Home / خبریں / انٹر نیشنل / انقلاب کےبعد مشکل ترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ روحانی کا اعتراف

انقلاب کےبعد مشکل ترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ روحانی کا اعتراف

ایران کے صدر حسن روہانی کا کہنا ہے کہ انکے ملک کی پیچھے رہ جانے کی وجہ شدید اقتصادی بحران ہے جس کا سامنا انقلاب کے بعد سےکیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کا مسئلہ بنیادی طور پر امریکہ کی جانب سے ڈالےجانےوالےدباؤکےساتھ وابسطہ ہے۔
ایرانی انقلاب کےحوالے سے بدھ کےروز ایک معاملےکےدوران روحانی کا کہناتھا کہ حکومت کو اس وقت دشمنوں کی سازشوں کامقابلہ کرنے کا دشوار مشن درپیش ہے تاکہ اسلامی انقلاب کے خلاف بڑے اقتصادی دباؤ سے نمٹا جا سکے۔
صدرروحانی نےجوہری معاہدے کے مخالفین پر کڑی تنقید کی۔انہوں نے کہا ایران کو درپیش مسائلکی بنیادی وجہ امریکی دباٶ ہے۔روحانی نے حکومت مخالف عناصر پرزور دیا کہ وہ ایران میں نظام حکومت کے بجاۓ امریکہ کو نشانہ بنائیں۔
دوہفتے قبل ایران کے نائب صدر باقر نوبخت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کو تیل کی برآمدات میں بڑی مشکل کا سامنا ہے۔نوبخت نے امریکہ کی شرانگیزی بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس مشکل کا سبب قرار دیا۔
اگرچہ ایرانی صدر روحانی نے یہ اعلان کیا کہ ان کے ملک کو ٤٠ برسوں کے مشکل ترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے تاہم انکا یہ بھی دعوی ہے کہ جنوری ٢٠١٨ سے شروع ہونے والی حالیہ محاظ آرائی میں امریکہ کو سیاسی قانونی اور نفسیاتی سطح پر پے درپے ہزیمتوں سے دوچار ہونا پڑا۔
روحانی کا اشارہ ٢٠١٧ اور جنوری ٢٠١٨ میں ایران کے شہروں میں بھڑکنے والےعوامی احتجاج کی جانب تھا۔
روحانی نےباور کرایا کہ امریکہ اس جنگ میں ناکامی کا منہ دیکھے گااور اسے ہزیمتوں سے دوچار ہونا پڑے گاجن میں اقتصادی میدان خاص طور پر شامل ہے ۔
روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی پالیسیوں کی پیروی ان میں بین الا قوامی کارستانیوں کے مقابلے کے دوران ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کا مقصد ایرانی نظام کا نقصانات پہنچانا ہے۔

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے