Home / شخصیات / مسیح الملک حکیم اجمل خان

مسیح الملک حکیم اجمل خان

حکیم اجمل خان ایک نام ور طبیب ، سیاست دان ، مجاہد ِ آزادی ، ہندو مسلم اتحاد کے بانی اور کل ہندی طب کانفرنس کے بانی تھی۔ آپ دہلی کی تاریخی عمارت شریف منزل میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے مورث اعلیٰ شہنشاہ بابر کے ساتھ ہرات سے ہندوستان آئے تھے ۔ اکبر کے عہد میں ان کا خاندان دربارِ شاہی سے وابسطہ ہوا۔ اجمل خان کے والد حکیم محمود خان ، مغل حکمران شاہ عالم کے طبیبِ خاص حکیم محمد شریف کے پوتے تھے۔ حکیم اجمل خان نے قرآن حفظ کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ بعدازاں اپنے بڑے بھائی حکیم محمد واصل خان سے طب پڑھی۔ اور اس علم میں اتنی دست گاہ پیدا کی کہ ملک کے طول وعرض میں مقبول ہو گئے۔ 1892 میں نواب رام پور کے طبیب مقرر ہوئے ۔ رام پور میں دس سال قیام کے دوران عرب طبیب مکی سے عربی زبان وادب میں عبور حاصل کی اور بلا تکلف عربی زبان میں گفتگو کرنے لگے ۔
1906 میں طبی کانفرس کی بنیاد رکھی۔ اسی سال مسلم لیگ کے قیام کی تائید کی۔ 1908 میں برطانوی حکومت ہند نے ان کی طبی لیاقت کا اعتراف کرتے ہوئے قیصرِ ہند اور حاذق الملک جیسے معزز خطابات عطا کیے ۔ لیکن آپ نے یہ خطابات واپس کردے اس کے برعکس قوم نے آپ کو مسیح الملک کا خطاب دیا ۔ دو مرتبہ یورپ کا سفر کیا۔ 1912 میں طبیہ کالج کا قیام کیا اور 1920 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے منتظم اعلیٰ مقرر ہوئے ۔ کانگرس کی مجلسِ عاملہ نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک آپ ہی کی صدارت میں منظور کی تھی۔ 1921 میں خلافت کانفرس کی صدارت کی۔ آپ دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے ۔ ہندو مسلم اتحاد کے بے حد حامی تھے۔ ملکی سیاست میں آپ کی رائے کی بڑی اہمیت تھی۔
سیاسی مضامین کے علاوہ طب پر کئی کتابیں لکھیں ۔ عربی میں ان کے ساتھ مرتبہ رسالے ہیں ۔
١۔القول المرغوب فی الماء المشروب
٢۔ التحفہ ء الحامدیۃ فی الصناعتہ التکلیسہ
٣۔ البیان الحسن بشرح معجون المسمی باکسر البدن
٤۔ المسائل الخمسہ
٥۔ المقدمتہ الغات الطبیہ
٦۔ اوراق مزہمزۃ مشمرۃ مسفرۃ
٧۔ الساعتہ لوجیز
جبکہ اردو میں رسالہ طاعون، حاذق اور افاداتِ مسیح الملک ہیں۔ افادات میں ان کے معالجاتی واقعات حکیم نذر احمد خان نے تحریر کیے ہیں۔ آپ پہلے طبیب تھے جنہوں نے دیسی طب میں تحقیقات کا آغاز کیا۔ بیک وقت دونوں نظامِ طب آیورید اوریونانی کے نشو ونما کے لیے کاوشیں کیں ۔ اجملین ایک محقق دوا آپ ہی کے نام سے منسوب ہے۔
مولانا شبلی نومانی کا کہنا تھا کہ میری نظر میں ہندوستان بھر میں حکیم اجمل خان سے زیادہ کوئی شخص قابلِ عزت نہیں ہے، کیونکہ علم و امارت کا ان سے بہتر پیکر ملنا مشکل ہے۔
حکیم عبدالمجید خان کے انتقال کے بعد حکیم اجمل خان کو سب سے زیادہ فکر مدرسہ طبیہ کی ہوئی جس کی نگرانی ہو ئی جس کی نگرانی کا تمام بوجھ ان کے کندھوں پر آگیاتھا۔ 19024 میں انہوں نے یونانی اینڈ ویدک میڈیسن کمپنی کا آغاز کیا۔ بعد میں اس کو مزید وسعت دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستانی دوا خانہ کی بنیاد ڈالی ۔ 1910 میں دواخانہ کی عمار ت تعمیر کی گئی اور کچھ ہی عرصہ بعد دوا خانہ ترقی کرکے کالج کی آمدنی کاسب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ دہلی میں ان کے مطب پر مریضوں کا بے پناہ ہجموم رہتا تھا۔

 

حکیم اجمل خان مسلسل پندرہ برس 1910 –1925 تک ندوۃ العلماء لکھنوء کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن رہے ۔ ان کو علی گڑھ سے شروع ہی سے دل چسپی رہی ۔ انہوں نے مخالفوں کی پروا نہ کرتے ہوئے سرسید کی تعلیمی تحریک کا پورا ساتھ دیا۔ 1900 میں علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی مقرر ہوئے ۔ 1911 میں جارج پنجم کی تاج پوشی میں نواب رام پور کے قائم مقام کی حیثیت سے انگلستان تشریف لے گئے جہاں ان کی شاہی طریقہ پر عزت افزائی کی گئی۔ وہ کیمبرج اور اوکسفورڈ یونیورسٹی بھی گئے ۔ مشہور مستشرق ای جی براؤن سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اس سفر میں وہ پیرس ، برلن، ویانا ، قسطنطنیہ، قاہرہ بھی تشریف لے گئے۔ وہاں کے عظیم الشان اسپتال، اور دیگر تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ اس سیاحت کے دوران میں حاصل کردہ تجربات و مشاہدات سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے ہندوستانی دواخانہ اورمدرسہ طبیہ میں اصلاحات کیں ۔29 مارچ 1916 کو لارڈ ہارڈنگ نے قرول باغ میں نہائت وسیع اور شاندار عمارت کی تکمیل کے بعد حکیم اجمل خان نے گاندھی جی کو کالج کے افتتاح کی دعوت دی ، اور بہت بڑے جلسے میں رسم ِافتتاح پائی۔
بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں وہ اپنی سیاسی زندگی کے اس دور میں داخل ہوچکے تھے جب کوئی سیاسی اجتماع، شوریٰ ، کانفرنس یا اجلاس ان کے بغیر مکمل نہ ہوتا تھا۔ اسی موقع پر پہلی بار حکیم اجمل خان اور گاندھی جی ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ 1921 میں احمد آباد اجلاس میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے ۔ حکیم اجمل خان پانچویں مسلم رہنما تھا جو کانگریس کی صدارت کے منصب پر فائض ہوئے ۔ ان سے پہلے چار مسلم رہنما سر بدرالدین طیب جی ، رحمت اللہ سیانی ، نواب سید محمد بہادر اور سید حسن امام کانگریس کے صدر رہ چکے تھے ۔ ملک و قوم کی یہ بڑی عزت تھی جو حکیم صاحب کو اس زمانہ میں حاصل ہوئی ۔ حکیم اجمل خان کی مخصوص شخصیت کے باعث ان کا قد کسی منصب سے بلند ہو گیا تھا ۔انتہائی فعال و متحرک ہونے کی وجہ سے ان کا جنوں جماعت و تنظیم کی وسعتوں سے کہیں آگے نکل گیا تھا ۔ ان کا نام قومی و بین الاقوامی تحریکوں میں بھی گونجنے لگا تھا ۔

 

 

انڈین نیشنل کانگریس ، مسلم لیگ، آل انڈیا خلافت کمیٹی ، اور آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس نے ان کی شخصیت کا بانکپن اور زیادہ بڑھا دیا تھا۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قومی سیاست میں وہ سب سے مؤثر کردار رکھتے ہیں ۔ اساسی طور پر دیکھا جائے تو حکیم اجمل خان کے اندر کم ازکم چار ایسی خصوصیات تھیں جو ان کو اپنے ہم عصر رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہیں۔
١۔تحریکِ خلافت کے دوران حکیم اجمل خان عظیم قومی رہنماؤں جیسے مہاتما گاندھی ، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی، ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر مختار انصاری کی میت نصیب ہوئی ۔ اس کہکشاں میں حکیم اجمل خان ایک ہمہ گیر شخصیت تھے۔ ایک طرف وہ طبی حذاقت اور معالجانہ مہارت سے متصف تھے تو دوسری طرف عربی زبان کے عالم ، ادیب ، مقرر اور شاعر تھے اور تیسری طرف وہ ہندوستان کی آزادی کے صفِ اول کے مجاہدین میں سے تھے ۔ شاعری میں شیدا تخلص کرتے تھے۔ ان کے کلام میں سلاست اور متانت کے ساتھ ہی شوخی ء بیان کی بھی جھلک ملتی ہے۔ شعر کہتے وقت وہ موزوں اور ہم آہنگ الفاظ کا انتخاب کرتے جس سے کلام میں حلاوت تاثیر اور نغمگی پیدا ہوجاتی تھی۔
٢۔ حکیم اجمل خان تاریخ کے واحد شخص تھے جو تین بڑی قومی تنظیموں کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ، انڈین نیشنل کانگریس ، آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا خلافت کمیٹی۔ اس سے ان کی ہر حلقے میں بے پناہ مقبولیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
٣۔حکیم اجمل خان پہلے شخص ہیں جنہوں نےویدوں اور حکیموں کے درمیان اتحاد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیا، اور 1906 میں آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ نومبر 1910 میں اس کا پہلا کل ہند اجلاس دہلی میں منعقد ہوا ۔ اس کے تحت انہوں نے ملک کے اطبا ء کو جمع کر کے دیسی طب کی بقا و تحفظ کے لیے جدو جہد شروع کی۔ اس عہد میں آریووید کی کوئی قابلِ ذکر شخصیت نہیں ملتی جو اس طب کو زوال سے بچا سکتی تھی اس لیے آریوویدک طب پر حکیم اجمل خاں کا احسان ہے۔ اگر وہ چاہتے تو صرف یونانی ہی کا جھنڈا لے کر آگے بڑھتے جس سے یونانی طب اور زیادہ ترقی کر سکتی تھی لیکن ان کا غیر متعصبانہ رویہ اپناتے ہوئے دونوں کو یکجا کیا ۔ آزادی کے بعد ویدوں نے اپنی الگ تنظیم قائم کر لی ۔ اب یہ تنظیم آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے نام سے ملک کے اندر طب ِ یونانی کی فلاح و بہود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
٤۔ حکیم اجمل خان پہلے شخص ہیں جنہوں نے طبِ یونانی میں تحقیقی پروگرام کا آغاز کیا ۔ ان سے پہلے تحقیق کا کوئی تصور نہیں تھا ، سینکڑوں ، ہزاروں سال سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی یونانی دواؤں کا استعمال صرف مجربات کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ اس وقت اطبا ء کے غیر تحقیقی روش کے سبب یونانی طب کسمپرسی کی حالت میں تھی ۔طبِ یونانی میں تحقیق کے لیے حکیم صاحب نے قرول باغ طبیہ کالج میں ایک طبی تحقیقی کمیٹی کا قیام کیا۔ انہوں نے اس وقت کے ماہر کیمیا ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سے مشہور یونانی دواسرول پر تحقیق کروائی جس انہوں نے کیمیائی تجزیہ کیا اور تین جوہر فعال دریافت کیا جو اجمل خان کے نام پر اجملین کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ دوا نظامِ دوران ِ خون کے مؤثر ثابت ہوئی ۔
حکیم اجمل خان بڑے مختلف اور منفرد تھے ۔ ان کی طبیعت میں بلا کا سوزو گداز تھا ۔ یہ وہ جنس گراں مایہ ہے جو بازارِ سیاست میں نہیں ملتی۔
حکیم اجمل خان نے صرف 59 سال کی عمر پائی اور زندگی کے تقریباً چالیس سال ملک و قوم کی خدمت میں لگا دی۔ 1927 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کا خلا قوم نے بڑی شدت سے محسوس کیا ۔ وہ ایک شخص نہیں ایک دبستان تھے ۔ ایک جہان لالہ و گل تھے ۔ اللہ اس مردِ حق کو اپنی بے پایاں نعمتوں سے نوازے ۔ آمین

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے ہیں گے

 

حکیم اجمل خان کی کتابیں PDF  فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کریں:

 

۱۔ حاذق

 

۲۔بیاضِ اجمل

 

 

admin

Author: admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے