Home / ادب نامہ / علی اکبر ناطق / نظمیں علی اکبر ناطق

نظمیں علی اکبر ناطق

ابد کی سانسیں – علی اکبر ناطق

سبز چراغ جلائے شہلا آنکھوں نے کیوڑا چھڑکا گرم حنائی ہاتھوں نے رقص کیا بے باک کنواری پریوں نے کس نے بتائے رازِ ازل کی شاموں کے سرخ رتوں کی بات ہے جب میں سویا تھا ڈھانپ لیا تھا زرد گلوں کی چادر نے ایک گلابی آنکھ بھی مجھ پر …

Read More »

ہجرت – علی اکبر ناطق

ہجرت   چڑھ آیا جب قاف نگر پر لشکر سرد ہواؤں کا سورج دھُند میں لپٹے نیزے لے کر دکن بھاگ گیا پسپا ہوتے دیکھ کے اُس کو پنچھی دُور پہاڑوں کے دیس پرائے ہجرت کر کے بستی بستی پھیل گئے پتلی گردن والی کُونجیں اُڑتے اُڑتے شام ڈھلے میرے …

Read More »

تریاق میں لہو کی بوندیں – علی اکبر ناطق

تریاق میں لہو کی بوندیں     ایک بد بخت سپیرے کی سیہ میّت پر پھیلتی رات، اُترتے ہوئے سایوں کا ہجوم جیسے اُجڑی ہوئی بستی میں نحوست کے عذاب ہر طرف ناچتی پھرتی ہوں جہاں بد روحیں قرن ہا قرن سے اوڑھے تھیں خباثت کے نقاب رانڈ جوگن، کہ …

Read More »

ڈگڈگی والے – علی اکبر ناطق

ڈگڈگی والے   ڈگڈگی والے تری آنکھ میں کالے کنکر اِک اذیّت میں مسلسل تجھے رکھتی ہے چُبھن ہو گیا جس کے سبب تیرا جہاں گرد و غبار کھو گیا درد کی راہوں میں کہیں تیرا قرار دائرہ وار ترے چار طرف بِین تری رقص کرتی ہے کسی شوخ پری …

Read More »

رسوائی – علی اکبرناطق

رسوائی   جاڑا آیا اور آتے ہی سازش کرلی پیڑوں سے پھول اور پتّے بار ہیں تم پر، کیونکر بار اُٹھاتے ہو اِن کے چہرے کی رونق کا باعث جو کچھ، پانی ہے گر تم سمجھو تو یہ پانی خاص تمہارا حصّہ ہے اپنا حصہ لے کر تم اپنے سر …

Read More »

ریشم بُننا کھیل نہیں – علی اکبر ناطق

ریشم بُننا کھیل نہیں ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس دل کے لہو سے سانس ملا کے سچا نور بناتے ہیں اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں …

Read More »

سونے کا پیڑ – علی اکبر ناطق

سونے کا پیڑ   میرے گھر کے کچے آنگن میں سونے کا پیڑ پتّے خاص زمرّد جس کے اور سنہری پھول جگمگ جگمگ سارا آنگن اور آنگن کا روپ ساون دھو کر چمکا دیتا، جب پڑتی کچھ دھُول سونا کھانے آ جاتے پیارے پیارے پنچھی بُلبل، مینا، طوطی، چڑیا، کوئل، …

Read More »

نیم کے سائے – علی اکبر ناطق

نیم کے سائے   کچا گاؤں، کچی گلیاں، کچے آنگن، نیم کے سائے ٹھنڈی مٹی، بہتی ندیاں، کالے ساون، نیم کے سائے اُڑتے پنچھی، ڈوبتا سورج، شام کی سرخی، پھول گلابی چَرتی بھیڑیں، پھیلے سبزے، پھولی سرسوں، نیم کے سائے باغ آموں کے، پیڑ شرینہ کے، کھٹے پیلو، میٹھے پانی …

Read More »

جالا کاتنے والے۔علی اکبر ناطق

جالا کاتنے والے سوگ منایا سوگ منایا سوگ منانے والوں میں اس آنگن کا جس آنگن کی غم نے دھول اڑائی ہے انگلیوں کا جن گلیوں میں بھرے دوپہروں میں اجڑے پیڑوں کی ٹنڈ شاخیں سایہ سایہ چلتی ہیں میلی آنکھوں والے الو جس پر بیٹھ کے روتے ہیں رات …

Read More »