Home / خبریں / ٹاپ سٹوری / کیا جلیلہ خواتین کی فلاح وبہبود کیلئےسرکاری عہدہ لے گی؟

کیا جلیلہ خواتین کی فلاح وبہبود کیلئےسرکاری عہدہ لے گی؟

دنیا کی تاریخ میں جہاں کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے وہیں انقلاب لانے میں بھی خواتین کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔کوئی بھی سماج عورت کے بغیر نہیں چل سکتا ،ان کو شامل کئے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف ایک خواب ہے۔اسی لئے کسی دانا نے کہا تھا کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں،اگر ایک خراب ہو تو گاڑی نہیں چل سکتی اسی طرح معاشرے میں اگر دونوں کو مناسب نمائندگی نہ دی جائے تو وہ معاشرہ بھی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بھی خواتین نے وہ کر دکھایا جو شاید مردوں کے بس میں نہیں یا انکی ہمت نہ ہوتی تھی۔ہانی بلو چ کا اپنے والد کی بازیابی کیلئے جو قدم اور ریاست سے مطالبہ اور پھر بالاخر کامیابی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اسی طرح اس ملک میں چند ایک مثالیں جیسا کہ عاصمہ جہانگیر،عصمت شاہ جہاں جیسی خواتین ہیں جنہوں نے نظام سے ٹکر لی اور ان کے بیانیے کو سب پر آشکار کیا اسی طرح اگر موجودہ بات کی جائے تو انکے لگائے گئے پھلوں میں جلیلہ حیدر،گلالئی اسماعیل،وڑانگہ لونی،ثنا،اور دیگر کئی نام شامل ہیں۔یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے نظام کی ساری مشینری کا کھلم کھلا مقابلہ کیا،اور ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
آج ہم جس شخصیت کے بارے میں بات کرنے جا رہے ہیں،انہوں نے ریاست کو تن تنہا اپنی چوکھٹ پر لانے پر مجبور کیا۔وہ اپنی کاز کے ساتھ اور مظلوموں کے ساتھ ہمیشہ ڈتی رہی ہیں،چاہے وہ مسنگ پرسن کا معاملہ ہو،ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ ہو،وکلا تحریک ہوں وہ ہر جگہ پیش پیش رہی ہیں۔گو کہ اس تمام جدوجہد میں ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے،کردار کشی کی گئی،مگر حق اور سچ اٹل ہوتا ہے اور بلآخر وہ ہر وار کا مقابلہ کرتی رہی ہیں اور کر بھی رہی ہیں۔
ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق ایک خبر سننے میں آرہی ہے،کہ چیئرمین صوبائی کمیشن برائے اسٹٹس آف ویمن کیلئے جن خواتین کے نام زیرغور ہیں،ان میں جلیلہ حیدر،فاطمہ جان،ثنادرانی،اور نورین لہڑی شامل ہیں۔اگر ان پر بات کی جائے تو ثنا درانی کمیشن کی ممبر رہ چکی ہیں مگر انہوں نے کمیشن کی فعالی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔اس طرح فاطمہ جان بھی ایک جانی مانی شخصیت ہیں اور اپنی کپیسٹی کے مطابق اچھے کام کئے،اسی طرح نورین لہڑی نے بھی کئے،مگر اس حوالے سے جلیلہ حیدر کا کوئی ثانی نہیں ہے،اس نے خواتین کے حقوق کیلئے اور خاص طور پر عورت کے سیاسی کردار کو گراؤنڈ لیول تک متعارف کروانے کا سہرا جلیلہ کے سر جاتا ہے۔
جلیلہ حیدر نے عورتوں کیلئے انکی آزادی اور معاشرے میں فعال کردار کے حوالے سے بہت کام کیا ہے۔جس میں یہ دنیا بھر کی خواتین تحریکوں سے منسلک بھی رہی ہیں۔اگر جلیلہ حیدر کی اچیومنٹ کی بات کی جائے تو اسکی سب سے بڑی اچیومنٹ یہ ہے کہ اس نے جنسی برابری کے حوالے سے دنیا کے تقریباّ 30 ممالک میں اپنے مقالات پیش کئے ہیں،جس میں عورت کے تحفظ اور جنگ میں ٹاپک رہا ہے۔
جلیلہ حیدر نے امریکا،یورپ،کینیڈا،جنوبی ایشیا،وسطی ایشیا اور مینا ریجن میں فیمینزم اور جنسی برابری کے حوالے سے پیش پیش رہی ہیں۔جلیلہ حیدر پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں اور ایک وکیل ہونے کے ناطے بھی اسکی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،ہر مظلوم اور انصاف کا متلاشی انکی چوکھٹ ہی کھٹکھٹاتا ہے،یہی انکے لئے ایک امید کی کرن نظر آرہی ہوتی ہیں۔
مصدقہ ذرائع کی روسے یہ خبر سامنے آرہی ہے،کہ جلیلہ حیدر وفاقی حکومت کی نظر میں ایک اعلی حیثیت رکھتی ہیں اور اپنی دلیری کی وجہ سے من پسند بتائی جا رہی ہیں۔چہ میگوئیاں یہی ہیں کہ وہ لسٹ میں ٹاپ پر ہیں،اب یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ یہ عہدہ لیتی ہیں یا نہیں،کیونکہ کہا جاتا ہے نگران سیٹ اپ میں انکو وزارت کی پیش کش ہوئی تھی جو انہوں نے ریجکٹ کر دی تھی۔اگر ایسے لوگ اعلی عہدوں یا ذمہ دارعہدوں پر فائز ہوں گے تب ہی ممکن ہے کہ یہ ملک ترقی کرے گا اور یہاں امن ہو اور یہاں بھی خوشیاں اور میرٹ کا بول بالا ہوگا۔

admin

Author: admin

Check Also

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملے کا ڈرامہ

2017 ستمبر کے اوئلی دنوں میں صبح چھ بجے شوپیاں میں بھارتی فوج ایک آپریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے