Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / ایکٹریس کی آنکھ – سعادت حسن منٹو

ایکٹریس کی آنکھ – سعادت حسن منٹو

’’ پاپوں کی گٹھڑی ‘‘ کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی، رات کے تھکے ماندے ایکٹر لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لئے خاص طور پر تیار کرایا تھا۔ اور جس میں فرصت کے وقت سب ایکٹر اور ایکٹرسیں سیٹھ کی مالی حالت پر تبصرہ کیا کرتے تھے، صوفوں اور کرسیوں پر اونگھ رہے تھے۔ اس چوبی کمرے کے ایک کونے میں میلی سی تپائی کے اوپر دس پندرہ چائے کی خالی پیالیاں اوندھی سیدھی پڑی تھیں جو شاید رات کو نیند کا غلبہ دور کرنے کے لئے ان ایکٹروں نے پی تھیں۔ کمرے کے باہر ان کی بھنبھناہٹ سن کر کسی نووارد کو یہی معلوم ہوتا تھا کہ اندر بجلی کا پنکھا چل رہا ہے۔
دراز قد ولن جو شکل و صورت سے لاہور کا کوچوان معلوم ہوتا تھا۔ ریشمی سوٹ میں ملبوس صوفے پر دراز تھا۔ آنکھیں کھلی تھیں۔ اور منہ بھی نیم وا تھا۔ مگر وہ کراہ رہا تھا۔ اسی طرح، اس کے پاس ہی آرام کرسی پر ایک مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا ایکٹر اونگھ رہا تھا۔ کھڑکی کے پاس ڈنڈے سے ٹیک لگائے ایک اور ایکٹر سونے کی کوشش میں مصروف تھا، کمپنی کے مکالمہ نویس یعنی منشی صاحب ہونٹوں میں بیڑی دبائے اور ٹانگیں میک اپ ٹیبل پر رکھے شاید وہ گیت بنانے میں مصروف تھے جو انہیں چار بجے سیٹھ صاحب کو دکھانا تھا۔
’’ اوئی…. اوئی…. ہائے…. ہائے‘‘
دفعتاً یہ آواز باہر سے اس چوبی کمرے میں کھڑکیوں کے راستے اندر داخل ہوئی ولن صاحب جھٹ سے اٹھ بیٹھے اور اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ مونچھوں والے ایکٹر لمبے لمبے کانوں سے ایک ارتعاش کے ساتھ اس نسوانی آواز کو پہچاننے کے لئے تیار ہوئے۔ منشی صاحب نے میک اپ ٹیبل پر سے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اور ولن صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔
’’ اوئی، اوئی، اوئی…. ہائے …. ہائے۔‘‘
اس پر ولن ، منشی اور دوسرے ایکٹر جو نیم غنودگی کی، حالت میں تھے چونک پڑے، سب نے کاٹھ کے اس بکس نما کمرے سے اپنی گردنیں باہر نکالیں۔
’’ ارے کیا ہے بھئی۔‘‘
’’ خیر تو ہے!‘‘
’’ کیا ہوا؟‘‘
’’ اماں ، یہ تو…. دیوی ہیں !‘‘
’’ کیا بات ہے!دیوی؟‘‘
جتنے منہ اتنی باتیں …. کھڑکی میں سے نکلی ہوئی گردن بڑے اضطراب کے ساتھ متحرک ہوئی اور ہر ایک کے منہ سے گھبراہٹ میں ہمدردی اور ملے جلے استفسار کےجذبات کا اظہار ہوا۔
’’ ہائے ، ہائے ، ہائے…. اوئی…. اوئی!‘‘
…. دیوی، کمپنی کی ہر دلعزیز ہیروئن کے چھوٹے سے منہ سے چیخیں نکلیں اور باہوں کو انتہائی کرب و اضطراب کے تحت ڈھیلا چھوڑ کر اس نے اپنے چپل پہنے پاؤں کو زور زور سے اسٹوڈیو کی پتھریلی زمین پر مارتے ہوئے چیخنا شروع کر دیا۔
ٹھمکا ٹھمکا بوٹا سا قد۔ گول گول گدرایا ہوا ڈیل کھلتی ہوئی گندمی رنگت، خوب خوب کالی بھوئیں ، کھلی پیشانی پر گہرا کسم کا ٹیکہ…. بال کالے بھنورے سے جو سیدھی مانگ نکال کر پیچھے جوڑے کی صورت میں لپیٹ دے کر کنگھی، کئے ہوئے تھے، ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔
کنارے دار سفید سوتی ساڑھی میں لپٹی ہوئی، چولی گجراتی تراش کی تھی، بغیر آستینوں کے جن میں سے جوبن پھٹا پڑتا تھا، ساڑھی بمبئی کی طرز سے بندھی تھی، چاروں طرف میٹھا میٹھا جھول دیا ہوا تھا…. گول گول کلائیاں جس میں کھلی کھلی جاپانی ریشمین چوڑیاں کھنکھنا رہی تھی۔ ان ریشمین چوڑیوں میں کھلی ہوئی ادھر ادھر ولایتی سونے کی پتلی پتلی کنگنیاں جھم جھم کر رہی تھی۔ کان موزوں اور لویں بڑی خوبصورتی کے ساتھ جھکی ہوئیں۔ جن میں ہیرے کے آویزے شبنم کی دو تھراتی ہوئی بوندیں معلوم ہو رہی تھیں۔
چیختی چلاتی اور زمین کو چپل پہنے پیروں سے کوٹتی۔ دیوی نے داہنی آنکھ کو ننھے سے سفید رومال کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔
’’ ہائے میری آنکھ…. ہائے میری آنکھ…. ہائے۔‘‘
کاٹھ کے بکس سے باہر نکلی ہوئی کچھ گردانیں اندر کوہو گئیں اور جو باہر تھیں ، پھر سے ہلنے لگیں۔
’’ آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہے؟‘‘
’’ یہاں کنکر بھی بے شمار ہیں …. ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔‘‘
’’ یہاں جھاڑو بھی تو چھ مہینے بعد دی جاتی ہے۔‘‘
’’ اندر آ جاؤ، دیوی۔‘‘
’’ ہاں ،ہاں ،آؤ…. آنکھ کو اس طرح نہ ملو۔‘‘
’’ ارے بابا…. بولا نہ تکلیف ہو جائے گی۔ تم اندر آ جاؤ۔‘‘
آنکھ ملتی ملتی، دیوی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔
ولن نے لپک کر تپائی پر سے بڑی صفائی کے ساتھ ایک رومال میں چائے کی پیالیاں سمیٹ کر میک اپ ٹیبل کے آئینے کے پیچھے چھپا دیں اور اپنی پرانی پتلون سے ٹیبل کو جھاڑ پونچھ کر صاف کر دیا۔باقی ایکٹروں نے کرسیاں اپنی اپنی جگہ پر جما دیں اور بڑے سلیقے سے بیٹھ گئے۔ منشی صاحب نے پرانی ادھ جلی بیڑی، پھینک کر جیب سے ایک سگریٹ نکال کر سلگانا شروع کر دیا۔
دیوی اندر آئی۔ صوفے پر سے منشی اور ولن اٹھ کھڑے ہوئے منشی صاحب نے بڑھ کر کہا۔’’ آؤ، دیوی بیٹھو۔‘‘
دروازے کے پاس بڑی بڑی سیاہ و سفید مونچھوں والے بزرگ بیٹھے تھے۔ ان کی مونچھوں کے لٹکے اور بڑھے ہوئے بال تھرتھرائے اور انہوں نے اپنی نشست پیش کرتے ہوئے گجراتی لہجہ میں کہا: ’’ادھر بیسو۔‘‘
دیوی ان کی تھرتھراتی ہوئی مونچھوں کی طرف دھیان دیئے بغیر آنکھ ملتی اور ہائے ہائے کرتی آگے بڑھ گئی۔ ایک نوجوان جو ہیرو سے معلوم ہو رہے تھے اور پھنسی پھنسی قمیص پہنے ہوئے تھے جھٹ سے ایک چوکی نما کرسی سرکا کر آگے بڑھا دی۔ اور دیوی نے اس پر بیٹھ کر اپنی ناک کے بانسے کو رومال سےرگڑنا شروع کر دیا۔
سب کے چہرے پر دیوی کی تکلیف کے احساس نےایک عجیب و غریب رنگ پیدا کر دیا۔ منشی صاحب کی قوت احساس چونکہ دوسرے مردوں سے زیادہ تھی۔ اس لئے چشمہ ہٹا کر، انہوں نے اپنی آنکھ ملنا شروع کر دی تھی۔
جس نوجوان نے کرسی پیش کی تھی اس نے جھک کر دیوی کی آنکھ کا ملا حظہ کیا اور بڑے مفکرانہ انداز میں کہا۔’’آنکھ کی سرخی بتا رہی ہے کہ تکلیف ضرور ہے۔‘‘
ان کا لہجہ پھٹا ہوا تھا۔ آواز اتنی بلند تھی کہ کمرہ گونج اٹھا۔
یہ کہنا تھا کہ دیوی نے اور زور زور ے چلانا شروع کر دیا۔
اور سفید ساڑھی میں اس کی ٹانگیں اضطراب کا بے پناہ مظاہرہ کرنے لگیں۔
ولن صاحب آگے بڑھے اور بڑی ہمدردی کے ساتھ اپنی سخت کمر جھکا کر دیوی سے پوچھا۔’’ جلن محسوس ہوتی ہے یا چبھن!‘‘
ایک اور صاحب جو اپنے سولا ہیٹ سمیت کمرے میں ابھی ابھی تشریف لائے تھے، آگے بڑھ کر پوچھنے لگے پپو ٹوں کے نیچے رگڑی محسوس نہیں ہوتی۔‘‘
دیوی کی آنکھ سرخ ہو رہی تھی۔ پپوٹے ملنے اور آنسوؤں کی نمی کے باعث میلے میلے نظر آ رہے تھے، چتو نوں میں لال لال ڈوروں کی جھلک، چک میں سے آفتاب غروب کا سرخ سرخ منظر پیش کر رہی تھی۔ داہنی آنکھ کی پلکیں نمی کے باعث بھاری اور گھنی ہو گئی تھی۔ جس سے ان کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ باہیں ڈھیلی کر کے دیوی نے دکھتی آنکھ کی پتلی نچاتے ہو کہا:۔
’’ آں ….بڑا تکلیپھ ہوتی ہے…. ہائے…. اوئی!‘ ‘ اور پھر سے آنکھ کو گیلے رومال سے ملنا شروع کر دیا۔
سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے جو کونے میں بیٹھے تھے۔ بلند آواز میں کہا۔’’ اس طرح آنکھ نہ رگڑو خالی پیلی کوئی اور تکلیپھ ہو جائے گا۔‘‘
’’ہاں ، ہاں …. ارے ، تم پھر وہی کر رہی ہو۔‘‘ پھٹی آواز والے نوجوان نے کہا۔
ولن جو فوراً ہی دیوی کی آنکھ کو ٹھیک حالت میں دیکھنا چاہتے تھے بگڑ کر بولے’’ تم سب بیکار باتیں بنا رہے ہو…. کسی سے ابھی تک یہ بھی نہیں ہوا کہ دوڑ کر ڈاکٹر کو بلا لائے…. اپنی آنکھ میں یہ تکلیف ہو تو پتہ چلے، یہ کہہ کر انہوں نے مڑ کر کھڑکی میں گردن باہر نکالی اور زور زور سے پکارنا شروع کیا۔ ارے…. کوئی ہے…. کوئی ہے….؟گلاب؟گلاب!‘‘
جب ان کی آواز صدا لبصحرا ثابت ہوئی تو انہوں نے گردن اندر کو کر لی اور بڑبڑانا شروع کر دیا۔ خدا جانے ہوٹل والے کا یہ چھوکرا کہاں غائب ہو جاتا ہے…. پڑا اونگھ رہا ہو گا۔ اسٹوڈیو میں کسی تختے پر…. مردو و نابکار۔‘‘پھر فوراً ہی دور اسٹوڈیو کے اس طرف گلاب کو دیکھ کر چلائے۔ جو انگلیوں میں چائے کی پیالیاں لٹکائے چلا آ رہا تھا۔’’ ارے گلاب…. گلاب!‘‘
گلاب بھاگتا ہوا آیا اور کھڑکی کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ ولن صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اس سے کہا۔’’ دیکھو ایک گلاس میں پانی لاؤ جلدی سے…. بھاگو!‘‘
گلاب نے کھڑے کھڑے اندر جھانکا، یہ دیکھنے کے لئے کہ گڑ بڑ کیا ہے…. اس پر ہیرو صاحب للکارے’’ ارے دیکھتا کیا ہے…. لانا گلاس میں تھوڑا سا پانی…. بھاگ کے جا، بھاگ کے جا!‘‘
گلاب سامنے ٹین کی چھت والے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔ دیوی کی آنکھ میں چبھن اور بھی زیادہ بڑھ گئی اور اس کی بنارسی لنگڑے کی کیری ایسی ننھی منی روتی بچے کی طرح کانپنے لگی اور وہ اٹھ کر درد کی شدت سے کراہتی ہوئی…. صوفے پر بیٹھ گئی۔ دستی بٹوے سے ماچس کی ڈبیا کے برابر ایک آئینہ نکال کر اس نے اپنی دکھتی آنکھ کو دیکھنا شروع کر دیا۔ اتنے میں منشی صاحب بولے گلاب سے کہہ دیا ہوتا…. پانی میں تھوڑی سے برف ڈالتا لائے!‘‘
’’ ہاں ، ہاں سرد پانی اچھا رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر ولن صاحب کھڑکی میں سے گردن باہر نکال کر چلائے ’’گلاب…. ارے گلاب …. پانی میں تھوڑی سی برف چھوڑ کے لانا۔‘‘
اس دوران میں ہیرو صاحب جو کچھ سوچ رہے تھے کہنے، لگے’’ میں بولتا ہوں کہ رومال کو سانس کی بھاپ سے گرم کرو اور اس سے آنکھ کو سینک دو، کیوں دادا؟‘‘
’’ ایک دم ٹھیک رہے گا!‘‘ سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے سر کو اس بات میں بڑے زور سے ہلائے کہا۔
ہیرو صاحب کھونٹیوں کی طرف بڑھے اپنے کوٹ میں سے ایک سفید رومال نکال کر دیوی کو سانس کے ذریعے سے اس کو گرم کرنے کی ترکیب بتائی اور الگ ہو کر کھڑے ہو گئے دیوی نے رومال لے لیا اور اسے منہ کے پاس لے جا کر گال پھلا پھلا کر سانس کی گرمی پہنچائی۔ آنکھ کو ٹکور دی مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا۔
’’ کچھ آرام آیا؟‘‘ سولا ہیٹ والے صاحب نے دریافت کیا۔
دیوی نے رونی آواز میں جوا ب دیا۔’’ نہیں …. نہیں …. ابھی نہیں نکلا…. میں مر گئی….‘‘
اتنے میں گلاب پانی کا گلاس لے کر آگیا، ہیرو اور ولن دوڑ کر بڑھے اور اور دونوں نے مل کر دیوی کی آنکھ میں پانی چوایا، جب گلا س کا پانی آنکھ کو غسل دینے میں ختم ہو گیا، تو دیوی پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور آنکھ جھپکانے لگی۔
’’ کچھ افاقہ ہوا؟‘‘
’’ اب تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘
’’ کنکری نکل گئی ہو گی۔‘‘
’’ بس تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا!‘‘
آنکھ دھل جانے پر پانی کی ٹھنڈک نے تھوڑی دیر کے لئے دیوی کی آنکھ میں چبھن رفع کر دی، مگر فوراً ہی پھر سے اس نے درد کے مارے چلانا شروع کر دیا۔
’’ کیا بات ہے؟‘‘یہ کہتے ہوئے ایک صاحب باہر سے اندر آئے اور دروازے کے قریب کھڑے ہو کر معاملے کی اہمیت کو سمجھنا شروع کر دیا۔
نو وارد کہنہ سال ہونے کے باوجود چست و چالاک معلوم ہوتے تھے۔ مونچھیں سفید تھیں جوبیڑی کے دھوئیں کے باعث سیاہی مائل زرد رنگت اختیار کر چکی تھیں ، ان کے کھڑے ہو نے کا انداز بتا رہا تھا کہ فوج میں رہ چکے ہیں۔
سیاہ رنگ کی ٹوپی سر پر ذرا اس طرف ترچھی پہنے ہوئے تھے، پتلون اور کوٹ کا کپڑا معمولی اور خاکستری رنگ کا تھا۔ کولہوں اور رانوں کے اوپر پتلون میں پڑے ہوئے جھول اس بات پر چغلیاں کھا رہے تھے کہ ان کی ٹانگوں پر گوشت بہت کم ہے ، کالر میں بندھی ہوئی میلی نکٹائی کچھ اس طرح نیچے لٹک رہی تھی کہ معلوم ہوتا تھا وہ ان سے روٹھی ہوئی ہے پتلون کا کپڑا گھٹنوں پر کھچ کر آگے بڑھا ہوا تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ اس بے جان چیز سے بہت بڑا کام لیتے رہے ہیں ، گال بڑھاپے کے باعث پچکے ہوئے آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہوئیں ، جو بار بار شانوں کی جنبش کے ساتھ سکیڑ لی جاتی تھیں۔
آپ نے کاندھوں کو جنبش دی اور ایک قدم آگے بڑھ کر کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا۔’’ کنکر پڑ گیا ہے؟‘‘ اور اثبات میں جواب پا کر دیوی کی طرف بڑھے۔ ہیرو اور ولن کو ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کر کے آپ نے کہا۔’’ پانی سے آرام نہیں آیا…. خیر…. رومال ہے کسی کے پاس؟‘‘
نصف درجن رومال ان کے ہاتھ میں دے دئیے گئے، بڑے ڈرامائی انداز میں آپ نے ان پیش کردہ رومالوں میں سے ایک منتخب کیا اور ان کا ایک کنارہ پکڑ کر دیوی کو آنکھ پر سے ہاتھ اٹھا لینے کا حکم دیا۔
جب دیوی نے ان کے حکم کی تعمیل کی تو انہوں نے جیب میں سے مداری کے سے انداز میں ایک چرمی بٹوا نکالا اور اس میں سے اپنا چشمہ نکال کر کمال احتیاط سے ناک پر چڑھا لیا، پھر چشمے کے شیشوں میں سے دیوی کی آنکھ کا دور ہی سے اکڑ کر معائنہ کیا۔ پھر دفعتاً فوٹو گرافر کی سی پھرتی دکھاتی ہوئے آپ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کیں اور اور جب انہوں نے اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے دیوی کے پپوٹوں کو وا کرنا چاہا تو ایسا معلوم ہوا کہ وہ فوٹو لیتے، وقت کیمرے کا لینس بند کر رہے ہیں۔
دو تین مرتبہ ڈرامائی انداز سے اپنے کھڑے ہونے کا رخ بدل کر انہوں نے دیوی کی آنکھ کا معائنہ کیا اور پھر پپوٹے کھول کر بڑی آہستگی سے رومال کا کنارہ ان کے اندر داخل کر دیا….’’ حاضرین‘‘ خاموشی سے اس عمل کو دیکھتے رہے۔
پانچ منٹ تک کمرے میں قبر کی سی خاموشی طاری رہی۔ آنکھ صاف کرنے کے بعد اسی ڈرامائی انداز میں فوٹو گرافر صاحب نے…. چونکہ وہ بزرگ فوٹو گرافر ہی تھے…. چشمہ اتار کر چرمی بٹوے میں رکھ کر دیوی سے کہا۔’’ اب کنکر نکل گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں آرام آ جائے گا!‘‘
دیوی نے آنکھ کے پپوٹوں کو انگلیوں سے چھوا اور ننھا سا آئینہ نکال کر اپنا اطمینان کرنے لگی۔
’’ کنکری نکل گئی نا؟‘‘
’’اب تو درد محسوس نہیں ہوتا!‘‘
’’ سالا، اب نکل گیا ہو گا…. بہت دکھ دیا ہے اس نے!‘‘
’’ دیوی…. اب طبیعت کیسی ہے؟‘‘
یہ شور سن کر فوٹو گرافر صاحب نے کاندھوں کو زور سے جنبش دی اور کہا۔’’ تم سارا دن کوشش کرتے رہتے مگر کچھ نہ ہوتا…. ہم فوج میں پچیس سال بھاڑ نہیں جھونکتا رہا…. یہ سب کام جانتا ہے…. کنکر نکل گیا ہے، اب صرف جلن باقی ہے، وہ بھی دور ہو جائے گی۔‘‘
یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دیوی جو آئینے میں رونی صورت بنائے اپنا اطمینان کر رہی تھی، ایکا ایکی مسکرائی اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی…. چوبی کمرے میں مترنم تارے بکھر گئے۔
’’ اب آرام ہے…. اب آرام ہے۔‘‘ یہ کہہ کر دیوی سیٹھ کی جانب روانہ ہو گئی جو ہوٹل کے پاس اکیلا کھڑا تھا اور سب لوگ دیکھتے رہ گئے۔
ہیرو صاحب صوفے پر بیٹھنے لگے تو منشی صاحب کی ران نیچے دب گئی آپ بھنا گئے۔’’ اب کیا پھر سونے کا ارادہ ہے۔ چلو بیٹھو۔‘‘ مجھے کل والے سین کے ڈائیلاگ سناؤ۔‘‘
ہیرو کے دماغ میں اس وقت کوئی اور ہی سین تھا۔

 

٭٭٭

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے