Home / کالم / 50 فیصد پروموشن کوٹہ بلوچستان کے تعلیمی معیار پرایک اور کاری ضرب

50 فیصد پروموشن کوٹہ بلوچستان کے تعلیمی معیار پرایک اور کاری ضرب

تحریر: عبدالصمد اچکزئی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم و ملک کی ترقی کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔دنیا کےترقی یافتہ ممالک کی ترقی کاراز ان اقوام کی تعلیم وتحقیق پر توجہ میں مضمر ہے۔پاکستان تعلیم کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔پاکستان اپنی GDP کا 2 فیصد سے بھی کم تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔
پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی تعلیم کی بات کی جائے تو یقینی طورپرافسوس اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔صوبے میں اس وقت 70 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جہاں پنجاب میں ڈیجیٹل درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہو گیاہے وہاں بلوچستان میں 5000 سکول آج بھی چھت سے محروم ہیں۔محروم صوبے میں 6 ہزار سے زائد سکول میں صرف ایک ٹیچر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔
جہاں بہت سارے عوامل صوبے کی تعمیلی پسماندگی کا سبب بنے ہوئے ہیں وہاں ارباب اختیار نت نئے تجربات سے تعلیمی معیار کے انحطاط میں آج بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔راقم کے خیال کے مطابق 50، SST فیصد پروموشن کوٹہ کے ذریعے تقرری صوبے کی دگرگوں تعلیمی نظام کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہے۔
محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن حکومت بلوچستان 2008 میں صوبے میں SST کی تقرری کے لیےایک نیا طریقہ کار مرتب کر لیا جس کے تحت 50 فیصد BPSC کے ذریعے Appoint ہوں گے جبکہ 50 فیصد SST ٹیچرز محکمہ میں پہلے سے موجود J.V.T پرائمری ٹیچرز اور J.E.T مڈل ٹیچرز کی سینیارٹی کی بنیاد پرترقی دے کر Appoint کےلیے جائیں گے اس فارمولا کو 50 فیصد پروموشن کوٹہ کہتے ہیں۔اس فارمولے کو باقاعدہ رولز کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ایس ایس ٹی ٹیچرز محکمہ سیکنڈری ایجوکیش کےلیے بہت بڑی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ اساتذہ سیکنڈری کلاسز th9 اور th10 کو ریاضی ،انگریزی،کیمسٹری،فزکس،بیالوجی اوردیگر مضامین پڑھائیں گے۔
2002 میں محکمہ تعلیم میں پہلی بار SST کی Appointment بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے زریعے ہوئی اس وقت سے لے کر 2017 تک انکی تقرریBPSC کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس سے محکمہ کو باصلاحیت نوجوان اور محنتی اساتذہ مل رہے ہیں جو کہ یقینی طور پر ایک حوصلہ افزا اور مثبت عمل ہے۔
لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اب محکمہ تعلیم میں SST کی 50 فیصد تعداد J.V.T اور J.E.T سے ہو گی چونکہ یہ تعناتیاں جے وی ٹی اور جے ای ٹی سے ہوں گی جن کی عمر کم از کم 50 سال سے اوپر ہو گی ان پرائمری اور مڈل اساتذہ کوترقی کا یہ پیکج انکی نمائمندہ اساتذہ تنظیم GTAB کی مرہون منت ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ JVT اور JET اساتزہ کی ترقی SST(B-17) میں ہونا ضروری ہے کیونکہ JVTاور JET ترقی کیے بغیر ریٹائیر ہو رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ JVT گریڈ 9سے ہوتا ہے وقت کے ساتھ یہ 16 سکیل کی تنخواہ مراعات لیتا ہے اور JET گریڈ 14 میں ہوتا ہے وقت کے ساتھ گریڈ 17 کی تنخواہ اور مراعات لیتا ہے۔
اب اساتذہ تنظیم کا ایک اور انوکھا مطالبہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ BA تھرڈ ڈویژن پاس والے بھی SST بننے کے حقدار ہیں انکو بھی پروموشن کوٹہ میں شامل کیا جائے۔
یہ وہ اساتذہ ہیں جو شاید اپنے پیشے کے ساتھ انصاف نہ کرسکیں آج کی جدید اور ٹیکنالوجی سے مربوط نصاب کی تدریس شاید ان پرائمری اور مڈل اساتذہ کے بس کی بات نہیں۔
جدید تدریسی تدابیراور درس و تدریس میں آئے روز جدت اور نئے تجربات سے عاری یہ اساتذہ محکمےاور اسکولزکی پہلےسے دگرگوں صورتحال میں مزید تباہی اور بوجھ کا سبب بنے گی۔
راقم کی ناقص رائے کےمطابق یہ فارمولا بلوچستان کو جہالت اور تاریکی کے اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور خوفناک منصوبہ ہے اس سے آپکے صوبے کی سطح پر محکمہ تعلیم میں نااہل لوگ مسلط ہو جائیں گے سیکنڈری کی سطح پر جوکہ طلبہ کے کیریر میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں ۔سکولز کا نظام تعلیم کھوکھلے پن کا شکار ہو جائے گا۔
میری اس سلسلے میں وزیراعلی جام کمال خان صاحب وزیرتعلیم محمد خان لہڑی صاحب اور سیکنڈری ایجوکیشن محمد طیب لہڑی سے ایک عاجزانہ گزارش ہے کہ صوبہ بلوچستان عملی طور پر باقی صوبوں سے بہت پیچھے ہے ۔اس خوفناک منصوبے پر عمل دراآمد فوری طور پر روک دیا جائے ۔
ایس ایس ٹی کی 100 فیصد تقرری BPSC سے کی جائے تاکہ باصلاحیت اور قابل اساتذہ ہمارے بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرسکیں اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم 50 فیصد پروموشن کوٹہ SST تعنیات ہونے سے پہلے ان سے کلاس th6 کے چار مضامین انگریزی،اردو،سائنس اور ریاضی کا ایک ٹیسٹ کسی معتبر ٹیسٹنگ سروس سے لیا جائےاگر یہ اس میں 50 فیصد نمبر حاصل کرتے ہیں تو انکو ترقی مبارک ہو اگر ان میں یہ ٹیسٹ پاس کرنے کی بھی اہلیت نہ ہو تو خدارا اس صوبے کے غریب بچوں پر رحم کیا جائے اور مزید تجربات سے گریز کیا جائے۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہم اتنے سنگ دل کیوں ہوگئے ہیں : میر افضل خان طوری

پاکستانیوں کی اکثریت مذہب، عقیدے ، مسلک ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے