Home / خبریں / ٹاپ سٹوری / ہندوستان پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری میں تھا : امریکی نیوز ایجنسی

ہندوستان پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری میں تھا : امریکی نیوز ایجنسی

نیوز ایجنسی کا دعوی امریکی مداخلت سے ٹلا ہند پاک جنگ کا حالیہ خطرہ ۔
ہندوستان کی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندورتمان کے پاکستان میں حراست میں لیے جانے کے بعد ہندوستان نے پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری کر لی تھی ۔حالانکہ امریکی مداخلت کے بعد ہندوستان نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔خبر رساں ایجنسی رائیٹرنے ہندوستان پاکستان اور امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب ہندوستان نے پاکستان کو 6 میزائل داغنےکی وارننگ دے دی تھی ۔رپورٹ کے مطابق دونوں حریف ہمسایہ جوہری طاقتوں کے مابین ایک نئی جنگ کا بھرپور خطرہ منڈرانے لگا تھا مگر امریکہ کی مداخلت کے بعد یہ ٹل گیا۔ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ ماہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین سیاسی اور عسکری کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور ایسا لگنےلگا تھا کہ دونوں ممالک ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
اس دوران انھوں نے ایک دوسرے کو میزائل حملوں کی دھمکیاں بھی دے دی تھیں لیکن اس خطرے کے بروقت مل جانے میں دیگر ممالک کے نمائندوں کے علاوہ اعلیٰ امریکی حکام نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی شامل تھے۔ رائٹرز نے اس کشیدہ صورت حال سے باخبر کم از کم 5 انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ نئی دہلی نے اہداف کی تخصیص کیے بغیر کہ دیا تھا کہ وہ پاکستان پر کم از کم چھ میزائل فائر کرے گا ۔اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ ہندوستان کو ایسے ممکنہ حملوں کا جواب اپنے میزائلوں کے تین گنا حملوں کے ساتھ دے گا ۔مغربی سفارت کاروں کے علاوہ وہ واشنگٹن اسلام آباد اور نئی دہلی میں حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رائٹرز نے لکھا ہے کہ جس طرح فروری میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی نے دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین ایک نئی جنگ کا شدید خطرہ پیدا کردیا تھا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کشمیر کا وہ خطہ جس پر دونوں ہی ریاستیں اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتی ہیں۔ آج بھی دنیا کے سب سے خطرناک علاقوں اور تنازعات میں سے ایک ہے۔نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین کشیدگی سے دھمکیوں کے تبادلے تک ہی محدود نہیں رہی تھی۔ اس دوران ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کیں اور پاکستانی ہندوستان کا ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس طیارے کے جس پائلٹ کو پاکستانی اپنی سرزمین سے گرفتار کیا تھا اسے بعد امریکہ کے مبینہ دباؤ پر واپس ہندوستان کے حوالے بھی کر دیا گیا تھا ۔
دونوں جنوبی ایشیا ممالک کے مابین میزائلوں کی دو طرفہ استعمال کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس پر واشنگٹن بیجنگ اور لندن تک میں بہت تشویش پائی جانے لگی تھی ۔
امریکی مداخلت
نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین اس تقریبا جنگی صورتحال میں کمی کیلئے امریکی کوششوں نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ۔اس دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے اجیت ڈوبھال ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی تھی۔اس کشیدگی میں کمی کے لیے صدر ڈولنڈٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی بہت سرگرم رہے تھے جو نئی دہلی اور اسلام آباد میں اعلی شخصیات کے ساتھ بار بار رابطے کر رہے تھے اسی دوران پاکستان کے ایک وزیر کے بقول اس کی کھچاؤ میں کمی کے لیے چین اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنے اپنے طور پر بھرپور کوشش کی تھیں۔

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے