Home / خبریں / ٹاپ سٹوری / افغانستان میں تنہا حکمرانی کے خواہشمند نہیں ۔ طالبان

افغانستان میں تنہا حکمرانی کے خواہشمند نہیں ۔ طالبان

افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان پرمستقبل میں مکمل اقتدار کے خواہاں نہیں بلکہ افغان اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔طالبان کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کےنمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمےخلیل زاد تصدیق کرچکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ افغان معاہدے کےفریم ورک پراصولی اتفاق ہوگیا ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی اینڈ پریس کو بیجھے گئےایک آڈیوبیان میں طالبان کےقطرمیں قائم سیاسی دفترکےترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ طالبان اپنے ہم وطنوں کےساتھ ملکر ایک ایسے افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں جہاں سب کےلیے گنجائش موجود ہو۔طالبان ترجمان نے کہا کہ افغانستان پر قبضے کے خاتمےکےبعدافغانوں کو چاہیےکہ وہ اپنا ماضی بھلا کر ایک دوسرے کو برداشت کر کےبھائیوں کی طرح زندگی کا آغاز کریں۔افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کےبعدہم اقتدارپراپنی اجارہ داری نہیں چاہتے۔اس کےعلاوہ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی اور طالبان کے درمیان بات چیت کا اگلادور ٢٥ فروری کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں ہو گا۔
طالبان کےترجمان سہیل شاہین کی جانب سے جاری کردہ آڈیو بیان کا بظاہرمقصدطالبان اور امریکہ کےدرمیان ممکنہ معاہدے پر افغان حکومت اور اداروں کے تحفظات کو دور کرنا ہے۔امکان ہے کہ طالبان ترجمان کے بیان کے غیرمعمولی طورپرمصالحانہ اس بیان سے ان کوششوں کو تقویت ملے گی۔جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہراست مزاکرات کےلیے کی جا رہی ہیں۔
زلمے خلیل زاد صدر اشرف غنی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک وسیع البنیاد مزاکراتی ٹیم تشکیل دیں جو طالبان کے ساتھ مستقبل کے فریمورک پر بات چیت کر سکے۔لیکن افغان حکومت کی اندرونی تقسیم اورماضی میں جنگجو رہنےوالےسیاستدانوں کی جانب سے طالبان کےساتھ مفاہمتی کوششوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا۔
دوسری جانب طالبان بھی اب تک افغان حکومت کے ساتھ براہراست مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوئےہیں۔طالبان افغان حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور انکاموقف رہا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ بے اختیار ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی آئندہ ملاقات سے قبل طالبان اور امریکہ مشترکہ طور پرایک تیکنیکی ٹیم تشکیل دیں گےجو افغانستان سےامریکی فورسز کے انخلاکی تفصیلات اور مستقبل میں افغانستان کو دہشتگردوں کا گڑھ بننے سے روکنے کےلیے ایک طریقہ کار طے کرے گی۔
خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے قطر میں طالبان چھ روز تک بات چیت کے بعد کابل کادورہ کیا تھاجس میں انہوں نے کہا تھا کہ گو کہ طالبان کے ساتھ بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی بہت کچھ طے ہونا باقی ہے۔
دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے بھی افغان عوام کویقین دہانی کرائی ہے کی کابل حکومت کی شرکت کے بغیرطالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے