھی مایا کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ حیرت ہے کہ آپ کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ آپ کا اس پر لٹو ہونے کا باعث کیا تھا؟‘‘
شکیل نے ماتھے کا پسینہ پنسل سے ایک طرف ہٹا کرصاف کیا۔
’’مایا۔ صرف مایا۔ اور۔ مایا کیا تھی۔ یہ خدا کی قسم میں نہیں جان سکا۔ میری شاعری پر لعنت بھیجیے کیونکہ وہ محض جذباتی تھی۔ اس میں بھی وہی مایا کارفرما تھی۔ جس پر میں بظاہر بے وجہ لٹو ہوا تھا۔ لیکن۔ ‘‘
شکیل ایک لحظے کے لیے مناسب و موزوں الفاظ تلاش کرنے کے لیے رک گیا۔
’’وہ بستر کی بہترین رفیق تھی۔ ‘‘
جہاں تک میں سمجھتا ہوں شکیل کا یہ بیان بہت حد تک دُرست تھا۔ مایا ایک نچی ہوئی مرغی تھی۔ اس کے مقابلے میں شکیل کی سہرے جلوؤں کی بیاہی عورت پٹھانی حسن کا بہترین نمونہ تھی۔ گو دہ بچوں کی ماں، مگر شاید وہ بستر کی اچھی رفیق نہیں تھی۔ مایا شادی شدہ تھی مگر اولاد سے محروم۔ اس کے راولپنڈی میں کئی سلسلے ہو چکے تھے، مگر ان سے بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔ اس کے ماتھے اس کے بالائی لب اور اس کی ٹھوڑی کے بال بڑھتے جارہے تھے اور موچنے کے کام میں اسی تناسب سے اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔ راولپنڈی میں جب اس نے کھیل کھیلنا شروع کیا تو اس کا خاوند جو کہ ایک شریف آدمی تھا، متوسط درجے کا دوکاندار، غربت کا مالک، اور ہٹ کا پکا تو اس نے ایک دن مایا کو گھر سے باہر نکال دیا۔ مایا نے کوئی لڑائی جھگڑا نہ کیا۔ البتہ دوسرے دن میکے سے اپنے شوہر کو خط لکھا کہ وہ مہربانی کرکے اس کا موچنا بھیج دے۔ اس کے شوہر گنڈا سنگھ نے بصد مشکل موچنا تلاش کیا اور آئینہ سمیت مایا کو بھجوایا۔ مایا کے زیور وغیرہ اس کے پاس رہتے تھے، اسی کے پاس رہے۔ مایا نے ان کا مطالبہ کبھی نہ کیا۔ اس کے چاہنے والوں کی کمی نہ تھی۔ چنانچہ دوسرے ہی روز وہ ایک مسلمان گھڑی ساز کے ساتھ رہنے لگی۔ وہ اس پر جان چھڑکتا تھا۔ ایک برس کے اندر اندر اس نے مایا کو کئی زیور بنوا دیے۔ ایک گھڑی جو کسی گاہک کی تھی اس کی کلائی پر باندھ دی۔ یہ بہت بیش قیمت گھڑی تھی۔ جب گاہک نے اس کا مطالبہ کیا تو صاف مکر گیا۔ اس نے یہ کہا صریحاً غلطی ہوئی ہے، ورنہ شہاب الدین کی یہ دُکان۔ وہ عورت جس کی یہ گھڑی تھی کوئی شریف عورت تھی۔ یہ سن کر خاموش ہو کر چلی گئی۔ شہاب الدین باوجود اس کے کہ اس کا ضمیر ملامت کر رہا تھا، زبردستی خوش ہونے کی کوشش کرتا۔ جب گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ مایا دیوی جس کا اسلامی نام اس نے حسب توفیق اور بقدر جذبات صغریٰ رکھا ہوا تھا پڑوسی کے گھر میں ہے، جو شہر کا چھٹا ہوا بدمعاش تھا۔ اب شہاب الدین گھڑی ساز کے گھر سے مایا کا تبادلہ ہو گیا۔ وہ پڑوس میں امین پٹرنگ کے یہاں چلی گئی معمولی سا جھگڑا ہوا تھا۔ مایا کے سارے کپڑے وہیں پڑے رہے، لیکن وہ اپنا موچنا ساتھ لیتی گئی۔ امین پٹرنگ بڑا نہنگ قسم کا آدمی تھا۔ اس نے مایا سے صاف صاف کہہ دیا۔
’’دیکھو اگر تم نے پھر کوئی ایسا ویسا معاملہ کیا تو یاد رکھو میں تمہاری گردن اس چاقو سے کاٹ ڈالوں گا۔ ‘‘
وہ ہر وقت اپنی جیب میں ایک بڑا خوفناک کمانی والا چاقو رکھتا تھا۔ مگر مایا اس سے بالکل خائف نہ ہوئی۔ امین پٹرنگ کا ایک نوجوان لڑکا یوسف تھا جو کالج میں پڑھتا تھا۔ چند دنوں ہی میں اس نے اس نوجوان کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ امین کام پر جاتا تو یوسف کالج سے غیر حاضر ہوکر اس کے پاس پہنچ جاتا۔ آخر ایک روز بھانڈا پھوٹ گیا۔ باپ بیٹے کی مڈبھیڑ ہوئی۔ قریب تھا کہ وہ اس کے پیٹ میں اپنا کمانی والا چاقو بھونک کر اس کا خاتمہ کردے کہ مایا نے حکمت عملی سے کام لے کربیچ بچاؤ کرایا اور تین کپڑوں میں وہاں سے نکل گئی۔ سُنا ہے کہ امین پٹرنگ اس کے جانے کے بعد بہت دیر مغموم رہا۔ دوستوں میں وہ ہروقت اس کی باتیں کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر مایا سے اس کی اتفاقی ملاقات ہو جاتی تو اسے کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ کپڑے رنگنے چھوڑ کروہ سارا دن وارث شاہ کی
’’ہیر‘‘
سُنا کرتا تھا۔ مجھے صرف یہاں تک مایا کے متعلق معلوم تھا۔ چنانچہ مزید معلومات کے لیے میں نے شکیل سے جو کہ اپنی داستان بیان کررہا تھا، پوچھا۔
’’امین پٹرنگ کے بعد وہ کس کے پاس گئی؟‘‘
شکیل نے زہر خند کے ساتھ جواب دیا
’’ہزاروں کے پاس۔ لاری ڈرائیور ہربنس سنگھ کے پاس، سینما اپریٹر مکند لال کے پاس۔ دیال سنگھ کالج کے ایک پروفیسر کے پاس۔ سٹار بیکری کے مالک حسین بخش کے پاس۔ ایکسٹرا سپلائر غلام محمد کے پاس۔ ‘‘
شکیل کے ہونٹوں پر ابھی تک وہ زہر خند موجود تھا۔
’’ایک برس میں۔ جو کہ اس نیک بخت کے لیے بہت بڑا عرصہ تھا۔ اور‘‘
اس نے میری طرف بڑی معنی خیز نگاہوں سے دیکھا جوکہ زخم خوردہ تھیں۔
’’آپ کومعلوم ہے، ہر مرتبہ اپنے نئے یار سے جدا ہونے کے بعد اس نے ایک رقعہ لکھا جس میں یہ درخواست کی تھی کہ اس کا موچنا اس کو بھیج دیا جائے۔ ‘‘
میں کباب ہو گیا۔ موچنے میں آخر ایسی کونسی بات تھی کہ مایا اور تمام چیزیں چھوڑ کر صرف اسی کی واپسی کی درخواست کرتی تھی۔ چنانچہ میں نے شکیل سے پوچھا۔
’’یہ موچنا سونے کا تھا۔ جڑاؤ تھا؟‘‘
شکیل مسکرایا۔
’’جی نہیں۔ معمولی لوہے کا تھا۔ زیادہ سے زیادہ اس کی قیمت چار آنے ہو گی۔ مگر وہ اس کا دائمی رفیق بن گیا تھا۔ کم بخت نے کسی مرد کو دائمی رفیق نہیں بنایا تھا۔ مگر یہ موچنا اس کا جیون ساتھی تھا‘‘
امین پٹرنگ کو معلوم تھا کہ موچنا کہاں پڑا ہے۔ اس نے پہلے سوچا کہ گول کردے اور لڑکے کو ایک دھول رسید کرکے رخصت کردے۔ یا اس کے سر پر اُسترا پھروا کر واپس بھیج دے کہ موچنے نے اتنا کام کیا ہے کہ وہ اب کسی کام کا نہیں رہا۔ مگر پھر جانے اسے کیا خیال آیا کہ اس نے کارنس پر سے موچنا اٹھایا۔ اس کے دانتوں میں سے مایا کی بھوؤں کے چند بال نکالے اور ایک طرف پھینک دیے۔ امین پٹرنگ باوجود اس کے کہ بہت بڑا غنڈہ تھا، موچنے کو دیکھ کرموم ہو گیا۔ اس نے قاصد لڑکے کا سرمنڈوانے کا خیال ترک کردیا۔ مجھے یہ معلوم کرنے کی جستجو تھی کہ وہ امین پٹرنگ کے بعد کس کے پاس گئی۔ لیکن شکیل نے مجھے فوراً بتا دیا۔
’’منٹو صاحب وہ ایک مرد کی عورت نہ تھی۔ لیکن شایدیہ کہنا بھی درست نہیں۔ وہ ایسی میل تھی جو ہر اسٹیشن پر کوئلہ، پانی چاہتی ہے۔ امین کے بعد وہ اسسٹنٹ فلم ڈائریکٹر ہربنس سنگھ کے پاس تین مہینے رہی۔ پھر ساؤنڈ ریکارڈسٹ پی۔ این۔ آہوجہ کے پاس ایک ماہ اور چند دن۔ اس کے بعد۔ اس کے بعد‘‘
میں نے پوچھا
’’کس کے پاس؟‘‘
شکیل نے شرما کے جواب دیا
’’آپ کے اس خاکسار کے پاس، جسے داراشکوہ المعروف شکیل کہتے ہیں۔ لعنت ہو اس پر ہزار بار‘‘
میں نے دریافت کیا
’’آپ اس لعنت میں کیسے گرفتار ہوئے؟‘‘
شکیل نے ٹھیٹ پشاوری لہجے میں کہا
’’منٹو صاحب۔ وہ لعنت ایسی ہے کہ اس میں گرفتار ہوئے بنا کوئی نہیں رہ سکتا۔ آپ بڑے آہنی قسم کے مرد بنے پھرتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر آپ اسے دیکھتے تو یقیناً اپنی ساری افسانہ نگاری بھول جاتے۔ اگر نہ بھولتے تو قلم کے بجائے موچنے سے افسانے لکھتے۔ یوں کہیے کہ آپ ادب کی مونچھوں کے بال اکھیڑنے میں ساری عمر صرف کردیتے۔ ‘‘
ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوتا، کیونکہ میں بھی امین، شکیل اور گنڈا سنگھ کی طرح ایک انسان ہوں۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا، کہ موچنے میں کیا خصوصیت تھی کہ وہ مایا کی زندگی کے ساتھ ایسی بُری طرح چپک گیا تھا۔ میں نے شکیل سے کہا
’’تمہارا اس کا سلسلہ کتنی دیر تک قائم رہا؟‘‘
شکیل نے کانپتی ہوئی انگلیوں سے سگریٹ سلگایا۔
’’قریب قریب دو برس تک‘‘
اور۔ وہ بے حد سنجیدہ ہو گیا
’’اور منٹو صاحب آپ یقین مانیے، میں دنیا و مافیہا کو بھول گیا‘‘
میں نے سوال کیا
’’کیوں؟‘‘
شکیل سوچنے لگا۔
’’کچھ نہیں کہہ سکتا۔ شاید۔ شاید اس کی مونچھوں کے بال۔ جو موچنے کے استعمال سے بڑے کھردرے ہو گئے تھے۔ وہ۔ وہ۔ بڑی حرارت پیدا کرتے تھے۔ اور اس کا جسم جو سر سے پیر تک بالوں سے بھرا ہوا تھا۔ منٹو صاحب میں شاعر ہوں۔ میں نے ہمیشہ نرم اور چکنے بدن کی تعریف کی ہے، جس پر سے آدمی پھسل پھسل جائے۔ مگر مایا کی دوستی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ سب بکواس ہے، سارا مزہ اٹک اٹک جانے میں ہے۔ بس میں صرف اتنا جانتا ہوں‘‘
میں سوچنے لگا۔ پھسل پھسل جانے اور اٹک اٹک جانے میں واقعی بہت بڑا نفسیاتی فرق ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اسے خود سمجھ سکتے ہیں۔ اگر نہیں سمجھ سکتے تو اس بکھیڑے میں نہ پڑیے۔ شکیل صاحب کی گفتگوکے انداز سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مایا کو قریب قریب بھول چکے ہیں، مگر پھر بھی اس کی یاد تازہ رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا۔
’’شکیل صاحب۔ دو برس تک آپ کا اورمایا کا سلسلہ رہا۔ ‘‘
شکیل نے میری بات کاٹ کرکہا
’’جی ہاں۔ دو برس تک۔ ‘‘
میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔ اپنے بچوں سے منہ موڑ لیا اور مایا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ لیکن دو برس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ بے وفا ہے۔ ریا کار ہے‘‘
میں نے پوچھا
’’یہ آپ نے کیسے جانا؟‘‘
شکیل نے زہر آلود لہجے میں کہا۔
’’جناب۔ وہ میرے ہمسائے شیخ اسماعیل گورنمنٹ کنٹریکٹر سے اپنا نیا سلسلہ قائم کررہی تھی۔ مجھے اورکسی بات کا غصہ نہیں تھا منٹو صاحب، لیکن وہ سالا پچاس برس کا بوڑھا تھا۔ سات جوان لڑکیوں کا باپ۔ دو بیویوں کا خاوند۔ لیکن حیرت اس سالی پر بھی ہے کہ اسے کیا سوجھی؟‘‘
شکیل نے یہ کہہ کر سگریٹ سلگانے کی کوشش کی، مگر اس سے سلگ نہ سکا۔ اس لیے کہ اس کے ہاتھ بہت بری طرح کانپ رہے تھے۔ میں نے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لیا اور سلگا کر اس کو دیا
’’وہ چلی گئی‘‘
’’جی ہاں میں نے اسے دھکے مار کر باہر نکال دیا‘‘
شکیل نے زور کا ایک کش لیا، اور کانپتی ہوئی انگلیوں سے پنسل پکڑ کر ایک نئی نظم لکھنے کے لیے تیار ہونے لگا جو غالباً مایا کی یاد کے بارے میں ہونے والی تھی۔
’’جی ہاں چلی گئی۔ یہ اپنا موچنا چھوڑ گئی‘‘
میں نے پوچھا
’’اس نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا؟‘‘
شکیل نے ایک اور کش لیا
’’ایک نہیں، سینکڑوں مرتبہ۔ لیکن میں نے اسے واپس نہیں کیا۔ اس لیے کہ ایک صرف یہی چیز ہے جو اس کے اور میرے درمیان رہ گئی ہے۔ جب تک یہ موچنا میرے پاس ہے وہ ہمیشہ مجھ سے خط و کتابت کرتی رہے گی۔ ‘‘

 

 

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے