Home / بلاگ / مَیں اور خودکش ۔ برہم مروت

مَیں اور خودکش ۔ برہم مروت

پشاور کوہاٹ اڈے میں لکی مروت جانے والی ہائیس میں ٹکٹ بُک کرکے دوست کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہوا کیونکہ گاڑی کے نکلنے میں ابھی کچھ وقت تھا. موضوع کا رخ خودکش حملوں کی طرف ہولیا کیونکہ ان دنوں میں ہر دن کہیں نہ کہیں یہ حملے ہورہے تھے۔
میں چونکہ کراچی میں ہوتا ہوں تو گاؤں جانے کے بعد کبھی کبھی پشاور یا اسلام آباد کا ایک آدھ چکر دوستوں کی معیت میں لگا لیتا ہوں اِس دفعہ بھی ایک دوست کے ساتھ گیا تھا اور اب واپس گاؤں جارہا تھے۔
میں نے اسی گفتگو کے دوران سوال کیا کہ آخر یہ خودکش اتنے آسانی سے اتنی زیادہ چیک پوسٹوں سے گزر کیسے جاتے ہیں؟
کہا کہ "بہروپ بدل کر کبھی مریض کی شکل میں، کبھی دیوانہ بن کر تو کبھی طالب علم بن کر”
ابھی میں اور سوال کرنے ہی والا تھا کہ کنڈیکٹر نے گاڑی نکلنے کا عندیہ دے دیا اور ہم اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے۔
جب گاڑی نکلی تو ساتھ والوں سے بھی تعارف ہوگئی میرے بالکل ساتھ پولیس کا ایک اے ایس آئی بیٹھا ہوا تھا جو کرک جارہا تھا۔
ہم سب سے پچھلی نشت پر بیٹھے تھے جہاں گنجائش تو تین سواریوں کی بھی نہیں ہوتی مگر ڈرائیور کا بس چلے تو چھ بٹھادیں لیکن یہ بھی اُن کا احسان عظیم ہے کہ بٹھاتے صرف چار کو ہیں اسلئے ہمارے ساتھ ایک اور سواری کی گنجائش ابھی بھی تھی۔
سفر جاری تھا ہم درہ آدم خیل میں پہنچنے ہی والے تھے کہ گاڑی رُک گئی اور دو لڑکوں کو بطورِ سواری ٹھونسنے کا پروگرام بنا ایک کو ہمارے بغل میں بھیج دیا گیا اور ایک کنڈیکٹر کی جگہ بیٹھ گیا اور کنڈیکٹر خود انجن پر تشریف فرما ہوئے بالکل ایسی حالت میں جیسے مرغی انڈے دینے کیلئے بیٹھی ہوتی ہے۔
جب گاڑی روانہ ہوئی تو مجھے ایسا لگا جیسے میری پسلیوں میں کچھ چُھب رہا ہے جیسے ہی پسلیوں پر ہاتھ گیا مجھے گیارہ ہزار واٹ کا جھٹکا لگا کیوں کہ وہ اس نئے لڑکے کی جو ابھی ابھی میرے بغل میں بیٹھا تھا کی اندرونی خودکش جیکٹ تھی۔
حالانکہ سردیوں کے دن تھے مگر مجھے پسینے آنا شروع ہوگئے تھے میں نے اس کے حلیے پر غور کیا تو وہ ایک طالب علم تھا اب تو میرے ہوش اور زیادہ اُڑ گئے اور اس دن کو کوسنے لگا جس دن میں نے پشاور جانے کا ارادہ کیا تھا یا پھر گاؤں جانے کا اتنے میں میرے دوست نے میرا پسینہ دیکھتے ہوئے پریشان ہوکر پوچھا کہ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا تھا کہ جواب میں کہا جی جیکٹ ٹھیک ہے۔
وہ پریشان ہوا نسوار منہ میں رکھتے ہوئے کہا خیر تو ہے؟
میں نے کہا جی یہ تمہاری نسوار کی آخری چٹکی ہے۔
اس کے بعد وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے خاموش ہوگیا۔میں نے اسکے بعد چھ کے چھ کلمے، آیت الکرسی، درود شریف، استغفار اور جتنی قرآنی آیات مجھے یاد تھیں پڑھ ڈالی ساتھ میں پسینے کو بھی صاف کرنے میں مشغول رہا۔
اب حالت یہ تھی کہ میں دل ہی دل میں دعائیں کررہا تھا کہ جتنی بھی پولیس، ایف سی اور آرمی کی چیک پوسٹیں آگے آنے والی ہیں وہ سب ختم ہوگئی ہوں اور اس خودکش کو نامراد و ناکام واپس جانا پڑے۔
ابھی انہی ذکر و اذکار اور دعاؤں کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ اے ایس آئی نے بڑے ہی کرخت لہجے میں خودکش سے پوچھا کہ کدھر جارہے ہو؟
میں بہت ڈر گیا کہ کہیں اِدھر ہی نہ پھٹ جائے اسلئے اس پولسئے کو میں نے جواب دیا کہ کیوں تو ماما لگدا اے؟
پولسئے نے بھی اس بات کو مائنڈ کیا اور پشتو میں کہا "آئی ایم ناٹ وِد یو مسٹر”
اب میں اس کو کیا سمجھاتا کہ بھائی پلیز خاموش ہوجاؤ یہ خودکش ہے لیکن اے بسیار آرزو کہ خاک شُد۔
اب مجھے پسینے کے ساتھ کپکپاہٹ بھی طاری ہوگئ کیونکہ میری دعا قبول نہیں ہوئی تھی اور وہی ہوا جس کا خدشہ تھا آگے پولیس کی چیک پوسٹ نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔
دوست کا کندھا پکڑ کر کہا چل اترتے ہیں کسی اور گاڑی میں چلے جاتے ہیں۔اس نے مجھے واجب الچتھرول سمجھنے والی نگاہوں سے دیکھ کر کہا واقعی میں تو پاگل نہیں ہوگئے ہو؟
ابھی اس نے بس اتنی ہی بات کی تھی کہ گاڑی کی رفتار آہستہ ہوگئی اور رینگتے ہوئے چیک ہونے کیلئے آگے بڑھنے لگی اس دوران اس خودکش نے اپنے آپ کو تھوڑا سا سمیٹا اور آگے کو جُھک کر بیٹھ گیا۔
جیسے ہی ہماری گاڑی کے پاس پولیس والے آئے میں نے آنکھیں بند کرلیں اور کلمہِ شہادت پڑھتے ہوئے اپنے والدین، دوست و احباب، عزیز و اقارب اور اپنے ٹکڑے ٹکڑے جسم کے بارے سوچنے لگا یہاں تک کہ میرا جنازہ کون پڑھائے گا اور کون کون روئے گا کے بارے سوچا ابھی میں انہی سوچوں میں غلطاں کلمہِ شہادت پڑھ رہا تھا کہ ایک گونجدار آواز آئی کہ لڑکے نیچے آؤ اتنا سُننا تھا کہ دل کیا مرنے سے پہلے بےہوش ہی ہوجاؤں تکلیف تو کم سے کم ہو کہ وہ لڑکا مجھ سے رگڑتے ہوئے اُٹھا اور گاڑی سے نیچے اُترا۔
میں نے کانوں میں زور سے اُنگلیاں ٹھونس دیں کہ بم کی آواز اب آئی کہ اب آئی لیکن یہ کیا ابھی تک اتنا وقت گزر گیا اور کچھ نہیں ہوا لگتا ہے جیکٹ کا سوئچ فیوز ہوگیا ہے۔
سب سے پہلے دائیں والی آنکھ کھولی لیکن کچھ نظر نہیں آیا تو دوسری بھی کھول دی اور جو کچھ میں نے دیکھا غصے سے لال پیلا ہوا۔پولیس والوں نے اس کی قمیض آگے سے اُٹھائی ہوئی تھی اور وہ سارا چرس جو اس نے اپنے ارد گرد لپیٹا ہوا تھا نکال رہے تھے۔
میں غصے سے نیچے اُترا اس کی طرف لپکا کہ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں مگر اس سے پہلے کہ میں اس کو پنچ مارتا پولیس والے نے مجھے پکڑ کر گرجدار آواز میں کہا رک جاؤ اور قانون کو ہاتھ میں نہ لو۔میں نے کہا بھاڑ میں گیا قانون اس نے مجھے جیتے جی سوچوں میں میرا جنازہ دکھا دیا ہے میں سمجھا خودکش ہے اور کہیں بھی پھٹ سکتا ہے اور یہ الو کی دُم منشیات فروش نکلا۔
یہ کہنے کی دیر تھی کہ ساری گاڑی والے ہنسنا شروع ہوگئے اور ہمارے اُترنے تک وقفے وقفے سے مجھ پر ہنسنے کا سلسلہ چلتا رہا۔آج میں بھی اپنی اس حالت پر ہنستا ہوں لیکن ایک بات ہے میں سوچتا ہوں کہ وہ لڑکا خودکش نہ ہوکر بھی خودکش ہی تھا۔

admin

Author: admin

Check Also

کیا ہم مہذب قوم نہیں بن سکتے

کچھ دن پہلے ایک دوست بڑے پیارے بھائی نے ایک سیاسی پوسٹ جو کافی پرانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے