Home / کالم / پشتون تحفظ مومنٹ، قوم پرستی اور لیفٹ کی سیاست

پشتون تحفظ مومنٹ، قوم پرستی اور لیفٹ کی سیاست

پشتون تحفظ مومنٹ، قوم پرستی اور لیفٹ کی سیاست

 

ثوبان احمد

 

پشتون تحفظ مومنٹ اور امریکہ کی ‘بلیک لائیوز میٹر’ میں بہت مماثلت ہے اور میں دونوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھتا ہوں۔ بلیک لائیوز میٹر ایک سترہ سالہ سیاہ فام نوجوان ٹریوون مارٹن کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہوئی۔ پشتون تحفظ مومنٹ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد ملکی منظر نامے میں نمایاں ہوئی۔ بلیک لائیوز میٹر کے حامیوں میں سیاہ فاموں کے علاوہ امریکی ترقی پسند لیفٹ کی پارٹیاں اور گروپس، اس کے علاوہ ہسپانوی النسل اور دوسرے امگرنٹس شامل ہیں۔ پشتون تحفظ مومنٹ کے حامیوں میں بھی پشتونوں کے علاوہ پاکستانی ترقی پسند تنظیمیں اور افراد اور دیگر قوم پرست پارٹیاں شامل ہیں۔
بلیک لائیو میٹرز کے مخالفین میں امریکہ رجعت پسند کنزرویٹیو حلقے شامل ہیں اور پشتون تحفظ مومنٹ کے مخالفین میں بھی پاکستانی رائٹ ونگ کے رجعت پسند ریاستی حلقے شامل ہیں۔ بلیک لائیوز میٹر کے بنیادی مطالبات میں سیاہ فام امریکیوں کا پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل رکوانے اور سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ شامل ہے۔ پشتون تحفظ مومنٹ کے بنیادی مطالبات میں نقیب اللہ محسود کو انصاف دلوانے اور جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ شامل ہے۔ امریکہ کی بلیک لائیوز میٹر کی مخالفت میں ‘بلیو لائیوز میٹر’ نامی تنظیم کھڑی کی گئی جو کہ عوام کی وسیع حمایت سے محروم رہی اور پاکستان میں پشتون تحفظ مومنٹ کے مقابلے پر ‘پاکستان تحفظ مومنٹ’ نامی تنظیم کھڑی کی گئی اور یہ بھی عوام کی وسیع حمایت سے محروم رہی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ پاکستان کی بلیک لائیوز میٹر ہے یا پھر بلیک لائیوز میٹر امریکہ کی پشتون تحفظ مومنٹ ہے۔ دونوں پر اعتراضات اور تنقید کی نوعیت بھی یکساں ہے۔ ان کے تحریکوں کے مخالفین عموماً ان کے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کر کے ان کے کسی مخصوص نعرے پر اعتراض کرتے ہوئے جزیات میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بطور مارکسسٹ ہم قوم پرستی کو درست نہیں سمجھتے اور سمجھتے ہیں کہ ایک محنت کش کی بنیادی شناخت اس کا طبقہ ہوتا ہے نہ کہ اس کی قوم- محنت کشوں کا نہ کوئی وطن ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کو ایک ہو جانا چاہیے۔ لیکن دوسری جانب ہم اس بات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں کہ قومی بنیادوں پر ظلم، جبر اور استحصال ایک حقیقت ہے جس کے خلاف ہمیں جدوجہد کرنی چاہیے اور ایسی جدوجہد کرنے والی تحریکوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ پشتون تحفظ مومنٹ ابتداء میں محسود تحفظ مومںٹ تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ محسود قبیلے کی تنظیم سے پھیل کر پشتونوں کی تنظیم بن گئی لیکن عملی طور پر یہ ‘مظلوم تحفظ مومنٹ’ ہے کیونکہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ پشتون لاپتہ افراد کے علاوہ لاپتہ سندھیوں، بلوچوں اور لاپتہ پنجابیوں کے بھی حق میں بات کی گئی ہے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے مذہبی انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف بھی بات کی گئی ہے۔ میری رائے میں پشتون تحفظ مومنٹ اپنے اندر ترقی پسندی کا کافی پوٹینشل رکھتی ہے۔ فلحال یہ تنظیم اپنے ارتقاء کے مراحل میں ہے اور انہوں نے پارلیمانی سیاست، احتجاجی سیاست سمیت تمام راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ ایک سیاسی سکول ہے جو روایتی پشتون قوم پرست پارٹیوں کے برعکس اور متبادل پشتون لیڈر شپ تیار کر رہا ہے جو کہ نوجوان ہے، پُر جوش ہے اور زیادہ شمولیت پسند ہے۔

ریاستی سینسرشپ اور جبر کے باوجود پشتون تحفظ مومنٹ مسلسل پھیل رہی ہے، جو کہ اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بطور بائیں بازو کے کارکنان ہمیں پشتون تحفظ مومنٹ کی حمایت جاری رکھنی چاہیے

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے