Home / خبریں / خدیجہ کیس، ہائی کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے شواہد کی غلط تشریح کی ۔ سپریم کورٹ

خدیجہ کیس، ہائی کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے شواہد کی غلط تشریح کی ۔ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شواہد کو درست نہیں پڑھا،جس کی وجہ سے جانچ پڑتال میں کئی غلطیاں سامنے آئی ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے ہائی کورٹ مستقبل میں بہتر کام کرے گا۔
یاد رہے کہ ۲۳ جنوری ۲۰۱۹ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ۳ رکنی بینچ نے خدیجہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو گرفتا رکرکے عدالت سے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
شاہ حسین نے ۳ مئی ۲۰۱۶ کو لاہور کے علاقہ شملہ ہل کے نزدیک قانون کی طلبہ پر خنجر سے حملہ کیا۔
اپنے فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے کئی پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے اور اس کے غلط تشریح کیے جانے کی نشاندہی بھی کی۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سنگین غلطی سامنے آئی ہے اور انصاف نہیں ہو سکا اور معاملے میں سپریم کورٹ کو شامل ہونا پڑگیا۔
فیصلے میں لکھا گیا کی ملزم کو بری کرنے کا فیصلہ سنگین نوعیت کی غلط تشریح شواہد کو صحیح نہ پڑھنے کی وجہ سے سامنے آیا اور کیس کا حتنی نتیجہ تو بہت ہی خطرناک تھا تاہم فیصلے میں مداخلت سے استثنیٰ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ چیف جٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خدیجہ صدیقی کیس کا ۱۶ صفحات پر مشتنل تفصیلی فیصلہ خود ہی لکھا۔
فیصلے میں انہوں نے شاہ حسین کو بری کرنے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ٹرائل اور اپیل کورٹ نے شواہداور ریکارڈ کی گہرائی سے جانچ پرتال کی اس کے بعد ہی شاہ حسین کو مجرم ٹھہراہا ۔انہوں نے نے مزید فیصلے میں لکھا کی ٹرائل اور اپیل سننے والے زیلی عدالتوں کی جانب سے کسی غلطی یا قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے پر ہائی کورٹ کو انکے ریکارڈ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔
عدالت کے اس تفصیلی فیصلے میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شاہ حسین کو ۵ سال قید کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال رکھا۔

admin

Author: admin

Check Also

انڈین میڈیا کی گھناؤنی حرکت بےنقاب

بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا، بھارت نے جان بوجھ کر پھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے