Home / خبریں / کیا بیجنگ دوبارہ سائیکلوں کی سلطنت بن سکتا ہے؟

کیا بیجنگ دوبارہ سائیکلوں کی سلطنت بن سکتا ہے؟

١٩٩٠ کی دہائی میں بیجنگ شہر سائیکلوں کی سلطنت کہلاتا تھا۔

تاہم خوشحالی کے بعد اب یہ گاڑیوں کا شہر بن چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے بیجنگ شہر کے منصوبہ ساز اس شہر کو گاڑیوں سے پاک کرنے کے منصوبے پر کام کرتے رہے۔ لیکن سائیکلنگ کایہ دارالحکومت پھر سے  ایک بار اپنا اعزاز واپس حاصل کرنے جا رہا ہے۔ یاد رہے  نوے کی دہائی میں بیجنگ کو سائیکلنگ کا دارالحکومت کہتے تھے۔     یہاں پر کرائے کی سائیکلوں کا کاروبار پھر سے بڑھ رہا ہے۔  اب بیجنگ کے سبھی حصوں میں ایک ایپ کے ذریعے محض تیس سینٹ فی گھنٹہ کے حساب سے سائیکل کرائے پر لی جا سکتی ہے۔  موبائیک سائیکل شیرنگ کے اس نظام کو متعارف کرانے والی  پہلی کمپنی ہے۔  اس کمپنی نے اپنے کام کا آغاز دوسال قبل ۲۰۱۶ میں کیا تھا۔ کمپنی کے  اسٹیون لی کے مطابق  پہلے منافع کی شرح بہت کم تھی لیکن اب ہم تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔  اب مختلف کمپنیاں میدان میں آچکی ہیں اور کرائے کے سائیکلوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔

چین کے لوگوں  میں  اب آہستہ آہستہ سائیکلنگ کا رحجان بڑھ رہا ہے ۔ لوگ میٹرو سٹیشن سے اتر کر سائیکل کرائے پر لیتے ہیں اور گھر یا آفس تک جاتے ہیں۔ 

یہ ایک بہت مثبت رحجان ہے جس سے  شہر میں گاڑیوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور ٹریفک جام میں کمی آرہی ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے