Home / کالم / امتحانات کے نتائج کا ڈر : ڈاکٹر اکمل خان

امتحانات کے نتائج کا ڈر : ڈاکٹر اکمل خان

نتیجہ والے دن خاندان کا ہر بزرگ باری باری برسوں کا جمع شدہ غبار نکالنے آتا ہے اور فیل ہونے اور خاندان کی ناک کٹوانے کی ایک مختلف وجہ بتاتاہے۔ پرانے زمانے میں نوجوانوں کا کوئی کام، کوئی فعل ایسا نہیں ہوتا تھا جس کی جھپیٹ میں آکر خاندان کی ناک نہ کٹ جائے۔ آج کل والی صورت نہیں تھی کہ اول تو خاندانوں کے منھ پر ناک نظر نہیں آتی اور ہوتی بھی ہے تو ٹیوب لیس ٹائر کی مانند جس میں آئے دن ہر سائز کے پنکچر ہوتے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر آپی آپ جڑتے رہتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات خاندان کے دورونزدیک کے بزرگ فیل ہونے والے بر خورداروں کی، حسبِ قرابت و طاقت، دستِ خاص سے پٹائی بھی کرتے تھے۔ لیکن لڑکا جب ہاتھ پیر نکالنے لگے یعنی بڑا ہوجائے تو پھر اسے تھپڑ نہیں مارتے تھے۔ فقط لعن طعن اور ڈانٹ پھٹکار سے کام نکالتے تھے۔ ہر بزرگ اس کی مستند، مصدقہ کا اپنے فرضی تعلیمی ریکارڈ سے موازنہ کرتا۔
لیکن میرے ہاں منظر ایسا نہیں تھا۔ سبھی کو معلوم تھا کہ میری اور بہت سرگرمیاں ہیں مزید یہ کہ طبیعت بھی بہت ناساز ہے لہذا انہیں میرے نتائج سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ البتہ مجھے اس کی فکر ضرور لاحق تھی۔

امریکی شاعرہ مرئیل رکائسر نے کہا ہے کہ یہ کائنات ایٹم سے نہیں بلکہ افسانوں سے بنی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے افسانے کو تمثیل میں لکھا ہے نہ ہی تلخ حقائق کو نرم الفاظ کا لبادہ پہنایا بس اک حقیقت کوقلم بند کیا ہے۔

زبانی امتحان سے پہلے مادام کومل نے گلا صاف کرتے ہوے میرا لکھا ہوا پرچہ آگے کیا جس میں دس میں سے آٹھ نمبر تھے جسے دیکھتے ہی ایسا سناٹا طاری ہوا کہ دیوار پر لٹکے ہوئے کلاک کی ٹک ٹک اور میرے دل کے ہانپنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ پھر امتحان شروع ہوا اور سوالوں کی بوچھار، چند سوالات بڑے آسان فہم جو بخوبی انجام پائے۔
ہائی بلڈ پریشر سے سر میں نامعقول شدید درد نے علم کے کیپسول کا غٹک کے دماغ میں اترنا ناممکن بنا رکھا تھا۔

وہ مریض جس کو دوا اور دعا کی سخت ضرورت تھی یہ سوالات سنگین پتھروں کی برسات سے کم نہیں تھے۔ اللہ اللہ بالخیر پایائے تکمیل کو پہنچے۔ اسی جاہ میرا بلڈپریشر ایک خستہ حالی وخراب حالی مشین سے دو بار دیکھا گیا۔ جس نے پہلی بار 181 جبکہ دوسری بار 149 ریڈنگ دی۔ بدست مادام پانی کے دوگلاس نوش کیے اور ڈرائیور کے ہمراہ گھر کو روانہ ہوا۔ ہر چند کہ پاس ہونے کا قوی امکان تھا، لیکن گریڈ کم ہونے کا خدشہ بھی لگا ہوا تھا۔

دیکھیں کیا گزرے ہے
خدشے پر خطر ہونے تک

نمبروں کی سنوائی تک تودل بے خوف وخطر رہاجیسے ہی بلاوا آیا، چند ساتھی ہمراہ پہنچا، جب جنید کے بیالیس نمبر کا سنا، دل مسکرایا۔ امید نے آنکھیں کھولیں کہ میں ہمیشہ سے جنید سے تو بہتر ہی رہا لیکن اس بار تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جونہی میرے نمبر بولے چہرے کا رنگ متغیر اور پھیکا پڑ گیا، زباں کے الفاظ ناپید ہو گئے، آنکھیں دھندلا گئی۔ اس بیماری نے میرے غصے کا پیمانا لبریز کر دیا۔ غصہ اس بات کا تھا کہ محنت کے باوجود سر درد نےامتحانوں میں انتہا کی میری حق تلفی کر دی۔ ایسے لاچار نتیجے سے ہمکنارکیا جو مجھے قطعہً مطمعن نہ کر سکا۔ یوں نمایاں تاثرات سے ٹیچر صاحبہ نے جو حالت زار دیکھی، ازراہ شفقت ایک جملہ بولا "کتنے چاہیے” جسے سنتے ہی یکایک ایک مسرت کی لہر دوڑ اٹھی۔ اتنے میں نا معلوم چند نمبر کا اضافہ کر دیا۔ جس نے کیپوٹین کا کردار ادا کرتے ہوئے میرے بلڈپریشر کو مزید بڑھنے سے بچایا۔

میرے تمام اساتذہ لوگوں کیلئے ایک عام شخص تھے، شاگردوں کیلئے ایک استاد کی حیثیت رکھتے جبکہ میرے لئے وہ تمام ایک احساس کا نام ہیں ۔ ایک ناقابلِ بیان احساس۔ لفظوں میں اس احساس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس احساس کے بطن سے کتنے ہی جزبوں نے زندگی پائی اور میری زندگی کو منور کرتے چلی گئی۔ جنہوں نے سکھایا، خواب بند آنکھوں سے نہیں جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات انسان ایسے حسین خواب دیکھتا ہے جسے وہ ہمیشہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جب وہ اس خواب سے بیدار ہوتا ہے تو اس خواب شکستہ کی حسرت اس کے دل میں رہ جاتی ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اسی خوابوں کی دنیا میں واپس چلا جائے ۔یہ امرناممکن ہے ۔یہ دنیا دارالعمل ہے ۔رنگین خیالات وخواب دیکھنے سے تقدیر بدل نہیں جاتی۔ تقدیر بدلنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہی ایک "کامیابی کی کنجی” یہ چابی اللہ رب العزت نے ہر فرد کے ہاتھ میں تھمادی ہے جو محنت کرے گا وہ پھل کھائے ۔

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

 

 

admin

Author: admin

Check Also

ہماری نظریاتی سمت؟؟؟

گزرے ہوئے دنوں میں، معاشرتی زندگی کے مختلف تناظر واقعات کے شکل میں دیکھنے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے