Home / صحت / بیماریاں / وہ عادات جو کینسر کا سبب بنتی ہیں

وہ عادات جو کینسر کا سبب بنتی ہیں

یا آپ کو معلوم ہے کہ تمباکو نوشی کم از کم 15 مختلف اقسام کے کینسر کا باعث بنتی ہے؟ جبکہ ہر دس میں سے نو پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار افراد اسی کے باعث مہلک مرض کا شکار ہوتے ہیں۔
مگر اس بات سے قطع نظر کہ آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا نہیں، چند چیزیں اور بھی ایسی ہیں جو آپ کے کینسر کے مریض بننے کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

موٹاپے کے شکار

جسم میں اضافی چربی ایسٹروجن سمیت دیگر ہارمونز کی سطح بڑھاتی ہے جو خلیات کی نشوونما میں اضافے اور پھلاﺅ کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موٹاپا شدید ورم کا باعث بھی ہوسکتا ہے جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے اور کینسر کا مرض متاثرہ فرد کو شکار کرلیتا ہے۔ موٹاپے سے آنتوں، بریسٹ اور دوران رحمی سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بہت زیادہ وقت تک بیٹھنا

اگر تو آپ دفتر میں ہر وقت بیٹھے رہتے ہیں یا گھر پر ٹیلیویژن سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں تو اس سے مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دو گھنٹے دن میں بیٹھ کر گزارنا آنتوں کے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد جبکہ پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ چھ فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔

سرخ گوشت کا زیادہ استعمال

معتبر ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 3 اونس سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں ان میں امراض قلب یا کینسر کے باعث موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح یالے یونیورسٹی کا اپنی ایک تحقیق میں کہنا ہے کہ جو خواتین حیوانی پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں خون کے سرطان کی ایک قسم کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

سگریٹ نوش کے آس پاس رہنا

ہوسکتا ہے کہ آپ دیگر افراد کو تمباکو نوشی کی بری عادت میں مصروف رہنے کی اجازت دے کر خود کو فراخ دل ثابت کرنا چاہتے ہو یا بحث سے بچنا چاہتے ہو، وجہ چاہے جو بھی درحقیقت ایسا کرنا آپ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ سگریٹ کا دھواں سیکڑوں زہریلے کیمیکلز خارج کرتا ہے اور ان میں سے ستر فیصد کیمیکلز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سیکنڈ ہینڈ دھویں کی کچھ مقدار بھی جسم کے اندر جانا نقصان دہ ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔

زیادہ نہ چلنا

چہل قدمی سب سے آسان ورزش ہے جس کے لیے آپ کو زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی، اگر ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کی جائے تو کینسر کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ورزش کرنے کے نتیجے میں خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوا۔

بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا

طبی سائنس کے مطابق رات کے وقت مصنوعی روشنی کی زد میں ہمارا جسم کا رہنا مخصوص کینسر کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھنے کے شواہد سامنے آئے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

 

 

admin

Author: admin

Check Also

فالج کی چند خاموش علامات

فالج ایسا مرض ہے جس کے دوران دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے