Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے

منٹو کے افسانے

ملاقاتی ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

’’آج صبح آپ سے کون ملنے آیا تھا‘‘ ’’مجھے کیا معلوم میں تو اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ ‘‘ ’’آپ تو بس ہر وقت سوئے ہی رہتے ہیں آپ کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا حالانکہ آپ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں‘‘ ’’یہ عجیب منطق ہے۔ اب مجھے …

Read More »

ملاوٹ۔افسانہ۔سعادت حسن منٹو

امرتسر میں علی محمد کی منیاری کی دکان تھی‘ چھوٹی سی مگر اس میں ہر چیز موجود تھی‘ اُس نے کچھ اس قرینے سے سامان رکھا تھا کہ ٹھنسا ٹھنسا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ امرتسر میں دوسرے دکاندار بلیک کرتے تھے مگر علی محمد واجبی نرخ پر اپنا مال فروخت …

Read More »

ممی ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

نام اس کا مسز سٹیلا جیکسن تھا مگر سب اسے ممی کہتے تھے۔ درمیانے قد کی ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ اس کا خاوند جیکسن پچھلی سے پچھلی جنگ عظیم میں مارا گیا تھا اس کی پنشن سٹیلا کو قریب قریب دس برس سے مل رہی تھی۔ وہ پونہ میں …

Read More »

منتر۔افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

ننھا رام۔ ننھا تو تھا، لیکن شرارتوں کے لحاظ سے بہت بڑا تھا۔ چہرے سے بے حد بھولا بھالا معلوم ہوتا تھا۔ کوئی خط یا نقش ایسا نہیں تھا جو شوخی کا پتہ دے۔ اس کے جسم کا ہر عضو بھدے پن کی حد حد تک موٹا تھا۔ جب چلتا …

Read More »

منظور ۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

جب اسے ہسپتال میں داخل کیا گیا تو اس کی حلات بہت خراب تھی۔ پہلی رات اسے آکسیجن پر رکھا گیا۔ جو نرس ڈیوٹی پر تھی، اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مریض صبح سے پہلے پہلے مر جائے گا۔ اس کی نبض کی رفتار غیریقینی تھی۔ کبھی زور …

Read More »

مہتاب خان ۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

شام کو میں گھر بیٹھا اپنی بچیوں سے کھیل رہا تھا کہ دوست طاہر صاحب بڑی افرا تفری میں آئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی آپ نے مینٹل پیس پر سے میرا فونٹین پن اُٹھا کر میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا کہ ہسپتال میں کسی ڈاکٹر کے نام ایک …

Read More »

موتری ۔ افسانہ۔سعادت حسن منٹو

کانگرس ہاؤس اور جناح ہال سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک پیشاب گاہ ہے جسے بمبئی میں ’’موتری‘‘کہتے ہیں۔ آس پاس کے محلوں کی ساری غلاظت اس تعفن بھری کوٹھڑی کے باہر ڈھیریوں کی صورت میں پڑی رہتی ہے۔ اس قدر بدبو ہوتی ہے کہ آدمیوں کو ناک پر رومال …

Read More »

موج دِین۔ افسانہ ۔سعادت حسن منٹو

رات کی تاریکی میں سنٹرل جیل کے دو وارڈن بندوق لیے چار قیدیوں کو دریا کی طرف لیے جارہے تھے جن کے ہاتھ میں کدالیں اور بیلچے تھے۔ پُل پرپہنچ کر انہوں نے گارد کے سپاہی سے ڈبیا لے کر لالٹین جلائی اور تیز تیز قدم بڑھاتے دریا کی طرف …

Read More »