Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / نطفہ ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

نطفہ ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

’’معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کی شخصیت در حقیقت ایسی ہی تھی جیسی آپ نے افسانے میں پیش کی ہے، یا محض آپ کے دماغ کی پیداوار ہے، پر میں اتنا جانتا ہوں کہ ایسے عجیب وغریب آدمی عام ملتے ہیں۔ میں نے جب آپ کا افسانہ پڑھا تو میرا دماغ فوراً ہی اپنے ایک دوست کی طرف منتقل ہو گیا۔ صادقے کی طرف۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ اور اس میں بظاہر کوئی مماثلت نہیں ہے۔ لیکن میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ ان دونوں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ کو دولت وراثت میں ملی ہے۔ میرے صادقے کو اپنی محنت و مشقت اور ذہانت کے صلے میں۔ دونوں شاہ خرچ تھے۔ آپ کا بابو گوپی ناتھ بظاہر بدھو تھا۔ لیکن دراصل بہت ہوشیار اور باخبر آدمی تھا۔ میرا صادق اندر باہر سے بالکل ایک جیسا تھا۔ وہ بدھو تھا نہ چالاک۔ درمیانے درجے کی عقل و فہم کا آدمی تھا۔ اپنے کاموں میں آٹھوں گانٹھ ہوشیار۔ حسب کا پکا۔ لیکن دین کے معاملے میں بڑا با اصول۔ آپ کے بابو گوپی ناتھ کو لُٹ جانے میں مزا آتا ہے۔ اسے دوسروں کو لوٹنے میں۔ بابو صاحب کو پیروں فقیروں کے تکیوں اور رنڈیوں کے کوٹھوں سے رغبت تھی۔ صادق کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مگر ان تمام تفاوتوں کے باوجود میں جب بھی بابو گوپی ناتھ کو صادق کے ساتھ کھڑا کرتا ہوں تو مجھے ان کے خدوخال ایک جیسے نظر آتے ہیں، جیسے وہ جڑواں ہیں۔ میں تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہو سکتا ہے آپ، جب صادق کا حال مجھ سے سنیں تو اس کو انسانوں کی کسی اور ہی صف میں کھڑا کردیں۔ جس میں بابو گوپی ناتھ کی مونچھ کا ایک بال بھی نہ آسکا ہو، لیکن میں سمجھوں گا کہ آپ کے تجزیے میں غلطی ہوئی ہے اورمیں آپ سے درخواست کروں گا کہ اسے اس صف سے نکال کر اس صف میں شامل کردیجیے جس میں آپ کا بابو گوپی ناتھ موجود ہے۔ میں افسانہ نگار نہیں۔ معلوم نہیں بابو گوپی ناتھ کے حالات آپ نے من و عن بیان کیے ہیں ان میں کچھ رد و بدل کیا ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہے بہت خوب ہے۔ اور کچھ اس افسانے میں ہے۔ اگر اس کے مطابق بابو گوپی ناتھ نہیں چلا تو لعنت ہے اس پر۔ اور اگر وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ افسانے میں ہے تو اس پر خدا کی رحمت ہو۔ یقین مانیے ایسے لوگ پرستش کے قابل ہوتے ہیں۔ اور صادق کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس سے میری ملاقات دلی میں ہوئی۔ جنگ کا زمانہ تھا۔ ٹھیکیداریاں بڑے زوروں پر تھیں۔ صادقے کی پانچوں گھی میں تھیں اور سر محاورے کے مطابق کڑاہے میں۔ میل ملاپ اور اثر رسوخ کافی تھا اور شاہ خرچ تھا ہی۔ دس بیس پرتکلف دعوتیں کرتا اور ایک کنٹریکٹ اپنی جیب میں ڈال لیتا۔ ایک بات ہے۔ بے شک اس نے بہت کمایا۔ دونوں ہاتھوں سے گورنمنٹ کا مال لوٹا۔ لیکن اس میں اس نے ان لوگوں کو برابر کا حصہ دیا جن کے ذریعے سے اس کو اس لوٹ کے مواقع بہم پہنچے تھے۔ اسی دوران میں اس کا گزر ان وادیوں میں ہوا جن کا بابو گوپی ناتھ ایک بہت بڑا زائر تھا۔ لیکن وہ ان میں بھٹکا نہیں۔ دوسروں کے ساتھ محض رواداری کی خاطر جاتا رہا اور واپس گھر آکر اپنے جوتوں کی گرد جھاڑ کر بیٹھ جاتا رہا۔ اس نے بوتل سے بھی تعارف حاصل کیا۔ مگر معانقے کی نوبت نہ آنے دی۔ ایک دو گھونٹ پی۔ صرف دوسروں کا ساتھ دینے کے لیے۔ ان کوٹھوں پر جہاں آپ کے بابو گوپی ناتھ کے قول کے مطابق دھوکا ہی دھوکا ہوتا ہے۔ صادقے نے خود کو دھوکا دینے کی کبھی کوشش نہ کی۔ ایک دو بار اسے اپنے ساتھیوں کی خوشی کے لیے رنڈیوں کا منہ چومنا پڑا تھا اور چند واہیات حرکتیں بھی کرنا پڑی تھیں، مگر اس نے ان سے کوئی لطف حاصل نہیں کیا تھا۔ وہ رنڈی کے متعلق کبھی سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ لیکن اگر ملٹری کے نوجوانوں کے لیے رنڈیاں فراہم کرنے کا ٹھیکہ اسے مل جاتا تو وہ یقیناً ان کے متعلق بڑے غور و فکر سے سوچنا شروع کردیتا۔ وہ کاروباری آدمی تھا۔ لیکن ایک دم حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ صادق وہ صادق ہی نہ رہا جنگ ختم ہوئی تو ٹھیکے بھی ختم ہو گئے۔ پھر مقدموں کا کچھ ایسا تانتا بندھا کہ صادق کچہریوں کے چکر میں پھنس گیا۔ جو دولت پیدا کی تھی، سب مقدموں کی نذر ہو گئی موٹر کے بجائے اب صادق ٹانگے پر ہوتا تھا یا سائیکل پر۔ پہلے نئے سا نیا سوٹ اس کے بدن پر ہوتا ہے۔ اب اسے کپڑوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رہتی تھی پہلے اس کے خوشامدی دوست اسے نواب صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ اب وہ صرف
’’صادقا‘‘
’’اوئے صادقا۔ ‘‘
رہ گیا تھا۔ مگر ان کی اس تبدیلی تخاطب کو صادق نے قطعاً محسوس نہیں کیا تھا۔ اس کو اپنے مقدموں کی اتنی فکر تھی کہ وہ ایسی فروعات کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ کچہریوں کے اس چکر میں اس نے اپنی مرضی سے بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور تھوڑے ہی عرصے میں بڑے دھڑلے کا شرابی بن گیا۔ اسی دوران میں اس کی ملاقات سرحد کے ایک خان سے ہوئی جس کو وہاں کی حکومت نے صوبہ بدر کر رکھا تھا۔ یہ ملاقات رنڈی کے ایک کوٹھے پر ہوئی۔ زندگی میں صادق پہلی مرتبہ کسی انسان کے خلوص سے متاثر ہوا۔ یہ خان اپنے علاقے کا بہت بڑا رئیس تھا۔ بالکل ان پڑھ مگر جاہل نہیں تھا۔ اس کا دل و دماغ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح روشن تھا۔ وہ ایک بہت بڑا انقلاب چاہتا تھا جو ظلم و ستم کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ سرمائے کی لعنت سے دنیا آزاد ہو جائے۔ دنیا آزاد نہ ہو تو کم از کم اس کا صوبہ آزاد ہو جائے۔ ان خیالات کی پاداش میں وہ اپنے وطن سے باہر نکال دیا گیا۔ میں آپ کی طرح افسانہ نگار نہیں ہوں۔ مجھ سے حاشیہ آرائی نہیں ہوتی۔ خان کا کیریکٹر بھی کم دلچسپ نہیں۔ کسی زمانے میں وہ بڑا پرجوش سرخ پوش تھا۔ اس تحریک سے وابستہ ہو کر اس نے کئی مرتبہ جیل دیکھی۔ اپنی جائیداد میں سے ہزاروں روپے خرچ کیے۔ جب بٹوارہ ہوا تو وہ مسلم لیگی بن گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح سے اس کو والہانہ عشق ہو گیا۔ مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے اس نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں، لیکن پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ وہ جو تعلیم یافتہ تھے، اس سے آگے بڑھ گئے اور بڑے بڑے منصبوں پر جا بیٹھے۔ خان جھنجھلا گیا۔ اس جھنجھلاہٹ میں اس نے اپنے غیض و غضب کا بڑا خام مظاہرہ کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا۔ جس زمانے میں صادق کی ان سے ملاقات ہوئی، آپ کی حالت بالکل بچوں کی سی تھی۔ ان بچوں کی سی جن کو معمولی سی شرارت پر سخت گیر ماسٹر نے بنچ پر کھڑا کردیا ہویا مرغا بنا کر کلاس کے ایک کونے میں کان پکڑنے کا حکم دے دیا ہو۔ صادق جب بھی مجھ سے ان کی بات کرتا تو کہتا۔
’’بڑا بیبا آدمی ہے۔ ‘‘
کچھ میں بھی اس خان کے متعلق جانتا ہوں۔ یہ واقع ہے کہ صرف
’’بیبا‘‘
ہی ایک ایسا لفظ ہے جو اس کی شخصیت کو پورے طور پر اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ وطن سے دور تھا۔ سینکڑوں میل دور۔ مگر وطن کی یاد اسے کبھی نہیں ستاتی تھی۔ اپنے گاؤں میں ایک چھوڑ دو بیویاں تھیں، مگر ان کے متعلق اس نے کبھی تردو کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ اس کو اس طرف سے کامل یقین تھا کہ زمینداری سے جو کچھ وصول ہوتا ہے، ان کے اخراجات کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ سات آٹھ سو روپیہ ماہوار اس کا منیجر وہاں سے روانہ کردیتا تھا۔ جواس کی واکسہال موٹر کے پٹرول اور اس کی شراب پر اٹھ جاتا تھا۔ گھر اس کا ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر تھا۔ صوبہ بدر ہونے کے بعد اس نے کچھ دیر اس منڈی کے مختلف کوٹھوں پر جھک ماری۔ آخر کار ایک کوٹھا منتخب کرکے وہاں مستقل طور پر اپنے ڈیرے جما دیے۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد خان صاحب کو محسوس ہوا کہ آپ کو اس کوٹھے کی رنڈی سے عشق ہو گیا ہے۔ آپ نے صادق کو اس راز سے بڑے بیبے پن کے ساتھ آگاہ کیا۔
’’صادق۔ وہ رنڈی جس کے کوٹھے پر تم سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، ہمارے دل کے اندر گھس گئی ہے۔ اس کو بدر کرنے کی کوئی ترکیب تمہارے دماغ کے اندر آتی ہو تو ہم کو بتاؤ۔ ‘‘
صادق نے اس کو بہت سی ترکیبیں بتائیں۔ جن پر خان صاحب نے عمل بھی کیا مگر وہ اپنے دل کے اندر سے اس رنڈی کو
’’شہر بدر‘‘
نہ کرسکے۔ آخر کار انھوں نے ایک بار پھر اسی بیبے پن کے ساتھ صادق سے کہا۔
’’صادق۔ وہ رنڈی ہم پر سوار ہو گئی ہے۔ ہم اس کو اپنی بیوی بنالے گا۔ ‘‘
صادق نے ان کو بہت سمجھایا بجھایا۔ مگر خان صاحب عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔ رنڈی کو بھی وہ پسند آگئے تھے۔ چنانچہ ایک دن وہ میاں بیوی بن گئے۔ رنڈی کے گھر والوں کو یہ رشتہ بالکل پسند نہ آیا۔ بڑی گڑ بڑ ہوئی۔ آخر سمجھوتہ ہو گیا۔ رنڈی وہیں کوٹھے پر رہی اور خان صاحب اس کے شوہر کی حیثیت سے اس کے ساتھ رہنے لگے۔ صادق نے مجھ سے کہا۔
’’خان عجیب و غریب آدمی ہے۔ اتنے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اخباری اور سیاسی دنیا میں نام رکھتا ہے، لیکن اسے کبھی اتنا خیال نہیں آتا کہ وہ ایک بدنام محلے میں رہتا ہے۔ ایک رنڈی جس کے ہزاروں گاہک تھے، اس کی بیوی ہے۔ مجھے بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ پٹھان ہو کر اس کی غیرت کہاں سو رہی ہے۔ سرحد میں دو بیویاں پڑی ہیں۔ اولاد موجود ہے مگر وہ کس اطمینان سے ہیرا منڈی کے کوٹھے میں ایک چچوڑی ہوئی ہڈی چوستا رہتا ہے۔ اس سے اس بارے میں کچھ کہتا ہوں تو اس کے بے ریا چہرے پر بیبی سی مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔ صادق۔ وہ لوگ ادھر راضی خوشی ہے۔ ہمیں کوئی تردد نہیں۔ اور یہ رنڈی بہت اچھا ہے۔ ہم سے محبت کرتا ہے۔ جو عورت ادھر ہوتا ہے نا، محبت کرنا نہیں جانتا۔ ناز نخرہ نہیں جانتا۔ اور مجھے یقین آجاتا ہے۔ مجھے اس کی ہر بات کا یقین آجاتا ہے۔ ‘‘
اور یہ واقعہ ہے کہ صادق جس کو پہلے کسی بات کا یقین نہیں آتا تھا، اب اس خان کے کہنے پر چلتا تھا۔ جب وہ مقدموں سے فارغ ہوا تو اس کے کہنے پر اس نے ملٹری کی چھوڑی ہوئی بارکیں ڈھانے اور ان کا ملبہ اٹھوانے کا ٹھیکہ لے لیا۔ اس کام سے اسے نفرت تھی، مگر خان صاحب کے مشورے کو وہ کیسے ٹال سکتا تھا، چنانچہ ایک برس تک وہ کمہاروں اور ان کے گدھوں اور ملبے کے دھول غبارمیں پھنسا رہا۔ لیکن اس میں اس نے کافی کمایا۔ خوشامدی دوست یار، پھر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ انھیں منہ نہیں لگائے گا، لیکن اس نے ان کو دھتکارنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ پہلے صرف دستر خوان پر ان کی شمولیت ہوتی تھی۔ اب بوتل میں بھی وہ اس کے شریک ہونے لگے۔ خان نے اس کو بتایا تھا کہ شراب بہت اچھی چیز ہے خصوصاً اس آدمی کے لیے جوصوبہ بدر کردیا گیا ہو۔ بوتل سے منہ لگاتے ہی ایک نیا صوبہ اس کے دل و دماغ میں آباد ہو جاتا ہے۔ جس میں وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جہاں چاہے اسٹول پر کھڑا ہو کے باغیانہ سے باغیانہ تقریر کرسکتا ہے۔ سرمائے کی تمام لعنتوں سے اس کو پاک کرسکتا ہے۔ اور پھر رنڈی کا کوٹھا۔ اس سے بہترین گھر تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ بیوی گھریلو اور سگی قسم کی ہو تو آدمی اسے گالی نہیں دے سکتا۔ اگر رنڈی ہو تو گندی سے گندی گالی بھی اسے دی جاسکتی ہے۔ اس کی ماں کے سامنے۔ اس کی پھوپھی کے سامنے۔ اس کی چچی کے سامنے۔ اور اگر اس کا کوئی باپ موجود ہو تو اس کے بھی سامنے۔ پھر وہ اسے اپنے مخصوص خام اور بیبے انداز میں روزمرہ زندگی میں گالی کی اہمیت بیان کرنے لگتا اور اسے بتاتا کہ یہ بہت ضروری چیز ہے۔ اگر آدمی اسے وقتاً فوقتاً اپنے اندر سے باہر نہ نکالے تو تعفن پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر دل و دماغ پر بہت برا اثر کرتا ہے۔ رنڈی کا کوٹھا۔ اور گھریلو گھر۔ زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہاں سو بکھیڑے ہوتے ہیں۔ اتنا سازو سامان اور اتنے رشتے ہوتے ہیں کہ آدمی ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہے تو پوری زندگی اسی کوشش میں بسر ہو جائے مگریہاں رنڈی کے کوٹھے پر ایسی کوئی مشکل نہیں۔ اپنا ہولڈال اورٹرنک اٹھاؤ، اچکن کاندھے پر ڈالو اور کسی ہوٹل میں جا کر بڑے اطمینان سے طلاق کا کاغذ لکھ کر روانہ کردو۔ ایک بات اور بھی ہے۔ رنڈی کو سمجھنے میں اگر دقت محسوس ہو تو اس کو استعمال کرنے والے ایسے کئی آدمی موجود ہوں گے جن کے تجربوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ پھر گانا بجانا مفت۔ عیاشی کی عیاشی، شادی کی شادی۔ جی اکتایا تو چھوڑ کے چلتے بنے۔ کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ کوئی برا نہیں کہے گا۔ بلکہ وہ جو شریف ہیں مرحبا کہیں گے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آیا۔ رنڈی کو لعنتی کہیں گے جو چمٹ گئی تھی اور خدا وند کریم کا شکر بجا لائیں گے کہ اس نے اس سے نجات دلائی۔ اور رنڈی کی زندگی میں بھی کوئی زلزلہ نہیں آتا۔ اس کے لگے بندھے گاہک موجود ہوتے ہیں۔ تمہاری ٹھیکے داری ختم ہوتی ہے تو وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں کہ چلو ہمارا راستہ کھلا۔ ‘‘
صادق کو خان رنڈی سے شادی کے فوائد اکثربتاتا رہتا تھا۔ بوتل سے بڑے خلوص کے ساتھ منہ لگا کر اب اس نے رنڈیوں کے کوٹھوں پربھی آنا جانا شروع کردیا تھا۔ مگر اس نے ان میں وہ بات ابھی تک نہیں دیکھی تھی کے جن کے متعلق وہ اکثر اپنے پٹھان دوست سے سنا کرتا تھا۔ خان کو صادق کے دل کا حال اچھی طرح معلوم تھا۔ اس کو پتا چل گیا تھا کہ وہ ہیرا منڈی سے اکتا گیا ہے۔ کاروبار اچھا ہے۔ آمدن کی معقول صورت پیدا ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ اب اپنا گھر بنانا چاہتا ہے جس میں اس کی ایک عدد بیوی ہو۔ دس عدد بچے ہوں۔ کلوٹ ہوں، پوتڑے ہوں۔ چولھا ہو۔ چمٹا ہو۔ توا ہو۔ وہ پھل خریدے تو سیدھا گھر پہنچے۔ شراب کی بوتلوں کے بجائے، دودھ کی بوتلیں خریدے۔ میراثیوں اور بھڑووں کے بجائے شریف شریف لوگوں سے ملے۔ شروع شروع میں تو خان اپنے مخصوص انداز میں اسے ایسے واہیات اقدام سے روکنے کی نرم و نازک کوشش کرتا رہا۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے محلے میں کسی سے کوئی مناسب و موزوں رشتہ ڈھونڈنے کے لیے کہا ہے تو اس کو بہت کوفت ہوئی۔
’’صادق۔ یہ تم کیا حماقت کرنے والا ہے۔ شادی وادی ہرگز مت کرنا۔ یہ دنیا ایسی ہے جہاں کسی وقت بھی تم کو صوبہ بدر یا شہر بدر کردیا جاسکتا ہے۔ میں اتنے برس کانگرس میں رہا ہوں۔ سرخ پوش تحریک چلانے میں اتنا کام میں نے کیا ہے کہ تم کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔ میں نے اپنی پولیٹیکل لائف میں صرف یہ سیکھا ہے کہ زندگی میں تم جس کو بھی شریک بناؤ، اٹیچی کیس کی طرح ہونی چاہیے۔ جس کو تم ہاتھ میں اٹھا کر چلتے ہو۔ یا اسے وہیں چھوڑ دو۔ وہ زیادہ قیمتی نہیں ہونی چاہیے۔ قیمتی چیزوں کو چھوڑ دینے کا برا غم رہتا ہے۔ سو برادر، تم شادی نہ کرو۔ باز آؤ اس خیال سے۔ وہ رنڈی جس کے پاس تم جاتے ہو، کیا بری ہے۔ اس سے عشق کرنا شروع کردو۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ تھوڑی سی پریکٹس کرلو توسب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘
صادق نے گھریلو قسم کی عورت سے شادی کے حق میں اپنے دلائل پیش کیے مگر خان کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ چلی۔
’’صادق، تم الو ہے۔ خدا کی قسم الو ہے۔ تم ہماری بات نہیں مانتا، جس کے پاس دو بیویاں ہیں۔ اپنے قبیلے کی۔ تم ہماری بات مانو۔ ہم تمہارا دوست ہے۔ پٹھان ہے۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ ہم جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ دنیا جس میں ہم جیسے مخلص آدمی کو صوبہ بدر کرنے والے حاکم موجود ہیں، اس میں رنڈی کے کوٹھے ہی کو اپنا گھر بنانا چاہیے۔ ہم کو تو یہاں بہت آرام ہے۔ تم بھی ہیرا منڈی میں اپنا گھر بنا لو اور آرام کرو۔ ‘‘
صادق عجیب مخمصے میں گرفتار تھا۔ مجھ سے مل کر وہ گھنٹوں باتیں کرتا رہتا۔ وہ ہیرا منڈی کے سخت خلاف تھا مگر تھوڑی دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ اس کا قائل ہوتا جارہا ہے، کیونکہ اب وہ خان کی کہی ہوئی باتیں یوں سناتا تھا جیسے اس کے دل کو لگ چکی ہیں۔ چنانچہ ایک روز اس نے مجھ سے کہا:
’’میں نے ساری عمر ٹھیکے داری کی ہے۔ اور ٹھیکے داری سے بڑھ کے بے ایمانی کا اور کوئی کاروبار نہیں ہوسکتا۔ اس کا اول کھوٹ، اس کا آخر کھوٹ۔ یہ ایسا بازار ہے جس میں کوئی کھرا سکہ نہیں چل سکتا۔ سنا ہے ولایت میں ایسی مشینیں بنی ہیں جن میں اگر کھوٹے سکے ڈالے جائیں تو وہ باہر نکال دیتی ہیں۔ لیکن ٹھیکے داری ایسی مشین ہے جس میں اگرکھرے سکے ڈالے جائیں تو قبول نہیں کرے گی۔ فوراً باہر نکال دے گی۔ مجھے ساری عمر یہی کاروبار کرنا ہے کہ مجھے صرف یہاں آنا ہے۔ توکیوں نہ میں ہیرا منڈی میں ہی اپنا گھر بناؤں۔ وہاں کھرے سکے چلتے ہیں، لیکن ان کے عوض جومال ملتا ہے اس میں صرف کھوٹ ہی کھوٹ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں، میری روحانی تسکین کے لیے وہاں کی فضا اچھی رہے گی۔ ‘‘
پھر ایک روز اس نے مجھے بتایا۔
’’خان بہت خوش ہے۔ اسکی دونوں بیویاں وہاں سرحد میں اس کے گھر میں خوش ہیں۔ اس کی اولاد بھی خوش ہے۔ ان کی خیر خیریت کو اپنے منیجر کے ذریعے سے معلوم ہوتی رہتی ہے۔ یہاں ہیرا منڈی اس کی رنڈی بھی خوش ہے۔ اس کی ماں بھی خوش ہے۔ اس کی پھوپھی بھی خوش ہے، اس کے میراثی بھی خوش ہیں۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ خان خوش ہے۔ کبھی کبھی ان حاکموں کے خلاف ایک بیان اخباروں میں شائع کردیتا ہے جس نے اس کو صوبہ بدر کیا تھا اور اپنی رنڈی کو سنا دیتا ہے۔ وہ بھی خوش ہو جاتی ہے۔ اس رات گانے بجانے کی محفل گرم ہوتی ہے اور خان مسند پر گاؤ تکیے کا سہارا لے کریوں بیٹھتا ہے جس طرح ایک تماشبین۔ استاد صاحب اور میراثیوں سے اس طرح باتیں کرتا ہے جیسے اس نے نئی نئی تماش بینی شروع کی ہے۔ اس کی رنڈی مجرا کرتی ہے اور وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر اس کو دس روپے کا نوٹ دیتا ہے پھر پانچ کا۔ پھر دو کا پھر ایک روپے والا۔ ۔ اس کے بعد وہ محفل برخواست کردیتا ہے اور اس رنڈی کے ساتھ سو جاتا ہے اور اس منکوحہ عورت کے ساتھ ایسی رات بستر کرتا ہے جو گناہ آلود ہو۔ میں تو سمجھتا ہوں، یہ بڑے مزے کی چیز ہے۔ ‘‘
لیکن جب اس رنڈی سے شادی کا سوال پیدا ہوا۔ یعنی خان صاحب نے سب معاملہ تیارکردیا اور صرف ایجاب و قبول کی رسم باقی رہ گئی تو صادق پیچھے ہٹ گیا۔ خان آگ بگولا ہو گیا۔ میرے سامنے اس نے صادقے کو بہت لعن طعن کی۔
’’تمہاری سمجھ پرپتھر پڑ گئے ہیں صادق۔ تم الو کے پٹھے ہو۔ شریف عورت سے شادی کرکے خدا کی قسم تم پچھتاؤ گئے۔ یہ دنیا ایسی نہیں ہے۔ پروردگار کی قسم، جس میں شرافت سے شادی کی جائے۔ اس میں رنڈی اچھی رہتی ہے۔ تم شریف مت بنو۔ یاد رکھو اگر تم شریف بن گئے تو صوبہ بدر کردیے جاؤ گے۔ تم ہیرا منڈی میں رہو۔ یہاں صرف ایک صوبہ ہے جس میں سے تم بدر نہیں کیے جاسکتے اس لیے کہ اس کے ساتھ کوئی حاکم اپنا رشتہ قائم نہیں کرے گا۔ تم گدھے ہو۔ اپنا گھر یہیں بناؤ۔ اس سے بہتر جگہ تمہیں اور کوئی نہیں مل سکتی۔ ‘‘
صادق نے اپنے محلے میں ایک جگہ بات پکی کرلی تھی۔ جب خان نے اس کو سمجھایا بجھایا تو اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا لیکن وہ رنڈی سے شادی کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس نے مجھ سے کہا۔
’’میں نے اب شادی کا خیال ہی چھوڑ دیا ہے۔ میں خان کا کہنا ضرور مان لیتا مگر میرا دل نہیں مانتا۔ میں اب عیش کروں گا۔ ایک رنڈی کے پاس نہیں کئی رنڈیوں کے پاس جایا کروں گا۔ ‘‘
اور اس نے متعدد رنڈیوں کے ہاں جانا شروع کردیا۔ اسے اب کئی ٹھیکے مل گئے تھے۔ اس کے پاس دولت کی فراوانی تھی۔ ہیرا منڈی سے جب وہ موٹر میں گزرتا تو چاروں طرف کوٹھوں پر رنگین مسکراہٹیں تیتریوں کی طرح اڑنے لگتیں۔ اب وہ پھر نواب صاحب تھا۔ ہیرا منڈی کا نواب صاحب۔ پورے تین برس تک وہ کھل کھیلتا رہا، میرال خیال ہے، یہ غالباً خان کی اس کوشش کا رد عمل تھا جو اس نے صادق کو اپنے قالب میں ڈھانے کے لیے کی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے تجربات کا نچوڑ اس کے حلق میں ڈال کر اس کو اپنے جیسا بنا لے، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صادق ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔ وہ پورا اوباش بن گیا۔ جس راستے اس کو نفرت تھی، وہ اسی کا انتھک مسافر بن گیا۔ میں نے اس کو بارہا سمجھایا کہ دیکھو صادق باز آؤ۔ اپنی جوانی، اپنی صحت اور اپنی دولت یوں برباد نہ کرو۔ لیکن وہ نہ مانا۔ میری باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔
’’میری دنیا، کھوٹ کی دنیا ہے۔ اس میں ایک بٹا سو حصہ سیمنٹ ہوتا ہے۔ باقی سب ریت۔ اور وہ بھی جس میں آدھی مٹی ہوتی ہے۔ میری ٹھیکہ داری میں جو عمارت بنتی ہے۔ اس کی عمر اگر کاغذ پر پچاس سال ہے تو زمین پر دس سال ہوتی ہے۔ میں اپنے لیے پختہ گھر کیسے تعمیر کرسکتا ہوں۔ رنڈیاں ٹھیک ہیں۔ میں نے سوسائٹی کے اس ملبے کا بھی ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ ہر روز ایک نہ ایک بوری ڈھوکر ٹھکانے لگا دیتا ہوں۔ ‘‘
وہ بوریاں ڈھو ڈھو کر اپنی دانست میں ٹھکانے لگاتا رہا۔ میں نے اس سے ملنا جلنا بند کردیا۔ وہ بہت بدنام ہو چکا تھا۔ اسکو معلوم تھا کہ میں اس سے ناراض ہوں۔ لیکن اس نے مجھے منانے کی کوشش نہ کی۔ ڈیڑھ برس کے ایک دن اچانک وہ میرے پاس آیا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ بہت ضروری بات کہنا چاہتا ہے مگر نہیں کہہ سکتا۔ میں نے اس سے پوچھا۔
’’کچھ کہنے آئے ہو۔ ‘‘
اس نے جواب دیا۔
’’ہاں۔ میں شادی کررہا ہوں۔ ‘‘
’’کس سے؟‘‘
’’ایک رنڈی سے؟‘‘
مجھے بہت غصہ آیا۔
’’بکو نہیں۔ ‘‘
اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
’’میں مجبورہو گیا ہوں۔ ‘‘
میں چڑ گیا۔
’’مجبوری کیسی۔ ‘‘
صادق نے سر جھکا کر کہا۔
’’اس کے نطفہ ٹھہر گیا ہے۔ ‘‘
یہ سن کر میں خاموش ہو گیا۔ اس سے کیا کہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ صادقے نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور کہنا شروع کیا۔
’’میں مجبور ہو گیا ہوں۔ شادی کے سوا اب اور کوئی چارہ نہیں۔ ‘‘
صادق نے اس رنڈی سے شادی کرلی۔ مگر اس کے کوٹھے کو اس نے اپنا گھر نہ بنایا۔ ان لوگوں نے، یہ رنڈی جن کی روزی کا ٹھیکرہ تھی، بہت دنگا فساد کیا۔ مگر اس نے کوئی پرواہ قبول نہ کی۔ ہزاروں روپے پانی کی طرح بہا دیے اور آخر کامیاب ہو گیا۔ اس رنڈی کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس کی پیدائش کے چھ مہینے بعد صادق کے دل میں جانے کیا آئی کہ اس نے رنڈی کو طلاق دے دی اور اس سے کہا۔
’’تمہارا اصل مقام یہ گھر نہیں۔ ہیرا منڈی ہے۔ جاؤ اس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اس کو شریف بنا کر میں تم لوگوں کے کاروبار کے ساتھ ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ میں خود کاروباری آدمی ہوں۔ یہ نکتے اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ جاؤ، خدا میرے اس نطفے کے بھاگ اچھے کرے۔ لیکن دیکھو اسے نصیحت دیتی رہنا کہ کسی سے شادی کی غلطی کبھی نہ کرے۔ یہ غلط چیز ہے۔ ‘‘
معلوم نہیں، جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، صادقے کے متعلق زیادہ ہے یا خان کے متعلق۔ بہرحال مجھے یہ دونوں اسی صف کے آدمی معلوم ہوتے ہیں جس میں آپ کا بابو گوپی ناتھ موجود ہے۔ اور اس دنیا میں جہاں صوبہ بدر اورشہر بدر کیا جاسکتا ہو، ایسے آدمی ضرور موجود ہونے چاہئیں جن کو سوسائٹی اپنے اور اپنے بنائے ہوئے قوانین کے منہ پر طمانچے کے طور پر کبھی کبھی مار سکے۔

admin

Author: admin

Check Also

موچنا ۔ افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

نام اس کا مایا تھا۔ ناٹے قد کی عورت تھی۔ چہرہ بالوں سے بھرا ہوا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے