Home / متفرق مضامین / ٹیلی وژن کے لیے سکرپٹ نگاری

ٹیلی وژن کے لیے سکرپٹ نگاری

ٹیلی وژن کے لیے سکرپٹ نگاری
عنوانات
١۔کہانی
٢۔منظر نامہ
٣۔مکالمہ
٤۔اسکرپٹ کی ہیت
٥۔ شوٹنگ اسکرپٹ
ٹی وی پروگرام تیار کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ان ساری کارگزاریوں کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
۱۔ تخلیق سے قبل (Pre-Production)
۲۔تخلیق (Production)
۳۔ مابعد ِ تخلیق ((Post-Production
 تخلیق سے قبل کے عمل میں اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے۔ تمام فنکاروں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور سیٹ تیار کیے جاتے ہیں۔
 تخلیق میں شوٹنگ ہوتی ہے
 مابعدِ تخلیق میں ادارت یعنی ایڈیٹنگ کی جاتی ہے

ٹی وی سکرپٹ کی تعریف
ٹی وی سکرپٹ ایک ایسی تحریر ہے جس میں انسانی فکر، خیال اور احساس کو اس غرض سے تحریر کیا جاتا ہے کہ اس تحریر کی بنیاد پر کوئی ٹی وی پروگرام تیار کیا جاسکے۔ ٹی وی پروگرام میں سکرپٹ ڈھانچے کا کام کرتا ہے ۔ اس میں صوتی و بصری طرزِ اظہار کے تمام امکانات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے ۔
ٹی وی دوسری تمام تحریروں سے اس لیے مختلف ہے کہ سکرپٹ پڑھنے کے لیے نہیں لکھی جاتی بلکہ شوٹنگ کے لیے لکھی جاتی ہے اس لیے اس میں ان تمام باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ہدایت کار کو شوٹنگ کے لیے کام آئیں ۔ اور ان تمام چیزوں سے گریز کرنا چاہیے جن کا شوٹنگ میں استعمال نہ ہو سکے ۔
ٹی وی پر بہت سے پروگرام نشر ہوتے ہیں اور اسی مناسبت سے ان کی سکرپٹ بھی لکھی جاتی ہے ۔
ٹیلی فلم اور ٹی وی سیریل کی سکرپٹ
ٹیلی فلم اور ٹی وی سیریل کی سکرپٹ کے تین اجزا ہوتے ہیں ۔
 کہانی
 منظر
 مکالمہ
ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی سے مراد ان واقعات اور کرداروں کی تفصیل ہے جو پروگرام میں پیش آئیں گے ۔ سکرپٹ کی کہانی میں زبان اور بیان کی بجائے اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ اس میں واقعات کون کون سے کس کے ساتھ اور کب پیش آئیں گے ۔ اسکرپٹ کی کہانی تین مراحل میں تکمیل کو پہنچتی ہے ۔ یہ مراحل ہیں
 بنیادی خیال (Basic Idea )
 بنیادی خیال کی توسیع ( Extension of Basic Idea )
 اسکرپٹ کا خاکہ ( Step out-lien)
جس موضوع ، فکر ، خیال اور احساس کو پروگرام کا مرکزی خیال اہمیت دیتا ہے اور پورے پروگرام کی کہانی اس کے ارد گرد بنتا ہے وہی ٹی وی پروگرام کا بنیادی خیال ہوتا ہے ۔ یہ بنیادی خیال کوئی ایک کردار بھی ہوسکتا ہے اور اس کا پروگرام کا ماحاصل بھی ۔
بنیادی خیال کے تعین کے بعد بنیادی خیال کی توسیع کی جاتی ہے اور اسی دوران ہی اصل کہانی تشکیل پاتی ہے ۔ بنیادی خیال کی توسیع بھی تین مراحل میں ہوتی ہے ۔ ان مراحل سے گزرنے سے کہانی آسانی سے مکمل ہوجاتی ہے ۔ یہ تین مراحل یہ ہیں۔
 دومنٹ کی کہانی یا فلم (Two minute story)
 ٹریٹمنٹ (Treatment)
 قسطوں میں تقسیم اور کمرشل کا وقفہ ( Dividing in Episode and commercial )
بنیادی خیال کے بعد اسے دومنٹ کی کہانی یا فلم میں تبدیل کرتے ہیں جو ایک طرح سے کہانی کی Synopsis ہوتی ہے اور آدھے سے ایک صفحے تک کی ہوتی ہے ۔ دو منٹ کی کہانی تین ابواب پر مشتمل ہوتی ہے ۔
پہلے باب میں کرداروں اور موضوع کا تعارف ہوتا ہے
دوسرے باب میں اہم کردار ور واقعات Climax پر پہنچتے ہیں
اور تیسرے باب میں تمام مسائل کا حل نکلتا ہے جسے Resolution کہتے ہیں ۔
دو منٹ کی کہانی کے بعد کہانی کو تفصیل سے لکھتے ہیں جسے ٹریٹمنٹ کہتے ہیں ۔ ٹریٹمنٹ میں دو چیزوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔
1.Ambiance
2. Highlights
Ambiance سے سیریل کا ماحول اور کردار اور علاقہ ، سماج اور طبقے کا پتا چلتا ہے ۔ جبکہ Highlights سے سیریل کی خاص خاص باتیں پتا چلتی ہیں ۔ ٹریٹمنٹ سے کہانی کے پیش کرنے کا طریقہ بھی پتا چلتا ہے اس میں نہ صرف اہم واقعات کرداروں کے ماحول اور واقعات کا ذکر کرتے ہیں بلکہ اس میں اچھی شوٹنگ کے کیا امکانات ہیں اس کے بارے میں بھی لکھتے ہیں ۔ اس میں اہم کرداروں کی ذہنی کیفیت ان کی زندگی کی کیفیت ، کشمکش، مختلف واقعات کس طرح سے اثر انداز ہو رہے ہیں ان سب کی تفصیل بھی لکھتے ہیں ۔
ٹریٹمنٹ کے بعد کہانی کو قسطوں اور کمرشل وقفوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ ٹی وی سیریل اپنی نشریات کے اعتبار سے مختلف قسم کے ہوتے ہیں ۔ کچھ بس ایک قسط میں ختم ہوجاتے ہیں ، کچھ ہفتہ وار، کچھ ہفتہ میں دو بار اور کچھ ہفتے میں پانچ دن اس لیے یہ سیریل قسطوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں ۔ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ بہت لمبے سیریل کی کہانی پہلے ہی مکمل نہیں کر لی جاتی ۔ بلکہ اس کا کچھ حصہ مکمل کر لیا جاتا ہے اور اسے شوٹ کر کے نشر کر لیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد جن حصوں کو زیادہ مقبولیت ملتی ہے ان میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور جب سیریل ختم ہو تا ہے تو اصل کہانی کی طرف واپس آتے ہیں ۔ ایک قسط کی کہانی جب انجام کو پہنچنے والی ہوتی ہے تواچانک ایک نیا موڑ آجاتا ہے اور قسط وہیں ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ نیا موڑ بہت ہی پر تجسس ہونا چاہیے جس سے ناظرین اگلی قسط دیکھنے کے لیے مجبور ہو جائیں ۔ اس نئے موڑ کو ٹی وی کی زبان میں کانٹا کہتے ہیں ۔ اور اسی کانٹے کے ذریعے ناظرین کا اگلی قسط تک پھنسائے رکھنا ہوتا ہے ۔
ٹی وی سیریل میں ہر پانچ ، چھ منٹ بعد اشتہار نشر ہوتے ہیں جس سے کہانی میں ایک وقفہ آجاتا ہے ۔ دو وقفوں کے درمیان کا جو حصہ ہوتا ہے اس کو بھی ایک قسط کی طرح مان کر کہانی تیار کی جاتی ہے اور ہر کمرشل وقفے سے قبل بھی ایک ایک کانٹے کی ضرور ت ہوتی ہے ۔ اشتہار کے بعد کے حصے کو ناظرین دیکھنے کے لیے بے چین رہیں ۔
بنیادی خیال کی توسیع کے تین مراحل مکمل ہونے کو بعد کہانی کا Step out line یعنی اسکرپٹ کا خاکہ تیار کرتے ہیں ۔ Step Outline میں سیریل کی ترتیب واری پوری کہانی تیار کر لی جاتی ہے ۔ اس میں مناظر کی ترتیب اور ہر سین کے اہم واقعا ت درج ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی کچھ اہم مکالمے بھی لکھ دیے جاتے ہیں ۔ اس Step outline میں ہر سین کا ایک خاص مواد تیار رہتا ہے ۔
Step outline ان سیریل میں نہایت ضروری ہو جاتا ہے جو کافی لمبے ہوتے ہیں اور ہفتے میں پانچ دن نشر ہوتے ہیں ۔ ایسے سیریلز میں سکرپٹ نگاروں کی ایک پوری ٹیم کام کرتی ہے ۔ اس طر ح اصل سکرپٹ نگار پوری کہانی کا Step outline بنا کر دے دیتا ہے باقی کام دوسرے سکرپٹ نگار کرتے ہیں ۔ اور کہانی میں اسطرح سے یکسانیت بھی قائم رہتی ہے ۔
Step outline کے ساتھ ہی ٹی وی سیریل یا ٹیلی فلم کی کی کہانی مکمل ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد سکرین پلے یا منظر نامہ اور مکالمے لکھے جاتے ہیں ۔ لیکن منظر نامہ کے مرحلے میں داخل ہونے سے قبل ٹی وی سکرپٹ کی کہانی کی کچھ امتیازی جان لینا بہت ضروری ہے ۔
ٹی وی میں کسی بھی واقعے کو فعل حال ہوتے ہوئے دکھایا جاتاہے ۔ اگر کبھی ماضی کے حالات بھی دکھانے ہوں تو ایک تکنیک کے ذریعے ماضی میں جاتے ہوئے دکھاتے ہیں ۔ لیکن ماضی میں پہنچنے کے بعد ماضی کو بھی حال میں ہی ہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کہانی بنیادی طور پر ماضی کی کہانی ہوتی ہے۔
ادبی کہانی میں بیانیہ اور زبان بہت اہم ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی میں زبان اور بیانیہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی صرف اسکرپٹ لکھنے کے لیے لکھی جاتی ہے ، اس کے بعد کہانی کا کوئی استعمال نہیں ہوتا ۔ یہاں بیانیہ کا کام کیمرہ کرتا ہے اور زبان کی اہمیت صرف مکالموں میں ہوتی ہے ۔
ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی میں واقعات اور کرداروں کی خارجی حرکات و سکنات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ ان کی نفسیات ، فلسفے اور داخلی کشمکش کے لیے ٹی وی کی کہانی میں بہت کم گنجائش ہوتی ہے ۔
ادبی اور ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی کے فرق کو اس مثال کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے ۔ جیسے
عائشہ بہت خوبصورت اور نیک سیرت لڑکی تھی ۔
یہ ایک ادبی کہانی کہلائے گی ۔ لیکن جب اسی بات کو ٹی وی اسکرپٹ کی کہانی کے طور پر لکھیں گے تو اس طر لکھیں گے ۔
عائشہ بہت خوبصورت اور نیک سیرت لڑکی ہوتی ہے ۔
اگرچہ کسی ٹی وی پروگرام میں کہانی کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ اور اس کی کامیابی کا بڑا دار و مدار اس کی کہانی پر ہی منحصر ہوتا ہے لیکن درا صل اسکرپٹ میں کہانی ایک خام مواد کا کام کرتی ہے ۔ یعنی جب کہانی Step outline تک پہنچ جاتی ہے ۔ تب اصل سکرپٹ لکھنا شروع کرتے ہیں ۔ جو شوٹنگ کے کام آتی ہے ۔ اصل اسکرپٹ میں منظر نامہ اور مکالمے ہی ہوتے ہیں وہاں کہانی غائب ہوجاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر نامہ لکھنے سے قبل کچھ تکنیکی اصطلاحات کے معنی اور مفہوم سمجھ لینا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ ان کو سمجھے بغیر منظر نامہ نہیں لکھا جا سکتا ہے ۔ یوں تو کیمرے سے متعلق بہت سی اصطلاحات ہیں لیکن ان میں سے چند بہت اہم ہیں جنہیں ایک سکرپٹ نگار کا جان لینا بہت ضروری ہے ۔ یہ اصطلاحات اس طرح سے ہیں ۔
۱۔ سین
۲۔ شاٹ
۳۔ آؤٹ ڈور
۴۔ ان ڈور
۵۔ فریم
کہانی میں کسی ایک مخصوص جگہ یا مقام پر لگاتار جب کوئی واقعہ ہوتا رہے یہ واقعہ سین کہلاتا ہے ۔
اگر کہانی کے تسلسل کے مطابق ایک لمحے کے لیے بھی کہانی اس جگہ سے ہٹے اور اس کے بعد پھر وہیں واپس آجائے تو اس دوران تین سین ہو جائیں گے ۔ پہلا سین پہلی جگہ پر ، دوسرا سین جہاں گئے تھے اور تیسر ا سین پھر وہی پہلی جگہ پر مانا جائے گا ۔
سین بنیادی طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں آؤٹ ڈور اور ان ڈور ۔آوٹ ڈور سین وہ سین ہوتے ہیں کھلے آسمان میں بغیر دیوار و در کی جگہ پر شوٹ کیا جائے ۔ جبکہ ان ڈور سین وہ ہوتا ہے جو دیوار و در کے درمیان یا اسٹوڈیو میں شوٹ کیا جائے ۔
کسی بھی سین کو شوٹ کرنے کے لیے جب تک کیمرہ بغیر کسی وقفے کے چلتا رہے تو یہ ایک شاٹ کہلاتا ہے ۔ جب کیمرہ کو روک کے دوبارہ شوٹ کرنا شروع کرتے ہیں ۔ تو یہ دوسرا شاٹ کہلاتا ہے
کسی مخصوص لمحے میں کیمرہ جتنے دائرے کو دکھاتا ہے وہ دائرہ اس وقت کیمرے کا فریم کہلاتا ہے ۔ دراصل فریم ایک سٹل پکچر ہوتی ہے لیکن فریم اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ٹی وی کیمرہ جاندار یعنی لائیو محسوس ہوتا ہے ۔
شاٹ کئی قسم کے ہوتے ہیں مثلاً مڈ شاٹ ، لانگ شاٹ اور کلوز اپ شاٹس وغیرہ۔
ٹی وی پروگرام کا منظر نامہ لکھنے کا طریقہ
کسی بھی ٹی وی پروگرام کا منظر نامہ لکھنا بہت تخلیقی اور نہائت تکنیکی کام بھی ہے ۔ سکرین پلے میں کسی بھی سین کی تمام اشیا اور اداکاروں کی حرکات اور ان کے احساس و جذبات کو لکھا جاتا ہے جیسے ایک سین میں کتنے کردار ہیں ۔ اس جگہ کون کون سی چیزیں موجود ہیں اور ان سے اداکاروں کا کیا رشتہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔
منظر نامہ
منظر نامہ دراصل سین در سین لکھا جاتا ہے ۔ منظر نامہ لکھنے کے لیے سب سے قبل سین نمبر لکھتے ہیں ۔ پھر سین کا وقت لکھا جاتا ہے ، یعنی سین دن کا ہے یا رات کا لکھا جاتا ہے ۔ پھر سین کی لوکیشن یعنی سین ان ڈور ہے یا آؤ ٹ دور لکھا جاتا ہے ۔ پھر آخر میں سین جس جگہ پر ہے اس کی تفصیل لکھتے ہیں ۔ کیونکہ کوئی بھی واردات وقت اور مقام سے پرے نہیں ہو سکتی ۔

مکالمہ
ٹی وی سیریل اور ٹیلی فلم اداکار جن جملوں کو بولتے ہیں انہیں مکالمہ کہتے ہیں ۔ مکالمہ ٹی وی سکرپٹ کی جان ہو تی ہے اور سکرپٹ نگار کا واحد کارنامہ مکالمہ ہوتا ہے جو براہِ راست ناظرین پہنچتا ہے ۔ سکرپٹ نگاری کے ذریعے لکھے گئے مکالمے جب اداکاروں کے ادا کرنے بعد صوتی شکل میں ناظرین تک پہنچتے ہیں تو ان میں ایک نئی جان آجاتی ہے ۔
مکالمے کئی طرح کے ہوتے ہیں ، حقیقی ، مبالغہ آمیز اور حقیقت سے کم کرکے کوئی بات کہنا۔ لیکن ان مکالموں کی سب سے اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ مکالمے کرداروں کی مناسبت سے ہی لکھے جاتے ہیں ۔یعنی جس طرح کا کردار ہے اسی طرح کے مکالمے ہونے چاہیں ۔
اگر کردار سنجیدہ یا مزاحیہ ہے تو اس کے مکالموں سے سنجیدہ یا مزاحیہ پن جھلکنا چاہیے ۔ مکالمے میں کردار کی نفسیات اس کا سماجی و معاشی پسِ منظر، اس کی ذات یا قبیلہ ، تعلیم ، صحت، سیاسی و مذہبی وابستگی ، وغیرہ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔
شوٹنگ اسکرپٹ اور سکرپٹ کی ہیئت
جب سکرپٹ نگار سکرپٹ مکمل کرکے ہدایت کار کو دے دیتا ہے تو ہدایت کار کیمرہ پرسن اور معاون ہدایت کار کے ساتھ مل کر ایک ایک سین کو سامنے رکھ کر ایک خاکہ تیار کرتا ہے کہ اس سین کو شوٹ کرنے کے لیے کتنے شاٹ لینے ہونگے ، وہ شاٹ کون کون سے ہوں گے اور ہر شاٹ میں کیمرہ موومنٹ کیا ہوں گی ۔ ان تفصیلات کے ساتھ لکھی گئی سکرپٹ کو ہی شوٹنگ سکرپٹ کہتے ہیں ۔
ٹی وی سکرپٹ ایک مخصوص شکل میں لکھی جاتی ہے ۔ اس کے مختلف اشکال رائج ہیں جن میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ یہ ہدایت کار ، سکرپٹ نگار کہ وہ کس ہیئت میں سکرپٹ لکھتاہے ۔ سکرپٹ کی ہیئت کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ پوری سکرپٹ مختلف مناظر میں تقسیم ہوتی ہے اور سین کی اکائیوں میں لکھی اور سوچی جاتی ہے ۔
سکرپٹ کسی بھی شکل میں لیکن سین نمبر ، دن یا رات ، آٓوٹ یا ان ڈور یا وہ مخصوص مقام جہاں وہ واقعہ ہوتا ہے کی تفصیل ہر ہیئت میں سین کے پہلے لکھی جاتی ہے ۔ سکرپٹ لکھنے کی کچھ چندہئتیں کچھ اس طر ح سے ہیں ۔
ہئیت ۔ ۱
سین۔ ۱
اندر/اکبر کے دوست کی پارٹی /رات
سکرین پلے مکالمے
کیمرہ لانگ شاٹ میں اکبر کے دوست کی پارٹی کو دکھا رہا ہے ۔ پھر زوم ہو کر اکبر اور اسکے دوست کے چہرے پر مرکوز ہوتا ہے ۔ پھر پین ہو کر دوسری طرف کو ہو جاتا ہے جہان جبین اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ ہنس بول رہی ہے ۔ اکبر: ارے یہ تو جبین لگ رہی ہے ۔
ندیم: ہاں ابھی پرسوں اچانک میری ملاقات ہوگئی میں نے انہیں مدعو کیا ۔
اس ہئیت میں مکالمے اور سکرین پلے الگ الگ کھا جاتا ہے ۔
ہیئت ۔۲
اس ہئیت میں مکالمہ اور منظر نامہ ساتھ ساتھ لکھا جاتا ہے ۔
سین۔ ۱
اندر/اکبر کے دوست کی پارٹی /رات
(اکبر اپنے دوست ندیم کی پارٹی میں )
اکبر: ارے یہ تو جبین لگ رہی ہے ۔
ندیم: ہاں ابھی پرسوں اچانک میری ملاقات ہوگئی میں نے انہیں مدعو کیا۔
ہئیت ۔۳
سین ۔۱
اندر/اکبر کے دوست کی پارٹی /رات
کیمرہ لانگ شاٹ میں اکبر کے دوست کی پارٹی کو دکھا رہا ہے ۔ پھر زوم ہو کر اکبر اور اسکے دوست کے چہرے پر مرکوز ہوتا ہے ۔ پھر پین ہو کر دوسری طرف کو ہو جاتا ہے جہان جبین اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ ہنس بول رہی ہے ۔ اصغر کی نظریں جبیں پر پڑتی ہیں تو وہ بول اٹھتا ہے ۔
ارے یہ تو جبین لگ رہی ہے
ندیم جواب دیتا ہے ۔
ہاں ! ابھی پرسوں اچانک میری ملاقات ہوگئی میں نے انہیں مدعو کیا ۔

تو اس طرح تین ہئیتوں میں سکرپٹ لکھی جاسکتی ہے ۔ اب یہ ڈائیریکٹر پر ہے کہ وہ کون سی ہیئت کو پسند کرتا ہے ۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے