Home / کالم / پی ٹی ایم تحریک سے سیاسی جماعت تک ـ سنجیدہ بحث کی جانب

پی ٹی ایم تحریک سے سیاسی جماعت تک ـ سنجیدہ بحث کی جانب

پی ٹی ایم تحریک سے سیاسی جماعت تک  ـ  سنجیدہ  بحث کی جانب

 

تحریر : ارقم علی

 

قومی تحریکیں اہم ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں تو بنتی بگڑتی رہتی ہیں، خدائی خدمتگار، ورور پختون، انجمن وطن نے جن سیاسی پارٹیوں کو جنم دیا ، بہت سے مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی موجودہ شکل اب اے این پی اور پی میپ ہے ۔

آج کے دور کی توانا تحریک پشتون تحفظ موومنٹ ہے، اس کے بطن سے ایک نئی سیاسی جماعت کا ظہور میں آنا اتنا ہی فطری ہے جتنا کہ اے این پی یا پی میپ کا ماضی کی تحریکات سے برآمد ہونا۔

سیاسی عمل شکست و ریخت اور نئی تعمیر کا تسلسل ہوتاہے۔ اے این پی بطور جماعت پچھلے دس برسوں میں کتنی کمزور ہوئی ہے اسفندیار ولی خان کی اپنی استعداد اور ان کے ممکنہ جانشینوں کو دیکھ کر کسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں رہتی

پھر پی میپ کا حال کچھ مختلف نہیں ہے، جو تنظیمی طور پر شدید بحران اور اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات اور حکومت بنانےکے بعد جماعت کی صفوں اور اس کے اسٹوڈنٹ ونگ میں ٹوٹ پھوٹ ، باہمی مناقشہ و گروپ بندی کا بڑا ہی برا حال ہے، چار سال حکومت میں رہنے ، وزارتوں پر نااہل افراد کی تعیناتی، اکرم شاہ لالا جیسے قدآور سیاستدان کے منظر عام سے ہٹنے اور ان کے خلاف دل آزار کردار کشی کی مہم نے جہاں پارٹی کو نقصان پہنچایا، وہاں مشر محمود خان اور عثمان کاکڑ کے حامیوں کے درمیان موجود سرد جنگ نے صورتحال مزید خراب کی، اس تقسیم کے نتیجے میں دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں  پارٹی امیدواروں کے مقابل ناراض کارکنوں کے بطور امیدوار کھڑے ہونے سے پارٹی ووٹ بنک بھی متاثر ہو، پھر خراب حکومتی کارکردگی کا بار الگ۔

وہ تو شکر کریں کہ پی ٹی ایم آگئی اور پارٹی کے ٹوٹے پھوٹے اور افسردہ کارکنان  کو کچھ توانائی ملی، اور زندگی کے آثار لوٹ آئے۔ اس لئے یہ احسان پی ٹی ایم کا ماننا چاہیے کہ پارٹی سروائیو کرگئی ، نہ کہ اس کے برعکس بات کی جائے۔

دوسری تشویشناک بات، پارٹی میں سیکنڈ ٹیئر کی لیڈرشپ کی عدم موجودگی ہے ، مشر محمود خان کی ذات کا آسرا ہے۔ جو نظام کسی درجے میں چل رہا تھا، ورنہ اس سے بھئ برا حال ہوتا، لیکن ان کا جانشین کون ہو، موجود ناموں میں کوئی ان کی جگہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مشر محمود خان کے بعد پارٹی میں تین معتبر ناموں عبدالرحیم مندوخیل مرحوم، اکرم شاہ لالا، عثمان کاکڑ لالا کا ہے ، جن میں سے رحیم لالا فوت ہوئے، اکرم شاہ لالا منظر سے غائب ہوئے، جب کہ عثمان کاکڑ کو لے پر شدید تحفظات رہے ہیں، احسان مانیں پی ٹی ایم کا جو تقسیم و منافرت کی آوازیں کمزور ہوئی ہیں۔

حقیقت دیکھی جائے ، تو  پی میپ جنوبی پختونخوا تک محدود جماعت ہے، باقی ملک میں ان  کی پوزیشن برائے نام ہی ہے، فاٹا میں ان کے امیدوار پی ٹی ایم کے محاذ پر سرگرم رہنے کے باوجود چند سو ووٹ ہی لے پائے ۔اس لئے یہ کہنا کہ پی ٹی ایم کے جلسوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت میں پی میپ کا کوئی رول ہے تو یہ بات جنوبی پختونخوا کے علاوہ کہیں اور کے لئے کہنا محل نظر ہے، ہاں پی میپ سے وابستہ سیاسی کارکنان کی مینیجمنٹ، قربانی، اور ڈیڈیکیشن بلاشبہ اعلی ترین رہا ہے۔

بے شک پی ٹی ایم کے جلسوں میں شریک عوام ماضی میں مختلف  سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتی رہے ہیں، لیکن ان شرکاء کی اکثریت ان جماعتوں سے دل برداشتہ اور مایوس بھی رہی ہے۔

مم سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد پارٹی پالیسی سے ہٹ کر پی ٹی ایم کا حصہ بنی۔ایسے کارکن کو انتخاب کر مرحلہ پیش آیا تو وہ پی ٹی ایم کو چنیں گے۔ الا کہ پارٹی وابستگی ان کی سماجی و خاندانی حیثیت کی بنیاد نہ ہو، مذہبی سیاسی جماعتوں کا تو ذکر ہی کیا، اس پر الگ سے بات ہوسکتی ہے، پی پی پی اور ن لیگ جیسی جماعتوں کا معاملہ ہی الگ ہے۔

ویسے بھی شمالی و جنوبی پختونخوا کی سیاسی قیادت تاریخی حوالے سے پچھلے پچاس سالوں سے آپس میں اناؤں کی سرد جنگ کا شکار رہی ہے۔ بہتر ہے کہ اب قیادت کا علم وسطی پختونخوا تھامے اور نوجوانوں کی نئی نسل آگے بڑھے۔

شکست خوردہ اور اندرونی خلفشار کا شکار پشتون قوم پرست سیاست کے لئے پی ٹی ایم کی تحریک یا اس کے بطن سے جنم لینے والی سیاسی جماعت ایک نعمت غیرمترقبہ ہوگی

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے