Home / ادب نامہ / نثر / قرۃ العین حیدر کے افسانے / پرواز کے بعد افسانہ قرۃ العین حیدر

پرواز کے بعد افسانہ قرۃ العین حیدر

جیسے کہیں خواب میں جنجر راجرز یا ڈائنا ڈربن کی آواز میں ’’سان فرینڈ وویلی‘‘ کا نغمہ گایا جا رہا ہو اور پھر ایک دم سے آنکھ کھل جائے۔ یعنی وہ کچھ ایسا سا تھا جیسے مائیکل اینجلو نے ایک تصویر کو مکمل کرتے کرتے اُکتا کر یوں ہی چھوڑ دیا ہو اور خود کسی زیادہ دلچسپ موڈل کی طرف متوجہ ہو گیا ہو، لیکن پھر بھی اس کی سنجیدہ سی ہنسی کہہ رہی تھی کہ بھئی میں ایسا ہوں کہ دنیا کے سارے مصور اور سارے سنگ تراش اپنی پوری کوشش کے باوجود مجھ جیسا شاہکار نہیں بنا سکتے۔ چپکے چپکے مسکرائے جاؤ بے وقوفو! شاید تمھیں بعد میں افسوس کرنا پڑے۔
گرمی زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ پام کے پتوں پر جو مالی نے اوپر سے پانی گرایا تھا تو گرد کہیں کہیں سے دھل گئی تھی اور کہیں کہیں اسی طرح باقی تھی۔ اور بھیگتی ہوئی رات کوشش کر رہی تھی کہ کچھ رومینٹک سی بن جائے۔ وہ برفیلی لڑکی، جو ہمیشہ سفید غرارے اور سفید دوپٹے میں اپنے آپ کو سب سے بلند اور الگ سا محسوس کروانے پر مجبور کرتی تھی، بہت خاموشی سے ہکسلے کی ایک کتاب ’’پوائنٹ کاؤنٹر پوائنٹ‘‘ پڑھے جا رہی تھی جس کے ایک لفظ کا مطلب بھی اس کی سمجھ میں نہ ٹھنس سکا تھا۔
وہ لیمپ کی سفید روشنی میں اتنی زرد اور غمگین نظر آ رہی تھی جیسے اس کے برگنڈی کیوٹکس کی ساری شیشیاں فرش پر گر کے ٹوٹ گئی ہوں یا اس کے فیڈو کو سخت زکام ہو گیا ہو–اور لگ رہا تھا جیسے ایک چھوٹے سے گلیشیر پر آفتاب کی کرنیں بکھر رہی ہیں۔
چنانچہ اس دوسری آتشیں لڑکی نے ، جو سینئر بی.ایس.سی کی طالب علم ہونے کی وجہ سے زیادہ پریکٹیکل تھی اور جو اس وقت برآمدے کے سبز جنگلے پر بیٹھی گملے میں سے ایک شاخ توڑ کر اس کی کمپاؤنڈ اور ڈبل کمپاؤنڈ پتیوں کے مطالعے میں مصروف تھی، اس برفیلی لڑکی کو یہ رائے دی تھی کہ اگر گرمی زیادہ ہے تو ’’پوائنٹ کاؤنٹر پوائنٹ‘‘ پڑھنے کے بجائے سو جاؤ یا پھر نئے ریفریجریٹر میں ٹھنس کر بیٹھ جاؤ، اس کا اثر دماغ کے لیے مفید ہو گا لیکن چونکہ یہ تجویز قطعی ناقابلِ عمل تھی اور کوئی دوسرا مشورہ اس سائنس کے طالب علم کے ذہن میں اس وقت نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ برفیلی لڑکی رخشندہ سلطانہ اسی طرح ہکسلے سے دماغ لڑاتی رہی اور وہ آتشیں لڑکی شاہندہ بانو پیر ہلا ہلا کر ایک گیت گانے لگی جو اس نے فرسٹ اسٹینڈرڈ میں سیکھا تھا اور جس کا مطلب تھا کہ جب شاہ جارج کے سرخ لباس والے سپاہیوں کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز بازگشت ہماری پرانی اسکاٹسز پہاڑیوں کے سنّاٹے میں ڈوب جائے گی اور اپریل کے مہتاب کا طلائی بجرا موسم بہار کے آسمانوں کی نیلی لہروں میں تیرتا ہوا تمھارے باورچی خانے کی چمنی کے اوپر پہنچ جائے گا اس وقت تم وادی کے نشیب میں میرے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنوگی۔ اے سرائے کے مالک کی سیاہ آنکھوں اور سرخ لبوں والی بیٹی!
لیکن رات خاصی گرم ہوتی جا رہی تھی اور ماہم کا ایک کونہ، جو سمندر میں دور تک نکلا چلا گیا تھا، اس پر ناریل کے جھنڈ کے پیچھے سے چاند طلوع ہو رہا تھا اور دور ایک جزیرے پر ایستادہ پرانے کیتھیڈرل میں گھنٹے کی گونج اور دعائے نیم شبی کی لہریں لرزاں تھیں اور اس وقت مائیکل اینجلو کے ادھورے سے شاہکار جم کو ایک بڑی عجیب سی ناقابلِ تشریح کوفت اور الجھن سی محسوس ہو رہی تھی جس کا تجزیہ وہ کسی طرح بھی نہ کرسکتا تھا– حالانکہ وہ مطمئن تھا کہ ایسے حادثے وہاں تقریباً روز شام کو ہو جاتے ہیں — پھر بھی وہ یک لخت بہت پریشان سا ہو گیا تھا۔
کیونکہ آج دوپہر اس کو بہت تلخی سے یہ احساس ہوا تھا کہ وہ مغرور، پھولے پھولے بالوں والی برفیلی سی لڑکی، جوہر وقت اپنے مجسموں پر جھکی رہتی ہے ، اوروں سے کس قدر زیادہ مختلف ہے۔ جب اس نے اس چھوٹے سے قد والی لڑکی سے ، جس کی چھوٹی سی ناک پر بے اختیار پیار آ جاتا تھا اور جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد احتیاط سے پاؤڈر کر لیتی تھی اور جس کی بڑے سے گھیر کی زرد ٹوپی پر گہرے سبز شنائل کی ٹہنیوں سپندھے ہوئے چیری کے مصنوعی شگوفے سج رہے تھے ، بے حد اخلاق کے لہجے میں پوچھا تھا کہ میرے ساتھ شام کو کھانا کھانے چلو گی تو اس نے جواب دیا تھا: ’’ہاں چلو۔‘‘ اور پھر وہ اس کے ساتھ ہلکے پھلکے قدموں سے زینہ طے کر نیچے سڑک پر آ گئی تھی اور بس اسٹینڈ کی طرف بڑھتے ہوئے اس چھوٹی سی لڑکی نے جس کی طرح کی لڑکیاں اپالو بندر یا کناٹ پلیس میں تیزی سے ادھر ادھر جاتی نظر آتی ہیں ، اس سے پوچھا تھا: ’’تم نے اسکول کب سے جوائن کیا ہے ؟‘‘
’’ابھی ایک ٹرم بھی پوری نہیں ہوئی۔‘‘ اور نام کیا ہے تمھارا؟‘‘
’’مگ– میگڈیلین ڈی کوڈرا۔‘‘ ’’اور تمھارا؟‘‘
’’جم– جمال– جمال انور — جو تم پسند کرو۔‘‘
اور پھر وہ دونوں بس اسٹیشن کے مجمع میں رل مل گئے تھے اور ان کے جانے کے بعد برفیلی لڑکی اپنے بال پیچھے کو سمیٹ کر اپنے دن بھر کے کام کو غور سے دیکھتی ہوئی اپنی کار کے انتظار میں کلاس روم کی کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی۔
اور وہ پیاری سی ناک والی مگ روز، شام کی طرح، خداوند خدا کی کنواری ماں کی تصویر کے آگے شمع روشن کرتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ مجسموں میں اگر احساس زندگی پیدا ہو جائے تو بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ اور پھر بھلا نتائج پر کون غور کرتا پھرے۔ طوفانی لہروں کا ایک ریلا جو ساحلوں سے ٹکراتا پھر رہا تھا سیاہ آنکھوں والا فن کار کی گرم سانسوں نے اس سرد اور بے روح مجسمے میں جان ڈال دی تھی۔ گلیشیا کی طرح — لیکن یہ بہت پرانی بات تھی۔ کاش کارل مسل ٹوکے نیچے اس سے کبھی نہ ملتا۔ بیگ، جس نے اپنی عمران سرد مجسموں کی معیت میں گزار دی تھی جو اس کے چھوٹے سے قصبے کی خانقاہ کے بھورے پتھروں والے اندھیرے ہال اور دوسرے کمروں میں پھیلے پڑے تھے۔ برسوں سے ایک ہی طرح سینٹ اگنس، سینٹ فرانس اور سینٹ جارج–زندگی منجمد پتھروں کا ایک ڈھیر تھی اور پیدا ہونے کے جرم کی پاداش، Ave Maria کی خوابیدہ موسیقی کی کتاب کا نیلا ربن–پر بہت پرانی بات تھی یہ۔
پھر اس کی آنکھیں نیوریلجیا کے شدید درد سے بند ہونے لگیں اور وہ اپنے ننھے سے سفید پلنگ پر گر گئی۔ کارل اور اس کا گتار، کارل کی رابرٹ ٹیلر جیسی ناک جس پر ایک شام روشن ایرانی نے غصے میں آ کر ایک مکہ رسید کیا تھا۔ روشن ایرانی اور اعظم مسعود اور آفتاب، جم کے وہ تین بوہیمین قسم کے دوست جو دن بھر برٹش نیوز ایجنسی میں کام کرنے کے بعد شام کو پیانو بجا بجا کر شور مچایا کرتے تھے۔ پھر گیٹ وے آف انڈیا کی محرابوں کے وہ اندھیرے سائے ، وہ ہسپانوی سرینیڈ۔
کلاس میں وہ برفیلی لڑکی ایک آدھ بار بے پرواہی سے نظر اٹھا کر اسے دیکھتی اور پھر بڑی مصروفیت سے مجسمے پر جھک کر اس کے پیر تراشنے لگتی اور مائیکل ایبخلو کے شاہکار کے اودے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر کے رہ جاتی۔
اور مئی کی بہت سی راتیں اسی طرح گزر گئیں۔
بولیوار کے درختوں کے سائے میں ، کھلے آسمان اور چمکتے ستاروں کے نیچے ، موسم گرما کا جشن منانے والے رخشندہ کو وہ سارے پرانے گیت یاد دلائے دے رہے تھے جن کی دھنیں سنتے ہی اس کا دل ڈوب سا جاتا تھا۔ ٹارا لارا– ٹارا لارا جون پیل– روز ماری– گڈ نائٹ مائی لو– مرایا ایلینی– چاندنی میں ڈوبے ہوئے سمندری ریت کے ٹھنڈے ٹیلوں پر سے دوسرے ساتھیوں کے گیتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ریت پر ٹہلتے ٹہلتے تھک کر رخشندہ کہنے لگی: ’’برج ماتا کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم سب ایک دوسرے کو غمگین بنائے بغیر زندگی گزار سکیں اور سارے کام ہمیشہ ٹھیک ٹھیک ہوا کریں۔ دنیا کے یہ عقل مند لوگ–‘‘
رات خاموش ہوتی جا رہی تھی۔ برج کو اس سمے خیال آیا کہ اس نے ایک فلم میں ، شاید ’’بلڈ اینڈ سینڈ‘‘ میں ، ایک بے حد پیارا جملہ سنا تھا جو اس کو اب تک یاد تھا:
"Madam, walking along in life with you has been a gracious time”
رخشندہ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور ان کے قدموں کے نشان ریت پر ان کے پیچھے پیچھے بنتے جا رہے تھے اور بحیرۂ عرب کی نیلی نیلی ٹھنڈی موجیں ان کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ رخشندہ رانی، چاند ہنس رہا ہے ، تم بھی مسکرا دو–
اوہ انکل ٹوبی– تم اتنے اچھے سے ہو۔ میں سچ مچ بے انتہا بے وقوف ہو گئی ہوں۔ کیونکہ اس نے سنا تھا کہ اس کا ہونے والا منگیتر ممبئی اسکول آف اکنومکس سے ڈگری لینے کے بعد گھر واپس جانے کے بجائے یہاں صرف اس لیے رہتا ہے کیونکہ یہاں اس کی ایک کیپ موجود ہے اور وہ ڈرنک بھی کرتا ہے اور موسم گرما کی چاندنی راتوں میں اپنے بوہیمین دوستوں کے ساتھ اپنی سرخ گرجتی ہوئی کار میں ورسووا اور جو ہو کی سڑکوں پر مارا مارا پھر تا ہے — اور آتشیں لڑکی نے چلا کر کہا تھا: اوہ تم کیسی پاگل ہو۔ اوہ خد–
اوہ خد– وہ کیسے دن تھے — وہ کیا زمانہ تھا۔ انیس بیس سے لے کر چوبیس پچیس سال تک کی وہ عمریں — ذرا ذرا سی بات، معمولی سے واقعات، جذبات کی لہریں ، بڑی زبردست ٹریجڈی یا کامیڈی یا میلوڈراما معلوم ہوتی تھیں۔ وہ چاروں دوست ایک دوسرے کے خیالات و افکار، دکھ سکھ اور محبتوں کے شریک۔ مہینے کے آخر میں رومن رولاں یا شاکی کتابیں خریدنے کے لیے اپنا فاؤنٹین پن بیچنے کو تیار۔مگ کی حفاظت اور عزت کی خاطر کارل کی دل کش ناک پر مکہ رسید کرنے کو مستعد۔ شام کو مادرِ مقدس کی تصویر کے سامنے شمع جلانے کے بعد مگ ان کے لیے چائے تیار کرتی۔ ان کے اور بہت سے دوست آتے اور وہ سب دیوان پر، صوفے پر، قالینوں پر بیٹھ کر مصری تمباکو کا دھواں اڑاتے ہوئے جانے کیا کیا باتیں کرتے رہتے — لمبی لمبی بحثیں اور تنقیدیں جن کو وہ بالکل نہ سمجھ سکتی۔
آسکر وائلڈ کی زندگی، ڈی.ایچ. لارنس، لیگی وزارتوں کی چپقلش، ریڈ اسٹار اور رشیا، بنگال، خدا اور مذہب– اور اکثر وہ جوش میں آ کر ایسی ایسی باتیں کہہ جاتے کہ وہ خوف سے لرز اٹھتی اور مریم کی طرف عفو طلب نگاہیں اٹھا دیتی۔ پھر کوئی چیز ان کی مرضی کے خلاف ہو جاتی تو وہ اسے ڈانٹ دیتے تھے۔ مہینہ ختم ہونے سے بہت پہلے اگر پٹرول کے کوپن تمام ہو جائے یا بار بار ری ٹچنگ کرنے پر بھی کوئی تصویر درست نہ ہو سکتی یا فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے سے قبل ہی پکنکوں اور سینما کے ٹکٹوں پر سارا روپیہ ختم ہو جاتا تو وہ چاروں فوراً اپنے آپ کو wrecks of life سمجھنے پر مستعد ہو جاتے اور یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتے کہ وہ فن کار ہیں اس لیے زندگی کے ان زبردست مصائب میں گرفتار ہیں – اور مگ کو ان کے بچپن پر پیار آ جاتا۔
–اومیگڈلین– او موسم گل کے نیلے پرندو–
بحیرۂ عرب سے اٹھنے والے بھاری بھاری بادل 23 کالج روڈ، ماٹنگا کے اس فلیٹ کی جانب اڑتے چلے آ رہے تھے جس کے نیچے ایک سیاہ بیوک آ کر رکی۔ اور زینے طے کرنے کے بعد دروازے پر پہنچ کر کسی نے زور سے گھنٹی بجائی اور چمکیلے پتھروں سے سجی ہوئی دو شان دار خواتین اندر آ کر صوفے پر اس طرح بیٹھ گئیں گویا ایسا کرنے کا انھیں پورا پورا حق حاصل تھا۔ تین دوست گھبرا کر تعظیماً اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور پھر کمرے میں ایک عجیب حساس سی خاموشی طاری ہو گئی۔ کھڑکیوں کے باہر بادل آہستہ آہستہ گرج رہے تھے۔
’’آپ جمال انور احمد کے دوست ہیں نا؟‘‘ اس خاتون نے ، جس کے اونچے اونچے ہالی ووڈ اسٹائل کے بال تھے ، ساری کے آنچل کو بازو پر لپیٹتے ہوئے گہری آواز میں پوچھا۔ وہی ڈرامہ شروع ہونے والا تھا جو ایسے موقعوں پر آج تک ہزاروں مرتبہ کھیلا جا چکا ہے۔
’’وہ عورت کون ہے جس کے ساتھ وہ یہاں رہتا ہے ؟‘‘ دوسری، زیادہ فربہ خاتون نے سوال کیا۔ عورت– انھوں نے مگ کو ایک پیاری سی، معصوم سی، رنگین تصویر کے سوائے اور کسی زاویۂ نظر سے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
عورت– اس کے لیے بڑا بھونڈا لفظ تھ– وہ تو یاسمین کی کلیوں کا خواب تھی۔ بس وہ سوچنے لگے کہ ان شہزادیوں جیسی عالی شان خواتین سے کن الفاظ میں اور کس طریقے سے بات کریں۔ پہلی کم عمر خاتون نے یہ خیال کر کے کہ شاید یہ جرنلسٹ اور فن کار ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ذرا نرمی سے پوچھا:
’’میرا مطلب ہے کہ وہ خاتون کون ہیں اور یہاں کب سے ……‘‘ مگ کے لیے ’’خاتون‘‘ کا لفظ بھی بڑا عجیب سا معلوم ہوا۔ مگ تو بس مگ تھی۔ یاسمین کی ایک بڑی سی کلی۔
’’آپ انھیں جانتے ہیں ؟‘‘
’’جی ہاں ، بہت اچھی طرح سے۔‘‘
’’معلوم ہوا ہے کہ ایک مس میگڈلین ڈی کورڈ–‘‘
’’جی– جی ہاں درست بالکل– جی–‘‘
وہ تینوں ایک دم پھر پریشان ہو گئے۔ معاف فرمائیے گا یہ– یہ ہم کو نہیں معلوم۔‘‘
’’خوب– اور انھیں آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ‘‘
’’کیا یہ لڑکی کسی با عزت طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘ دوسری خاتون نے بزرگانہ بلندی سے کہا۔
با عزت طبقہ– مگ کے متعلق یہ ایک نیا انکشاف تھا جو پہلے ان کے دماغ میں کبھی نہ آیا تھا۔ ان تینوں میں سے ایک چپکے سے دیوان پر سے اٹھ کر پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا۔
’’با عزت– ار– دیکھیے اس لفظ کو مختلف معنوں میں لیا جا سکتا ہے — خصوصاً اس شہر کی سوسائٹی میں — یعنی کہ– ار–‘‘
اعظم مسعود سینٹ زیویر میں لاجک کا بہت اچھا طالب علم رہ چکا تھا۔ دل میں اس نے کہا کہ کم بخت جم کا بچہ خود تو غائب ہو گیا اور ہم اس مصیبت میں پھنس گئے۔ آنے دو گدھے کو۔
زینے کی طرف کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور وہ اندر آئی۔ اور اس نے ان معزز مہمانوں کو ایک لحظے کے لیے غور سے دیکھا اور ذرا پیچھے کو ہٹ گئی۔
’’آپ مس کورڈا ہیں ؟میرا مطلب ہے — معاف کیجیے گا ہم آپ کے گھر میں اس طرح بلا اجازت اور بغیر اطلاع آ گئے لیکن۔ ۔۔‘‘
’’مادموزیل آپ غلطی پر ہیں۔ یہ میرا گھر نہیں ہے۔ میرے پاس فرسٹ فلور پر صرف ایک کمرہ ہے۔ میں ان لوگوں کے لیے چائے اور کھانا تیار کرنے یہاں آئی ہوں۔ ‘‘
اور ان دونوں اونچی خواتین نے اپنی بلندی پر سے جھک کر دیکھا کہ وہ محض ایک سفید فام باورچن ہے — یعنی یہ بڑی بڑی آنکھوں والی بھولی سی لڑکی– اسی کی طرح کی دوسری سفید فام یہودی اور اینگلو انڈین لڑکیوں میں سے ایک– اُف۔ نفرت کی پوٹ۔گفتگو بہت طول کھینچ رہی تھی۔ بڑی خاتون نے صوفے پر سے اٹھتے ہوئے کہا:
’’دیکھو لڑکی– کیا تم میرے لڑکے کو پسند کرتی ہو؟‘‘ کیسا بے وقوفی کا سوال تھا۔ اس نے سوچا، بھلا جم کو کون پسند نہیں کرے گا۔ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں بے ساختگی سے اوپر اٹھا کر پوچھا: ’’کیا جم خود آپ کو پسند نہیں ؟‘‘
’’–اوہ– لیکن میری بچی جم تو خود میرا اپنا لڑکا ہے۔‘‘ کمرے میں پھر وہی عجیب سا سکوت چھا گیا۔
’’اور مجھے پتا چلا ہے کہ میرا لڑکا تم سے شادی کرنے کو بھی تیار ہے — جانتی ہو اس کے کیا معنی ہیں — او راس کا نتیجہ کیا ہو گا؟‘‘
اوہ — او خد– اب تو یہ سب کچھ برداشت سے قطعی باہر تھ– روشن ایرانی بلّی کی طرح کشن ایک طرف پھینک کر دیوان پر سے کھڑا ہو گیا اور مگ کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ جیسے قیمتی چمکیلے پتھروں میں سجی ہوئی ساڑھے تین سو اونچی اونچی با عزت خواتین چاروں طرف سے مگ پر حملہ کرنے والی تھیں۔ ہوا کے زور سے دروازوں کے پٹ بند ہو گئے۔ باہر بارش کے پہلے قطرے کھڑکی کے شیشیوں سے ٹکرا رہے تھے۔
— تم خوب صورت تصویریں بنا کر ان میں رنگ بھر دو اور وہ ہمیشہ ان تصویروں کی اصلیت کا یقین کرتی رہے گی۔ تمھارا کام صرف یہی ہے کہ اس سے خوش نما، خوش گوار ستاروں کی باتیں کرتے رہو۔ اس کی ماں نے اسے بچپن میں بتایا تھا کہ شیطان کی اتنی لمبی دم ہے ، اتنے بڑے سرخ کان ہیں ، ایسے نوکیلے سینگ ہیں۔ وہ بہت ہی برا ہے اور دنیا جب بہت ہی بری جگہ بن گئی تو ایک طوفان آیا اور نوح، جو ایک بہت عمدہ انسان تھا، اپنے با عزت خاندان سمیت بچ رہ– اور پھر ابراہیم اور سلیمان اور داؤد اور موسیٰ– جو سب ایک سے ایک اچھے لوگ تھے — دنیا کو ٹھیک کرنے کے لیے آئے۔ خود خدا کو زمین پر آ کر جھیل کی سطح پر چلنا پڑ– وہ ان سب باتوں پر یقین رکھتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے چھوٹے بچے اپنے نرسری کے قصوں اور پیٹر پین اور اسنو وائٹ کی کہانیوں کو سچ سمجھتے ہیں۔ لیکن بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کے ہاتھ سے زیتون کی ڈالیاں اور للّی کے پھول چھین کر انھیں چپکے سے کانٹوں کا تاج پہنا دیا جاتا ہے اور پھر ساری حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔
تم اس سے وعدہ کرتے ہو کہ آج رات کو سارے چاند ستارے توڑ کر اس کے آگے ڈال دو گے۔ لیکن اسی رات کو اولمپس پر رہنے والے خداؤں کی بیویاں اس سے یہ وعدہ بھی چھین لیتی ہیں۔ اور تم ان ٹوٹے ہوئے چاند ستاروں کا سامنا نہیں کر سکتے — روشن بیٹے ذرا اپنے بلند و مقدس یزداں کو آواز دینا۔
اعظم مسعود نے تھک کر پائپ جلا لیا اور وہ سب خاموش ہو گئے۔ وہ مصور تھے ، انگریزی کے عمدہ جرنلسٹ تھے ، معاشیات اور ادبیات میں ایم.اے . کر چکے تھے ، پولکا اور والز خوب کرتے تھے ، اور سی.سی.آئی. کے سوئمنگ ٹینک کے کنارے گھنٹوں پڑے رہا کرتے تھے لیکن میگڈلین اپنا گتار سنبھال کر کارل کے ساتھ اپنی قسمت آزمائی کرنے کہیں اور، کسی دوسرے دیس کو چلی گئی اور وہ اسی طرح دیوار پر پڑے رومن رولاں اور شاکا مطالعہ کرتے رہے۔
ان دونوں نے میٹرو میں نیچے اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر مرحوم لیزلی ہاورڈ پر افسوس کرنا شروع ہی کیا تھا کہ برابر کی نشست پر سے کسی نے پوچھا: ’’مادام! یہ سیٹ ریزرو تو نہیں ؟‘‘
’’جی نہیں۔ ‘‘ رخشندہ نے ادھر دیکھے بغیر جواب دیا اور پھر برج کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔ نو وارد نے کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ جلاتے ہوئے پھر پوچھا: مادام! دھواں آپ کو ناگوار تو نہیں گزرے گا۔‘‘
’’جی نہیں۔ ‘‘
اب کے سگریٹ لائٹر کی روشنی میں رخشندہ نے اس کی طر ف نظر کی اور اسے لگا جیسے سارا میٹرو ڈائنامیٹ سے اڑ کر دور فضاؤں میں لڑھکتا جا رہا ہے اور برج لال کھڑے ہو کر ڈریس سرکل میں جانے کے لیے شاہندہ اور شیاملا کا انتظار کرنے لگ– ’’رشی رانی جلدی اٹھو۔‘‘ مجمع زیادہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ تیزی سے گینگ وے کو پار کر کے زینے پر چڑھنے لگے۔ وہ شخص اپنی نشست پر بیٹھا دوسری طرف دیکھتا رہا۔ فلم شروع ہو چکی تھی۔ پردے پر برٹش مووی ٹون نیوز کی تصویریں کوندنے لگیں۔
’’اوہ برج ماما جلدی اوپر چڑھیے۔‘‘ رخشندہ کی برفیلی پیشانی پر پانی کے ننھے منے قطرے نہ جانے کہاں سے آ گئے۔ برج نے اس کا سفید ہاتھ پکڑ کر اسے سب سے اوپر سیڑھی پر کھینچ لیا اور وہ مجمعے کے ریلے کے ساتھ ایک جھونک سے اس کے اوپر گرسی گئی۔ وہ اندھیرے میں شیاملا اور شاہندہ کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ اس نے اپنا ہاتھ آہستہ سے چھڑایا۔
وہ دیر تک اتنی سی بات کو سوچتی رہی۔ پھر اس کا جی چاہا کہ ایک زبردست زلزلے میں یہ سارا میٹرو ٹوٹ کر گر جائے اور برج اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر کہیں دور بھاگ جائے — گرتے پہاڑوں اور ٹوٹتی چٹانوں اور شور مچاتے ہوئے انسانوں سے بچا کر بہت دور– اور پھر وہ — وہ دوسرا شخص– وہ مائیکل اینجلو کا شاہکار– نیچے بیٹھا تھ– چند منٹ قبل اس کے بہت نزدیک–
اور پھر دوسری رات کو آتشیں لڑکی نے اسے تاج میں دیکھا اور اس کا جی چاہا کہ ایک تیز آگ میں اسے جلا کر راکھ کر ڈالے ، اس کی بکھری ہوئی مسکراہٹ کو، اس کے الجھے الجھے بالوں کو– وہ اس صوفے پر بیٹھ آئی تھی، اس گیلری میں سے گزری تھی، ان کشنوں کو چھو چکی تھی جن پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی شامیں گزار چکا تھا جب کہ وہ دوسری برفیلی رخشندہ خاموشی اور سکون سے ہکسلے اور بیورلی نکلسن پڑھتی رہی تھی۔ ’’مس ڈی کورڈا کیسی ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ جاچکی ہے۔
’’اچھی ہیں۔ شکریہ!‘‘ اس نے اسی سکون سے جواب دیا۔ ’’آپ میرے ساتھ ایک راؤنڈ لیں گی؟‘‘
’’آئیے –‘‘ اس نے کہا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ بہت پریکٹیکل رہتی تھی — اور جمال کو تعجب ہوا کہ وہ آسانی سے اس کے ساتھ فلور پر کیسے آ گئی۔ پھر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ رمبا کی موومنٹ کے ساتھ ساتھ آگ کے شعلوں میں گھوم رہا ہے۔ اسے سرد چھینٹوں کی ضرورت تھی لیکن شعلے بہت اونچے اٹھتے جا رہے تھے۔ رقص ہوتا رہا۔ کلارنٹ پر ایک نغمہ پوری تیزی سے بج رہا تھا۔ اس کی تھکی ہوئی نظریں خود بخود پلائی ووڈ کی ان دیواروں کی طرف اٹھ گئیں جن کے دروازوں پر گہرے سبز پردے پڑے تھے اور جن کے سامنے فرن کی ڈالیاں برقی پنکھوں کی ہوا میں آہستہ آہستہ ہل رہی تھیں۔
سارے ریڈیو اسٹیشن آدھی رات کا گجر بجا چکے تھے۔ باغ کی پتیاں اور سمندر کی لہریں خوابستان کے جادو میں ڈوبتی جا رہی تھیں۔ کسی نے بڑی پیاری آواز میں کہا: ’’میں آ سکتا ہوں ؟‘‘ وہ جواب تک برآمدے میں آرام کرسی پر لیٹی ’’پوائنٹ کاؤنٹر پوائنٹ‘‘ ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، اپنا برف جیسا لباس سمیٹ کر جنگلے پر جھک گئی۔ ’’کون ہے ؟‘‘ اس نے ذرا گھبرا کر برساتی کی طرف دیکھا۔
’’اگر آپ کہیں گی تو میں ابھی ابھی فوراً واپس چلا جاؤں۔ ‘‘ اس کا بات کرنے کا انداز بے حد دل کش تھا۔ وہ اور زیادہ پریشان ہو گئی–
’’ماہم سے باندرہ کا قریب ترین راستہ–‘‘
’’جی نہیں۔ میں راستے کی تلاش میں آپ سے مدد کی درخواست نہیں کر رہ–‘‘
’’–تو کی– کیا پٹرول ختم ہو گیا ہے ؟‘‘
’’جی نہیں میرے پاس ڈھیروں گیلنوں پٹرول موجود ہے۔‘‘
’’پھر — پھر– آپ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘
’’میں ! کچھ بھی نہیں — میں سامنے سے گزر رہا تھا، آپ کو بادام کی شاخوں میں سے برآمدے میں بیٹھا دیکھا تو بس چلا آیا اندر– جاؤں واپس؟‘‘
’’اوہ گوش– آپ نے اتنی دور سے مجھے کیسے دیکھ لیا۔ مشاہدہ بہت تیز ہے۔‘‘
’’جی ہاں ، مشاہدے کا میں ماہر ہوں۔ بہت عمدہ عادت ہے۔ یہ زندگی بہت دلچسپ ہو جاتی ہے اس سے ایسی ایسی چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔ اور اجازت دیجیے انگریزی میں کہوں کہ ہم ایسی چیزوں کی روح میں گھس سکتے ہیں جن کو دیکھنے کی بظاہر کوئی خاص ضرورت نہیں — سگریٹ پی لوں ؟ شکریہ–‘‘
’’نہ جانے آپ کیا باتیں کر رہے ہیں۔ خصوصاً جب کہ آپ مجھے قطعی جانتے بھی نہیں۔ بہت دلچسپ اور عقل مند معلوم ہوتے ہیں آپ–‘‘
’’ جی ہاں شکر ہے۔ غالباً آپ پہلی خوب صورت لڑکی ہیں جس نے ایک عقل مند لڑکے کے سامنے یہ اقرار کیا ہے ورنہ عموماً مجھے آپ جیسی لڑکیوں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ اپنی عقل کے مقابلے میں کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔
’’بیٹھ جائیے ، اس آرام کرسی پر– مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہیں اور اس وقت، اس گرم رات میں ، بادام کی شاخوں کی سرسراہٹ کے نیچے اس طرح باتیں کر رہے ہیں جیسے ہمیشہ سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں — نا؟‘‘
’’جی ہاں — بہت عجیب– دنیا میں بہت سی باتیں حد سے زیادہ عجیب ہوتی ہیں جن کا بالکل آپ کو احساس نہیں ہوتا– ار — دیکھیے لڑکیوں میں ہیرو ورشپ کا مادہ ایک بڑی سخت کمزوری ہے –‘‘
’’ہیرو ورشپ؟‘‘
’’جی– اس وقت آپ مجھے بس چپکے چپکے ایڈمائر کیے جا رہی ہیں حالانکہ ابھی چند لمحے قبل جب آپ تصور میں جم کے ساتھ مسوری میں سیب کے درختوں کے نیچے بیٹھتی تھیں تو میرے دخل در معقولات پر آپ کو زوروں کا غصہ آگیا تھا۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’سیب کے درخت؟‘‘
’’جی ہاں۔ سیب کے درخت!‘‘
’’مجھے یقین ہے کہ–‘‘
’’جی– کہ رات گرم ہے اور چاند کے جادو کا اثر شاید مجھ پر بھی ہو گیا ہے۔ اسی لیے میں اپنے بستر پر آرام کرنے کے بجائے ماہیم کی خاموش سڑکوں پر مارے مارے پھر کر خوب صورت لڑکیوں کے بنگلوں میں گھس کے ان سے الٹی الٹی باتیں کرنے کا عادی ہو گیا ہوں –‘‘
’’اوہ گوش–!‘‘
’’دیکھیے شاید آپ نے شمال کے برفانی کوہستانوں میں خوابیدہ کسی کانونٹ میں اب تک اپنی عمر گزاری ہے۔ کم از کم آپ نے سینٹ زیویرز میں تو کبھی نہیں پڑھا۔‘‘
’’آپ نے یہ کیسے اندازہ لگایا؟‘‘
’’کیوں کہ آپ بات بات پر اوہ گوش کہہ کر خدا کی مدد چاہتی ہیں حالانکہ میں آپ کو–یقین دلاتا ہوں کہ ایسی خوش گوار رات میں خدا کو ہماری باتوں پر غور کرنے یا ان میں مداخلت کرنے کی قطعی ضروری یا فرصت نہیں اور یہ بھی کہ سینٹ زیویرز کی لڑکیاں زیادہ تیز اور صاف گو ہوتی ہیں — آپ جے .جے . اسکول میں ہیں نا؟‘‘
وہ اسی طرح سگریٹ کے حلقے بنا کر کہتا رہا: ’’دلچسپ خیال ہے۔ سیب کے درختوں کے جھنڈ میں ملکہ پکھراج کے ریکارڈ بج رہے ہوں یا کوئی درگا میں گا رہا ہو، سکھی موری روم جھم، سکھی موری روم جھم بدرو– پسند ہے درگا کا خیال– دیوی بھجو درگا بھوانی –‘‘
’’لیکن کم از کم مجھے اپنا نام تو بتا دیجیے –‘‘
’’میرا نام– برج راج بہادر وارشنے — جمال انور — روشن ایرانی– جو چاہو سمجھ لو– ادھر دیکھو– میں تمھارا خواب ہوں اور تم چاندنی اور پھولوں کا گیت– پر مجھ میں اور ان لہروں میں ، جو تمھارے برآمدے سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی ہیں ، ایک چھوٹا سا فرق ہے۔ یہ دنیا سے بغاوت کرنا چاہتی ہیں اور کچھ نہیں کر پاتیں۔ میں دنیا سے بغاوت نہیں کرتا لیکن چاندنی رات میں تمھارے جنگلے پر آ کر بیٹھ جاتا ہوں اور پھر یہ لہریں ساحل کو چھوڑ کر دور سمندر کی گہرائیوں میں جا کر کھو جاتی ہیں۔ سیب کے باغ میں چپکے سے خزاں گھس آتی ہے۔ بادام کی کلیاں اور سبز پتے خشک ہو کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ اور ملکہ پکھراج کے ریکارڈ اور تان پورے کے تار ٹوٹ جاتے ہیں ایک دن– اور آخر میں نیلے پروں والی چڑیاں خزاں زدہ شاخوں پر سے اپنے پر پھیلا کر بہار کے تعاقب میں دور جنوب کے ہرے مرغزاروں کی جانب اڑ جاتی ہیں — جب خواب پچھلی رات کی چاندنی کی طرح پھیکے پڑنے لگتے ہیں اس وقت کی بے کیفی اور الجھن کا خیال کرو۔ سچ مچ کی مسرت تم کہیں بھی نہیں پا سکتیں رخشندہ بانو۔ شاید تم سوچ رہی ہو کہ اگر میگڈیلن تمھیں مل جائے تو تم اپنی برفانی بلندی پر سے اس سے کہو: کارل ریوبن کے ساتھ کہیں بہت دور چلی جا اے بے حقیقت لڑکی– اس کا گتار اور تیری آواز– یہی تیرا بہترین راستہ ہے۔ برج راج بہادر سے تم کہو: انکل ٹوبی آپ میری دوست شیاملا کے ایک خوب صورت اور ڈیشنگ سے ماموں ہیں جو اپنی سیاہ ڈی.کے .ڈبلو. خوب تیز چلاتے ہیں اور بس– آپ بھی تشریف لے جائیے۔ کیونکہ مسوری میں ہنی مون کے لیے سوائے میں ایک پورا سوٹ رزرو کرا لیا گیا ہے جس کے پیچھے سیب کے درختوں کا جھنڈ-‘‘
’’اوہ!‘‘
’’اب تمھیں نیند آ رہی ہے۔ اگر تم مجھے یاد کرو گی تو میں پھر کسی ایسی ہی چاندنی رات میں الہٰ دین کے دیو کی طرح تمھارے خواب میں آ جاؤں گا۔ شب بخیر رخشندہ سلطانہ۔‘‘
وہ اطمینان سے جنگلے پر سے کود کر باغ کے اندھیرے میں اتر گیا اور پھر اس کے قدموں کی چاپ سنسان سڑک کی خاموشی میں کھو گئی۔
’’مہربانی سے ادھر ہی رہیے آپ–‘‘
–اور جم کو جواب تک یہ سوچ رہا تھ– جانے کیا سوچ رہا تھا
–جانے کیا سوچ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوا برف کے سارے پہاڑ اور ساری چٹانیں ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گر پڑی ہیں اور ان کے بوجھ میں دب کر وہ بے تحاشا خوب صورتی اور نفاست اور سجا ہوا کمرہ نیچے گرتا چلا جا رہا ہے۔
وہ سنگھار میز کے اسٹول پر بیٹھی ایک کتاب کی ورق گردانی کرتی رہی اور وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گی– وہ جو — وہ جو– او خد– ’’یہ مت سمجھو کہ میں fusses کر رہی ہوں۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔ شدید نفرت!‘’ یا اللہ — اسے تعجب ہو رہا تھا کہ اسے اب تک رونا کیوں نہ آیا۔ نہ معلوم اسے کیا ہو گیا تھا۔ میرا بے چاری بچی۔ ہنی مون ختم ہوتے ہی سائیکو انالسٹ سے اس کا علاج کرواؤں گا۔ لیکن وہ خاموش رہا۔
’’اچھا کم از کم تم تو سو جاؤ۔ بہت تھک گئی ہو گی۔‘‘
تھوڑی دیر بعد اس نے کہا اور وہ مخالفت کے بغیر ضدی بچے کی طرح مسہری پر گر گئی۔ وہ ٹہلتا رہا۔ اس رات اس نے سگریٹوں کا سارا ڈبہ ختم کر دیا۔
تکیوں میں منہ چھپا کر اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اس نے سنا جیسے کہیں بہت دور سے آواز آ رہی تھی۔ جم دریچے میں کھڑا کہہ رہا تھا:
’’اس کا انجام تم نے کیا سوچا ہے ؟‘‘
قانونی علاحدگی– ا س نے اپنے آپ کو کہتے پایا۔ پھر وہ سو گئی۔ جیسے اس نے دن بھر روتے روتے گزارا– اور بمباری یا زلزلے سے گری ہوئی عمارت کے ملبے سے نکلے ہوئے کسی زخم خوردہ انسان کی طرح وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی– بالوں کی ایک لٹ اس کی برف جیسی پیشانی پر آ گری تھی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ جھک کر اس لٹ کو وہاں سے ہٹا دے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی– یہ اس کی بیوی تھی، رخشندہ– خدایا– اور وہ خود جم تھا– جمال انور– مائیکل اینجلو کا شاہکار– او بلند و برتر خدا، کیا ہم سب پاگل ہیں۔ خواب گاہ کا تیز لیمپ رخشندہ پر اپنی کرنیں پھینکتا رہ– اس نے سبز روشنی جلائے بغیر اپنے آپ کو صوفے پر ڈال دیا۔
پھر وہ چار دوست خاموشی سے زینے پر سے اتر کے اس کار کی سمت بڑھے جو گیٹ وے کے اندھیرے سائے میں کھڑی تھی۔ اس پاگل کر دینے والی موسیقی کی گونج گیلریوں ، اسٹالوں اور سمندری ہواؤں میں اب تک لرزاں تھی۔
مادام میگڈلین ریوبن جو فٹ لائٹ کی تیز کرنوں میں نہاتی ہوئی گا رہی تھی۔ اور کارل ریوبن جو پیانو پر بیٹھا تھا اور ہال جو الٹر افیشن ایبل لوگوں سے پٹا پڑا تھا– اور — انھوں نے سنا کہ کارل ریوبن اور مادام ریوبن اپنے آرکیسٹرا کے ساتھ جہاں جاتے ہیں شہرت اور عزت ان کے قدموں پر جھک جاتی ہے۔ شمال کے سارے بڑے بڑے فیشن ایبل شہروں میں ان کے کونسرٹ ہو چکے ہیں۔ ریڈیو میں ان کے پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ اتحادی فوجوں کو محظوظ کرنے کے لیے ان کو خاص طور سے مدعو کیا جاتا ہے۔ مادام ریوبن، جو سیاہ یا نقرئی شام کے لباس میں چمکیلے پتھروں سے سجی ہوئی، خاموشی سے اپنے جیون ساتھی کے ہاتھ کا سہارا لے کر اسٹیج پر آتی ہے اور پھر ساری دنیا پاگل ہو جاتی ہے اس کے نغموں سے — اور انھیں تیزاب کی سی تلخی اور تیزی کے ساتھ یاد آیا۔ کارل کہا کرتا تھا: میرے ساتھ چلو مگ تمھیں بلبلوں اور کوئلوں کی ملکہ بنا دوں گا۔ میگڈلین– میگڈلین– میری سینوریتا۔ گوا کی کالی راتیں تمھیں پکار کر واپس بلا رہی ہیں۔ راتوں کو تمھارے بالوں میں ستارے سجا کریں گے اور مہتاب کے مغنی کا گتار بجتا رہے گ– تم– مگ– سرخ ہونٹوں والی چوہی– تمھاری نیوریلجیا کی شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ تم میری آنکھوں سے دیکھو گی، میرے کانوں سے سنو گی، میرے جادو سے رقص کرو گی اور ساری کائنات مدہوش ہو کر ہمارے ساتھ ناچنے لگے گی۔ بے وقوف لڑکی جوان چار سر پھرے ہندوستانی لڑکوں کے لیے کرافرڈ مارکیٹ سے مچھلی کے ڈبے خرید کر لاتی ہو اور ان کی چائے کی پیالیاں صاف کرتی ہو۔ رب یہودہ کی قسم اس بھورے بالوں والی گلہری میں ذرا بھی عقل نہیں !
پھر انھوں نے سنا اتحادی فوجوں کو محظوظ کرنے والی ایک پارٹی کے ہم راہ مشرقِ وسطیٰ جاتے ہوئے جہاز پر ایک حادثے کی وجہ سے مسٹر کارل ریوبن کا انتقال ہو گیا اور خوب صورت اور غمگین مادام ریوبن پارٹی سے علاحدہ ہو کر اپنے وطن واپس چلی گئیں۔
اور ایک نیلگوں صبح گوا کے ایک چھوٹے سے ہرے بھرے قصبے کے پرانے اور بھورے پتھروں والے کیتھیڈرل میں جب ماس ختم ہونے کے بعد فادر فرانسیسکو نے قربان گاہ کے دریچے کے سامنے کا پردہ برابر کیا تو ان کی پیشانی پر اور بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں ایک ملکوتی مسرت اور اطمینان کی روشنی چمک رہی تھی۔ کیونکہ ایک بھٹکی ہوئی روح آخر اپنے چرواہے کے پاس پہنچ چکی تھی– ’’خداوندِ خدا کی رحمت ہو اس پر، وہ یسوع کی دلہن بن گئی–‘‘ دعا کے آخری الفاظ بھورے پتھروں والے ہال کے منجمد سناٹے میں ڈوب گئے اور فادر ڈائیگو آرگن بند کر کے سیڑھیوں سے نیچے اتر آئے۔ باہر آسمان کے نیچے بہت سے ٹوٹے ہوئے نیلے پر ہوا میں تیرتے پھر رہے تھے۔
اور ایسی ہی ایک نیلگوں شام کے اندھیرے میں ، جب کہ تاج کی ایک گالا نائٹ کے اختتام پر گیٹ وے ، برساتی اور گیلریوں میں مجمع کم ہوتا جا رہا تھا، موٹریں اسٹارٹ ہو چکی تھیں اور اکّا دکّا لوگ سیڑھیوں اور سڑک کے کنارے سگریٹ جلانے اور اپنے دوستوں کو شب بخیر کہنے کے لیے رکے ہوئے تھے ان چار دوستوں نے اپنے پائپوں کی راکھ جھٹکی اور ان کی سرخ کار ڈھلوان پر بہنے لگی۔ رات گرم تھی اور ورسوا اور جوہو کی خاموش سڑکیں ان کا انتظار کر رہی تھیں

٭٭٭

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے