Home / اداریہ / نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت۔ پکھی واس

نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت۔ پکھی واس

چار اکائیوں پر مشتمل اس ملک کی اساس ۱۹۷۳ کے متفقہ آئین پر رکھی گئی تھی جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے تشکیل دیا تھا۔
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ستر سال سے زیادہ ہوگئے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ قوم ابھی بھی تاریخ کے کسی چوراہے پر کھڑی ہے اور اسے اپنی قسمت کا کوئی فیصلہ کرنا ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ جیسے واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو سیاسیات کے طالب علموں کو یہ بات آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ بطور ریاست پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل کو صحیح طور پر سمجھا نہیں اور نہ ہی ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جمہور کے اظہارِ رائے کی آزادی کو سمجھنا اور ماننا ہی اصل مسائل کا حل ہوتا ہے۔
اگر کہیں یہ محسوس ہونے لگے کہ ریاست اور اس کے شہریوں کا آپس میں تعلق کسی تعطل کا شکا رہے تو اس معاملے کو بڑی خرابی سمجھا جائے اور سب سے پہلے حل کیا جائے ۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحے کو سمجھنے کے لیے جسٹس محمود الرحمٰن کمیشن قائم کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ اس رپورٹ کو نہ تو عام کیا گیا اور نہ اس سانحے کے ذمہ دار کرداروں کا احتساب کیا گیا۔
آج کے ملکی حالات کو دیکھا جائے تو کوئی ذی شعور شخص یہی کہے گا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ۔ اگر صوبہ خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو وہاں چالیس سال سے دہشت گردی کا شکار پختون چیخ رہا ہے کہ خدارا کچھ تو ایسا کیجیے کہ اس کی نسل کا جانی ، مالی ، سیاسی ، سماجی تحفظ ہو سکے اور پختون آبادی سکھ سے جی سکے اور پختون آبادی اپنی دہشت گردی کے بابت بننے والی چھاپ سے جان چھڑا سکے ۔
بلوچستان میں حالات سب زیادہ دگرگوں ہیں ۔ دہشت گردی ، لاپتہ افراد ، بے روزگار ، قبائلی جھگڑے یعنی خرابی کی تمام صورتیں موجود ہیں اور وادی بولان لہو لہو ہے۔
مرکز سے ناراض بلوچ نوابوں سے بات کی جائے اور انہیں مرکزی دھارے میں نہ صرف شامل کیا جائے بلکہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ یہ ریاست ان کی ہے اور انہوں نے مستقبل میں اس ریاست کو چلانا ہے ۔ گوادر اور سی پیک کے حوالے سے بلوچستان کی عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور سی پیک کے ثمرات کا اثر بھی سماج پر نظرآئے۔
صوبہ سندھ میں تو شہری اور دیہاتی سماج کی آپسی لڑائی کسی نئی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ اوپر سے ایم کیو ایم کی اندرونی لڑائی نے کراچی کو نئے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے ۔ سیاست قیادت کی نا اہلی اور سول بیورو کریسی کی کرپشن کی ہوش ربا کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔ صحت ، تعلیم سمیت تما م اداروں کا ڈھانچہ ختم نہیں بھی ہوا تو سمجھیں کہ آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ سندھ کے نوجوان نوکریوں سے مایوس ہو کر رشوت پسندی اور سماجی جرائم کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کراچی اور حیدرآباد کی آبادی میں اضافہ از خوایک دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔
پنجاب میں بھی حالات حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔ یہاں آبادی کا جن بے قابو ہو چکا ہے ۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ میں نہیں رہیں۔ مذہبی شدت پسندی پہلے سے موجود تھی کہ اس میدان میں نئے کھلاڑی بھی آ کودے ہیں جو کسی بھی وقت پہیہ جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ صحت ، تعلیم ، آلودہ پانی ، بے روزگاری جیسے مسائل پنجاب کی عوام کے لیے کسی سانحے کا باعث بن سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حالت بھی ایسی ہی ہے ۔ مسائل ایک جیسے ہیں تو ان کا حل بھی یکساں ہی ہو گا ۔ مقامی آبادی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ اصول کے مطابق مقامی آبادی کی بات سنی جائے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
پنجاب اپنی آبادی لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو کہ ایک مرکزی نظام سے چلایا جا رہا ہے ۔ اب جنوبی پنجاب اپنے لیے علحدہ صوبائی اکائی کا مطالبہ اور کوشش کر رہا ہے ۔ اس مسلے کو خالص انسانی بنیادوں پر دیکھا اور سمجھا جائے تو کوئی بہتر صورت نکل آئے ۔ نیز ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نت نئی اصلاحات کرتی رہتی ہیں ، تو موجودہ حالات میں پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں سے بھی امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے مسائل پر توجہ دے اور ان کا حل سوچے تاکہ مستقبل میں کسی سانحے سے بچا جا سکے۔

پکھی واس

Author: پکھی واس

مصنف ترقی پسند خیالات کے سرائیکی شاعر ہیں۔ اپنے قلمی نام پکھی واس سے مختلف بلاگز اور اداریے لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے