Home / کالم / محکمہ تعلیم بلوچستان میں ایس ایس ٹی ٹیچرز کی ہول سیل تقرریاں۔عبدالصمد اچکزئی

محکمہ تعلیم بلوچستان میں ایس ایس ٹی ٹیچرز کی ہول سیل تقرریاں۔عبدالصمد اچکزئی

معیاری تعلیم کی فراہمی محکمہ تعلیم بلوچستان کی اولین ترجیح ہے ۔صوبے کے طول عرض میں روز ازل سے لے کر آج تک بہترین تعلیمی سہولیات دینے کیلئے محکمہ ہمہ وقت، پر عزم و چوکس ہے بعض اوقات انقلابی اقدامات سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا لیکن ان سب کے باوجود محکمہ تعلیم اساتذہ کی تقرری کیلئے ایک مستقل پالیسی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ہر سال نت نئے تجربات سے یہ محکمہ کم تجرباہ گاہ زیادہ بنا ہوا ہے۔کبھی کمیشن سے تقرری کا خیال آتا ہے تو کبھی NTS سے تقرری کی جاتی ہے،کبھی پیکج کیلئے DC صاحب کے ٹیسٹ پر اکتفا کیا جاتا ہے تو کبھی محکمہ اپنی ڈیپارٹمنٹل کمیٹیوں کے زریعے اساتذہ سلیکٹ کرتے ہیں۔کبھی کنٹریکٹ کا لفظ اس میں آتا ہے تو کبھی ایجوکیٹر اور انٹرنی کے نام سے اساتذہ کرام ڈھونڈے جاتے ہیں ،کبھی پروفیشنل کوالیفیکشن BEd,ADE وغیرہ درخواست جمع کرنے کےلیے ضروری ہوتا ہے تو کبھی اکیڈمک کوالیفیکشن سے صرف میرٹ بنتا ہے۔بہرحال یہ سب کچھ صوبے اور طلبہ کے وسیع تر مفاد میں کیا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ وہ اقدامات ہیں جن پر ہمیں سوچنا ہوگا کہ محکمہ تعلیم کے Vision کو ہم کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔
کسی بھی قوم و ملک کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ۔
تعلیم سب کیلئے۔
ہر بچہ اسکول میں ہر استاد کلاس میں۔
معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
استاد کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں ۔
صوبائی حکومت تعلیم کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے وغیرہ وغیرہ جیسے کچھ ایسے اور جملے بھی ہیں جو ہمارے بیوروکریٹس اورسیاسی رہنماؤں کی تقاریر و تحریر کی حسن و زینت بڑھانے اور اگلوں کو سراب دکھانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان حضرات کے کہنے اور کرنے میں ایک بڑا خلا موجود ہے۔سال ۲۰۱۹ کے آتے ہی بلوچستان کے بے روزگار تعلیم نوجوانوں کےلیے ایک امید کی کرن پیدا ہو گئی۔صوباٸ حکومت نے بارہا ہزاروں خالی آسامیوں پر تعنیاتیاں کرنے کے اعلانات کیے۔اس دوڑ میں محکمہ تعلیم بھی کسی سے پیچھے نہ رہا پورےصوبےمیں ضلع لیول پر ایجوکیٹر کے نام سے سیکنڈری لیول کے بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن دینے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کےلیے انٹرنشپ کا اعلان کیا گیا۔جس کے لیے ڈپٹی کمشنر صاحبان کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی یہ کمیٹیاں یونین کونسل کی سطح پر SST کی خالی آسامیوں پر ایجوکیٹر کی بھرتی کریں گی جن کو25ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے جبکہ محکمہ کے TORs کے مطابق ایجوکیٹر عارضی بنیادوں پر تعنیات ہونگے اور انکو محکمے سے مستقلی نہ مانگنے کا حلفیہ بیان بھی جمع کرانا ہو گا۔
ارباب اختیار کے موقف کے مطابق BPSC کا سلو پروسس ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر یہ تقرریاں کی جا رہی ہیں ۔
راقم کی ناقص رائے کے مطابق اس طریقے سے SST ٹیچرز کی تقرری کا یہ طریقہ کار بلوچستان کے دگرگوں تعلیمی معیار پر ایک اور کاری ضرب ہے کیونکہ محکمہ تعلیم پہلے سے ہی وینٹی لیٹر پر سے چلایا جا رہا ہے۔یہ محض صوبائی حکومت کے چیلوں کے درمیان نوکریوں کی بندربانٹ ہوگی۔
ہماری آج سے یہ پیشین گوئی ہے کہ یہی ایجوکیٹرز (گو کہ حلف نامے بھی جمع کروا رہے ہیں )
کچھ عرصے بعد مستقل بنیادوں پر SST گریڈ 17 بن جائیں گے زیادہ سے زیاہ یہ لوگ اپنی مستقلی کےلیے پہلے ایک یونین بنائیں گے، پھر اخباری بیانات دیں گے، پھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں گے ،سماجی و سیاسی لوگ انکی مستقلی کیلئے ان کی آواز میں آواز ملائیں گے، اور انکے بچوں کو نان شبینہ کے محتاج نہ بنانے کی تلقین کریں گے ،پھر اپوزیشن کے ممبران ان کے ساتھ احتجاج کرینگے، اور آخر میں حکومت گھٹنے ٹیک دے گی اور صوبے و تعلیم کےوسیع تر مفاد میں ان کو پچھلی تاریخوں سے مستقل کرینگے اور پھر یہ بلوچستان کے طول و عرض میں علم کی شمع روشن کرتے رہیں گے۔
راقم طنزومزاح نہیں کرنا چاہتا بلکہ ماضی کے جھروکوں اور تجربات ایسا کچھ کہنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو
مجھے یاد ہے ذرا ذرا
2008 جب پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بلوچستان کے زخموں پر آغاز حقوق بلوچستان پیکج کی صورت میں مرہم رکھا جا رہا تھا تو زخمی محکمہ تعلیم کوبھی مرہم پٹی کرنے کیلئے پیش کی گئی کہ ہر ضلع میں ڈی سی اور ممبر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے ہول سیل کے حساب سے مختصر ترین عرصے میں علم مینار اساتزہ کی تقرریاں کیں۔پورے صوبے میں چند ہفتوں میں 5000 نوجوان اساتزہ تعلیم سب کیلئےکے سلوگن کے تحت بھرتی کیے گئے جو کہ خالصتا کنٹریکٹ پر تھے اور ایک فکسڈ تنخواہ پر رکھے گئےتھے۔ان اساتزہ سے DC صاحبان نے ٹیسٹ لیا تھا انٹرویو کوئی نہیں تھا۔کچھ عرصے بعد صوبے کی تعلیم کے وسیع ترمفاد میں نہ صرف یہ نہ صرف مستقل کر دیے گئے بلکہ ان کو بعد میں 17 گریڈ میں اپ گریڈ بھی کر دیا گیا۔اس طرح ایک زمانے میں جاپان پروجیکٹ کے کنٹریکٹ اساتذہ کو بھی مستقل کر دیا گیا تھا اور بھی کئی مثالیں ایسی موجود ہیں،محکمہ تعلیم کی فیاضی کی وجہ سے کوئی ان سے خالی ہاتھ نہیں جا سکتا ان اساتزہ کی مستقلی ملا اور نہ تو تعلیمی معیار میں بہتری آئی ۔Right person for right job سے نہ تو
خدارا بلوچستان کےتعلیمی کے ساتھ مزاق کرنا بند کیا جائے اور نت نئے تجربات سے گریز کیا جائے یہ بلوچستان کی ابتر تعلیمی صورتحال کو مزید تباہی سے دوچار کرے گی۔اساتزہ کی بھرتیاں یا تو بلوچستان پبلک سروس کمیشن
سے کی جائیں یا پھر کسی معتبر ٹیسٹنگ سروس کو یہ ٹاسک سونپ دیا جائے ۔یونین کونسل لیول پر تقرریوں سے اجتناب کیا جائے کیونکہ اکثر علاقوں میں یوسی کی واضح حدوومتعین نہیں ہے خصوصا شہروں میں جہاں میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹیاں ہوتی ہیں وہاں UCs کا concept نہیں ہے لہزاہ کم از کم میرٹ تحصیل لیول پر بنایا جائے۔
سینکڑوں کی تعداد میں SST ٹیچرز DDOاور DOE,پرنسپلز و دیگرEx-cadr کی آسامیوں پر تعنیات ہیں ان کو اپنے سکولوں اور کلاسز میں بھیجا جائے تاکہ SST’s کی کمی پوری ہو سکے اور تعلیمی معیار میں بہتری لائے جا سکے

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے