Home / ادب نامہ / علی اکبر ناطق / نظمیں علی اکبر ناطق / یہ باتیں اب راز ررہیں گی ۔ علی اکبر ناظق

یہ باتیں اب راز ررہیں گی ۔ علی اکبر ناظق

یہ باتیں اب راز ررہیں گی ۔ علی اکبر ناظق
یہ باتیں اب راز رہیں گی اس پتھر کی بستی میں
ہم یاقوت کی آنکھوں والے کب سوئے اور کب جاگے
ریزہ ریزہ نور چنا تھا کس نے خدا کے ماتھے سے
کس نے نور کے دل سے نکالی اجلی شبنم راتوں کو
شعر کی وادی میں اترے تھے کون پیغمبرلفظوں کے
کون چرا کر لے آتے تھے لعل صحیفوں کے گھر سے
کیوں پھولوں کو روگ لگے تھے پورے چاند کے موسم میں
کیوں رنگوں کی سرگوشی پر سرخ شگوفے روئے تھے
پھیلتی راتوں کے پہلو میں کس کی درد سے باتیں تھیں
ہم کلیوں کے دل والے کب مسکائے کب مرجھائے
یہ باتیں اب راز رہیں گی اس پتھر کی بستی میں

admin

Author: admin

Check Also

شہر کا ماتم۔علی اکبر ناطق

شہر کا ماتم اس بار چلے گی سرد ہوائیں نیل بھری سانسوں کا ملبہ بار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے