Home / ادب نامہ / نثر / منٹو کے افسانے / کبوتروں والا سائیں – سعادت حسن منٹو

کبوتروں والا سائیں – سعادت حسن منٹو

 

پنجاب کے ایک سرد دیہات کے تکئے میں مائی جیواں صبح سویرے ایک غلاف چڑھی قبر کے پاس زمین کے اندر کھدے ہوئے گڈھے میں بڑے بڑے اپلوں سے آگ سلگا رہی تھی۔ صبح کے سرد اور مٹیالے دھندلکے میں جب وہ اپنی پانی بھری آنکھیں سکیڑ کر اور اپنی کمر کو دہرا کر کے منہ قریب قریب زمین کے ساتھ لگا کر اوپر تلے رکھے ہوئے اپلوں کے اندر پھونک گھسیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو زمین پر سے تھوڑی سی راکھ اڑتی ہے اور اس کے آدھے سفید اور آدھے کالے بالوں پر جو کہ گھسے ہوئے کمبل کا نمونہ پیش کرتے ہیں بیٹھ جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بالوں میں تھوڑی سی سفیدی اور آ گئی ہے۔
اپلوں کے اندر آگ سلگتی ہے اور یوں جو تھوڑی سی لال، لال روشنی پیدا ہوتی ہے مائی جیواں کے سیاہ چہرے پر، جھریوں کو اور نمایاں کر دیتی ہے۔
مائی جیواں یہ آگ کئی مرتبہ سلگا چکی ہے۔ یہ تکیہ یا چھوٹی سی خانقاہ جس کے اندر بنی ہوئی قبر کی بابت اس کے پر دادا نے لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے پیر کی آرام گاہ ہے، ایک زمانے سے ان کے قبضہ میں تھی،گاما سائیں کے مرنے کے بعد اب اس کی ہوشیار بیوی ایک تکئے کی مجاور تھی۔ گاما سائیں سارے گاؤں میں ہر دل عزیز تھا۔ ذات کا کمہار تھا مگر چونکہ اسے تکئے کی دیکھ بھال کرنی ہوتی تھی۔ اس لئے اس نے برتن بنانے چھوڑ دیئے تھے، لیکن اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کونڈیاں اب بھی مشہور ہیں۔ بھنگ گھوٹنے کے لئے سال بھر میں چھ کونڈیاں بنایا کرتا تھا، جن کے متعلق وہ بڑے فخر سے کہا کرتا تھا کہ چوہدری لوہا ہے لوہا،…. فولاد کی کونڈی ٹوٹ جائے پر گاما سائیں کی یہ کونڈی دادا لے تو اس کا پوتا بھی بھنگ گھوٹ کر پئے۔
مرنے سے پہلے گاما سائیں چھ کونڈیاں بنا کر رکھ گیا تھا، جواب مائی جیواں بڑی احتیاط سے کام میں لاتی تھی۔
گاؤں کے اکثر بڈھے اور جوان تکئے میں جمع ہوتے تھے، اور سردائی پیا کرتے تھے، گھوٹنے کے لئے گاما سائیں نہیں تھا پر اس کے بہت سے چیلے چانٹے جو اب سر اور، بھوئیں منڈا کر سائیں بن گئے تھے، اس کی بجائے بھنگ گھوٹا کرتے تھے، اور مائی جیواں کی سلگائی ہوئی آگ سلفہ پینے والوں کے کام آتی تھی۔
صبح اور شام تو خیر کافی رونق رہتی تھی مگر دوپہر کو آٹھ دس آدمی مائی جیواں کے پاس بیری کی چھاؤں میں بیٹھے ہی رہتے تھے۔ ادھر ادھر کونے میں لمبی لمبی بیل کے ساتھ ساتھ کئی کابک تھے، جن میں گاما سائیں کے ایک بہت پرانے دوست ابو پہلوان نے سفید کبوتر پال رکھے تھے، تکئے کی دھوئیں بھری فضا میں ان سفید چتکبرے کبو تروں کی پھڑپھڑاہٹ بہت بھلی سی معلوم ہوتی تھی۔ جس طرح تکئے میں آنے والے لوگ شکل و صورت سے معصومانہ حد تک بے عقل نظر آتے تھے۔ اسی طرح یہ کبوتر جن میں سے اکثر کے پیروں میں مائی جیواں کے بڑے لڑکے نے جھانجھر پہنا رکھے تھے بے عقل اور معصوم دکھائی دیتے تھے۔
مائی جیواں کے بڑے لڑکے کا اصلی نام عبد الغفار تھا۔ اس کی پیدائش کے وقت یہ نام شہر کے تھانیدار کا تھا، جو کبھی گھوڑی پر چڑھ کر موقعہ دیکھنے کے لئے گاؤں میں آیا کرتا تھا اور گاما سائیں کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک پیالہ سردائی کا ضرور پیا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ بات نہ رہی تھی جب وہ گیارہ برس کا تھا تو مائی جیواں اس کے نام میں تھانیداری کی بو سونگھ سکتی تھی۔ مگر اس نے بارہویں سال میں قدم رکھا تو اس کی حالت بگڑ گئی۔ خاصا تکڑا جوان تھا۔ پر نہ جانے کیا ہوا کہ بس ایک دو برس میں ہی سچ مچ کا سائیں بن گیا یعنی ناک سے رینٹھ بہنے لگا اور چپ چپ رہنے لگا۔ سر پہلے ہی چھوٹا تھا پر اب کچھ اور بھی چھوٹا ہو گیا اور منہ سے ہر وقت لعاب سا نکلنے لگا۔ پہلے پہل ماں کو اپنے بچے کی اس تبدیلی پر بہت صدمہ ہوا مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کی ناک سے رینٹھ اور منہ سے لعاب بہتے ہی گاؤں کے لوگوں نے اس سے غیب کی باتیں پوچھنا شروع کر دی ہیں اور اس کی ہر جگہ خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے تو اسے ڈھارس ہوئی کہ چلو یوں بھی تو کما ہی لے گا۔ کمانا و مانا کیا تھا۔ عبد الغفار جس کو اب کبوتروں والا سائیں کہتے تھے، گاؤں میں پھر پھرا کر آٹا چاول اکٹھا کر لیا کرتا تھا۔وہ بھی اس لئے کہ اس کی ماں نے اسکے گلے میں ایک جھولی لٹکا دی تھی۔ جس میں لوگ کچھ نہ کچھ ڈال دیا کرتے تھے۔ کبوتروں والا سائیں اسے اس لئے کہا جاتا تھا کہ اسے کبوتروں سے بہت پیار تھا، تکئے میں کتنے کبوتر تھے ان کی دیکھ بھال ابو پہلوان سے زیادہ یہی کیا کرتا تھا۔
اس وقت وہ سامنے کوٹھڑی میں ایک ٹوٹی ہوئی کھاٹ پر اپنے باپ کا میلا کچیلا لحاف اوڑھے سو رہا تھا، باہر اسکی ماں آگ سلگا رہی تھی….!
چونکہ سردیاں اپنے جوبن پر تھیں اس لئے گاؤں ابھی تک رات اور صبح کے دھوئیں میں لپٹا ہوا تھا۔ یوں تو گاؤں میں سب لوگ بیدار تھے اور اپنے کام دھندوں میں مصروف تھے، مگر تکیہ جو کہ گاؤں سے فاصلہ پر تھا ابھی تک آباد نہ ہوا تھا ، البتہ دور کونے میں مائی جیواں کی بکری ممیا رہی تھی۔
مائی جیواں آگ سلگا کر بکری کے لئے چارہ تیار کرنے ہی لگی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی، مڑ کر دیکھا تو اسے ایک اجنبی سرپر ڈھاٹا اور موٹا سا کمبل اوڑھے نظر آیا، پگڑی کے ایک پلو سے اس آدمی نے اپنا چہرہ آنکھوں تک چھپا رکھا تھا۔ جب اس نے موٹی آواز میں ’’ مائی جیواں السلام علیکم‘‘ کہا تو پگڑی کا کھر درا کپڑا اس کے منہ پر تین چار مرتبہ سکڑا اور پھیلا۔
مائی جیواں نے چارہ بکری کے آگے رکھ دیا اور اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کئے بغیر کہا’’ وعلیکم السلام۔ آؤ بیٹھو۔ آگ تاپو۔‘‘
مائی جیواں کمر پر ہاتھ رکھ کر اس گڑھے کی طرف بڑھی جہاں ہر روز آگ سلگتی رہتی تھی۔ اجنبی اور وہ دونوں پاس بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر ہاتھ تاپ کر اس آدمی نے مائی جیواں سے کہا۔’’ ماں اللہ بخشے گاما سائیں مجھے باپ کی طرح چاہتا تھا، اس کے مرنے کی خبر ملی تو مجھے صدمہ ہوا مجھے آسیب ہو گیا تھا۔ قبر ستان کا جن ایسا چمٹا تھا کہ اللہ کی پناہ۔ گاما سائیں کے ایک ہی تعویذ سے یہ کالی بلا دور ہو گئی۔‘‘
مائی جیواں خاموشی سے اجنبی کی باتیں سنتی رہی جو کہ اس کے شوہر کا بہت ہی معتقد نظر آتا تھا۔ اس نے ادھر ادھر کی اور بہت سی باتیں کرنے کے بعد بڑھیا سے کہا۔’’ میں بارہ کوس سے چل کر آیا ہوں ، ایک خاص بات کہنے کے لئے۔‘‘ اجنبی نے راز داری کے انداز میں اپنے چاروں طرف دیکھا کہ اس کی بات کو ئی تو نہیں سن رہا اور بھنچے ہوئے لہجے میں کہنے لگا۔’’ میں سندر ڈاکو کے گروہ کا آدمی ہوں ، پرسوں رات ہم لوگ اس گاؤں پر ڈاکہ مارنے والے ہیں ، خون خرابہ ہو گا، اس لئے میں یہ کہنے آیا ہوں کہ اپنے لڑکے کو دور ہی رکھنا، میں نے سنا ہے کہ گاما سائیں مرحوم نے اپنے پیچھے دو لڑکے چھوڑے ہیں جوان آدمیوں کا لہو ہے بابا، ایسا نہ ہو کہ جوش مار اٹھے اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔ تم ان کو پرسوں گاؤں سے کہیں باہر بھیج دو تو ٹھیک رہے گا…. بس مجھے یہی کہنا تھا، میں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔
’’ السلام علیکم‘‘
اجنبی اپنے ہاتھوں کو آگ کے الاؤ پر زور زور سے مل کر اٹھا اور جس راستے سے آیا تھا۔ اسی راستے سے باہر چلا گیا۔
’’ سندر جاٹ بہت بڑا ڈاکو تھا۔ اس کی دہشت اتنی تھی کہ مائیں اپنے بچوں کو اسی کا نام لے کر ڈرایا کرتی تھیں۔‘‘ بے شمار گیت اس کی بہادری اور بے باکی کے گاؤں کی، جوان لڑکیوں کو یاد تھے۔ اس کا نام سن کر بہت سی کنواریوں کے دل دھڑکنے لگتے تھے۔ سندر جاٹ کو بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا، مگر جب چوپال میں لوگ جمع ہوتے تھے، تو ہر شخص اس سے اپنی اچانک ملاقات کے من گھڑت قصے، سنانے میں ایک خاص لذت محسوس کرتا تھا، اس کے قدو قامت اور ڈیل ڈول کے بارے میں مختلف بیان تھے۔ بعض کہتے تھے کہ وہ بہت قد آور جوان ہے۔ بڑی بڑی مونچھوں والا، ان مونچھوں کے بالوں کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ دو بڑے بڑے لیموں ان کی مدد سے اٹھا سکتا ہے بعض لوگوں کا یہ بیان تھا کہ اس کا قد معمولی ہے مگر بدن اس قدر گٹھا ہوا ہے کہ گینڈے کا بھی نہ ہو گا۔ بہر حال سب متفقہ طور پر اس کی طاقت اور بے باکی کے معترف تھے۔
جب مائی جیواں نے یہ سنا کہ سندر جاٹ ان کے گاؤں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے آ رہا ہے تو اس کے آئے اوسان خطا ہو گئے اور وہ اس اجنبی کے سلام کا جواب تک نہ دے سکی اور نہ اس کا شکریہ ہی ادا کر سکی، مائی جیواں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ سندر جاٹ کا ڈاکہ معنی رکھتا ہے، پچھلی دفعہ جب اس نے ساتھ والے گاؤں پر حملہ کیا تھا تو سکھی مہا جن کی ساری جمع پونجی غائب ہو گئی تھی اور گاؤں کی سب سے سندر اور چنچل چھو کری ایسی گم ہوئی تھی کہ اب تک اس کا پتہ نہیں ملتا تھا، یہ بلا اب ان کے گاؤں پر نازل ہونے والی تھی اور اس کا علم سوائے مائی جیواں کے گاؤں کے کسی اور کونہ تھا۔ مائی جیواں نے سوچا کہ وہ اس آنے والے بھونچال کی خبر کس کس کو دے چوہدری کے گھر خبر کر دے ، لیکن نہیں وہ تو بڑے کمینے لوگ تھے، پچھلے دنوں اس نے تھوڑا سا ساگ مانگا تھا تو انہوں نے انکار کر دیا تھا۔گھسیٹا رام حلوائی کو متنبہ کر دے…. نہیں ، وہ بھی ٹھیک آدمی نہ تھا۔
وہ دیر تک ان ہی خیالات میں غرق رہی،گاؤں کے سارے آدمی وہ ایک ایک کر کے اپنے دماغ میں لائی اور ان میں سے کسی ایک کو اس نے مہربانی کے قابل نہ سمجھا، اس کے علاوہ اس نے سوچا اگر اس نے کسی کو ہمدردی کے طور پر راز سے آگاہ کر دیا تو وہ کسی اور پر مہربانی کرے گا۔ اور یوں سارے گاؤں والوں کو پتہ چل جائے گا، جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ آخر میں وہ فیصلہ کر کے اٹھی کہ اپنی ساری جمع پونجی نکال کر وہ سبز رنگ کی غلاف چڑھی قبر کے سرہانے گاڑ دے گی۔ اور رحمان کو پاس والے گاؤں میں بھیج دے گی۔
جب وہ سامنے والی کوٹھڑی کی طرف بڑھی تو دہلیز میں اسے عبد الغفار یعنی کبوتروں والا سائیں کھڑا نظر آیا، ماں کو دیکھ کر وہ ہنسا۔ اس کی یہ ہنسی آج خلاف معمولی معنی خیز تھی مائی جیواں کو اس کی آنکھوں میں سنجیدگی اور متانت کی جھلک بھی نظر آئی جو کہ ہوش مندی کی نشانی ہے۔
جب وہ کوٹھڑی کے اندر جانے لگی تو عبد الغفار نے پوچھا’’ ماں یہ صبح سویرے کون آدمی آیا تھا؟‘‘
عبد الغفار اس قسم کے سوال عام طور پر پوچھا کرتا تھا۔ اس لئے اس کی ماں جواب دیئے بغیر اندر چلی گئی اور اپنے چھوٹے لڑکے کو جگانے لگی۔’’ ارے رحمان‘ ارے رحمان اٹھ اٹھ۔‘‘
بازو جھنجھوڑ کر مائی جیواں نے اپنے چھوٹے لڑکے رحمان کو جگایا، اور جب وہ آنکھیں مل کر اُٹھ بیٹھا اور اچھی طرح ہوش میں آگیا تو اس کی ماں نے ساری بات سنا دی رحمان کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ بہت ڈرپوک تھا۔ گو اس کی عمر اس وقت بائیس سال کی تھی اور کافی طاقتور جوان تھا۔ مگر اس میں ہمت اور شجاعت نام تک کو نہ تھی۔ سندر جاٹ!…. اتنا بڑا ڈاکو جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ تھوک پھینکتا تھا، تو پورے بیس گز کے فاصلے پر جا گرتا تھا پرسوں ڈاکہ اور لوٹ مار کرنے کے لئے آ رہا تھا۔وہ فوراً اپنی ماں ، کے مشورے پر راضی ہو گیا، بلکہ یوں کہئے کہ وہ اسی وقت گاؤں چھوڑنے کی تیاریاں کرنے لگا۔
رحمان کو نیتی چمارن یعنی عنایت سے محبت تھی، جو کہ گاؤں کی ایک بیباک اور شوخ چنچل لڑکی تھی۔ گاؤں کے سب لڑکے شباب کی یہ پوٹلی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے، مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی، بڑے بڑے ہوشیار لڑکوں کو وہ باتوں باتوں میں اڑا دیتی تھی، چوہدری دین محمد کے لڑکے فضل دین کو کلائی پکڑنے میں کمال حاصل تھا، اس فن کے بڑے بڑے ماہر دور دور سے اس کو نیچا دیکھانے کے لئے آئے تھے مگر اس کی کلائی کسی سے بھی نہ مڑی تھی وہ گاؤں میں اکڑ اکڑ کر چلتا تھا مگر اس کی یہ ساری اکڑ فوں نیتی نے ایک ہی دن میں غائب کر دی، جب اس نے دھان کے کھیت میں اس سے کہا۔’’ فجے، گنڈا سنگھ کی کلائی موڑ کر تو اپنے من میں یہ مت سمجھ کہ بس اب تیرے مقابلے میں کوئی آدمی ہی نہیں رہا…. آ میرے سامنے بیٹھ، میری کلائی پکڑ۔ ان دو انگلیوں کی ایک ہی ٹھمکی سے تیرے، دونوں ہاتھ نہ اڑا دوں تو نیتی نام نہیں۔‘‘
فضل دین اس کو محبت کی نگاہوں سے دیکھتا تھا اور اسے یقین تھا ، کہ اس کی طاقت اور شہ زوری کے رعب اور دبدبے میں آ کر وہ خود بخود ایک روز رام ہو جائے گی۔ لیکن جب اس نے کئی آدمیوں کے سامنے اس کو مقابلے کی دعوت دی تو وہ پسینہ پسینہ ہو گیا، اگر وہ انکار کرتا ہے تو نیتی اور بھی سر چڑھ جاتی ہے اور وہ اگر اس کی دعوت قبول کرتا ہے تو لوگ یہی کہیں گے، عورت ذات سے مقابلہ کرتے ہوئے شرم تو نہیں آئی مرد کو۔ اس کو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے، چنانچہ اس نے نیتی کی دعوت قبول کر لی تھی۔ اور جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے۔ اس نے جب نیتی کی گدرائی ہوئی کلائی اپنے ہاتھ میں لی تو وہ سارے کا سارا کانپ رہا تھا۔ نیتی کی موٹی موٹی آنکھیں اس کی آنکھوں میں دھنس گئیں۔ ایک نعرہ بلند ہوا، اور نیتی کی کلائی فضل کی گرفت سے آزاد ہو گئی…. اس دن سے لے کر اب تک فضل نے پھر کبھی کسی کی کلائی نہیں پکڑی۔
ہاں تو رحمان کو اس نیتی سے محبت تھی، جیسا کہ وہ آپ ڈرپوک تھا۔ اسی طرح اس کا پریم بھی ڈرپوک تھا۔ دور دور سے دیکھ کر وہ اپنے دل کی ہوس پوری کیا کرتا تھا۔ اور جب کبھی اس کے پاس ہوتی تو اس کو اتنی جرات نہیں ہوتی تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ چھو کرا جو درختوں کے تنوں کے ساتھ پیٹھ ٹیکے کھڑا رہتا ہے اس کے عشق میں گرفتار ہے۔ اس کے عشق میں کون گرفتار نہ تھا؟ سب اس سے محبت کرتے تھے۔ اس قسم کی محبت جو کہ بیریوں کے بیر پکنے پر گاؤں کے جوان لڑکے اپنی رگوں کے تناؤ کے اندر محسوس کیا کرتے ہیں۔ مگر وہ ابھی تک کسی کی محبت میں گرفتار نہیں ہوئی تھی۔ محبت کرنے کی خواہش البتہ اس کے دل میں اس قدر موجود تھی، کہ بالکل اس شرابی کے مانند معلوم ہوتی تھی، جس کے متعلق ڈر رہا کرتا ہے کہ اب گرا اور اب گرا….وہ بے خبری کے عالم میں ایک اونچی چٹان پر پہنچ چکی تھی۔اور اب تمام گاؤں والے اس کی افتاد کے منتظر تھے، جو کہ یقینی تھی….
رحمان کو بھی اس افتاد کا یقین تھا۔ مگر اس کا ڈرپوک دل ہمیشہ اسے ڈھارس دیا کرتا تھا کہ نہیں۔ نیتی آخر تیری ہی باندی بنے گی۔ اور وہ یوں خوش ہو جایا کرتا تھا۔
جب رحمان دس کوس طے کر کے دوسرے گاؤں میں پہنچنے کے لئے تیار ہو کر تکئے سے باہر نکلا تو اسے راستے میں نیتی کا خیال آیا۔ مگر اس وقت اس نے یہ نہ سوچا کہ سندر جاٹ دھاوا بولنے والا ہے۔ وہ دراصل نیتی کے تصور میں اس قدر مگن تھا اور اکیلے میں اس کے ساتھ من ہی من میں اتنے زوروں سے محبت کر رہا تھا کہ اسے کسی اور بات کا خیال ہی نہ آیا۔ البتہ جب وہ گاؤں سے پانچ کوس آگے نکل گیا تو ایکا ایکی اس نے سوچا کہ نیتی کو بتا دینا چاہئے تھا کہ سندر جاٹ آ رہا ہے۔ لیکن اب واپس کون جاتا۔
عبد الغفار…. یعنی کبوتروں والا سائیں تکئے سے باہر نکلا، اس کے منہ سے لعاب نکل رہا تھا کہ میلے کرتے پر گر کر دیر تک گلیسرین کی طرح چمکتا رہتا تھا۔ تکئے سے نکل کر سیدھا کھیتوں کا رخ کیا کرتا تھا اور سارا دن وہیں گذار دیتا تھا۔ شام کو جب ڈھور ڈنگر واپس گاؤں کو آتے تو ان کے چلنے سے جو دھول اڑتی ہے اس کے پیچھے کبھی کبھی غفار کی شکل نظر آ جاتی تھی۔ گاؤں اس کو پسند نہیں تھا، اجاڑ اور سنسان جگہوں سے اسے غیر محسوس طور پر محبت تھی۔یہاں بھی لوگ اس کا پیچھا نہ چھوڑتے تھے۔ اور اس سے طرح طرح کے سوال پوچھتے تھے۔ جب برسات میں دیر ہو جاتی تو قریب قریب سب کسان اس سے درخواست کرتے تھے کہ وہ پانی بھرے بادلوں کے لئے دعا مانگے اور گاؤں کے عشق پیشہ جو ان اس سے اپنے دل کا حال بیان کرتے اور پوچھتے کہ وہ کب اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے، نوجوان چھوکریاں بھی چپکے چپکے دھڑکتے ہوئے دلوں سے اس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرتی تھیں اور جاننا چاہتی تھی کہ اس کے ’’ ماہیا ‘‘ کا دل کیسا ہے۔ عبد الغفار ان سوالوں کے اوٹ پٹانگ جواب دیا کرتا تھا۔ اس لئے کہ اسے غیب کی باتیں کہاں معلوم تھیں ، لیکن لوگ جو اس کے پاس سوال لے کر آتے تھے اس کی بے ربط باتوں میں اپنا مطلب ڈھونڈ لیا کرتے تھے۔
عبد الغفار مختلف کھیتوں میں ہوتا ہوا اس کنوئیں کے پاس پہنچ گیا جو کہ ایک زمانے سے بیکار پڑا تھا۔ اس کنوئیں کی حالت بہت ابتر تھی۔ اس بوڑھے بر گد کے پتے جو کہ سالہا سال سے اس کے پہلو میں کھڑا تھا اس قدر جمع ہو گئے تھے، کہ اب پانی نظر ہی نہ آتا تھا اور ایسا ہی معلوم ہوتا تھا کہ بہت سی مکڑیوں نے مل کر پانی کی سطح پر موٹا سا جالا بن دیا ہے۔ اس فضا میں اس نے اپنے وجود سے اور بھی اداسی پیدا کر دی۔
دفعتاً اڑتی ہوئی چیلوں کی ادا س چیخوں کو عقب میں چھوڑتی ہوئی ایک بلند آواز اٹھی۔ اور بوڑھے برگد کی شاخوں میں ایک کپکپاہٹ سی دوڑ گئی۔
نیتی گا رہی تھی
ماہیا مرے نے باغ لوایا
چمپا، مہ وا خوب کھلایا
اسیں تے لوائیاں کھٹیاں وے
راتیں سون نہیں دیندیاں اکھیاں وے
اس گیت کا مطلب یہ تھا کہ میرے ماہیا یعنی چاہنے والے نے ایک باغ لگایا ہے، اس میں ہر طرح کے پھول اگائے ہیں چمپا، مہ وا وغیرہ کھلائی ہیں اور ہم نے تو صرف نارنگیاں لگائی ہیں ، رات کو آنکھیں سونے نہیں دیتیں۔ کتنی انکساری برتی گئی ہے۔ معشوق عاشق کے لگائے ہوئے باغ کی تعریف کرتا ہے۔ لیکن وہ اپنی جوانی کے باغ کی طرف نہایت انکسارانہ طور پر اشارہ کرتا ہے جس میں حقیر نارنگیاں لگی ہیں اور پھر شب خوابی کا گلہ کس خوبی سے کیا گیا ہے۔
گو عبد الغفا ر میں جذبات نازک بالکل نہیں تھے…. پھر بھی نیتی کی جوان آواز نے اس کو چونکا دیا اور وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا اس نے پہچان لیا کہ یہ نیتی کی آواز ہے۔
نیتی گاتی کنوئیں کی طرف آنکلی۔ غفار کو دیکھ کر وہ دوڑی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔’’ اوہ غفار سائیں …. تم …. اوہ مجھے تم سے کتنی باتیں پو چھنا ہیں …. اور اس وقت یہاں تمہارے اور میرے سوا، اور کوئی بھی نہیں …. دیکھو میں تمہارا منہ میٹھا کراؤں گی اگر تم نے میرے دل کی بات بوجھ لی۔ اور…. لیکن تم تو سب کچھ جانتے ہو…. اللہ والوں سے کسی کے دل کا حال چھپا تھوڑی رہتا ہے۔‘‘
وہ اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔اور اس کے میلے کرتے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ خلاف معمول کبوتروں والا سائیں مسکرایا مگر نیتی اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی۔ اس کی نگاہیں کاڑھے کے تانے بانے پر بغیر کسی مطلب کے تیر رہی تھیں ، کھر درے کپڑے پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس نے گردن اٹھائی اور آ ہوں میں کہنا شروع کیا۔’’ غفار سائیں تم اللہ میاں سے محبت کرتے ہو اور میں ایک آدمی سے محبت کرتی ہوں۔ تم میرے دل کا حال سمجھو گے!…. اللہ میاں کی محبت اور اس کے بندے کی محبت ایک جیسی ہو نہیں سکتی…. ارے تم بولتے کیوں نہیں …. کچھ تو بولو…. کچھ کہو…. اچھا تو میں ہی بولے جاؤں گی…. تم نہیں جانتے کہ آج میں کتنی دیر بول سکتی ہوں …. تم سنتے سنتے تھک جاؤ گے میں نہیں تھکوں گی…. یہ کہتے کہتے وہ خاموش ہو گئی اور اس کی سنجیدگی زیادہ بڑھ گئی، اپنے من میں غوطہ لگانے کے بعد جب وہ ابھری تو اس نے ایکا ایکی عبد الغفار سے پوچھا، سائیں میں کب تھکوں گی‘‘
’’ عبد الغفار کے منہ سے لعاب نکلنا بند ہو گیا، اس نے کنوئیں کے اندر جھک کر دیکھتے ہوئے کہا بہت جلد۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس پر نیتی نے اس کے کرتے کا دامن پکڑ لیا اور گھبرا کر پوچھا۔ ’’کب؟…. کب؟….سائیں کب؟‘‘
عبد الغفار نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور ببول کے جھنڈ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ نیتی کچھ دیر کنوئیں کے پاس سوچتی رہی، پھر تیز قدموں سے جدھر سائیں گیا تھا ادھر چل دی!
وہ رات جس میں سندر جاٹ گاؤں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے آ رہا تھا۔ مائی جیواں نے آنکھوں میں کاٹی۔ ساری رات وہ اپنی کھاٹ پر لحاف اوڑھے جاگتی رہی۔ وہ بالکل اکیلی تھی، رحمان کو اس نے دوسرے گاؤں بھیج دیا اور عبد الغفار نہ جانے کہاں سو گیا تھا، ابو پہلوان کبھی کبھی تکئے میں آگ تاپتا تاپتا وہیں الاؤ کے پاس سو جایا کرتا تھا۔مگر وہ صبح ہی سے دکھائی نہیں دیا تھا۔ چنانچہ کبوتروں کو دانہ مائی جیواں ہی نے کھلایا تھا۔
تکیہ گاؤں کے اس سرے پر واقع تھا جہاں سے لوگ گاؤں کے اندر داخل ہوتے تھے۔ مائی جیواں ساری رات جاگتی رہی، مگر اس کو ہلکی سی آہٹ بھی سنائی نہ دی۔ جب رات گذر گئی اور گاؤں کے مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دیں تو وہ سندر جاٹ کی بابت سوچتی سوچتی سو گئی۔
چونکہ رات کو وہ بالکل نہ سوئی تھی۔ اس لئے صبح بہت دیر کے بعد جاگی۔ کوٹھڑی سے نکل کر جب وہ باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ ابو پہلوان کبوتروں کو دانہ دے رہا ہے اور دھوپ سارے تکئے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اس سے کہا۔’’ ساری رات مجھے نیند نہیں آئی یہ موا بڑھاپا بڑا تنگ کر رہا ہے۔ صبح سوئی ہوں اور اب اٹھی ہوں …. ہاں تم سناؤ کل کہاں رہے ہو؟‘‘
’’ ابو نے جواب دیا۔’’ گاؤں میں۔‘‘
اس پر مائی جیواں نے کہا۔’’ کوئی تازہ خبر سناؤ۔‘‘
ابو نے جھولی کے سب دانے زمین پر گرا کر جھپٹ کر ایک کبوتر کو بڑی صفائی سے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے کہا۔ آج صبح چوپال پر نتھا سنگھ کہہ رہا تھا۔ کہ گام چمار کی وہ لونڈیا…. کیا نام ہے اس کا؟…. ہاں وہ نیتی کہیں بھاگ گئی ہے؟…. میں تو کہتا ہوں اچھا ہوا…. حرام زادی نے سارے گاؤں کو سر پر اٹھا رکھا تھا۔‘‘
’’ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے یا کوئی اٹھا کر لے گیا ہے؟‘‘
مائی جیواں کو اس گفتگو سے اطمینان نہ ہوا۔ سندر جاٹ نے ڈاکہ نہیں ڈالا تھا۔ پر ایک چھو کری تو غائب ہو گئی تھی، اب وہ چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح نیتی کا غائب ہو جانا سندر جاٹ سے متعلق ہو جائے۔ چنانچہ وہ تمام لوگوں سے نیتی کے بارے میں پوچھتی رہی جو کہ تکئے میں آتے جاتے رہے۔ لیکن جو کچھ ابو نے بتایا تھا اس سے زیادہ اسے کوئی بھی نہ بتا سکا۔
شام کو رحمان لوٹ آیا۔ اس نے آتے ہی ماں سے سندر جاٹ کے ڈاکہ کے متعلق پوچھا، اس پر مائی جیواں نے کہا’’ سندر جاٹ تو نہیں آیا بیٹا‘ نیتی کہیں غائب ہو گئی ہے…. ایسی کہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔‘‘
رحمان کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کی ٹانگوں میں دس کوس اور چلنے کی تھکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ خوفناک طور پر زرد تھا۔
ایک دم یہ تبدیلی دیکھ کر مائی جیواں نے تشویشناک لہجہ میں اس سے پوچھا۔’’ کیا ہوا بیٹا۔‘‘
رحمان نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کہا۔’’ کچھ نہیں ماں …. تھک گیاہوں۔‘‘
’’ اور نیتی کل مجھ سے پوچھتی تھی، میں کب تھکوں گی؟‘‘
رحمان نے پلٹ کر دیکھا تو اس کا بھائی عبد الغفار آستین سے اپنے منہ کا لعاب پونچھ رہا تھا۔ رحمان نے گھور کر دیکھا اور ’’ پوچھا کیا کہا تھا اس نے تجھ سے۔‘‘
عبد الغفار الاؤ کے پاس بیٹھ گیا۔’’ کہتی تھی کہ میں تھکتی ہی نہیں …. پر اب وہ تھک جائے گی۔‘‘
رحمان نے تیزی سے پوچھا’’ کیسے؟‘‘
غفار سائیں کے چہرے پر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔
’’ مجھے کیا معلوم؟…. سندر جاٹ جانے اور وہ جانے۔‘‘
یہ سن کر رحمان کے چہرے پر اور زیادہ زردی چھا گئی اور مائی جیواں کی جھریاں اور زیادہ گہرائی اختیار کر گئیں۔

 

 

٭٭٭

admin

Author: admin

Check Also

گھوگا۔ افسانہ ۔ سعادت حسن منٹو

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے