Home / ادب نامہ / علی اکبر ناطق / افسانے علی اکبر ناطق

افسانے علی اکبر ناطق

متولّی افسانہ علی اکبر ناطق

متولّی   آغا نجف کی اچانک موت نے مہرالنسا خانم کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ یعنی جودس ہزار کا مشاہرہ حویلی سے آتا تھا، اب اس کی بھی کوئی صورت نہ تھی۔ ادھر لاکھ سمجھانے پربھی شرف النسا کسی اور کی رکھیل بننے سے انکاری تھی اور خود وہ …

Read More »

تابوت افسانہ علی اکبر ناطق

تابوت   مجھے دیکھتے ہی آفتاب بولا، یار علی دو منٹ پہلے آ جاتا تو کیا اچھا تھا۔اس کمینے نے آج مجھے تیسری دفعہ مات دی۔ یہ اتنا بڑا سوئر ہے (اگلا لقمہ ڈاکٹر نے اُچک لیا) کہ ایک کتے سے قابو نہیں آتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ …

Read More »

شریکا -افسانہ- علی اکبر ناطق

شریکا   ’’ یہ سِکھڑا اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے؟ حرامزادہ سوئر کی طرح اکڑ کے چلتا ہے، اُوپر سے گھورتا بھی ہے‘‘۔شوکا اس وقت غصے میں تھا۔ ’’شوکے !ذرا تحمل سے کام لو اور ٹھنڈے دل سے سوچو‘‘۔ دارا بولا۔ ’’ دارے خاں ! اب صبر نہیں ہوتا۔ …

Read More »

کمّی بھائی افسانہ علی اکبر ناطق

کمّی بھائی   حاجی عبدالکریم کے مرنے کی خبر سن کر عورتیں گھروں سے یوں نکلیں جیسے زلزلہ آگیا ہو۔بازار میں گویا لوگوں کی ایک نہر تھی کہ حاجی صاحب کے گھر کی طرف رواں تھی۔بعض عورتیں تو بین کرتی جاتیں۔ میں اس وقت کوئی سات برس کا ہوں گا۔ …

Read More »