Home / ادب نامہ / نثر / کرشن چندر کے افسانے

کرشن چندر کے افسانے

پیاسا-کرشن چندر

پیاسا ‫ نواب بڑا تریلا اور زنخا سا لونڈا تھا۔ زرینہ کو اس لئے پسند تھا کہ وہ زرینہ کے ہاتھوں سے پٹ کر رو دھو کر صبر کر لیتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کی طرح بوریا بستر باندھ کر رخصت نہیں ہو جاتا تھا۔ اس کے گندمی چہرے پر …

Read More »

مہا لکشمی کا پل-کرشن چندر

مہا لکشمی کا پل   ‫مہا لکشمی اسٹیشن کے اس پار مہا لکشمی جی کا ایک مندر ہے اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں ، اس مندر میں پوجا کرنے والے لوگ ہارتے زیادہ ہیں جیتتے کم ہیں ، مہا لکشمی کے اسٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی …

Read More »

کچرا بابا-کرشن چندر

کچرا بابا‫ جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کان رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنےکو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک …

Read More »

ایرانی پلاؤ-کرشن چندر

ایرانی پلاؤ   آج رات اپنی تھی، کیونکہ جیب میں پیسے نہیں تھے ، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں رات مجھے اپنی نہیں معلوم ہوتی، اس وقت رات میرین ڈرائیو پر تھرکنے والی گاڑیوں کی معلوم ہوتی ہے ، جگمگاتے ہوئے فلیٹوں کی معلوم ہوتی ہے ، ایمبسڈر …

Read More »

بھگت رام-کرشن چندر

بھگت رام ابھی ابھی میرے بچے نے میرے بائیں ہاتھ کی چھنگلیا کو اپنے دانتوں تلے داب کر اس زور سے کاٹا کہ میں چلائے بغیر نہ رہ سکا اور غصے میں آ کر اس کے دو تین طمانچے بھی جڑ دئیے ہیں ، بیچارہ اسی وقت سے ایک معصوم …

Read More »

پانی کا درخت- کرشن چندر

پانی کا درخت   جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سو کھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ،بہیکڑ،املتاس اور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں ۔اس کی …

Read More »

پرانے خدا-کرشن چندر

پرانے خدا متھرا کے ایک طرف جمناہے اور تین طرف مندر ، اس حددو اربعہ میں نائی حلوائی ، پانڈے ، پجاری اور ہوٹل والے بستے ہیں۔جمنا اپنارُخ بدلتی رہتی ہے۔نئے نئے عالی شان مندر بھی تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔لیکن متھرا کاحدوداربعہ وہی رہتا ہے، اس کی آبادی کی تشکیل …

Read More »

پشاور ایکسپریس-کرشن چندر

پشاور ایکسپریس جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوئی مردان سے، کوہاٹ سے، چارسدہ سے، خیبر سے، لنڈی کوتل سے، بنوں نوشہرہ سے، مانسہرہ سے آئے تھے اور …

Read More »

مامتا- کرشن چندر

مامتا یہ کوئی دو بجے کا وقت تھا، بادلوں کا ایک ہلکا سا غلاف چاند کو چھپائے ہوئے تھے۔ یکا یک میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ساتھ والی چارپائی پر اماں سسکیاں لے رہی ہیں ’’کیوں امی؟‘‘میں ‌نے گھبرا کر آنکھیں ملتے ملتے پوچھا۔ ’’کیوں۔ ۔ ۔ …

Read More »