Home / کالم / استعمار اور اسلام ۔۔۔ امجد اسلام امجد

استعمار اور اسلام ۔۔۔ امجد اسلام امجد

مسلم معاشرے ماقبل عہدِ جدید مغرب سے ناواقف نہ تھے۔ صلیبی جنگوں، بازنطینی عرب کشمکش وغیرہ نے مغرب کے متعلق مسلمانوں کو بہت سی معلومات بہم پہنچائیں۔ مگر یہ سب یورپی نشاط ۃ ثانیہ سے ماقبل کی باتیں ہیں۔جب مغرب کی شناسائی مسلم تہذیب کی اپنی تہذیبی اور فکری بنیادوں پر تھی۔ جدید مغرب سے مسلمانوں کا تہذیبی سامنا ایشیا اور افریقہ میں قائم ہونے والے استعمار کے ذریعے سے ہوا۔استعمار کے بنیادی اغراض میں تجارتی و معاشی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسلام دشمنی کا بے پناہ جذبہ تھا، اور اسی اسلام دشمنی کا وارث نشاۃ ثانیہ سے جنم لینے والا مغرب جدید ہوا۔ اسی لیے استعمار کی مسلم دشمنی کی وجہ فقط مذہبی ہی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ اس لیے کہ یہ ان کے معاشی اہداف کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جدید استعمار کی اولین بنیاد پرتگالی سلطنت نے رکھی اور استعمار کے تسلط سے پہلے برصغیر کی علمی روایت میں اسلام کی کسی جدید تعبیر کا کوئی سراغ نہیں ملتا، جدیدیت کو قبول کرنے اور اس کی اسلام کاری کی اولین تحریکیں استعمار کے بعد شروع ہوئیں۔ استعمار کے غلبے کے بعد ہمارے ہاں ایمانیات کا مبحث عیسائیت میں اٹھنے والی تحریک اصلاح سے متاثر ہوا جبکہ سیاسی عمل کی بحث جدید سیاسی نظریات جیسے جان لاک، روسو اور مونٹیسکو وغیرہ کے نظریات سے متاثر ہوئی۔

ہم اس وقت جدیدیت (ماڈرنٹی) کے غلبے کے عہد میں زندہ ہیں جو استعمار ہی کے توسط سے ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ کے علاقوں بالخصوص مسلم آبادی پر بزور قوت مسلط ہوا اور استعمار کے وسیلے سے غلبہ پانے والا جدیدیت زدہ ڈسکورس ہی ان معاشروں کی صورت گری کررہا ہے۔ اسی کا غلبہ ان معاشروں کے ہر مظہر میں رونما ہے اور مابعد الاستعماری مذہبی مواقف میں یہی گویا ہے۔ ہماری عرض ہے کہ عہد جدید کے کسی بھی سیاسی موقف کی اسلام کاری کرنے والوں کا اپنا موقف غور کیا جائے تو خود استعماری ہے۔ غلامی کا وہی لباس جو سرسید نےاپنے آقا و مولا کے دھاگے اور سوئی سے سیا تھااسی کی کانٹ چھانٹ کر کے دوبارہ پہن لیا جاتا ہے، جس طرح اُس وقت اِس لباس میں مسلم معاشرت کے قدوقامت کا لحاظ نہ تھا دو سو سالہ کانٹ چھانٹ کے بعد بھی اِس کا استعمال گھٹن کا باعث ہے۔ جدیدیت زدہ مذہبی تعبیرات دو سو سال پہلے بھی مسلم دشمنی بلکہ انسانی بے حمیتی کا مظہر تھی آج بھی اس نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اور اس کا دانستہ یا نادانستہ اولین شکار آج بھی مسلم معاشرت ہی ہے۔ چونکہ دو سو سالہ مذہبی تعبیرات کی بنت استعماری جدیدیت کی مرہون منت ہے اس لیے آج بھی قریب سے دیکھیں تو اس سے وہی استعماری جدیدیت زدہ تعفن اٹھ رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں ان کے مواقف میں کئی اور بھی خلط مباحث ہیں۔ ان میں سے جدید ریاست کی اسلام کاری، اور عالمگیر دارالحرب سے ناواقفیت اور وہاں مسلم معاشرت کی اہمیت سےعدم واقفیت جیسے کئی مسائل ہیں۔ ہماری عرض ہے کہ جب ذہن تاریخ میں واقع حق و باطل کے شعور سے عاری ہو جائے تو مستعمَر معاشرے میں مذہب کے نام پر طویل آپسی جدلیات کا آغاز ہوتا ہے، مثلاً برصغیر کی ماقبل جدید تہذیبی معاشرے پر جب استعمار کا ورود ہوا تو یہ معاشرہ اور اس کا ذہن اس انداز میں تبدیل ہو گیا کہ استعمار پر اپنا حکم لگانے کی استعداد ہی کھو بیٹھا اور استعمار کو استعماری نظروں سے دیکھتے اور پرکھتے ہوئے اس سے تعامل و تفاعل کے مسئلے پر اپنے آپ میں بھی الجھ گیا اور استعماری مظاہر سے بھی انحصارانہ تعلق استوار کیا۔ اس طرح سے استعمار کی عمل پذیری سے خود روایت کے اندر موجود جدلیاتی حرکیات تبدیل ہو گئیں اور استعمار سے معاملہ سازی میں بالکل نئی جدلیات کی نمو ہوئی جس کی نمایاں خصوصیت تہذیبی بنیادوں پر حق و باطل کا امتیاز نہیں بلکہ محض استعمار سے کامیاب مفاہمتی مساویانہ آمیزش و آویزش تھا۔ استعمار کے جلو میں جدید اقدار کے قیام کے بعد مستمَر شعور کی شکست خوردگی کی حالت محکوم کے جبری تعاون کے بغیر اتمام کو نہیں پہنچتی اور استعمار چونکہ اپنی اصل میں جدیدیت سے پیدا ہونے والی جدید سیاسی طاقت کا ایک اظہار ہے اور یہ نسل کشی کے ساتھ شعور کشی میں بھی ید طولی رکھتا ہے اس نے ہمارے ہاں یہ یقین پیدا کیا کہ ہم اگرچہ محکوم ہوئے ہیں مگر ہماری روایت پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑا۔ اس لیے شریعت کے غلبے کا خیال چاہے نتیجتا مسلم معاشرہ کوئی بھی نقصان اٹھائے استعماری جدیدیت کا پیدا کردہ مخمصہ ہے اور استعماری شعور کشی کی کامیابی کا مکمل اظہار ہے ۔ استعماری جدیدیت زدہ مذہبی تعبیر کا بنیادی اور متفقہ موقف یہ رہا ہے کہ پہلے اپنی "نااہل”، "نالائق” اور ” بد اخلاق” و "بد عمل” قوم کو درست کرو مغرب پر بعد میں بات کریں گے۔ اس میں سرسید کا سیاسی بیانیہ ہو، یا عنایت اللہ مشرقی صاحب کی خاکسار تحریک وغیرہ۔یہ سب مسلم دشمن پہلے ہیں اور مغرب کے ناقد بعد میں، اور انہی مواقف کا تسلسل اس وقت کی ہماری اکثر مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اگر اس وقت پاکستان کی مسلم معاشرت میں کوئی یہ بات کرے کہ یہاں کی حکومت سے کیونکر جہاد نہیں ہوسکتا جبکہ یہ ایک ماڈرن سٹیٹ ہے اور اس کو مقتدرہ ماننے سے کلی انکار کردیا جائے تو اس بغاوت اور مقتدرہ کو دی جانے والے للکار میں ایک چیز درمیان میں پس جائے گی اور وہ ہے مسلم معاشرہ مگر استعماری جدیدیت کے تشکیل کردہ ذہن کو یہ بات کبھی نہیں سوجھتی کیونکہ اس کی روایت اب تاریخ میں واقع حق و باطل کے شعور سے عاری ہو چکی ہے اور ان کا مذہبی تصور فرد سیاسی اور تصور دنیا اخلاقی ہو چکا ہے اور پھر اس بیانیے کی قبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس کو بظاہر مذہب کی کمک حاصل ہے اور وہ مذہبی قوت کے مظہر کے طور پر بول رہا ہوتا ہے۔چند دن قبل ایک پاکستانی مذہبی سیاست دان کا بیان سننے کا موقع ملا تو ان کے بیان میں اسی استعمار زدہ مذہبی تعبیرات کا تعفن صاف محسوس ہورہا تھا۔ان کا فرمانا یہ تھا کہ "اگر افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے تو پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت کو کیوں کر مانا جائے؟ ” اہل عقل اس متحجر بیان کی تہہ میں کارفرما استعمار زدہ مذہبی جدیدیت کےبیانیے کو سمجھ سکتے ہیںجس میں مسلم معاشرہ کی تباہی کے علاوہ کسی بھی مقصد میں کامیابی ہوتی نظر نہیں آتی۔ اگر ہم مابعد الاستعماری جدیدیت زدہ مذہبی روایت پر ہم عصر دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی روایت کے تناظر سے غور و فکر نہیں کرینگے تو یہ جدیدیت زدہ مذہبی بیانیے ہماری معاشرت کو جہنم کے دہانے پر لا کر ہی چھوڑیں گے۔ آخر میں ہماری دست بستہ، یخ بستہ اور صف بستہ عرض ہے کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ہم جس وقت اپنے تاریخ کے بدتر دور سے گزر رہے ہیں یعنی سیاسی طاقت اور معاشی حوالے سے زوال پذیر ہیں مذہبی حوالے سے ہمیں نت نئے خیالات اسی وقت ہی کیوں القا ہو رہے ہیں ؟ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی گروہوں کو مذہبی روایت سے جڑے رہنا چاہیے اور معاصر عہد کی تفہیم کا مذہبی زاویہ معاشی یا سیاسی کمزوری کی وجہ سے دھندلانا نہیں چاہئے تاکہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مصداق نہ بنیں جسے حافظ ابن قیم نے نقل فرمایا ہے کہ اپنے زمانے کی جہالت سے ناواقف اس دین کی کڑیاں بکھیر دے گا
اللھم ارنا الحق حقا و ارنا الباطل باطل

admin

Author: admin

Check Also

حکومت کیا ہوتی ہے؟ : میرافضل خان طوری

” حکومت ” عربی زبان کے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے