Home / ادب نامہ / نثر / کافکا کے افسانے / گیلری میں – فرانز کافکا

گیلری میں – فرانز کافکا

گیلری میں

اگر سرکس میں کسی مریل مدقوق سی کرتب دکھانے والی کو کوئی کوڑا گھماتا ہوا بے درد رِ نگ ماسٹر کسی بدلگام گھوڑےکی پیٹھ پر بٹھا کر مجبور کرتا کہ وہ کبھی سیر نہ ہونے والے تماشائیوں کے سامنے مہینوں تک رکے بغیر چکر پر چکر لگائے جائے ، گھوڑے پر زناٹے کے ساتھ گھومتی رہے ، بوسے اچھالتی رہے۔ ا س کی کمر جھٹکے کھاتی رہے، اور اگر ایسا لگتا کہ یہ تماشا اکتا دینے والے مستقبل کے لا متناہی راستے پر اس طرح چلتا رہے گا ، اور اسی طرح آرکسٹرا گرجتا رہے گا، اور ہوا دان بھنبھناتے رہیں گے ، اور تماشائیوں کی تالیوں کا رہ رہ کے دبتا اور پھر سے ابھرتا ہوا شور کانوں میں ہتھوڑے چلاتا رہے گا ، تب ، شائد ، گیلری کا کوئی نوجوان تماشائی ساری قطاروں کے زینے پر پھلانگتا ہوا اترتا ، رِنگ میں گھس جاتا اور آرکسٹرا کے بھو نپو ؤ ں میں دم توڑتے ہوئے نغمے کے بیچ ہی میں چیخ کر کہتا : "بند کرو!”
لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے، ایک میدے شہاب کی سی رنگت والی خوبصورت بی بی کے لیے دو نک چڑھے وردی پوش ملازم پردے سرکاتے ہیں اور وہ ان کے درمیان سے خراماں خراماں نمودار ہوتی ہے ، رنگ ماسٹر اس کی نظر پڑتے ہی مودب ہو کر کسی پالتو جانور کی سی جاں نثاری دکھاتا ہوا اس کی طرف لپکتا ہے ، اسے اتنی آہستگی سے اٹھا کر ابلق گھوڑے پر بٹھاتا ہے جیسے وہ اس کی چہیتی پوتی ہو اور کسی خطر ناک سفر پر روانہ ہو رہی ہو ؛ وہ اپنے کوڑے سے سگنل دیتا ہچکچاتا ہے ، بالاخر خود پر قابو حاصل کر کے کوڑا زور سے پھٹکار دیتا ہے ،گھوڑے کے ساتھ ساتھ منہ کھولے دوڑے جاتا ہے ، سوار کی ہر جست پر چو کسی کے ساتھ نظر رکھتاہے ، اس کی فنی مہارت کو قریب قریب ناقابلِ یقین پاتا ہے ، اس کو خبردار کرنے کے لیے انگریزی کے نعرے لگاتا ہے ، حلقہ بردار سائیسوں کو ڈپٹ ڈپٹ کر قریب رہنے کی تاکید کرتا جاتاہے ، بڑی قلابازی سے پہلے ہاتھ اوپر اٹھا کر آرکسٹرا کو خاموش کراتا ہے۔ آخر میں ننھی بی بی کو اس کے کانپتے ہوئے گھوڑے پر سے اتار دیتا ہے ، اس کے کلوں پر پیار کرتا ہے اور تماشائیوں کےتمام شورِ تحسین کو بس یوں ہی سا کافی سمجھتا ہے؛ اور خود وہ بی بی اس کا سہارا لے کر ، غبار کے بادلوں میں پنجوں کے بل کھڑی ہوئی ہے ، ہاتھ پھیلائے اور چھوٹا سا سر اٹھائے ہوئے ، پورے سرکس کو اپنی فتح میں شریک ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔
چونکہ ایسا ہے ، اس لیے گیلری کا تماشائی اپنے سامنے کے کٹہرے پر چہرہ ٹیک دیتا ہے ،اختتامی موسیقی میں یوں ڈوب جاتا ہے جیسے خواب میں ، اور نادانستہ روتا ہے ۔

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے