Home / صحت / سبزیوں کے فائدے / مولی کو کھانے میں شامل کیجئے

مولی کو کھانے میں شامل کیجئے

مولی کو کھانے میں شامل کیجئے

 

حکیم حمیدالدین بقائی دہلوی

 

 

مولی کے پتوں کا پانی دس تولہ میں شکر سرخ بقدر ذائقہ ملا کر صبح نہار منہ پینے سے ہفتہ عشرہ میں یرقان کی بیماری دور ہو جاتی ہے مولی کے پتوں کے پانی سے جگر و پتہ کی نالیاں ماساریقا گردہ اور مثانہ کی نالیاں حالبین وغیرہ دھل کر صاف ہو جاتی ہیں
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے مولی بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے جو کہ زمانہ قدیم سے نہ صرف یہ کہ ہندوستان اور پاکستان میں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بکثرت استعمال کی جاتی ہے۔ مولی بطور غذا کے بھی استعمال کی جاتی ہے اور بطور دوا کے بھی اس کی اہمیت و افادیت اور شفا بخشی مسلم ہے۔ پہاڑی علاقوں میں مولی بارہ مہینے پیدا ہوتی ہے لیکن میدانی اور شہری علاقوں میں یہ سبزی موسم سرما میں دستیاب ہوتی ہے۔ مختلف علاقوں اور آب و ہوا کے اختلاف سے مولی کے ذائقہ، شکل و صورت قد و قامت اور وزن میں فرق ہوتا ہے لیکن مولی کا گورا چٹا دودھ جیسا سفید رنگ عوام اور خواص سب ہی کے لئے جاذب نظر اور پرکشش ہے۔ سلاد کے طور پر مولی کسی بھی دسترخوان کی زینت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ کھانے کے لطف اور لذت کو دوبالا کر دیتی ہے۔ امیر ہوں یا غریب کچی مولی سب ہی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ مولی بھری روٹی، مولی کی بھجیا مولی کے کباب، مولی کا سالن پاکستانیوں کی مرغوب اور پسندیدہ ڈش ہے۔ نمک مرچ اور مصالحہ لگا کر مولی نہایت ہی چٹ پٹی اور مزے دار ہو جاتی ہے جسے بچے اور بڑے نہایت ہی ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔ مولی کی پھلیاں سینگرے یا مونگرے کہلاتی ہیں قیمہ میں ان کا سالن نہایت ہی لذیذ بنتا ہے۔ مولی حیرت انگیز طور پر شفاء بخش اثرات کی حامل ہے بہت سے امراض کا ازالہ کرتی ہے۔ مولی کا مزاج بالفعل سرد ہے لیکن بالقوہ پہلے درجہ میں گرم خشک ہے۔ مولی بذات خود دیر ہضم اور نفاخ ہے لیکن اس کے باوجود ہاضم طعام ہے کاسر ریاح ہے۔ مدربول ہے پیشاب کھول کر لاتی ہے۔ بواسیر کے لیے مفید ہے۔ مولی میں نمک کالی مرچ لگا کر کھانے سے آواز صاف ہوتی ہے۔ دانتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ خوراک ہضم ہوتی ہے۔ پیٹ کا درد رفع ہو جاتا ہے۔
مولی کے پتے پانچ تولہ، مصری دو تولہ، سفید مرچ پانچ دانے پانی میں پیس چھان کر صبح نہار منہ پینے سے مسوں کی خارش جلن اور درد رفع ہو جاتا ہے۔ گردہ اور مثانے کی پتھری ٹوٹ کر خارج ہو جاتی ہے۔ مولی کے بیج پانی میں جوش دے کر چھان کر سکنجبین سرکہ ملا کر پینے سے کھل کر قے آ جاتی ہے جس سے تخمہ بدہضمی وغیرہ کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ معدہ ہر قسم کے زہریلے اور گندے مادوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔ مولی کے بیج تنہا پیس کر شہد میں ملا کر چہرہ پر لگانے سے یا ابٹن کی دوسری دواؤں میں شامل کر کے چہرہ پر لگانے سے چہرہ کے داغ دھبے سیاہی کی شکایات دور ہو جاتی ہیں۔ چہرہ کا رنگ نکھر کر صاف ہو جاتا ہے۔ سرکہ میں مولی کا اچار بنا کر کھانا ورم طحال کے لئے مفید ہے۔

مولی کے پتوں کا پانی دس تولہ میں شکر سرخ بقدر ذائقہ ملا کر صبح نہار منہ پینے سے ہفتہ عشرہ میں یرقان کی بیماری دور ہو جاتی ہے جس طرح کسی اچھے مسہل سے معدہ اور آنتیں دھل کر صاف ہو جاتی ہیں بالکل اسی طرح مولی کے پتوں کے پانی سے جگر و پتہ کی نالیاں ماساریقا گردہ اور مثانہ کی نالیاں حالبین وغیرہ دھل کر صاف ہو جاتی ہیں۔ محلل اور مدرحیض ہونے کے باعث مولی کے پانی اور مولی کے بیج خواتین کے امراض احتباس الطمث اور ورم رحم کے لئے مفید ہیں۔ مکوسبز، کاسنی سبز اور مولی کے پتوں کا پانی لے کر مروق کر کے یعنی پھاڑ کر پلانا تمام اندرونی اعضاء کے اورام کے لئے تیر بہدف ہے۔ مولی کے پانی میں شربت بزوری ملا کر پلانا استسقاء کے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ خشک مولی کو پانی میں ابال کر چھان کر پلانے سے ہچکی کو بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔ مولی اور اس کے پتوں کا پانی روغن گل میں جلا کر روغن ترب تیار ہوتا ہے جو کے کان کے درد، بہرہ پن، ثقل سماعت ،طنین وددی یعنی کان میں جھینگر کی سی آوازیں آنے میں فائدہ ہوتا ہے۔ مولی کے بیجوں کا تیل زہریلے جانوروں کے کاٹے پر لگانے سے زہر کے اثرات بہت جلد دور ہو جاتے ہیں۔ مولی کے بیج مقوی بدن اور مقوی باہ ہیں۔ مختلف مقوی معاجین میں شامل کیے جاتے ہیں اور ان کے فوائد میں اضافہ کرتے ہیں۔

مولی کے پتوں کے پانی سے مختلف مرکبات اور کشتہ جات تیار کیے جاتے ہیں۔ کشتہ ابرک بخاروں میں نہایت مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ مولی کے پانی میں کشتہ حجرالیہود بنایا جاتا ہے جو کہ گردے اور مثانہ کی پتھری کو توڑنے اور درد گردہ رفع کرنے کے لئے موثر ترین دوا ہے۔
مولی کا نمک بھی دیسی طب کی نہایت ہی مشہورو معروف دوا ہے جو کہ پیٹ کا درد سینے کی جلن گیس اور ہاضمہ کی تمام خرابیوں کو دور کرنے کے لئے یقینی طور پر مفید ہے۔
مولی کے بیجوں کا تیل فالج اور لقوہ کی بیماریوں میں خوردنی طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ بیرونی طور پر روغن زیتون میں ملا کر مالش کرتے ہیں۔ مولی کا چھلکا چہرے پر ملنے سے چہرے کی سیاہی داغ دھبے وغیرہ دور ہو جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ مولی نہایت ہی غریب پرور اور اچھی غذا بھی ہے۔ مفید اور شفاء بخش دوا بھی ہے ہمیں اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

احتیاط

1.دودھ کے ساتھ مولی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ اس سے معدے میں خرابی ہو سکتی ہے۔

2. مولی کا استعمال کالے چنوں کے ساتھ بھی نہیں کرنا چاہیے۔

3.  مولی کو مچھلی کے ساتھ بھی استعمال کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

4. اور رات کے وقت مولی کا اسعتمال نہیں کرنا چاہیے۔ 

٭ ٭ ٭

 

admin

Author: admin

Check Also

فالج کی چند خاموش علامات

فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے